منتخب غزلیں
جو میکدے میں بہکتے ہیں لڑکھڑاتے ہیں مرا خیال ہے …
جو میکدے میں بہکتے ہیں لڑکھڑاتے ہیں
مرا خیال ہے وہ تشنگی چھپاتے ہیں
مرا خیال ہے وہ تشنگی چھپاتے ہیں
ذرا سا وقت کے سورج نے رخ جو بدلا ہے
مرے وجود پہ کچھ سائے مسکرائے ہیں
دلوں کی سمت پہ لفظوں کے سنگ مت پھینکو
ذرا سی ٹھیس سے آئینے ٹوٹ جاتے ہیں
طلسمِ ذات کی پھیلی ہے تیرگی اتنی
کہ وسعتوں کے اجالے سمٹتے جاتے ہیں
ستم ظریفئ حالات کا کرشمہ ہے—!!
بھٹکنے والے مجھے راستے بتاتے ہیں
جنہیں حیات شعورِ حیات حاصل ہے
فریب دیتے نہیں ہیں فرہب کھاتے ہیں
(حیات وارثی)


