مختصر کہانیاں
Episode 14 وہ نماز پڑھنے کے بعد سو نہیں سکی تھی ا…

Episode 14
وہ نماز پڑھنے کے بعد سو نہیں سکی تھی البتہ صلاح الدین بہت زیادہ تھکا ہوا تھا وہ سو پڑا تھا وہ اس کے ساتھ لیٹی اسے دیکھ رہی تھی وہ بالکل نہیں بدلا تھا ویسا ہی تھا خوبصورت ، اچھا سویٹ سا بس فرق اس کی چہرے پہ سجی سٹبل (شیو ) اسے مزید پُرکشش بنا رہی تھی اس نے اپنے ہاتھوں سے اسے چھونا چاہا لیکن ڈر کے مارے نہ کرسکی ویسے وہ کچھ کہے گا تو نہیں تو وہ ڈر کیوں رہی ہے اتنا اچھا تو ہے اگر اسے غصہ آگیا اور اگر اس نے تھپڑ مارا تو ۔ اسے عجیب سا محسوس ہورہا تھا وہ بستر سے اُٹھ گئی ڈوپٹہ سنبھالتی وہ باہر نکل آئی اس نے دروازہ آہستہ سے بند کیا اور مڑی لاونج میں اس وقت خاموشی چھائی ہوئی تھی مگر کمرہ ہلکہ سا گرم تھا ، مطلب کوئی موجود تھا اس نے دیکھا کچن میں مورے ناشتہ بنا رہی تھی آہٹ پہ انھوں نے اپنا چہرہ موڑ کر دیکھا تو ثمرن کو دیکھ کر مسکرائی ثمرن نے آہستہ آواز میں انھیں سلام کیا
"وعلیکم سلام جاگ گئی میرا بچہ نیند نہیں آرہی تھی کیا ؟۔”
اس نے آگئے چل کر ان کے پاس آئی اور نفی میں سر ہلایا
"چلو ناشتہ کیا کروں گی تمھیں تو پتا ہے فجر کے بعد سے مجھے بھوک لگنے لگ جاتی ہے عادی ہو اس لیے نیند نہ آنے کے باعث سوچا کچھ بنا دوں ۔”
"آپ ہٹیے میں کردیتی ہوں ۔”
ثمرن کو ڈر تھا کہی صلاح الدین کو پتا لگے وہ مارنا نہ شروع کردیں
"ارے ہوگیا میرا کیا ہے بس بریڈ اور دودھ کا ایک گلاس تم بتاو کیا کھانا ۔”
وہ پیار سے اسے دیکھتے ہوے بولی
"نہیں مجھے بھوک نہیں ہے ۔”
اس نے جھجھکتے ہوے کہا
"ارے ایسے کیسے نہیں میں ایک کام کرتی ہوں اس کو بھی اُٹھا لیتے ہیں بیشک ناشتہ کر کے سوجائے ٹھیک ہے ۔”
"نہیں میں انھیں بعد میں بنادوں گی ابھی وہ تھکے ہوے ہیں ۔”
"اچھا تم سے پوچھنا بلکہ بندے کو زبردستی کرنی چاہئیے رُکو تم یہ پکڑو دودھ زیادہ ضروری ہے میں اپنا بناتی ہوں ۔”
"انٹی ! آپ کھائے ۔”
انھوں نے اسے ٹوکا
"پہلے تو میں صلاح الدین کی ماں ہوں تو میں چاہتی ہوں تم مجھے مورے بلاؤ نہیں تو امی بھی بول سکتئ ہوں دوسرا ماں ہوں ،ماں کو بھی کھبی کہا ہے آپ نے امی میرا تو مت بنائیں آپ اپنا کھائے۔”
وہ ان کے کہنے پر تھوڑا سا شرمندہ ہوگئی اور خاموشی سے دودھ کا گلاس اُٹھا لیا
"ایک بات پوچھو بیٹی ! ۔”
مورے کے دماغ میں کچھ آیا تھا تو پوچھے بغیر نہ رہ سکی
وہ چونک کر انھیں دیکھنے لگی پھر بولی
"جی انٹ میرا مطلب مورے ۔”
وہ مسکرائی
"صلاح الدین کا پتا ہے وہ کیا کرتا ہے ۔”
یہ عجیب سا سوال تھا کم سے کم اسے ضرور لگا تھا
"جی !۔”
"ارے میاں ہے تمھارا کچھ تو معلوم ہوگا اس کے بارے میں ۔”
"پائلیٹ ہیں وہ ۔”
"ارے واہ تمھیں تو پتا ہے اچھی بات ہے ، پلین وغیرہ میں کھبی بیٹھی ہو ۔”
اس کو اپنا ٹرپ یاد آگیا وہ دن کیسے بھول سکتی تھی
اس نے سر ہلایا
"پڑھائی کیا کرتی ۔”
اب وہ اس کو سوچو سے نکال کر اردگر کی باتیں کررہی تھی اور وہ انھیں بڑی نرمی اور ٹہر ٹہر کے جواب دیں رہی تھی .
