منتخب غزلیں

جانے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں یہ آنکھیں مجھ میں راکھ ک…

جانے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں یہ آنکھیں مجھ میں
راکھ کے ڈھیر میں، شعلہ ہے نہ چنگاری ہے

اب نہ وہ پیار، نہ اس پیار کی یادیں باقی
آگ یوں دل میں لگی کچھ نہ رہا، کچھ نہ بچا
جس کی تصویر نگاہوں‌میں لیئے بیٹھی ہو
میں وہ دلدار نہیں، اس کی ہوں خاموش چتا

زندگی ہنس کے گذرتی تو بہت اچھا تھا
خیر ہنس کے نہ سہی، رو کے گذر جائے گی
راکھ برباد محبت کی بچا رکھی ہے
بار بار اس کو جو چھیڑا تو بکھر جائے گی
جانے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں

آرزو جرمِ وفا، جرم تمنا ہے گناہ
یہ وہ دنیا ہے جہاں پیار نہیں ہوسکتا
کیسے بازار کا دستور تمہیں سمجھاؤں
بک گیا جو وہ خریدار نہیں ہو سکتا

کیفی اعظمی


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/