منتخب غزلیں
نام بگاڑنے میں (عبد المجید سالک) عجیب و غریب خصوصی…
نام بگاڑنے میں (عبد المجید سالک) عجیب و غریب خصوصیت کے مالک تھے۔۔۔ عطاء اللہ شاہ بُخاری کا "بُخار اللہ شاہ عطائی”، مظہر علی اظہر کا "اِدھر علی اُدھر”۔۔۔۔۔ ایک دفعہ مولانا حبیب الرحمٰن صدر مجلس احرار اسلام نے تقریر میں کہا کہ بعض تُھڑ دلے ہمیں بدنام کرنے کے لئے چندے کا حساب مانگتے ہیں ، ہم لوگ بنیا نہیں کہ حساب لئے پھریں، ہمیں اپنی دیانت پر اعتماد ہے جو لوگ ہم پر بھروسہ کرتے ہیں وہ چندہ دیں باقی ہوا کھائیں ۔ سالک صاحب نے افکار و حوادث میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا حضرت مولانا کس کمبخت نے آپ سے کہ دیا کہ آپ بد دیانت ہیں ؟ دیانت تو آپ کے گھر کی لونڈی ہے، شکائت یہ ہے کہ آپ نے بے نکاحی رکھی ہوئی ہے۔
ایک محفل میں اختر علی خان (اللہ انہیں بخشے) کے لا اُبالی پن کا ذکر ہو رہا تھا کہ وہی شہید گنج میں کوئی دستاویز اٹھا کر ماسٹر تارا سنگھ کو دے آئے تھے ، سالک صاحب نے تبسم فرمایا اور کہا ، چھوڑ یار، اختر علی خان بھی تارا سنگھ کا ہی ترجمہ ہے
کلیم صاحب ملٹری اکونٹس میں غالباً ڈپٹی اکاونٹینٹ جنرل یا اس سے بھی کسی بڑے عُہدے پر فائز تھے انہیں شعر و سُخن سے ایک گونہ لگاو تھا ، اکثر مشاعرے رچاتے ، ایک مشاعرے میں سالک صاحب بھی شریک تھے ، کسی نے ان سے کلیم صاحب کے بیٹے کا تعارف کراتے ہوئے کہا ،
آپ کلیم صاحب کے صاحبزادے ہیں؟
رگِ ظرافت پھڑک اُٹھی فرمایا۔۔۔۔۔۔۔
تو یہ کہئیے کہ آپ "ضربِ کلیم” ہیں۔
(نو رتن از شورش کشمیری)
ایک محفل میں اختر علی خان (اللہ انہیں بخشے) کے لا اُبالی پن کا ذکر ہو رہا تھا کہ وہی شہید گنج میں کوئی دستاویز اٹھا کر ماسٹر تارا سنگھ کو دے آئے تھے ، سالک صاحب نے تبسم فرمایا اور کہا ، چھوڑ یار، اختر علی خان بھی تارا سنگھ کا ہی ترجمہ ہے
کلیم صاحب ملٹری اکونٹس میں غالباً ڈپٹی اکاونٹینٹ جنرل یا اس سے بھی کسی بڑے عُہدے پر فائز تھے انہیں شعر و سُخن سے ایک گونہ لگاو تھا ، اکثر مشاعرے رچاتے ، ایک مشاعرے میں سالک صاحب بھی شریک تھے ، کسی نے ان سے کلیم صاحب کے بیٹے کا تعارف کراتے ہوئے کہا ،
آپ کلیم صاحب کے صاحبزادے ہیں؟
رگِ ظرافت پھڑک اُٹھی فرمایا۔۔۔۔۔۔۔
تو یہ کہئیے کہ آپ "ضربِ کلیم” ہیں۔
(نو رتن از شورش کشمیری)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی(بھٹکلی)



