مختصر کہانیاں

یہ لڑکی ہائے اللہ (پری وش) قسط نمبر 9 عباسی ہاؤس…

یہ لڑکی ہائے اللہ (پری وش)
قسط نمبر 9

عباسی ہاؤس میں صبح سے ہنگامہ مچا تھا.آج شیرافگن اور حیات کا نکاح تھا.سب اس تقریب کو چار چاند لگانے کی بھر پور کوشش میں تھے.ایمان اور امل خوشی سے کام کررہی تھیں.حیات اور شیرافگن سب کو حد سے ذیادہ پیارے تھے.حریم، مینا ، تابی اور سبین جلد ہی آگئیں تھیں.سب حیات کے کمرے میں تھیں.حیات نے پالر جانے سے انکار کر دیا تھا. اسلئے بیوٹیشن کو گھر پر بلا لیا تھا.شیرافگن اپنے کمرے میں فون پر کسی سے بات کر کہا تھا.دوسری طرف کی بات سن کر اسکاچہرہ غصے سے لال ہوا.”ولید میں آرہا اسے ابھی لے کر مت جانا.میری ایک ملاقات اس کے ساتھ تو ہونی چاہیے ناں.”اسنے چباکر کہا.”اے افگن یار آج تمہارا نکاح ہے.تم مت آنا میں اسے دیکھ لونگا.”ولید نے اسے روکا
"نہیں ولی میں کتنے دنوں سے اسکے انتظار میں ہوں اب کیاایسےہی چھوڑ دوں؟ ایسا تو ممکن نہیں”اسنے تیش سے کہہ کر کال کاٹ دی تا کہ ولید اسے روک نہ سکے.اسنے کار کی چابی اٹھائی اور کمرے سے باہر نکلا.مہمان آہستہ آہستہ آنے لگےتھے.وہ پورچ میں پہنچا جب ایمان اسکے پیچھے آئی.
"بھائی کہا جا رہے ہیں؟”
"ایک ضروری کام ہے.” اسنے جلدی سے کہا
"پر بھائی نکاح ہے آپکا تیار بھی نہیں ہوئے آپ” ایمان نے بھائی کو دیکھ کر کہا
"بس میں جلدی آجاؤں گا.پر اگر لیٹ ہوبھی گیا تو تم اور مجتبیٰ سنبھال لینا کچھ وقت کے لئے اوکے.”ایمان کا سر تھپک کر وہ جلدی سے کار میں بیٹھا.پھر زن سے کار گیٹ سے باہر نکلی.پولیس جیپ کے سامنے اسنے اپنی کار روکی. سنسان سی جگہ تھی جہاں ایک گلی میں جیپ کھڑی تھی.کچھ پولیس آفیسرز بھی وہاں موجود تھے.شیرافگن کار سے نکلا ، ولید اسکی طرف بڑھا.”تمہیں کہا بھی تھا کہ مت آنا پر تم کسی کی کہاں مانتے ہو.”ولید نے خفا ہو کر کہا.”کہاں ہے وہ؟”شیرافگن نے سنجیدگی سے پوچھا.”چلو میرے ساتھ” ولید نے اسے اشارہ کیا.دونوں ساتھ ساتھ چلنے لگے.”اپنا حساب جلدی پورا کرو یار ابھی یہ خبر اسکے باپ تک پہنچ جانی ہے پھر تمہیں پتہ ہی ہے.اپر سے آرڈر آنے شروع ہونگے.اسے لے کر مجھے جیل پہنچنا ہے.”ولید چلتے ہوئے اس سے بات کر رہا تھا.شیرافگن نے سر ہلایا. دونوں ایک چھوٹے سے کمرے میں داخل ہوئے. جہاں کرسی پر احمرجمالی کو باندھا ہوا تھا. انھیں دیکھ کر وہ چیخا.”تم مجھے یہاں کیوں لاۓ ہو ہاں.میرے باپ کو پتہ چلنے دو تمہارا وہ حال کریگا کہ تم یاد رکھو گے.”وہ ولید کو دیکھ کر غصے سے بولا.شیرافگن چلتا ہوا احمر جمالی کے قریب آیا اورکھینچ کرایک تھپڑ اسکے منہ پر مارا.احمر جمالی کاچہرہ گھوم کر رہ گیا.اسے اس تھپڑ کے ساتھ اس لڑکی کا تھپڑ بھی یادآیا.سب کا خود پر ہنسنا یاد آیا.اسنے لال نظروں سے شیرافگن کو دیکھا.”ولید ذرا کھولو اسے”شیرافگن نے ولید کو اشارہ کیا. "کنٹرول یار”ولید نے اسے ٹوکا پروہ بہت سنجیدہ تھا.”ابھی اس پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتے سمجھو اس بات کو”ولید عاجز آ کر بولا.شیر افگن نے مسکرا کر اسکا کندھا تھپکا.”کوشش کروں گا تمہاے مجرم کے چہرے پرنشان نہ پڑے.”اسکی بات پر ولید سر جھٹک کر احمر جمالی کی طرف آیا.وہ جانتا تھا اسکا دوست بہت ضدی تھا.