منتخب غزلیں

کچھ بھی نہیں رہا یہاں ، آپ سے کیا چھپائیے دل ہی می…

کچھ بھی نہیں رہا یہاں ، آپ سے کیا چھپائیے
دل ہی میں جب لہو نہیں ‘ شور کہاں مچائیے

دوری فریب ہے مگر ، دوری میں راستہ بھی ہے
بیٹھے رہیں گے کب تلک ، اب انہیں ڈھونڈ لائیے

سر میں جو گونجتی بھی ہے ، ہونٹوں پہ ڈولتی بھی ہے
کس کو ہے تابِ غم یہاں ، کس کو یہ دُھن سنائیے

سرحدِ شوق سے پرے ، شام کی بستیاں بھی ہیں
جب یہ سفر تمام ہو ، آگے کدھر کو جائیے

ڈھل گئی رات دیکھیے ، راہ رخِ امید کی !
اب ہمیں نیند آ گئی ، اب نہ ہمیں ستایئے

آنکھیں تھیں چاہتوں بھری ، چہرے جو مہربان تھے
اب وہ نظر نہ آئیں گے ، اب انہیں بھول جائیے

جان ہے۔۔ تو جہان ہے ، دل ہے ۔۔۔ تو آرزو بھی ہے
عشق بھی ہو رہے گا پھر ، جان ابھی بچائیے

کھو گئے خوابِ چشم و لب ، تابِ طلب نہیں رہی
دل میں وہ زور اب کہاں ، اب یہ دکاں بڑھائیے

( ابــرارؔ احـــمد )

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/