※※※※※※※※※※※※※
Souq waqif
کے پُرانے اور ٹریڈشنل بازار پہ اس نے ٹیکسی روکی راستے میں وہ بولتی رہی کے روک دیں لیکن وہ چاہتا تھا وہ اسے تھوڑا بہت تو گھما دیں
"اگر دیر ہوگئی تو !۔”
اسے اب پریشانی ہوگئی یہ کافی دور لے آیا تھا
"آپ نے خود ہی کہا تھا کے فلائٹ مس ہوجانے کا ڈر نہیں ہے کیونکہ پائلیٹ ساتھ ہے ۔”
وہ اُتر کر اسے کہنے لگا
"وہ تو ہے پر پھر بھی میں چاہتی ہوں وہاں کم سے کم آدھے گھنٹے پہلے پہنچے ہو ۔”
"صرف ساڑے پانچ گھنٹے رہتے ہیں چلے ۔”
وہ گھڑی کو دیکھتے ہوے کہنے لگا
وہ سر ہلا کر اس بازار کو دیکھنے لگئ
"واو !۔”
وہ گھوم کر اسے دیکھنے لگی
"مجھے لگتا ہے میں کسی بہت ہی پُرانے زمانے میں آگئی ہوں قدیم عمارتوں کی نیچے چھوٹے سے بازار چلتے پھرتے ڈھیر سارے لوگ آپ کا میجک کارپٹ ویسے بہت فٹ نہیں الادین صاحب مجھے اسی کے زمانے میں لے گیا اب آگئے بڑھوں گئ تو سفید بڑا سا محل ہوگا ۔”
"آپ ڈزنی کی بہت بڑی فین معلوم ہوتئ ہے ۔”
وہ مسکرا کر اس کو دیکھنے لگا اسے اچھا لگا تھا وہ اتنے معصوم سی اور اس کی خواہشات بچوں جیسی ورنہ آج کل کی لڑکیاں وہ اپنے کزنز کو سوچتا جنھیں ڈرامہ گوسپ ،اور بہت سی فضول فلمز اور گانے اور اسے دیکھو انھیں کی عمر میں بچوں والی فینٹسی
"ویسے آپ کا نام صلاح الدین کس نے رکھا تھا وہ جو ایک لیڈر تھے صلاح الدین ایوبی ۔”
وہ مسکرایا اور بیچ رش میں اسے سائڈ پہ کیا
"ہاں کچھ ایسا ہی ہے میرے آغا جان نے ان کا ہی قصہ سُنے کے بعد رکھا تھا ورنہ میں ایک مہینے سے بنا نام کے رہا تھا وہ میرا کچھ ڈفرنٹ کچھ یونیق نام سوچ رہے تھے ۔”
"یہ آغا صاحب کون ہے مجھے ایک بات تو بتائیں آپ کہی پرنس تو نہیں ہے میں کوئی آپ کو عام سے شخص سمجھو پتا چلے یہ کوئی شہزادہ نکلا ۔”
صلاح الدین کو لگا تھا اس نے ہنس ہنس کر پاگل ہوجانا ہے اتنا وہ کھبی زندگی میں نہیں ہنسا تھا
"آپ کو کیسے پتا چلا ۔”
وہ شرارت سے بولا
ثمرن کارپٹس پہ نظر جما رہی تھی اس کے کہنے پر تیزی سے چہرہ موڑا صلاح کی آنکھوں میں شرارت دیکھ پہ نہیں پائی
"آپ سچ میں ۔۔۔۔”
وہ مسکراہٹ کو بامشکل دباتا سر ہلانے لگا ثمرن نے منہ پہ ہاتھ رکھا
"گوش آپ واقی پرنس ہیں ۔”
صلاح الدین سے ہنسی روکنا مشکل ہوگیا
"اللّٰلہ میں ایک پرنس کے ساتھ ہوں میں کہی بے ہوش نہ ہوجاو ۔”
وہ اب کھل کر ہنس پڑا کے اردگرد کے لوگ متوجہ ہوے
"اُف بہت ہی بھولی ہیں آپ ہر کسی کی باتوں میں آجاتی ہیں بس آج سے آپ موشم !۔”
وہ اب ماتھے پہ بل ڈالے زور دار مکا اس کے بازو پہ مارا
"موشم کہے گے تو آپ کا چہرہ بگاڑ دوں گئ ۔”
"موشم !۔”
