منتخب غزلیں

ان کا بربادِ کرم کہنے کے قابل ہو گیا درد پہلو میں…

ان کا بربادِ کرم کہنے کے قابل ہو گیا
درد پہلو میں جہاں بھی تھا وہیں دل ہو گیا

بارہا دیکھا ہے دل نے او مرے محوِ خرام
حشر اٹھا اور ترے قدموں میں شامل ہو گیا

دل جہاں اچھلا فضائے دو جہاں پر چھا گیا
عرصۂ کونین جب سمٹا مرا دل ہو گیا

بے خبر رہنا ہی اچھا اس جہانِ غیر میں
مٹ گیا جو واقفِ آدابِ محفل ہو گیا

جو نگاہِ شوق اٹھی حسن بن کر رہ گئی
جو قدم ہم نے اٹھایا نقشِ منزل ہو گیا

یا کبھی منزل تھی مقصودِ مذاقِ جستجو
یا مذاقِ جستجو مقصودِ منزل ہو گیا

ہائے باسطؔ یہ مرے خون تمنا کا اثر
اور بھی رنگین کچھ دامانِ قاتل ہو گیا

باسطؔ بھوپالی

المرسل: فیصل خورشید


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/