اسنے کرنی تو اپنی ہی تھی. احمر جمالی حیرت سے سب دیکھ رہا تھا.جب ولید اسے کھولنے لگا تو احمرجمالی چیخا.”تم ایسا نہیں کر سکتے آفیسر کون ہے یہ؟کیوں کر رہا ہے ایسا.”احمر جمالی ڈرکر بولا.اسے ڈر تھا کہ سامنے کھڑا وہ شخص اسے مار ڈالے گا.ولید اسے کھول کر جانےلگا.شیرافگن،احمر جمالی کی طرف بڑھا.احمر جمالی ایک دم ڈر کر پیچھے ہوا "آفیسر…مجھے بھی لے کر جاؤ” وہ ولید کو جاتے دیکھ کر چیخا.اسے شیرافگن سے خوف محسوس ہو رہاتھا.ولید اسکی بات سنےبغیر چلاگیا.”تم پولیس آفیسر نہیں ہو.پھر کیوں مارناچاھتے ہو مجھے.کیا دشمنی ہے مجھ سے …چھوڑو مجھے”وہ بولے جا رہا تھا جب شیرافگن نے ایک دم غصے سے اسکا گریبان پکڑا.”میں پولیس آفیسر نہ سہی پر تمہیں سبق ضرور سکھاؤں گا.تاکہ تمہیں پتہ چلےجس لڑکی کو تم نےاکیلاسمجھ کر اسکے ساتھ بدتمیزی کی وہ اکیلی نہیں ہے.ایک مضبوط ساتھی ہے اسکا جو تم جیسوں کو اچھے سے ہینڈل کر سکتا ہے.”شیرافگن نے چبا کر کہا پھر احمرجمالی کو دھکا دیا.جو پیچھے دیوار کے ساتھ جا کر لگا.آنکھیں پھاڑے وہ شیر افگن کو دیکھ رہا تھا.”حیات….کی بات کر رہے ہو تم؟”احمر جمالی اٹک کر بولا.”منہ بند کرو خبر دار اپنی گندی زبان سے حیات کا نام لیا تو.”شیرافگن نے غصے سے اسکے منہ پر مکہ مارا.وہ زمین پر جا کر لگا.شیرافگن نے اسے خوب لگائیں.پھر اسےگریبان سے پکڑ کر اٹھایا جھٹکے سے اپنے سامنے کیا.شیرافگن اسکا منہ توڑ دینا چاہتا تھا پر وہ ولید کے لئے کوئی پرابلم کریٹ نہیں کرنا چاہتا تھا.
"جو تم نےکیا تھا ناں اسکے بدلے میں تمہاری جان لے لیتا پر میں ان باقی لڑکیوں کو انصاف دلانے کے لئے قانونی طور پر تمہیں سزا دلانا چاہتا ہوں.”شیرافگن نے اسے جھٹکے سے چھوڑا پھر پلٹا کر جانے لگا.جب احمرجمالی ذور سے ہنسا”انصاف ، سزا بھول جاؤ اس بات کو کہ مجھے سزا ہوگی اور حیات…”اسنے ٹھنڈی آہ بھری”اسےتو نہیں چھوڑوں گا.”احمر جمالی اتنی مار کھا کر بھی نہیں سدھرا تھا.ڈھیٹ بنا ہنس رہا تھا.اسکی بات سن کر شیرافگن کےتن من میں آگ ہی تو لگ گئی تھی.وہ غصے سے ابلتا احمرجمالی کی طرف پلٹا.”تم ذلیل انسان…تمہاری یہ ہمت”شیر افگن نے ایک کے بعد ایک تھپڑ اسکے منہ پر مارے.وہ غصے سےپاگل ہو رہا تھا.احمرجمالی ذور ذور سے چیخا.اسکی آواز سن کر ولید جلدی سے اندر آیا.”چھوڑو افگن….چھوڑ یار” ولید نے بڑی مشکل سے شیرافگن کو پیچھےکیا احمر جمالی بے دم سا زمین پر گرا.”چھوڑ ولی اسے آج بتاتا ہوں انصاف اور سزا کیا ہوتی ہے.”وہ غصے سے لال ہورہا تھا.”چلو آؤ اسے ہم دیکھ لینگے”ولید،شیرافگن کو پکڑ کر لے جانے لگا.ایک منٹ ولی”اسنے ولید سے خود کو چھوڑایا.پھر احمر جمالی کے قریب جھکا. "میری حیات سے دور رہنا سمجھے ورنہ جان سے مار ڈالوں گا”مدھم لہجے میں چبا کر کہتا وہ اٹھا پھروہاں سے نکلتا چلا گیا.ولید اسکے پیچھے گیا.”ٹھنڈا کر خود کو یار”ولید نے اسکا کندھا تھپکا.”ولی یہ کسی قیمت پر بچنا نہیں چاہیے”شیرافگن نے سنجیدگی سےکہا
” میں پوری کوشش کرونگا”ولید نے کہا پھر آفیسرز کو اشارہ کیا.احمرجمالی کو اٹھا کر جیپ میں ڈالاگیا.وہ لوگ وہاں سے چلے گئے. شیرافگن نے اپنا غصہ ٹھنڈا کیا پھر کار میں بیٹھا اور فل سپیڈ میں کار ڈرائیو کرنے لگا. اسے جلدی سے گھر پہنچنا تھا.