وہ کہتے ہوے تیزی سے چل پڑا وہ بھاگنے لگی کے کسی چور نے اس سے بیگ جلدی سے لیا وہ تیزی سے مڑی اور جلدی سے اپنے بیگ کے سٹریپ پکڑے وہ بندہ بھاگ رہا تھا فورن منہ کے بل گرا صلاح الدین بھی تیزی سے آیا ثمرن چلتے ہوے آئی اور اپنی ہیل اُتار کر مارنے لگی صلاح الدین کا منہ کھل گیا
"بیگ چھوڑ میرا ۔”
وہ غرائی تھی صلاح الدین حیران رہ گیا وہ عربی زبان میں کچھ کہہ رہا تھا صلاح الدین نے اسے کہا
"ٹھیک ہے بیگ مل گیا چلو ۔”
مگر ثمرن نے اسے ٹھوکر ماری اور پھر غصے سے لوگوں کو دیکھا
"آپ کے ملک میں ایک چوری کرتا ہے تو آپ اس کے ساتھ کچھ نہیں کرتے مارے اس کو ۔”
"موشم چھوڑ دوں !۔”
"ارے ایسے کیسے چھوڑ دوں آج میری کی ہے آج پٹائی نہیں لگی گی تو یہ کل بھی ایسے کریں گا ۔”
وہ غصے میں اپنے بال سیدھے کرنی لگی اور ڈوپٹہ ٹھیک کرتے ہوے بولی
"کوئی گناہ کرتا ہے تو ہمارا فرض ہے اسے ہاتھ سے روکے نہیں تو پھر زبان سے اگر وہ پھر بھی نہیں سنتا تو اس کے حال پہ چھوڑ دیں مگر پھر بھی پہلا کام تو کریں ۔”
وہ اس کی بات میں جیسے کھو گیا تھا لوگوں مے اسے چور کو اُٹھا کر تو لگائی ساتھ میں پولیس کو حوالے کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ وہ سائڈ پہ ہوکر جوتا پہنے لگی ایک عورت جو جولیری کی دُکان میں بیٹھی ہوئی تھی اس کے پاس آئی
"تم ٹھیک ہوں ؟۔”
انھوں نے عربی میں کہا تھا ثمرن سمجھ گئی تھی مسکرائی اور سر ہلایا
"جمیلہ !۔”
(خوبصورت )
"نہیں میرا نام ثمرن ہے ۔”
"وہ تمھیں خوبصورت کہہ رہی ہے تم ٹھیک ہوں ایسے نہیں کرنا چاہی تھا ۔”
وہ لاکھ لبرل صحیح مگر تھا تو ایک پٹھان اور اسے اچھا نہیں لگا
"ماء !۔”
(پانی )
"یہ کیا کہہ رہی ہے ۔”
"پانی دوں تمھیں ۔”
وہ اس کے ساتھ بیٹھ گیا
اس نے مسکرا کر سر ہلایا اور جولیری دیکھنے لگی اس کی نظر بے اختیار امیرالڈ نیکلس پر گئی
"یہ میرے کپڑوں سے کتنا میچ کررہا ہے اور آپ کی آنکھوں سے ۔”
صلاح الدین نے دیکھا واقی وہ اس کی آنکھوں کا رنگ تھا
"ویسے سچ پوچھو تو آپ خوش فہمی میں نہ جاے گا آپ کی آنکھوں کا رنگ بہت پیارا ہے ۔”
وہ جولیری کو دیکھتے ہوے کہنے لگی جبکہ صلاح الدین کا دل پھولوں کی طرح کھل اُٹھا
وہ اسے بھی کہنا چاہتا تھا اس کی آنکھیں اسے دیوانہ کرتی ہے ہے تو کالی مگر صلاح الدین کو چمکتا ہوا سیاہ موتی لگتا تھا
**************
صلاح الدین اُٹھ گیا تھا اور ثمرن اس کے دروازے کھلنے پر فورن کچن میں آگئی مورے سے باتیں کرتی رہی تھی مورے نماز چاشت پڑھنے چلی گئی اب وہی اس کا ناشتہ بنائی گی صلاح الدین چل کر لاونج میں آیا اور صوفے پہ بیٹھنے لگا جب کچن میں ثمرن نظر آئی وہ مسکرا کر چل کر اس کے پاس آیا ثمرن کا پتی ڈالتا ہوا ہاتھ کانپ اُٹھا
"تم یہاں کیا کررہی ہو ؟۔”
