منگولوں جیسی خوفناک فوج کسی کے پاس نہیں تھی لیکن جب وہ شام و فل سطین کی طرف حملہ…

شہنشاہ ہرقل نے چار لشکروں کو یکجا کر کے ایک بڑا جتھہ روانہ کیا جو تجربے طاقت ہتھیاروں ہر لحاظ سے superior تھا مسلمانوں کی قیادت ابو عبیدہ بن الجراح کر رہے تھے لیکن حالات کی نزاکت اور دشمن کی طاقت کو دیکھ کر فیلڈ کمانڈر کا چارج حضرت خالد بن ولید کے حوالے کیا گیا چار روزہ ج نگ میں مسلمان شدید دباو میں مقابلہ کرتے رہے بالاخر جن گ کے چوتھے روز بازنطینی صفوں میں خلا پیدا ہو گیا اور عقب سے عرب light cavalry کے چارج نے ج نگ کا پانسہ پلٹ دیا
ان دو واقعات سے سبق ملتا ہے کہ دشمن چاہے جتنا مرضی طاقت ور ہو اس کا مقابلہ کرو کوئئ بھی ناقابل شکست نہیں ہے بس آپ نے اپنی لوکیشن محل و وقوع حکمت عملی کو استعمال کرنا ہے دوسرا سبق یہ ہے کہ اپنے بہترین لوگوں کو مشکل وقت میں قیادت سونپو تاکہ کامیابی کا امکان زیادہ ہو
سب سے آخری اور اہم بات خدا کی نصرت ہے جب کوئی حق پر کھڑا ہوتا ہے تو مشکلات آتی ہیں شہادتیں ہوتی ہیں لوگ سمجھتے ہیں کہ شکست ہو رہی ہے لیکن خدا حق پرست بندوں کا امتحان لے رہا ہوتا ہے اور پھر اچانک مدد آ جاتی ہے اور فتح حق پرستوں کی ہوتئ ہے ایسا ہی غزوہ خندق میں بھی ہوا ایک مہینہ تک مسلمان مسلسل بھوکے پیاسے شہر کا دفاع کرتے رہے لیکن آخرکار خدا کی مدد آ گئی۔
منتخب
Source


