“میں نے خون دیا، مگر اصل میں میں نے اپنا ماضی دفن…
میں پینتیس برس کا ہوں۔
اور اگر عمر سالوں سے ناپی جائے تو میں عام ہوں…
مگر اگر زخموں سے ناپی جائے تو میں کئی بار مر چکا ہوں۔
پہلی بار اسکول میں۔
اس کا نام درین تھا۔
وہ مجھے مارتا نہیں تھا… وہ مجھے لوگوں کی نظر میں غیر بنا دیتا تھا۔
وہ مسکراتے ہوئے کہتا
“ناصر، تم بات کرتے ہو تو لگتا ہے کسی نے غلط بٹن دبا دیا ہو۔”
پورا کلاس ہنس دیتا۔
اور میں ہر بار اندر سے ٹوٹ جاتا۔
میں نے دو سال لنچ باتھ روم میں کھایا۔
میں نے دو سال خود کو آئینے سے چھپایا۔
ایک دن میں نے خود سے کہا
“اگر میں یہاں رہا تو میں خود کو کھو دوں گا۔”
اور میں چلا گیا۔
میں سمجھا تھا میں بچ گیا ہوں…
مگر کچھ لوگ زندگی سے نہیں جاتے، یاد بن کر سانس لیتے رہتے ہیں۔
چھ سال پہلے۔
میری بہن ایلی نے کہا
“بھائی، میں آپ کو کسی سے ملوانا چاہتی ہوں۔”
دروازہ کھلا۔
اور وقت رک گیا۔
درین۔
وہی چہرہ…
بس آنکھوں میں عمر نہیں، غرور کا زوال تھا۔
وہ مسکرایا
“اوہ ناصر… تم نے واقعی خود کو بنا لیا؟ میں نے سوچا تھا تم کہیں کھو جاؤ گے۔”
کمرے میں ہنسی پھیل گئی۔
میرے والد نے کہا
“بیٹا بیٹھو، مہمان ہے۔”
ماں نے نظریں جھکا لیں۔
اور میری بہن نے اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔
میں نے آہستہ کہا
“مہمان؟ یہ وہ شخص ہے جس نے مجھے میرے ہی اندر دفن کیا تھا۔”
خاموشی چھا گئی۔
درین نے ہنس کر کہا
“اتنا حساس ابھی تک ہو؟”
میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا
“میں حساس نہیں تھا… تم نے مجھے انسان رہنے نہیں دیا تھا۔”
میں اٹھا اور دروازے کی طرف چل دیا۔
درین نے پیچھے سے کہا
“بھائی، اتنا کمزور دل کیسے لے کر جیتے ہو؟”
میں رک گیا۔
اور بولا
“میں کمزور نہیں ہوں… میں صرف تم جیسا نہیں ہوں۔”
اور میں چلا گیا۔
اس دن میں نے گھر نہیں چھوڑا تھا…
میں نے اپنے اندر کا صبر چھوڑ دیا تھا۔
سال گزر گئے۔
پھر فون آیا۔
ماں کی آواز ٹوٹ رہی تھی
“ایلی… بستر پر ہے… ڈاکٹر کہتے ہیں گردے فیل ہو گئے ہیں… تم میچ کرتے ہو…”
میں نے کہا
“ماں… جس دن آپ سب نے میری بے عزتی پر ہنسنا قبول کیا تھا… اس دن میں مر گیا تھا۔”
ماں روتے ہوئے بولی
“وہ تمہاری بہن ہے!”
میں نے کہا
“اور میں بھی کبھی اس گھر کا بیٹا تھا۔”
فون بند ہو گیا۔
دو دن بعد درین کا فون آیا۔
اس کی آواز پہلی بار ٹوٹی ہوئی تھی۔
“ناصر… مجھے تم سے بات کرنی ہے۔”
میں نے کہا
“اب تمہیں میری یاد کیوں آئی؟ جب میں ٹوٹ رہا تھا تب تم ہنس رہے تھے۔”
وہ خاموش رہا، پھر بولا
“میں جیتا رہا مگر انسان نہیں رہا۔ تمہارے ساتھ جو کیا وہ میرے اندر ہر دن مجھے مارتا رہا۔”
میں نے کہا
“تمہیں اب احساس ہو رہا ہے؟”
وہ بولا
“نہیں… سزا ہو رہی ہے۔ احساس بہت پہلے شروع ہو چکا تھا۔”
میں نے کہا
“پھر اب کیا چاہتے ہو؟”
وہ رکا اور آہستہ بولا
“اگر تم اسے بچا سکتے ہو تو بچا لو… تاکہ میں خود سے بھاگ نہ سکوں۔”
میں نے فون بند کر دیا۔
کچھ دیر بعد میں ہسپتال پہنچا۔
ایلی مشینوں کے بیچ تھی۔
اور کونے میں درین کھڑا تھا…
جیسے پہلی بار اپنے ہی انجام سے ملاقات ہو رہی ہو۔
میں اس کے پاس گیا۔
وہ نظریں نہیں اٹھا رہا تھا۔
میں نے کہا
“میں ایک شرط پر کروں گا۔”
وہ فوراً بولا
“بولیں…”
میں نے کہا
“تم میری زندگی سے بھی مٹ جاؤ گے… اور میرے ذہن سے بھی۔”
وہ کانپ گیا۔
“میں پہلے ہی ختم ہو چکا ہوں ناصر… بس جسم باقی ہے۔”
پھر وہ میرے سامنے جھک گیا۔
“مجھے معاف کر دو… کم از کم اتنا کہ میں خود سے آنکھ ملا سکوں۔”
میں نے اسے دیکھا اور کہا
“میں تمہیں معاف نہیں کر رہا… میں تمہیں زندہ چھوڑ رہا ہوں تاکہ تم خود سے روز مرو۔”
آپریشن ہوا۔
میں نے خون دیا۔
میں نے گردہ دیا۔
اور جب سب ختم ہوا… تو میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ میں خالی نہیں ہوا… میں آزاد ہوا ہوں۔
مہینوں بعد ایلی میرے سامنے بیٹھی تھی۔
وہ رو رہی تھی
“بھائی… آپ نے مجھے نئی زندگی دی ہے۔”
میں نے کہا
“زندگی وہ نہیں جو بچائی جائے… زندگی وہ ہے جو کسی کی انا سے بڑی ہو جائے۔”
وہ روتے ہوئے بولی
“میں آپ کو سمجھ نہیں پائی…”
میں نے کہا
“کوئی بات نہیں… بس آئندہ کسی انسان کو چھوٹا مت سمجھنا۔”
آج کہیں دور شاید درین جاگتا ہو اور سوچتا ہو
“میں نے کیا کھو دیا تھا؟”
اور میں؟
میں اب دیواروں سے نہیں لڑتا۔
میں خاموش ہوں… مگر ٹوٹا ہوا نہیں۔
کیونکہ کچھ جنگیں جیتنے کے لیے نہیں ہوتیں…
ان سے آزاد ہونا اصل جیت ہوتا ہے۔

