پچھلے بارہ سال سے میں بچوں کو سڑک پار کرواتا ہوں….
میرا نام عبدالرؤف ہے۔
عمر پچپن برس۔
اور پچھلے بارہ سال سے میں شہر کے ایک پرائمری اسکول کے سامنے بچوں کو سڑک پار کرواتا ہوں۔
لوگ سمجھتے ہیں میرا کام صرف ہاتھ میں اسٹاپ کا بورڈ اٹھانا اور گاڑیوں کو روکنا ہے۔
لیکن انسان جب عمر کے اس حصے میں داخل ہوتا ہے جہاں بال سفید اور یادیں سیاہ ہونے لگتی ہیں، تو وہ صرف چہرے نہیں دیکھتا… کہانیاں بھی پڑھنے لگتا ہے۔
اور بچوں کے چہرے سب سے سچی کتاب ہوتے ہیں۔
دسمبر کی ایک صبح تھی۔
ایسی صبح جس میں دھند آسمان سے نہیں، ہڈیوں کے اندر سے اترتی محسوس ہوتی ہے۔
ہوا کا ہر جھونکا یوں لگتا تھا جیسے کوئی غریب آدمی اپنی غربت چھپانے کے لیے ہنس رہا ہو۔
بچے جھنڈ کی صورت اسکول آ رہے تھے۔
کسی کے گلے میں رنگین مفلر تھا، کسی کے ہاتھ میں گرم دودھ کا کپ۔
مگر ان سب کے درمیان ایک لڑکا تھا۔
دبلا پتلا۔
خاموش۔
اور سردی سے سکڑی ہوئی گردن کے ساتھ چلتا ہوا۔
اس کا نام ارسلان تھا۔
پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا۔
میں نے پہلی بار نہیں دیکھا تھا اسے۔
میں پچھلے تین مہینوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
اکتوبر میں وہ بغیر کوٹ کے آیا تھا۔
نومبر میں بھی۔
اور اب دسمبر آ چکا تھا۔
لیکن اس کے جسم پر اب بھی صرف ایک پتلی سی یونیفارم تھی۔
میں نے اسے آواز دی۔
"بیٹا، سردی نہیں لگتی؟”
وہ مسکرایا۔
غریب بچے عجیب ہوتے ہیں۔
وہ بھوک میں بھی مسکراتے ہیں اور سردی میں بھی۔
جیسے تقدیر سے لڑنے کے بجائے اس کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا ہو۔
"لگتی ہے۔”
اس نے کہا۔
"پھر کوٹ کیوں نہیں پہنتے؟”
اس بار اس نے میری طرف نہیں دیکھا۔
صرف زمین کو گھورتا رہا۔
"امّی کہتی ہیں اگلے مہینے لے لیں گے۔”
مجھے معلوم تھا۔
بعض گھرانوں میں "اگلا مہینہ” کبھی نہیں آتا۔
وہ ایک ایسا مسافر ہے جو ہمیشہ راستے میں رہتا ہے۔
میں نے اسے سڑک پار کروائی۔
مگر وہ میرے دل کے اندر کہیں اٹک گیا۔
اس رات گھر آیا تو نیند نہیں آئی۔
میں بار بار ارسلان کا چہرہ دیکھتا رہا۔
پھر اچانک مجھے اپنا بچپن یاد آ گیا۔
پینتالیس سال پرانا دسمبر۔
میں بھی ایسے ہی کانپتا تھا۔
میرے پاس بھی کوٹ نہیں تھا۔
اور میرے باپ نے ایک رات چولہے کے پاس بیٹھ کر کہا تھا:
"بیٹا، سردی امیروں کو لگتی ہے… غریب آدمی کو تو صرف ذمہ داریاں لگتی ہیں۔”
اس وقت میں ہنس دیا تھا۔
آج سوچتا ہوں تو رونا آتا ہے۔