عباسی ہاؤس میں گہما گہمی عروج پر تھی. سارا گھر روشنیوں سے جگ مگ کر رہا تھا.ہال کو بہت خوبصورتی سے پھولوں سےسجایاگیا تھا.ہال کےدرمیان پیارا سا اسٹیج بنایا گیا تھا. جسکو درمیان سے گولڈن نیٹ کاکپڑے لگا کر سیپریٹ کیا گیا تھا.مہمان اور مولوی صاحب بھی آ چکے تھے.دادو نے ایمان کو حیات اور شیرافگن کو نیچے لانے کا کہا پر ایمان نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ابھی حیات کو تیار کیا جا رہا ہے.کافی دیر گزر چکی تھی پر دولہا صاحب غائب تھے.شمس صاحب ،ایمان کی طرف آۓ.”کہاں ہے شیرافگن کب سے نظر نہیں آرہا کچھ دیر میں نکاح ہونے والا ہے. وہ اتنا لاپرواہ کب سے ہوگیا” شمس صاحب نے سنجیدگی سے کہا.”وہ بابا بھائی اپنے کمرے میں ہی ہیں بس کچھ دیر میں آرہے ہیں.”ایمان نے جلدی سے کہا.اسکی بات پر شمس صاحب سر ہلا کر چلے گئے. ایمان پریشان سی ہوگئی شیرافگن ابھی تک نہیں آیا تھا.وہ جلدی سے مجتبیٰ کی طرف بڑھی.”مجتبیٰ آپ جلدی سے بھائی کو کال کریں اور انھیں آنےکا کہیں.سب انکا پوچھ رہے ہیں.”
"اچھاتم پریشان نہ ہو میں کال کرتا ہوں.” مجتبیٰ نے نرمی سے کہا.”میں ذرا حیات کو دیکھ لوں”ایمان نے کہا تو مجتبیٰ نے سر ہلایا پھر شیرافگن کو کال کرنے لگا.شیرافگن نے کال پک کی.”اوۓ لالے کہاں ہو جلدی آؤ ورنہ نکاح نہیں ہونے والا تمہارا.سب کب سے انتظار کر رہے ہیں.”مجتبیٰ نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا.”بس یار پہنچ گیا ہوں.”شیرافگن نے جلدی سے جواب دیا.پھراسے بائے کہہ کر فون بند کر دیا.
حیات کو تیار کر دیا گیا تھا.تابی، حریم ، سبین اور مینا حیات کے بیڈ پر بیٹھیں گانے گا رہیں تھیں.جبکہ حیات آئینے کے سامنے کرسی پر بیٹھی تھی.بیوٹیشن نے اسکا خوبصورت سا جوڑا بنایا پھر اسکا دوپٹہ سیٹ کرنے لگی. حیات خوبصورت سے گولڈن لہنگا، شرٹ میں ملبوس تھی.آنکھوں سے ہم رنگ لباس نے اسکی آنکھوں کو مذید روشنی اور سنہرا پن بخشہ تھا.اسکا میک اپ ہلکا تھا.پلکوں پر مسکارا،لبوں پر پنک لپ اسٹک تھی.ناک میں نازک سی نتھ ڈالی تھی.نازک جیولاری وہ مغلیہ شہزادی لگ رہی تھی.بیوٹیشن نےحیات کو گولڈن نیٹ کا دوپٹہ اوڑھایا جس میں اسکی صراحی دار گردن واضح ہو رہی تھی. بیوٹیشن کام ختم کر کےکمرے سے نکل گئی. جبکہ حیات وہی کرسی پر بیٹھی رہی.اسکی چڑیلیں گانا، گانے میں مصروف تھیں.دروازہ کھلا اور ایمان روم میں داخل ہوئی.وہ حیات کے قریب آئی اور مسکرا کر اسکی پیشانی چومی "میری گڑیا آج حد سے بڑھ کر پیاری لگ رہی ہے.”ایمان نے پیار بھری نظروں سے اسے دیکھا.حیات اداس سی بیٹھی تھی.آج وہ ہمیشہ کے لئے کسی کی ہونے والی تھی.وہ عجیب سے احساسات میں گھری ہوئی تھی. ایمان کی بات پر مینا بیڈ سے چھلانگ لگا کر ان تک آئی.”آپی ہماری گڑیا تو پیاری لگ رہی ہے آپ ذرا اپنے گڈے کو بھی دیکھ لیں. وہ تیار ہوئے کہ نہیں”مینا نے شرارت سے کہا.ایمان کے دماغ میں گھنٹی بجی.”ہاں میں ذرا بھائی کو دیکھ آؤں جب تک تم سب نیچے جا کر دیکھو اگر کوئی کام ہے تو.” ایمان نے سب کو دیکھا. "اچھا جاتے ہیں آپی…پہلے حیات کوکالا ٹیکا لگا لیں.”حریم نے ہنس کر کہا پھر کاجل سے چھوٹا سا ٹیکا حیات کے کان کے پیچھے لگایا. "بدلہ لیا ہے لڑکی نے”تابی شرارت سےبولی. حریم کی منگنی میں حیات نے بھی اسے ایسے ہی ٹیکا لگایا تھا.”ماشاءاللّه حیات بہت پیاری لگ رہی ہو.”سبین نے محبت سے اسے دیکھا. حیات سرہلا کر ہلکے سے مسکرائی گال میں پڑتےڈمپل نےاسکے حسن کو چارچاند لگادئے تھے. "آج ہماری پیاری کی بولتی بند ہے.”تابی نے حیات کا چہرہ اپر کر کےکہا۔
سب کے ساتھ ایمان بھی ہنسنے لگی.حیات نے منہ بنایا.
