منتخب غزلیں

ظفر اقبال کی پیدائش Sep 27, 1932 27 ستمبر 1932ء ا…

ظفر اقبال کی پیدائش
Sep 27, 1932

27 ستمبر 1932ء اردو کے ممتاز شاعر ظفر اقبال کی تاریخ پیدائش ہے۔
ظفر اقبال کا پہلا مجموعہ کلام ’’آب رواں‘‘ 1962ء میںشائع ہوا تھا جس کے شائع ہوتے ہی ظفر اقبال اردو کے صف اول کے شعرأ میں شمار ہونے لگے۔ اس کے بعد ان کے دیگر مجموعے گلافتاب، رطب و یابس، عہد زیاں،غبار آلود سمتوں کا سراغ، سر عام ، عیب و ہنر، ہے ہنومان، اطراف اور تفاوت کے نام سے شائع ہوئے۔ ان کی شاعری کی کلیات ’’اب تک‘‘ کے نام سے تین جلدوں میں شائع ہوچکی ہے، جس کی ہر جلد میں پانچ پانچ سو غزلیں شامل ہیں۔ ان کے کالموں کا مجموعہ ’’دال دلیہ‘‘ کے نام سے شائع ہواہے۔ ظفر اقبال اردو سائنس بورڈ کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا ہے۔

کہیں پر ہے نِشاں میرا نہ کوئی نام رکھتا ہوں
جو رکھتا ہوں تو اِک آغازِ بے انجام رکھتا ہوں

مری اِس سے زیادہ کامیابی اور کیا ہو گی
کہ مَیں سامان میں اپنے دلِ ناکام رکھتا ہوں

پرندہ سا کوئی مجھ میں بھی پھنستا پھڑپھڑاتا ہے
جو اپنے آپ میں پھیلا ہوا اِک دام رکھتا ہوں

نجانے کوون سے سانچے میں کب ڈھلنا پڑے مُجھ کو
اِسی خاطر ہمیشہ طبع اپنی خام رکھتا ہوں

مُجھے یہ آسماں ہے سر چھپانے کے لیے کافی
در و دیوار ہیں میرے نہ کوئی بام رکھتا ہوں

یہ کارِ عاشقی بھی آ پڑا ہے یُونہی رستے میں
وگرنہ مَیں تو اپنے کام سے کام رکھتا ہوں

مرے اوقات بھی سارے کے سارے ہو چکے اُس کے
کہ اپنی صبح رکھتا ہُوں نہ اپنی شام رکھتا ہُوں

مَیں خُود تو مُضطرب رہتا ہی آیا ہۃوں ہمیشہ سے
اُسے بھی آج کل تھوڑا سا بے آرام رکھتا ہوں

کسی شے میں ، ظفرؔ ، بس کُچھ مِلا دیتا ہُوں چپکے سے
یہ طرزِ خاص ہے میری جسے مَیں عام رکھتا ہُوں
…..

لفظ پتوں کی طرح اڑنے لگے چاروں طرف
کیا ہوا چلتی رہی آج مرے چاروں طرف

میں نے خود کو جو سمیٹا تو اُسی لمحے میں
اور بھی چاروں طرف پھیل گئے چاروں طرف

رک گئے ہیں تو یہ دریا میرے اندر ہی رکے
چل پڑے ہیں تو اُسی طرح چلے چاروں طرف

اب کہ ہوتا ہی نہیں میرا گزارا ان پر
چاہیے ہیں مجھے اس بار نئے چاروں طرف

ہیں بھی ایسے کہ فقط مجھ کو نظر آتے ہیں
ایک ہی دوسرے میں الجھے ہوئے چاروں طرف

میں ہی معدوم سا ہوتا گیا رفتہ رفتہ
ورنہ منظر تو فلک بوس رہے چاروں طرف

پہلے تو ایک طرف بیٹھ گیا وہ آ کر
اور پھر ایک طرف اس نے کیے چاروں طرف

کوئی اطراف کی اب فکر اُسے کیا ہو گی
ساتھ ہی ساتھ جو پھرتا ہے لیے چاروں طرف

آسماں پر کوئی تصویر بناتا ہوں، ظفر
کہ رہے ایک طرف اور لگے چاروں طرف
…….

بظاہر صحت اچھی ہے جو بیماری زیادہ ہے
اسی خاطر بڑھاپے میں ہوس کاری زیادہ ہے

چلے گا کس طرح سے کاروبارِ شوق اس صورت
رسد کچھ بھی نہیں ہے اور طلبگاری زیادہ ہے

محبت کام ہے جس طرح کا بس دیکھتے جاؤ
رکا رہتا بھی ہے اکثر مگر جاری زیادہ ہے

ہمیں خود بھی یقیں آتا نہیں اس کا جو یہ ہم پر
گرانباری کی نسبت سے سبکساری زیادہ ہے

سراغ اس کا کہیں اندر تو کچھ ملتا نہیں بے شک
یہ حالت وہ ہے جو ہم پر ابھی طاری زیادہ ہے

اٹھا سکتے نہیں جب، چوم کر ہی چھوڑنا اچھا
محبت کا یہ پتھر اس دفعہ بھاری زیادہ ہے

حفاظت ہی ہمارا مسئلہ تھا روزِ اول سے
سو اپنے ارد گرد اب چار دیواری زیادہ ہے

عمارت یہ مکمل ہونے والی ہی نہیں لگتی
کہ اس تعمیر میں کچھ رنگِ مسماری زیادہ ہے

ضروری ہے تو کر دیں گے ظفر تردید بھی جاری
بیانِ عشق اپنا اب کے اخباری زیادہ ہے


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/