( غیـــر مطبــوعــہ ) اپنی گڑوی اندھیرے میں بھی گ…

اپنی گڑوی اندھیرے میں بھی گڑوی والی بجاتی رہی
میری خاطر توجّہہ کی دوشیزہ تالی بجاتی رہی
کوئی آواز کمرے میں روتی رہی خامشی اوڑھ کر
میز پرایک سکّہ مِری بے خیالی بجاتی رہی
میں کہ قوس ِ قزح پر بڑی دیر تک رقص کرتا رہا
وہ پہاڑی کی چوٹی پہ پیتل کی تھالی بجاتی رہی
ذہن جس چاے خانہ میں بُنتا رہا گیت تنہائی کے
ایک لڑکی وہیں کافی کی خالی پیالی بجاتی رہی
لوگ مرتے رہے بھوک کی آگ سے’ لاشیں اٹھتی رہیں
مَوت کا کہروا گانو کی خشک سالی بجاتی رہی
اینٹیں گرتی رہیں ‘ دھول جمتی رہی ‘ وقت چلتا رہا
مرگ کا ڈھول آثار کی خستہ حالی بجاتی رہی
ہیرو شیما کا وَحشی سخُن بھول کر،ایٹمی بَم لئے
جنگ کا طبل اپنی خوے لا ابالی بجاتی رہی !
ہائے قسمت کہ منصورؔ ! تھی خواب سے آنکھ باہر کہیں
گھنٹی دروازے کی نیند میں بھولی بھالی بجاتی رہی
( منصُــــور آفـــاقؔ )

