کالم

گستاخ رسول یوسف کذاب ‘تاریخی عدالتی فیصلہ (قسط2)

میاںغفاراحمد
توہین رسالت کے قانون کے تحت مقدمہ درج کروانا اےک بہت مشکل اور مشقت طلب کام اس لئے بھی ہے کہ اس کی تفتےش کم ازکم اےس پی کی سطح کا آفیسر کرتا ہے اور 295-C کے مقدمے کی سزائے موت اور پھر اس کے ملزم کی ضمانت بھی نہیں ہوسکتی ۔ اس لئے سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پنجاب کے حکم پر سابق صدر پاکستان رفےق تارڑ کے داماد مےجر مبشر مرحوم جو کہ بہت ہی ذہین اور اچھی شہرت کے پولےس آفیسر مانے جاتھے تھے‘ کو تفتےش منتقل ہوئی اور ےوسف کذاب کو تھانہ مسلم ٹاﺅن کی حوالات مےں رکھا گےا۔ کئی دن تفتےش جاری رہی اور مکمل تسلی کے بعد تھانہ ملت ٹاﺅن مےں ےوسف کذاب کے خلاف توہےن رسالت ، دھوکہ دہی اور خواتےن کو بے آبرو کرنے سمےت متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا جس کی باقاعدہ گرفتاری ڈالی گئی تو اےک طوفان مچ گےا۔ ملک بھر کے لبرل اور قادےانی ےوسف کذاب کی حماےت مےں اُٹھ کھڑے ہوئے کےونکہ ےوسف کذاب کا دعویٰ قادیانیوں کے جھوٹے نبی ملعون مرزا غلام بنی قادیانی کے دعوے کو سپورٹ کرتا تھا۔ دوسری طرف مقدمے کی کارروائی کےلئے جہاں وکلاءکا انتخاب شروع ہوا وہاں علماءکرام سے رائے لےنے کا عمل بھی شروع کیا گیا تاکہ اس اہم ترےن کےس کو زندہ رکھا جاسکے۔
ےہاں مےں ےہ عرض کردوں کہ نبی پاک کے دور مےں کافروں کےخلاف لڑی جانے والی جنگوں مےں اتنے صحابہ کرام ؓ کی شہادت نہےں ہوئی جتنی نبی پاک کے وصال کے بعد مسلمہ کذاب کے فتنے کو کچلنے کےلئے صحابہ کرام ؓ کی شہادتےں ہوئےں اور بیان کیا جاتا ہے کہ اس جنگ مےں 12 سو صحابہ کرام ؓ جن مےں سے اکثرےت حافظ قرآن کی تھی شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔ گوےا ےہےں سے اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے حرمت رسالت کے حوالے سے طے کر دےا گےا کہ اس کی حفاظت کتنی ضروری اور کتنی قےمتی ہے۔
ےوسف کذاب کے خلاف خبر شائع ہونے کے بعد ”خبرےں“ کے ساتھ پہلا رابطہ جماعت اسلامی کے سرکردہ رکن اور اچھرہ کی معروف شخصیت مےاں محمد عثمان نے کےا انہوں نے بتاےا کہ جب مےں شادمان کالونی کے علاقے کا کونسلر تھا تو ےوسف کذاب کی دوسری شادی کےلئے مےرے پاس درخواست آئی تھی کےونکہ قانون کے تحت اُس دور مےں دوسری شادی کی اجازت کونسلر سے لینا ہوتی تھی اور کونسلر پہلی اہلیہ سے مو¿قف لےنے کا پابند ہوتا تھا۔ مےں نے جب ےوسف علی کی اہلےہ طےبہ جو کہ مقامی کالج مےں اےسوسی اےٹ پروفےسر تھی‘ کو بلاےا اور کہا کہ تمہارے خاوند ےوسف علی کی درخواست دوسری شادی کےلئے آئی ہے تو وہ پھٹ پڑی اور اس نے کہا کہ اگر مےں آپ کو بتا دوں کہ ےہ دین کے حوالے سے کس قسم کے دعوے کرتا ہے تو آپ اسے یہیں قتل کر دےں گے مےں اسے اجازت نہےں دیتی۔ مےاں عثمان کے بقول انہیں اُس وقت ےہ بات سمجھ نہیں آئی آج اخبار مےں ےہ خبرےں پڑھ کر مجھے یقین آیا کہ ےوسف علی کی بیوی مجھے کےا اشارہ دے گئی تھی ۔
