روضۂ رسول ﷺ مسجدِ نبوی شریف، مدینہ منورہ کے اندر وہ نہایت مقدس اور مبارک مقام ہے…

بعد ازاں اسی حجرۂ مبارک میں خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور خلیفۂ ثانی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بھی دفن کیا گیا۔ اس طرح یہ مقام امتِ مسلمہ کے لیے عقیدت، محبت اور احترام کا مرکز بن گیا۔
نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے مشورے سے فیصلہ فرمایا کہ آپ ﷺ کو اسی جگہ دفن کیا جائے جہاں آپ کا وصال ہوا تھا، کیونکہ انبیاءِ کرام علیہم السلام کو اسی مقام پر دفن کیا جاتا ہے جہاں ان کی وفات ہوتی ہے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، جو نبی کریم ﷺ کے سب سے قریبی ساتھی اور پہلے خلیفہ تھے، انہیں بھی روضۂ مبارک میں آپ ﷺ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ بعد میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بھی اسی مقدس مقام میں دفن ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔ آج یہ تینوں عظیم ہستیاں روضۂ رسول ﷺ میں آرام فرما ہیں۔
دنیا بھر سے آنے والے مسلمان مسجدِ نبوی میں حاضری دیتے ہیں، روضۂ اقدس کے قریب حاضر ہو کر نبی کریم ﷺ اور آپ کے دونوں جلیل القدر صحابہؓ پر درود و سلام پیش کرتے ہیں اور ان کی عظیم قربانیوں اور خدمات کو یاد کرتے ہیں۔
احادیثِ مبارکہ میں بھی اس مقام کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آپ ﷺ کے گھر اور منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ اسی لیے یہ مقام عبادت، دعا اور درود و سلام کے لیے انتہائی بابرکت سمجھا جاتا ہے۔
وقت کے ساتھ مسجدِ نبوی کی کئی بار توسیع ہوئی، مگر روضۂ مبارک کو نہایت اہتمام کے ساتھ محفوظ رکھا گیا۔ اس کے گرد دیواریں اور جالیاں قائم کی گئیں تاکہ اس مقدس مقام کی حرمت اور حفاظت برقرار رہے۔
آج بھی عاشقانِ رسول ﷺ جب مدینہ منورہ حاضر ہوتے ہیں تو روضۂ رسول ﷺ پر حاضری کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی سعادت سمجھتے ہیں۔
منتخب
Source