"اچھاچلو لڑکیوں جاؤ نیچے پھر حیات کو بھی لےکرجانا ہے.”ایمان نے کہا تو سب کمرے سے نکل گئیں.دوسری طرف شیرافگن بیک ڈور سے گھر میں داخل ہوا.وہ حیات کے کمرے کے سامنے سے گزر رہا تھا.جب ہلکے کھلے دروازے سے اسے حیات کی جھلک دکھائی دی.جو ایمان سے بات کر رہی تھی.شیرافگن کے قدم تھم گئے.وہ مسمرائز رہ گیا.پلکیں تک نہ چھپک سکا.وہ اس قدر پیاری لگ رہی تھی کہ شیر افگن کو اپنا دل اسکی طرف بھاگتا ہوا محسوس ہوا.وہ کچھ دیر پہلے اسی لڑکی کے لئے تو لڑ ا تھا.وہ لڑکی اس قابل تھی بھی کہ اسکی خاطرجان کی بازی لگادی جاتی.ایمان پلٹ کر دروازے تک آئی.”ارے بھائی شکر ہے آپ آگئے پلیز اب جلدی تیار ہو جائیں.” بھائی کو دیکھ کر ایمان کھل اٹھی تھی.پر بھائی صاحب کی نظریں اور ذہن کہیں اور تھا.ایمان نے ہنسی دبا کر اسکا شانہ ہلایا.وہ ایک دم چونکا پھر بہن کو دیکھا.
"ہاں..ایمان…تم”اسنے ہلکی مسکراہٹ کےساتھ بالوں میں ہاتھ پھیرا.”جی بھائی میں!!! "ایمان نے ہنسی دبائی.”تمہاری بھابی سے مل لوں؟” شیر افگن نےاسے دیکھ کر شوخی سے پوچھا
"بھابی” ایمان نے الجھی نظروں سےبھائی کو دیکھا پھر سمجھ کر مسکرائی.آج سے حیات سے اسکا نیا رشتہ بننےجا رہا تھا.وہ ایمان کی بہن ، دوست اور اب بھابی بننے جا رہی تھی. "جی نہیں…بھائی آپ نہیں سکتے اور آج میں آپکی نہیں حیات کی بہن ہوں.”ایمان نےمسکرا کر کہا "بھائی سے دھوکہ”شیرافگن نے خفگی سے اسےگھورا.”اب ایسی بھی بات نہیں ،آپ جلدی جاکر تیار ہو جائیں نیچے سب ویٹ کر رہے ہیں.”ایمان نے بھائی کو دیکھ کر کہا .”ایک بار ملنے دو ورنہ تیار نہیں ہونا میں نے” شیرافگن نے انگلی اٹھا کر بہن کو وارن کیا "اچھابھائی اچھا…پر جلدی پلیز”ایمان ہاتھ اٹھا کربولی پھر مسکراہٹ دبا کردروازے سے ہٹ کر باہر چلی گئی.شیرافگن کمرے میں داخل ہوا.حیات شیشے کے سامنے کھڑی اپنا چھمکا ٹھیک کر رہی تھی.شیرافگن اس کے قریب آیا. حیات نے شیشے میں اسے اپنے پیچھے کھڑے دیکھا تو ایک دم اسکی طرف پلٹی.لہنگے میں اسکا پاؤں الجھا وہ گرنے کو تھی جب شیر افگن نے آگے بڑھ کر اسے تھاما.”سنبھل کر”شیر افگن نے اسکے چہرے پر نظریں جما کر کہا. حیات نے اپنے بازو اسکی گرفت سے چھڑاۓ. پھر گھور کر اسے دیکھا.”آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟”حیات نے پوچھا.شیرافگن اسے دیکھ کر مسکرایا.سجے سنورے روپ میں وہ شیرافگن کا دل لوٹ لے گئی تھی.”آج تو سچ میں شیر افگن کی پرنسیس لگ رہی ہو.”شیرافگن نے کہا.حیات کا رنگ گلابی ہوا.شیرافگن تودیوانہ ہواجا رہا تھا.اسکے مسلسل دیکھنے پر حیات نے جھجھک کر گردن جھکالی.نجانے کیوں پر اسکی دھڑکنوں نے رفتارپکڑ لی تھی.سانسیں اٹکنے لگیں.اپنی حالت کو وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی.”آپ جائیں یہاں سے”حیات نے مدھم آواز میں کہا.”جارہا ہوں بس تمہیں ایک نظر دیکھنے آیا تھا.” نرمی سے کہتا ایک محبت بھری نظر اس پر ڈال کر وہ کمرے سے نکل گیا اورحیات کی سانسیں بحال ہوئیں.
