آج کا اقتباس ’’میں تجھے پھر ملوں گی، کہاں، کیسے…

’’میں تجھے پھر ملوں گی، کہاں، کیسے، پتہ نہیں، شاید تمہارے خیالوں کی چنگاری بن کر، تمہارے کینوس پر اتروں گی، یا شاید تمہارے کینوس پر ریکھا بن کر، خاموش تمہیں دیکھتی رہوں گی، میں تجھے پھر ملوں گی، کہاں، کیسے، پتہ نہیں، یا سورج کی رو بن کر، تیرے رنگوں میں گھلتی رہوں گی، یا رنگوں کی بانہوں میں بیٹھ کر، تیرے کینوس پر بچھ جاؤں گی، پتہ نہیں، کیسے، کس طرح، پر تجھے ضرور ملوں گی۔ یا پھر ایک جھرنا بنوں گی، جیسے جھرنے سے پانی اڑتا ہے، یہ پانی کی بوندیں تیرے جسم پر ملوں گی، اور ایک شیتل احساس بن کر، تیرے سینے سے لگوں گی، میں اور کچھ نہیں جانتی، پر اتنا جانتی ہوں، کہ وقت جو بھی کرے گا، یہ جنم میرے ساتھ ملے گا، یہ جسم ختم ہوتا ہے، تو سب کچھ ختم ہو جاتا ہے، یہ یادوں کے دھاگے، کائنات کی لمحوں کی طرح ہوتے ہیں، میں ان لمحوں کو چنوں گی، اور ان دھاگوں کو سمیٹوں گی، میں تجھے پھر ملوں گی، کہاں، کیسے، پتہ نہیں، پر میں تجھے پھر ملوں گی۔۔۔‘‘
امرتا پریتم
امرتا پریتم کے آخری خط سے


