منتخب غزلیں
نالہ رکتا ہے، تو سرگرمِ جفا ہوتا ہے درد تھمتا ہے، …

نالہ رکتا ہے، تو سرگرمِ جفا ہوتا ہے
درد تھمتا ہے، تو بےدرد خفا ہوتا ہے
درد تھمتا ہے، تو بےدرد خفا ہوتا ہے
عشق میں حسرتِ دل کا تو نکلنا کیسا
دم نکلنے میں بھی کم بخت مزا ہوتا ہے
حالِ دل ان سے نہ کہنا تھا، ہمیں چُوک گئے
اب کوئی بات بنائیں بھی تو کیا ہوتا ہے
آہ میں کچھ بھی اثر ہو تو شرر بار کہوں
ورنہ شعلہ بھی حقیقت میں ہوا ہوتا ہے
ہجر میں نالہ و فریاد سے باز آ ، رسواؔ
ایسی باتوں سے وہ بےدرد خفا ہوتا ہے
مرزا محمد ہادی حسن رسواؔ
المرسل: فیصل خورشید