"یہ زندگی تیرے ساتھ ہو”
"یہ آرزو دن رات ہو”
"میں تیرے سنگ سنگ چلوں”
"تو ہر سفر میں میرے ساتھ ہو”
شیر افگن بلیک سوٹ میں ملبوس تھا. بال اچھے سے سیٹ تھے.حیات کو حریم نے ریڈ نیٹ کا دوپٹہ اوڑھا کر اسکا چہرہ ڈھانپ لیا.حیات کی چاروں دوستوں نے حیات اور شیر افگن کے سر پر ایک دوپٹہ پکڑا جسکے ساۓ تلے وہ دونوں سیڑھیاں اتر رہے تھے. وہاں سب کی نظروں کا مرکز وہ دونوں تھے. اسٹیج کے سامنے رک کر لڑکیوں نے حیات کو اسٹیج کے ایک طرف بٹھایا اور نیٹ کے پردے کی دوسری طرف شیرافگن دوستوں اور کزنز کے ساتھ بیٹھا.وہ لوگ آمنے سامنے تھے.شیر افگن کی نظریں بھٹک بھٹک کر حیات پر پڑ رہیں تھیں.اسٹیج سے نیچے چاروں طرف سب مہمان کھڑے تھے.کچھ دیر بعد گھر کے سب بڑے ، مولوی صاحب کے ساتھ اسٹیج پر آۓ. مولوی صاحب نے دونوں کا نکاح پڑھایا.نکاح کے بعد ساری محفل میں مبارک سلامت کا شور مچا تھا. دادو نے حیات کو اپنے ساتھ لگا کر اسکی پیشانی چومی.سب اسے گلے لگاکر مبارک دے رہےتھے پراسکی آنکھیں نم ہو رہیں تھیں. "مبارک ہو میری جان آج سے شیر مار آپکا ہوا.” ایمان نے مسکرا کر اسکے کان میں سرگوشی کی.حیات کے آس پاس بیٹھیں اسکی چڑیلیں ذور سے ہنسیں.
دوسری طرف شیرافگن آنکھوں میں انوکھی چمک لئے سب سے مل رہا تھا.اسنے ایک نظر حیات کو دیکھا.آج سے وہ ہمیشہ کے لئےاسکی تھی.مجتبیٰ ، شیرافگن کے قریب ہوا.
"مبارک ہو لالے آج سے یہ آفت تمہاری ہوئی.” اسکی سرگوشی پر شیرافگن نےمسکرا کر اسے دیکھا.”خیر مبارک یار”اسنے مجتبیٰ کو ذور سے گلے لگایا.”ابے اپنی خوشی میں میری ہڈیاں کیوں توڑ رہا ہے.”مجتبیٰ ایک دم اس سے الگ ہوا.شیرافگن نے ہنس کر ہلکے سے اسکے سینے پر پنچ مارا.”دوست جو ہو.”شیر افگن نے شوخی سے کہا.مجتبیٰ نے سینہ مسلہ "صحیح ہے باس دوست ہوں جو مرضی کہو” مجتبیٰ نے منہ بنا کر کہا.شیرافگن نے اسکے کندھے پر بازو پھیلایا.”چلو یار دوست کو مار سکتا ہوں پر بہنوئی صاحب کو میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ بہن بہت پیاری ہے مجھے”شیرافگن نے مسکرا کر کہا تو مجتبیٰ ہنسا.”شکر ہے.”مجتبیٰ نے شرارت سے کہا.
چاروں طرف خوشیوں کے رنگ بکھرے تھے.سلوو میوزک چل رہا تھا.سب بہت خوش تھے.انجوۓ کر رہے تھے.پر علی ایک طرف اداس سا کھڑاتھا.اسے حیات اچھی لگی تھی پراب وہ کسی اور کی ہو چکی تھی.وہ سر جھٹک کر مسکرایا پھر اسٹیج کی طرف بڑھا. اسنے سچے دل سے شیرافگن کے گلے مل کر اسے مبارک دی. شیرافگن نے بھی علی سے پرانی چڑ بھلا کر مسکراہٹ کے ساتھ اسے گلے لگایا.دوسری طرف حیات کی چڑیلیں اسے تنگ کر رہیں تھیں.وہ بے چاری خاموشی سے سن رہی تھی.اب وہ اتنے مہمانوں کے سامنے انھیں سیدھا کرنے سے رہی.
انکے نکاح کے دوسرے دن دادو،سارا بیگم اور شمس صاحب کو عمرہ پر جانا تھا.ایک بجے کی انکی فلائٹ تھی.سب ہال میں جمع تھے.کچھ دیر میں دادو لوگوں نے نکلنا تھا.امل اور حیات آج گھر پر ہی تھیں.وہ بھی انھیں چھوڑ نے جانے والیں تھیں.ایمان کل ہی سب سے مل کر مجتبیٰ کے ساتھ چلی گئی تھی.شیرافگن دادو کے پاس کھڑا تھا.اسنے ایک استحقاق بھری نظر حیات پر ڈالی.جو سارا بیگم سے باتیں کر رہی تھی.لائٹ پنک کپڑوں میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی.نکاح کے بعد حیات اسکے سامنے نہیں آئی تھی.آج ہی اسے حیات کو دیکھنے کا موقع ملا تھا.وہ حیات کو دیکھنے میں مصروف تھا.جب شمس صاحب نے اسے پکارا.
