منتخب غزلیں

( غیــر مطبــوعــہ ) گواچن سے پرے بھی کچھ ہے ؟ …

( غیــر مطبــوعــہ )

گواچن سے پرے بھی کچھ ہے ؟

ہم نا رضامندی کی پیدائش میں
پیدا ہوئے ہی نہیں
اگر ہم پیدا ہوتے
تو ہماری حالت کچھ اور ہوتی
جانے یہ بات کیوں کر تاریخ میں
یوں لکھ دی گئی
کہ جاؤ
آج تم پر کوئی گرفت نہیں
تم سب آزاد ہو
لیکن آج تک مَیں
آزادی ایسے شَـبد کی معنویت سے آشنا نہ ہو سکا
اور نہ ہی اس کی سرشاری کو جی پایا ہوں
محض ایک بوسے کی سکرات میں جینے والے لوگ ہی دیکھ رہا ہوں
جو خود سے بھی یہ سچ کہنے کی حسرت میں پیدا ہوئے نہیں
اور اس خوف میں ہیں
کہیں کوئی یہ کہہ کر گرفت نہ کرلے
اور اس بابت یہ نہ کہہ جائے
یہ تم نے کیسے انگلی میں سگریٹ لینے کی چِنتا پال رکّھی ہے
اور دُھویں کے مرغولے میں خود کو
زمان و مکان کی بندش سے پہلے
آنول تلاشنے نکلے ہو
اور کس کے رَحم کی اذیّت میں دن بھوگ رہے ہو
یہ سب تو ہونا تھا اک دن
کیوں جلدی میں سب کچھ غارت کرنے میں
اپنا گیان لیے پھرتے ہو
جوکہ اب تک
بھیتر سے نکلے نہیں

( کے بی فــراقؔ )

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/