منتخب غزلیں
فاطمہ حسن کبھی راستے میں ٹھہر گئے کبھی منزلوں سے …
فاطمہ حسن
کبھی راستے میں ٹھہر گئے کبھی منزلوں سے گزر گئے
کبھی خواہشِ در و بام میں جو گئے تو اوروں کے گھر گئے
نہ تھی آرزو کسی دوست کی نہ کسی رفیق کی جُستجو
کہیں اجنبی سے بھی مل لیے کہیں دوستی سے مُکر گئے
نہیں زندگی سے کوئی گلہ کہ تھا خواب جیسا ہی سلسلہ
کبھی تیرگی کا اثر ہوا کبھی چاندنی سے بھی ڈر گئے
تھیں ہوائیں تیز تو صحن سے جو اٹھا سکی وہ اٹھا لیا
مگر اسے پیڑوں کا کیا کروں جو اُجڑ گئے جو بکھر گئے
کوئی اجنبی کوئی آشنا ہمیں دے رہا تھا کہیں صدا
کہ وہ راستوں کا طلسم تھا نہیں جانتے تھے مگر گئے
کہیں آبشار میں بھیگتی کہیں سبزہ زار میں کھیلتی
میری زندگی کے تمام رنگ محبتوں سے نکھر گئے
یہ ہنر بھی اُس کا کمال ہے یہ اسی کا عکسِ جمال ہے
میرا آئینہ جو وہ بن گیا میرے خدوخال سنور گئے