” شیرافگن چلو بیٹاگاڑی نکالو”انکے کہنے پر شیرافگن "جی بابا” کہتا باہر کی طرف بڑھ گیا.سب پورچ کی طرف بڑھے.احمد صاحب اور الماس بیگم سب سے ملے. حیات اور امل بھی ماما ، بابا کو بائے کہہ کر دادو، تائی امی اور بڑے ابو کے ساتھ کار میں بیٹھ گئیں۔تو شیرافگن نے کار آگے بڑھا دی.کار ایئر پورٹ کی جانب بڑھ رہی تھی.راستے میں دادو تینوں بچوں کو سمجھا رہیں تھیں کہ ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہے.لڑائی نہیں کرنی وغیرہ.کار ایئر پورٹ کے سامنے رکی.سب باہر نکلے شیرافگن نے سامان ٹرالی میں رکھا.دادو نے امل اور حیات کو گلے لگایا.پھر وہ دونوں تائی امی سے ملنے لگیں.شیرافگن، دادو سے ملا.”شیرافگن بیٹا ہم جا رہے ہیں.سب کا خیال رکھنا اور ہاں حیات کا بھی خیال رکھنا۔ اسے ڈانٹنا مت، سمجھ گئے.”دادو نے نرمی سے کہا.شیرافگن نےمسکر کر انکے ہاتھ تھامے.”آپ اور ماما ،بابا بے فکر ہو کر جائیں دادو.یہاں کسی کی فکر نہ کریں.میں یہاں ہوں ناں”اسنے پیار سے دادو کو کہا پھر اپنی ماں سے بات کرتی حیات کو دیکھا پھر دادو کو”ویسےآپ نے اپنی پوتی کو بھی سمجھایا یاصرف مجھے ہی سمجھا رہی ہیں۔ اسے بھی میرا خیال رکھنے کا کہا ہے ناں؟.” اسنے ہنسی دبا کر پوچھا. "سمجھایا ہے بیٹا پر وہ تھوڑی نادان اور لاپرواہ ہے اور تم سمجھدار ہو، بڑے ہو.اسلئے تمہیں کہہ رہی ہوں.”انہوں نے مسکرا کراسکا شانہ تھپکا.”انشاء اللّه دادو آپکو مجھ سےکوئی شکایت نہیں ہوگی.جیسا آپ نے کہا ہے ویسا ہی ہوگا.” اسنے دادو کے ہاتھ چوم کر کہا.”میرا پیارا بچہ”دادو نے محبت سے اسے گلے لگایا.پھر شیرافگن اپنے ماما، بابا سے ملا.امل بھی انکے قریب کھڑی تھی جبکہ حیات کچھ فاصلے پر کھڑی سب دیکھ رہی تھی.”ہر کسی پر شیرمار نے جادو کر رکھا ہے.”اسنے جل کر سوچا.شیر افگن ہنس کر باپ سے گلے مل رہا تھا.”میرا بیٹا وہاں کیوں کھڑا ہے یہاں آؤ”بڑے ابو نے حیات کو اپنے پاس بلایا.پھر اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنا خیال رکھنے کا کہا۔کچھ دیر بعد وہ لوگ ان تینوں کو اللّه حافظ کہتے ایئرپورٹ کے اندر داخل ہوگئے.وہ تینوں بھی واپس کار میں بیٹھے.شیرافگن اور امل آگے اورحیات پیچھے بیٹھی تھی.شیر افگن نے بیک مرر سے حیات کو دیکھا. وہ باہر دیکھ رہی تھی.وہ نکاح کے بعد سے شیرافگن سے بات نہیں کر رہی تھی.شیرافگن نےحیات کو دیکھ کر امل کو اشارہ کیا.”آپی آپ اتنی خاموش کیوں ہیں؟” امل نے پیچھے مڑ کر اسے دیکھا
"ویسے ہی”امل کو جواب دے کر وہ پھر ونڈو سے باہر دیکھنے لگی.
"آپ خاموش اچھی نہیں لگتیں” امل نے منہ بنا کر کہا.حیات نے گردن موڑ کر اسے دیکھا
"کچھ لوگوں کو میں بولتی بھی اچھی نہیں لگتی” حیات نےطنزیہ لہجے میں کہا.اسکی بات پر شیرافگن نے مرر میں اسے دیکھا تبھی حیات نے بھی نظریں اٹھائیں.شیرافگن نے اسکی سنہری آنکھوں میں دیکھا پر وہ نظریں پھیر گئی.وہ لمبی سانس بھرکر رہ گیا.اسے لگا نکاح کر کے اسنے غلطی کر لی ہے.وہ محترمہ تو اس سے بولنا ہی چھوڑ چکی تھی.
"امل آئسکریم کھاؤ گی؟” اسنے جان بوجھ کر امل سے پوچھا.آئسکریم حیات کی فیورٹ تھی.وہ بھی سردیوں میں وہ اور مزے سے کھاتی تھی.”نہیں بھیا مجھے نہیں کھانی”امل نے ہنسی دبا کر کہا.”کھا لو یار چاکلیٹ آئسکریم کھلاؤں گا.”شیرافگن نے آبرو اٹھا کر امل کو اشارہ کیا.”ارے یہ تو آپی کی فیورٹ ہے.آپی آپ کھائیں گیں.”امل نے حیات کو دیکھا.”مجھے نہیں کھانی سمجھی”وہ پھاڑ کھانے کو دوڑی.شیرافگن نے اس سے نہیں پوچھا تھا.اسے یہ بات دکھ دے رہی تھی.
"چھوڑوامل ہم دونوں کھالینگے.”شیر افگن نے مسکراہٹ لبوں پر دبائی.حیات تو جل بھن گئی.شیرافگن نے کار روک کر آئسکریم لیں. ایک امل کو پکڑائی اور ایک خود کھانے لگا.حیات نے انھیں آئسکریم کھاتے دیکھا تو اسکا دل کیا وہ زور زور سے رونے لگ جائے.”ظالم آدمی”وہ غصے سے بڑبڑائی. شیرافگن نے مرر میں دیکھا۔حیات کا منہ پھولا ہوا تھا۔اسنے اپنا کپ رکھا.پھرتیسرا کپ ہاتھ میں لے کر پیچھے مڑا.”اہممم…”وہ پلٹ کر کھانسا.امل نے ہنسی دبائی.