اگلے ہی روز اس وقت کے معروف سکالر اور پی ٹی وی پر روزانہ دینی معاملات پر مدلل گفتگو کرنے والے ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ملک نے مجھے اپنی رہائشگاہ واقعہ علامہ اقبال ٹاﺅن طلب کیا اور بتاےا کہ ےہ شخص انتہائی غلےظ اور پرلے درجے کا گستاخ ہے اور اس کی گستاخی کا ےہ عالم ہے کہ جن دنوں مےں سعودی عرب مےں مقےم تھا ےہ کسی رےفرنس سے مےرے پاس آےا اور مجھے کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ اس نے میرے نام پر بہت سے لوگوں سے خود کو روحانی شخصےت کہہ کر چندہ اکٹھا کر لےا ہے۔ پھر اےک روز روضہ رسول پر مےں ےعنی ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ملک بےٹھا ہوا تھا کہ ےوسف علی مےرے پاس آےا مجھے کہنے لگا کہ مےں پاکستان جا رہا ہوں ابھی مجھے نبی پاک نے حکم دےا ہے کہ فوری طور پر پاکستان پہنچ کر غزوہ ہند کی قےادت کرو۔ روضہ رسول کے سامنے اس قدر مکروہ جھوٹ پر مےں سٹپٹا گےا اور مےں نے کہا کہ فوری طور پر ےہاں سے نکل جاﺅ شاےد ہی کسی شخص نے روضہ رسول کے سامنے کذب بےانی کی ہمت کی ہو۔ اےک عجیب طوفان کھڑا ہو گےا۔ قادیانی لابی اور ےوسف کذاب کے مریدےن ملک بھر مےں اس کے حق مےں لابی کرنے لگے اور انہوں نے جھوٹے سچے بےانات دکھا کر بعض ایسے علماءسے جو تحقےق کرنے کا تکلف نہےں کرتے ‘سے بےانات حاصل کرنے شروع کر دئےے۔
اسی دوران مےں جناب ضےا شاہد کے حکم پر کراچی گےا کےونکہ ےوسف کذاب کے ہاتھوں نبوت کی آڑ مےں دھوکہ کھانے والوں کی زےادہ تعداد کراچی مےں تھی۔ مےں کراچی کے اےک انتہائی پوش اےرےا کے گھر مےں داخل ہوا جس کا پورا خاندان ےوسف کذاب کا مرےد بن کر تائب ہو چکا تھا تاہم اےک بےٹی اب بھی ےوسف کذاب کے حصار مےں تھی وہ مکمل نقاب مےں لپٹی مصلے پر بےٹھی اس ملعون کےلئے دعائےں کر رہی تھی مجھے دےکھ کر پھٹ پڑی ۔ اپنے والد سے کہنے لگی کہ اس ناپاک شخص کو باہر نکال دو ۔ اس نے حضرت جی کی شان مےں گستاخی کی ہے۔ مےں اس گھر کے مالک کا نام نہےں لکھنا چاہتا البتہ سےشن کورٹ مےں اس شخص نے بطور گواہ ےہ بےان دےا تھا کہ ےوسف کذاب نے اسے کہا تھا کہ مےں ہی آخری نبی ہوں مجھ پر درود شرےف پڑھ کر بھےجا کرو( نعوذ باللہ)۔ اس شخص کے گھر مےں اےک کمرے کو ےوسف کذاب نے ”غار حرا“ قرار دے رکھا تھا اور وہاں اےک بہت خوبصورت اور قےمتی کرسی رکھی تھی جس پر بےٹھ کر وہ لیکچر دےتا اور تخلےے مےں اپنی ”ازواج مطہرات“ قرار پانے والی خواتےن سے فرداً فرداً ملاقاتےں کرتا تھا۔