وہ اس کے پیچھے آیا اور اسے اپنے گھیرے میں لیا اور اس کے بالوں میں منہ چھپا لیا مزید گھبڑا گئی وہ گھبڑا کیوں رہی تھی
"واو ایک دن میں نارمل ہوگئی یہ تو اچھی بات ہے ، کیا بنا رہی ہو ۔”
وہ اب چہرہ اس کے گال کے قریب لے آیا وہ ایک دم ڈر کر پیچھے ہوئی صلاح الدین حیران ہوگیا
"کیا ہوا ؟۔”
"کچھ نہیں دودھ لینا تھا ۔”
وہ اس کے حیران کُن تاثرات سے پریشان ہوگئی
صلاح الدین چلتا ہوا اس کا چہرہ تھاما اور اس کی آنکھوں میں دیکھا ثمرن اس کی آنکھوں کی تاب نہ لاسکی اور چہرہ جھکا لیا
"ڈرتی کیوں ہو تم مجھ سے جب سے تمھارے سامنے ہو کھبی تمھیں مارا ڈانٹا !۔”
اس کی آنکھوں سے پانی نکلنے لگا جسے صلاح الدین نے اپنے ہنٹوں سے چُنا
"ڈرنا چھوڑ دوں ! اور بس کروں مجھے اپنی موشم دو سکینڈ میں واپس چاہیے یہ لڑکی مجھے زرا بھی نہیں پسند ناشتہ بناؤ میں آتا ہوں ۔”
وہ اسے پیار کر کے مڑ گیا جبکہ وہ آج پورے ہفتے میں پہلی بار کھل کر مسکرائی تھی
"موشم !۔”
وہ اس نے سر اُٹھایا
شاهزاده بی گناه من عاشقت هستم
(میری بھولی سی پرنسس تم سے بہت پیار کرتا ہوں )
"آپ کیا کہتے ہیں ۔”
وہ بھلا آخر آج مسکرا کر بول پڑئ
***************
"مجھے اس سفید گھوڑے پہ سفر کرنا کتنا پیارا ہے ۔”
وہ اب اتنا گھوم چکے تھے بلا آخر اس کی نظر گھوڑے پہ پڑی اور چلتے ہوے اس کے پاس آئی
"میرے پاس تین گھوڑے ہیں اور دو تو پرشین ہیں ۔”
"آپ لگتا ہے افغانی ہیں اتنی اوبزیشن پرشین سے ۔” وہ مسکرایا
"ایک کی تو اتنا سفید میں خود ڈرتا ہوں کہی وہ میلا نہ ہوجاے ۔”
وہ اپنی گمر کو سوچ رہا تھا وہ اس کا فیورٹ گھوڑا تھا
"مجھے رائڈ لینی ہے ۔”
"ہورس رائیڈگ آتی ہے ۔”
"نہیں ایک دفعہ کرنے لگی تھی لیکن وہ گھوڑا اتنے غصے سے دیکھ رہا تھا مجھے مجھے لگا جیسے ہی بیٹھنا ہے میں نے میں بس اللّٰلہ تعالی کے پاس ۔”
وہ مسکرا پڑا
"آو میں سکھاتا ہوں ۔”
"سچ میں !۔”وہ معصومیت سے اسے دیکھنے لگی صلاح الدین نے گھڑی دیکھی
"ابھی صرف تین گھنٹے باقی ہیں تو چلو اس کے بعد صرف سمندر ۔”
وہ گھوڑے لے چکا تھا اور تیزی سے چڑھا اور اس نے دیکھا وہ ڈر رہی تھی اس نے ہاتھ آگئے کیا وہ اسے تھام چکی تھی اور صلاح الدین نے خود سے وعدہ کر لیا تھا وہ یہ ہاتھ کھبی نہیں چھوڑے گا ۔
***********
آغا جان اسامہ کے کمرے میں آئے وہ تو نہال ہوگیا اسے آغا جان سے بہت محبت تھی وہ چاہتا تھا وہ اس سے اسی طرح ٹریٹ کریں جیسے صلاح الدین اور ہادی کو کرتے تھے مگر دوری کی باعث سے وہ کھبی اسامہ کے قریب نہیں آئے تھے جبکہ ارباز کی طبیعت ہی ایسی تھی کے وہ سب کا لاڈلا خود با خود بن گیا