"حیات یہ لو” اسنے کپ اسکی طرف بڑھایا۔حیات نے گھور کر کپ کو دیکھا پھر شیرافگن کو.
"امل میں نے کہا تھا مجھے نہیں چاہیے.” وہ شیرافگن کو اگنور کرتی امل سے بولی۔شیرافگن کو یہ بات ایک آنکھ نہ بھائی۔”امل اپنی بہن سے کہو کھا لے.”شیرافگن نے کپ امل کو پکڑایا.پھر حیات کو اگنور کرتا اپنی آئسکریم کھانے لگا.”آپی لیں ناں بڑے مزے کی ہے.”امل نے مزے سے کہا.حیات کا دل چاہا وہ لے کر کھا لے.پر نہ جی…انا بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔شیرافگن نے اس سے پوچھا نہ تھا.تو پھر وہ کیوں کھاتی پر وہ یہ نہیں سوچ رہی تھی کہ اگر پوچھا نہیں تھا.پھر بھی اسکا فیورٹ فلیور اسکے لئے مانگوایا تھا.”کم آن حیات لے لو”شیرافگن سے رہا نہ گیا تو بول پڑا۔وہ جانتا تھا محترمہ کا دل کررہا ہےپر میڈم ضدی بنی بیٹھی ہے۔اسکے نرمی سے کہنے پر حیات اور برداشت نہ کر سکی. پر وہ شیرافگن سے بولنے والی نہ تھی.
"اچھا لاؤ امل تم کہتی ہو تو کھا لیتی ہوں.” اسنے احسان کرتے ہوئے کہا.اسکی بچوں والی حرکت پر شیرافگن نے بڑی مشکل سے اپنے قہقہہ کا گلہ گھونٹا. حیات ، امل سے آئسکریم لے کر جلدی سے کھانے لگی. اسنے شیرافگن کو نہ دیکھا کہ وہ اب کیا سوچے گا۔ شیرافگن نے آئسکریم ختم کی پھر کار سٹارٹ کر کے آگے بڑھا دی.ڈرائیو کرتے ہوئے اسنے مرر میں دیکھا۔ حیات آئسکریم کھانے میں مصروف تھی۔اسے دیکھ کر شیرافگن کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ پھیل گئی.
حیات یونی پہنچ کر ان چڑیلوں کی طرف آئی۔ "ویلکم ویلکم”سب نے ایک ساتھ خوشی سے کہا
"شکریہ چڑیلو” اسنے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا. "تمہیں تنگ کرنے کا بڑا دل کر رہا ہے۔”تابی نے شرارت سے کہا.”میرا بھی”مینا نے بھی تابی کا ساتھ دیا.”خبر دار۔۔۔۔ مجھ سے کچھ سن نہ لینا تم دونوں”اسنے انگلی اٹھا کر دونوں کو وارن کیا.سبین اور حریم ہنسنے لگیں.”اف یہ شیر مار والا غصہ”مینا نے آنکھ دبا کر کہا. "چپ کرو عزت سے نام لو ورنہ حیات کو غصہ آجاۓ گا.”تابی نے مینا کے کندھے پر بازو پھیلا کر شوخی سے کہا۔وہ دونوں بھلا کہاں باز آنے والیں تھیں.”مرو تم دونوں”حیات نے خشمگین نگاہوں سے انھیں دیکھا.”آؤ حریم، سبین ہم لوگ چلتے ہیں.”حیات ان دونوں کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھ گئی.”ارے رے ہمیں بھی ساتھ لے کر جاؤ”تابی اور مینا دونوں انکے پیچھے بھاگیں.”نہیں تم دونوں دانت نکالو ہم کلاس لینے جا رہے ہیں.”حیات نے دونوں کو گھورا. "ہونہہ دانت بھی نکالیں گے اور تنگ بھی کرینگے ہم.”تابی نےہنس کر مینا کے ساتھ پر ہاتھ مارا”آہو…” مینا نے بھی اثبات میں سر ہلایا
"توبہ توبہ چڑیلیں کہیں کی.”حیات نے منہ بنا کر کہا. پھر سب کلاس روم کی طرف بڑھ گئیں.واپسی پر وہ سب یونی سےباہر نکلیں. حیات اپنی کار کو ڈھونڈھ رہی تھی.پر اسے کہیں نظر نہ آئی.اسکی نظریں گھومتیں ہوئی ایک جگہ ٹہر گئیں.شیرافگن نیوی بلیو سوٹ میں گاڑی سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا.