اگلے روز مےں مولانا شاہ احمد نورانی صدےقی سے ملنے ان کے دفتر مےں گےا۔کمال کے طےب انسان تھے ۔ انہوں نے کم از کم دو گھنٹے کا وقت دےا ، سارا مواد پڑھا ، لوگوں کے بےانات دےکھے، تسلی سے باتےں سنےں اور گوےا ہوئے دےکھےں صاحب آپ نے مقدمہ تو درج کروالےا اب مولویوں کے بےانات اور ردعمل لےنے کے بجائے ساری توجہ مقدمے پر مرکوز کر دےں۔ےہ ہماری مذہبی گروہ بندیاں آپ کو الجھا کر رکھ دےں گی۔ کون کےا کہتا ہے اس کو چھوڑ دےں کےونکہ جو کچھ آپ نے دکھاےا اور سناےا ہے اس کے مطابق ےہ تو پکا ملعون اور گستاخ رسول ہے ۔بس آپ اسے عدالت کے ذرےعے موت کے پھندے تک لےکر جائےں۔
اللہ کا کرم دےکھےں کہ ہم نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی معاونت سے مولانا اسماعےل شجاع آبادی کی مدعےت مےں مقدمہ درج کرواےا اور سارا معاملہ لےکر علامہ اقبال ٹاﺅن مےں رہائش پذےر معروف قانون دان اسماعےل قرےشی کے گھر کئی دن مقدمے کی تےاری مےں لگے رہے۔ اسی دوران اللہ تبارک و تعالیٰ نے اےک نورانی چہرے والے وکےل کو نجانے کہاں سے ہمارے حوالے کر دےا۔ انہوں نے ”خبرےں“ مےں شائع ہونے والی تفصےلات پڑھےں تو ازخود ”خبرےں“ سے رابطہ کرکے مقدمے مےں وکالت کے فرائض سرانجام دےنے کی خواہش کا اظہار کےا پھر غلام مصطفی چودھری نامی اس نوجوان وکےل نے اپنا تن من دھن اس کےس پر لگا دےا اور اللہ کا کرنا اےسا ہوا کہ بہاولپور ، فےصل آباد، لاہور، سرگودھا، راولپنڈی سے عشق رسول مےں مبتلا وکےل ازخود آئے اورےوسف کذاب کے خلاف مقدمہ لڑنے والے وکلاءکی ٹےم مےں شامل ہوتے گئے۔ ےہ کےس اس لئے بھی اہم تھا کہ اس سے قبل کسی کلمہ گو مسلمان پر توہےن رسالت کے قانون کا اطلاق نہےں ہوا تھا البتہ بعض غےر مسلموں پر اس جرم کے تحت مقدمات درج ہوئے تھے اور دنےا بھر مےں پاکستان کے خلاف پروپےگنڈہ تھا کہ ےہ قانون صرف اور صرف غےرمسلموں کے خلاف استعمال مےں لاےا جارہا ہے ۔ ےہ مقدمہ چونکہ اےک مسلمان اور پاکستانی کے خلاف درج ہوا تھا لہٰذا اس نے دنےا بھر کے ان تمام لبرلز کے منہ پر طمانچہ مارا کہ توہےن رسالت کا مرتکب شخص خواہ وہ کافر ہو ےا مسلمان سزائے موت کا حقدار ہے اور ےوسف کذاب کے خلاف درج مقدمے کے بعد پاکستان کے مختلف علاقوں مےں اس طرح کے مقدمات دےگر اشخاص کے خلاف بھی درج ہو چکے ہےں جو خود کو مسلمان کہتے ہےں۔ (جاری ہے)
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭



بشکریہ

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/