منتخب غزلیں
سربریدہ جسم ہے اور ناتواں ہے زندگی ڈھونڈتاپھرتاہوں…

سربریدہ جسم ہے اور ناتواں ہے زندگی
ڈھونڈتاپھرتاہوں خرم اب کہاں ہے زندگی
ڈھونڈتاپھرتاہوں خرم اب کہاں ہے زندگی
بچ گئے ہیں اس لیے ہم بے گھری کے خوف سے
ہم غریبوں کے لیے تو آسماں ہے زندگی
میں سدا کا اجنبی ہوں سورجوں کے شہر میں
چند اجڑی خواہشوں کا سائباں ہے زندگی
موم کے نازک بدن کو رکھ دیا ہے آگ پر
مفلسی کی دھوپ ہے اور بے اماں ہے زندگی
کوئی لمحہ اے خداخوشیوں کااس میں ڈال دے
حادثوں اور سانحوں کے درمیاں ہے زندگی
موت کی سرحد پہ آ کے رک گیا ہوں کس لیے
سوچتا رہتا ہوں شاید پاسباں ہے زندگی
روز خود کو دیکھتا ہوں آئینے میں دیر تک
دیکھ کر یہ سوچتاہوں،اب کہاں ہے زندگی
چیرتی رہتی ہے مجھ کو سانس خنجر کی طرح
امتحاں درامتحاں درامتحاں ہے زندگی
میں کھڑاہوں وقت کے کرب و بلا میں آج بھی
العتش کا وقت ہے اور بے زباں ہے زندگی
حق نوازخرم(مرحوم)


