یارانِ رفتہ آہ بہت دُور جا بسے دل ہم سے رک گیا تھا…

دل ہم سے رک گیا تھا انھوں کا جدا بسے
کوچے میں تیرے ہاتھ ہزاروں بُلند ہیں
ایسے کہاں سے آ کے یہ، اہلِ دُعا بسے
کرتا ہے کوئی زیبِ تن اپنا وہ رشکِ گُل
پھولوں میں جب تلک کہ نہ اُس کی قبا بسے
بُلبُل کہے ہے جاؤں ہوں، کیا کام ہے مِرا
میں کون، اِس چمن میں نسیم و صبا بسے
جنگل میں جیسے، قافلہ آ کر اُتر رہے!
یُوں ہیں یہ رہروانِ عدم، جا بجا بسے
یا رب! ہو واقعہ کوئی ایسا، کہ وہ پری!
گھر اپنا چھوڑ کر کے، مِرے پاس آ بسے
جانے سے تیرے کشورِ دِل ہو گیا خراب
ویرانہ ہے یہ اب، کوئی یاں آ کے کیا بسے
عالَم ہے زیرِ خاک بھی گر تجھ کو سُوجھ ہو
کیا اِک طریق ساتھ ہیں اہلِ فنا بسے
بُلبُل نے آشیانہ چمن سے اُٹھا لیا
پھر اُس چمن میں بوم بسے یا ہُما بسے
حیرت ہے یہ، کہ چھوڑ کے آبادئِ عَدم
اِس منزلِ خراب میں، ہم کیونکہ آ بسے
ہمسائے مصحفی کے، مَیں گھر لے دِیا، تو وہ !
بولے کہ، پاس ایسے کے، میری بَلا بسے
(غلام ہمدانی مصحفی)



