منتخب غزلیں
( غیــر مطبــوعــہ ) یہ نہ اَشکوں کا ہے’ نہ گھاو …

( غیــر مطبــوعــہ )
یہ نہ اَشکوں کا ہے’ نہ گھاو کا ہے
سارا قصّـہ بس اک لگاو کا ہے
دل بَہ ضد ہے ‘جہاں میں رکنے پر
جسم پر وقت چَل چلاو کا ہے
ذہن ہے اور ہی طبیعت کا
دل مگر اور ہی سبھاو کا ہے
رو بھی سکتے نہیں بَہ ظاہر ہم
مسئَلہ غم کے رکھ رکھو کا ہے
گَر نہ لڑنی ہو زندگی کی جنگ
کیا کوئی راستہ بچاﺅ کا ہے؟
زندگی ہے تنی ہوئی رسّـی
کھیل سارا اِسی تناو کا ہے
اب کے ٹپکے گا آنکھ سے شاید
رخ یہی خون کے بہاو کا ہے
کهیل ٹهہرا جو نا خدا کے لئے
وہ مقدّر ہماری ناو کا ہے
( راجیـش ؔ ریـڈی )



