منتخب غزلیں

قمؔر جلالوی ۔ تاثیر پسِ مرگ دِکھائی ہے وفا نے جو مجھ پہ ہنسا کرتے تھے، روتے ہیں…

قمؔر جلالوی
۔
تاثیر پسِ مرگ دِکھائی ہے وفا نے
جو مجھ پہ ہنسا کرتے تھے، روتے ہیں سرہانے

کیا کہہ دیا چُپ کے سے، نہ معلوُم قضا نے
کروَٹ بھی نہ بدلی تِرے بیمارِ جفا نے

ہستی مِری، کیا جاؤں مَیں اُس بت کو منانے
وہ ضِد پہ جو آئے تو فَرِشتوں کی نہ مانے

اَوراقِ گُلِ تر، جو کبھی کھولے صبا نے
تحرِیر تھے لاکھوں مِری وحشت کے فسانے

رُخ دیکھ کے، خُود بن گیا آئینے کی صُورت
بیٹھا جو مُصوّر تِری تصوِیر بنانے

نالے نہیں ہیں کھیل اَسِیرانِ قَفَس کے
صیّاد کے آ جائیں گے سب ہوش ٹِھکانے

ہمسائے بھی جلنے لگے ،جلتے ہی نشیمن
بھڑکا دیا اور آگ کو، پتّوں کی ہَوا نے

پہلی سی قمؔر! چشمِ عِنایت ہی نہیں ہے
رُخ پھیر دِیا اُن کا، زمانے کی ہَوا نے

قمؔر جلالوی


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/