منتخب غزلیں
سائلؔ دہلوی ملے غیروں سے مجھ کو رنج و غم یوں بھی …

سائلؔ دہلوی
ملے غیروں سے مجھ کو رنج و غم یوں بھی ہے اور یوں بھی
وفا دشمن جفا جو کا ستم یوں بھی ہے اور یوں بھی
کہیں وامق کہیں مجنوں رقم یوں بھی ہے اور یوں بھی
ہمارے نام پر چلتا قلم یوں بھی ہے اور یوں بھی ہے
شب وعدہ وہ آ جائیں نہ آئیں مجھ کو بلوا لیں
عنایت یوں بھی ہے اور یوں بھی ہے اور یوں بھی
عدو لکھے مجھے نامہ تمھاری مہر اس کا خط
جفا یوں بھی ہے اور یوں بھی ستم بھی ہے اور یوں بھی
یہ مسجد ہے یہ مے خانہ تعجب اس پر آتا ہے
جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی
تجھے نواب بھی کہتے ہیں شاعر بھی سمجھتے ہیں
زمانے میں ترا سائلؔ بھرم یوں بھی ہے اور یوں بھی ہے




