منتخب غزلیں

طلسمِ شامِ خزاں نہ ٹوٹے گا دل کو یہ اعتبار سا ہے طلوعِ صبحِ بہار کا پھر نہ جانے …

طلسمِ شامِ خزاں نہ ٹوٹے گا دل کو یہ اعتبار سا ہے
طلوعِ صبحِ بہار کا پھر نہ جانے کیوں انتظارسا ہے

ترے تصور میں غرق ہوں میں ترا ہی قرب و جوار سا ہے
خزاں صفت شامِ غم کو میں نے بنا لیا خوشگوار سا ہے

فریبِ دنیا عیاذ باللہ غمِ زمانہ کی سازشیں اف
قرار کی صورتوں میں بھی اب مرا یہ دل بے قرار سا ہے

اسی سے ہے شورشِ زمانہ اسی سے رسوائیِ عدم بھی
برا ہوا یہ ہمیں جو کچھ کچھ کہیں کہیں اختیار سا ہے

بہار آئی ہے تو ہمیں کیا جو تو نہیں ہے تو ہے عبث سب
کلی کلی سوگوار سی ہے نظرؔ میں ہر پھول خار سا ہے

محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی​

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/