"اللّه اللّه دیکھو کون آیا ہے حیات کو لینے.” مینا نے خوشی سے کہا حیات نے اسے گھورا
"شیرافگن بھائی واؤ.” سبین نے ہنس کر کہا
"جاؤ جاؤ حیات پیار کرنے والوں کو اتنا انتظار نہیں کرواتے.”تابی نے اسکا کندھا تھپتھپا کر کہا.”چپ رہو …یہ کیوں آگئے اور کریم بابا کیوں نہیں آۓ.”اسنے افسوس سے سر ہلایا۔ "یہ سب کتنا کیوٹ لگ رہا ہے۔ تمہیں تو خوش ہونا چاہیے اور تم منہ بنا رہی ہو” حریم نے مسکرا کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
"جانےدو کہاں کی خوشی۔۔۔ان صاحب کے تو مزاج ہی نہیں ملتے۔ پتہ نہیں کیا سمجھتے ہیں خود کو”حیات نےسر جھٹک کرکہا۔”تمہارا مجازی خدا”تا بی نے آنکھ مار کر کہا۔”تم تو منہ بند ہی رکھو”حیات نے منہ بگاڑا
"اسے جانے دو…جاؤ حیات، افگن بھائی ویٹ کر رہے ہیں۔ دیکھو اتنےاچھے تو ہیں افگن بھائی.”حریم نے دور کھڑے شیرافگن کو دیکھ کر کہا "اچھا۔۔ ۔ مینا تم لوگ حریم کا نکاح کروا دو تاکہ اسکا اچھا بھی اسے لینے آۓ.یہ تو اسے ایک پل انتظار نہیں کروائے گی۔”حیات نے جل کر کہا۔وہ سب ایک دم ہنسنے لگیں۔
"پھر بھی یہ اکیلی نہیں جائے گی۔ میں بھی اسکے ساتھ ساتھ رہوں گی.”مینا نے ہنس کر حریم کےکندھے پر بازو پھیلا کر کہا.”دفع منحوس”حریم نے منہ بنا کراسکا بازو جھٹکا. حریم کے علاوہ وہ سب ہسنے لگیں۔پھر حیات سب سے مل کر کار کی طرف بڑھ گئی.
"اسلام و علیکم”اس نے سلام کیا پھر کار کا پچھلا دروازہ کھولنے لگی.شیرافگن نے سلام کا جواب دے کرہاتھ بڑھا کر اسے کار کا دروازہ کھولنے سے روکا.حیات نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا "آگے بیٹھو” اسنے نرمی سے کہا
"نہیں” حیات نے ضدی لہجہ اپنایا.گلاسز کے پیچھے سے شیرافگن نے اسے گھورا تھا۔
"آرام سے بیٹھو حیات مجھے غصہ مت دلاؤ .” شیرافگن نے سخت لہجے میں کہا کیونکہ وہ جانتا تھا۔ نرمی سے کہنے پر وہ کبھی نہیں مانے گی.”چلو بیٹھو”اسنے فرنٹ ڈور کھولا. حیات پھولے منہ کے ساتھ بیٹھ گئی.دروازہ بند کر کے شیرافگن بھی لبوں پر دھیمی مسکان لئے گھوم کر دوسری طرف آیا.ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر کار آگے بڑھا دی.اسنے حیات کو دیکھا وہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی.” ان محترمہ کو اب تو مجھ سےبولنا ہی ہو گا۔ "وہ شرارت سے بڑبڑا کر کھانسا.”کیا ہوا پرنسیس نکاح کے بعد بولنا کیوں چھوڑ دیا تم نے؟” شیرافگن نے ہنسی دبا کرپوچھا.حیات نے حیرت سے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔جو اب سامنے دیکھ رہا تھا. "میری مرضی”حیات نے ناک چڑھا کرجواب دیا۔
"اب تمہاری اور میری مرضی ایک ہی ہے.کیا تم بھول رہی ہو میں تمہارا مجازی خدا ہوں.” شیرافگن نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا.حیات نے کچھ پل اسکی سیاہ آنکھوں میں دیکھا.شیرافگن نے نظریں نہ ہٹائیں تو حیات جلدی سے نگاہیں پھیر گئی.” بولو پرنسیس!!!” شیرافگن نے ذور دے کر کہا.اسکے پرنسیس کہنے پر حیات کو بڑا غصہ آیا.”آپ میری جان چھوڑ دیں.”وہ تپ کر بولی۔”سوری اب تو ایسا ہونے سے رہا.اب تو تمہاری جان ہی میری جان ہے.”اسنے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ کہا.حیات تپ گئی.”افگن بھا….”حیات نے اتنا ہی کہا
"اے لڑکی چپ…” شیرافگن نے جلدی سے اسکی بات کاٹی. "پر کیوں” حیات نے منہ پھلا لیا.”کیا پاگل ہو تم نکاح کے بعد بھی بھائی بولو گی.توبہ کرو جلدی سے” اسنے آنکھیں نکال کر کہا۔حیات نے ماتھے پی ہاتھ مارا.”یہ میں کیسے بھول گئی.جلدی میں منہ سے نکل گیا.”وہ بڑبڑائی پر شیر افگن نے اسکی بڑبڑاہٹ سن لی.”قربان جاؤں تو یاد رکھو اور سوچ کے بولا کرو آئندہ نہ سنو میں یہ بھائی وائی.باقی سب بھائی ہیں۔مجھے چھوڑ کے یاد رکھنا اب”سنجیدگی سے اسے دیکھ کر کہا گیا۔حیات نے کوئی جواب نہ دیا اور سرخ چہرہ دوسری طرف گھما لیا.شیرافگن کے منہ سے ایسی باتیں سننا. توبہ ، استغفار…ایسا تو حیات نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ان دونوں کے بیچ ایسا رشتہ بھی قائم ہوگا.پر کبھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے.جو انسان سوچتا بھی نہیں وہ ہو جاتا ہے.حیات کو بھی سب کچھ عجیب لگ رہا تھا.اسے چہرہ دوسری طرف کئے دیکھ کر شیرافگن بھی خاموشی سے ڈرائیو کرنے لگا.

جاری ہے…

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/