کیونکہ باپ جھوٹ بول رہا تھا۔
اسے بھی سردی لگتی تھی۔
بس وہ اعتراف نہیں کر سکتا تھا۔
اگلے دن میں پرانے کپڑوں کی دکان گیا۔
ایک بھورا سا کوٹ خریدا۔
نیا نہیں تھا۔
مگر گرم تھا۔
بہت گرم۔
میں نے اسے ایک تھیلے میں رکھا اور اسکول کے دفتر میں چھوڑ آیا۔
پرچی پر صرف اتنا لکھا:
"شاید کسی بچے کے کام آ جائے۔”
نام نہیں لکھا۔
احسان کا سب سے بھدا لباس اس کا اعلان ہوتا ہے۔
پھر یہ میرا معمول بن گیا۔
ہر سردی میں چند کوٹ۔
کبھی تین۔
کبھی پانچ۔
کبھی دس۔
میں کسی کو نہیں بتاتا تھا۔
یہ میرے اور خدا کے درمیان ایک خاموش معاہدہ تھا۔
ویسے بھی نیکی جب تصویر بن جائے تو ثواب کم اور تشہیر زیادہ رہ جاتی ہے۔
پھر ایک دن راز کھل گیا۔
اور ایسا کھلا کہ پورا شہر جان گیا۔
لوگ میرے پاس آنے لگے۔
کسی نے بچوں کے جوتے دیے۔
کسی نے سویٹر۔
کسی نے رقم۔
دیکھتے ہی دیکھتے ایک آدمی کا چھوٹا سا راز پورے شہر کی ذمہ داری بن گیا۔
مگر اصل واقعہ ابھی باقی تھا۔
دو سال بعد ایک تقریب ہوئی۔
اسکول کے ہال میں۔
مجھے اسٹیج پر بلایا گیا۔
تالیاں بج رہی تھیں۔
لوگ کھڑے تھے۔
میں شرمندگی سے پانی پانی ہو رہا تھا۔
کیونکہ سچ پوچھیں تو میں نے کبھی کوئی بڑا کام نہیں کیا تھا۔
میں صرف اپنی پرانی سردی کا علاج کر رہا تھا۔
پرنسپل نے مائیک میرے سامنے رکھا۔
اور پوچھا:
"عبدالرؤف صاحب، آپ نے یہ سب کیوں شروع کیا؟”
میں نے جواب دینے کے لیے ہونٹ کھولے۔
مگر آواز نہیں نکلی۔
کیونکہ عین سامنے پہلی قطار میں ارسلان بیٹھا تھا۔
اب وہ لمبا ہو چکا تھا۔
چہرے پر اعتماد تھا۔
جسم پر وہی کوٹ نہیں، بلکہ ایک نئی زندگی تھی۔
میں نے اسے دیکھا۔
پھر لوگوں کو دیکھا۔
اور آہستہ سے کہا:
"میں نے بچوں کو کوٹ نہیں دیے…”
ہال خاموش ہو گیا۔
"میں نے صرف یہ کوشش کی کہ کوئی بچہ وہ سردی نہ جھیلے جو میں نے جھیلی تھی۔”
میرے گلے میں کچھ اٹک گیا۔
"استاد سبق بعد میں پڑھاتا ہے… زندگی پہلے جسم کو بچاتی ہے۔”
میں نے رک کر کہا:
"کیونکہ جو بچہ سردی سے کانپ رہا ہو، وہ خواب نہیں دیکھ سکتا۔”
ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
مگر میری نظر صرف ارسلان پر تھی۔
وہ خاموش بیٹھا تھا۔
اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔
اور مجھے پہلی بار سمجھ آیا کہ بعض اوقات ہم دوسروں کی مدد نہیں کرتے…
ہم اپنے اندر مرے ہوئے کسی بچے کو زندہ کرتے ہیں۔🙂
افسانہ: کوٹ
©️ انتخاب سخن
#lifelessons #helpothers #humanity #iloveit #urduadab