جبکہ اسامہ بالکل الگ تھلگ رہنے والا سرد مزاج کسی کے قریب نہیں آسکا تھا مگر اس کا دل بھی کرتا تھا وہ بھی سب کئ طرح گھل مل کر رہے سب کے ساتھ ہنسی خوشی رہی مگر وہ نہیں کرسکتا تھا
"خان ٹھیک ہوں ۔”
آغا جان نے اس کے کندھے پہ پیار سے تھپکی دیں
"مجھے اچھا لگا آپ آئے آغا جان !۔”
اس کے لہجے میں جوش تھا
"ہو آیا کرو کمرے میں میرے تم تو بہت مصروف ہوگئے ہو ۔”
وہ صوفے پہ بیٹھتے ہوے بولے جبکہ وہ کیا کہتا اس کے لیے تو ان کے لیے ٹائیم ہی کب تھا جو آتا
"اسامہ خان ایک بات میری مان سکتے ہو ۔”
آغا جان کا لہجہ بہت نرم تھا
"جی بولیے آغا جان ! آپ حُکم کریں ۔”
"ہادی اس دُنیا میں نہیں رہا ، دین نے میرا مان نہیں رکھا اور ارباز میں بھی دین والی خصوصیت ہے میری امید اب صرف تم ہی ہو خان !۔”
وہ بولے اسامہ نے انھیں ناسمجھی سے دیکھا
"میں جو کہو گا تم وہ کروں گے نا میں جانتا ہوں تم بہت مختلف ہو صلاح الدین سے اس لیے تو اس امید پہ آیا ہوں کے تم مجھے شرمندہ نہیں کروں گے ۔”
وہ تھوڑے سے دُکھی نظر آئے اسامہ گھٹنے کے بل بیٹھا اور ان کے گھٹنے پہ ہاتھ رکھا
"آپ بے فکر ہوجاے آپ میری جان بھی مانگے گے میں سر جھکا کر راضی ہوجاو گا ۔”
آغا جان کی چہرے پہ فاتحانہ مسکراہٹ آئی اور اس کے سر پہ پیار کیا اسامہ کا دل خوشی سے پاگل ہوگیا وہ اپنی اہمیت بنا لے گا اب صلاح الدین کی کوئی جگہ نہیں ہے
"تم اس قاتل کی چھوٹی بہن کو اپنے نکاح میں لاو گے اسے حق دینا اس سے نہیں رکو گا لیکن تمھیں کیا کرنا ہے مجھے یہ بتانی کی ضرورت نہیں سمجھ گئی ۔”
اسامہ ایک منٹ کے لیے ساکت ہوگیا یہ کیا کہہ رہے ہیں دل تو جیسے تھم گیا تھا
"صلاح الدین بھول گیا وہ کیا ہے لیکن تم مت بولنا مجھے مایوس مت کرنا کل میں اس لڑکی کو حویلی لے آو گا تیار رہنا ۔”
اور وہ کچھ بول نہیں سکا تھا
وہ نماز پڑھنے کے بعد سو نہیں سکی تھی البتہ صلاح الدین بہت زیادہ تھکا ہوا تھا وہ سو پڑا تھا وہ اس کے ساتھ لیٹی اسے دیکھ رہی تھی وہ بالکل نہیں بدلا تھا ویسا ہی تھا خوبصورت ، اچھا سویٹ سا بس فرق اس کی چہرے پہ سجی سٹبل (شیو ) اسے مزید پُرکشش بنا رہی تھی اس نے اپنے ہاتھوں سے اسے چھونا چاہا لیکن ڈر کے مارے نہ کرسکی ویسے وہ کچھ کہے گا تو نہیں تو وہ ڈر کیوں رہی ہے اتنا اچھا تو ہے اگر اسے غصہ آگیا اور اگر اس نے تھپڑ مارا تو ۔ اسے عجیب سا محسوس ہورہا تھا وہ بستر سے اُٹھ گئی ڈوپٹہ سنبھالتی وہ باہر نکل آئی اس نے دروازہ آہستہ سے بند کیا اور مڑی لاونج میں اس وقت خاموشی چھائی ہوئی تھی مگر کمرہ ہلکہ سا گرم تھا ، مطلب کوئی موجود تھا اس نے دیکھا کچن میں مورے ناشتہ بنا رہی تھی آہٹ پہ انھوں نے اپنا چہرہ موڑ کر دیکھا تو ثمرن کو دیکھ کر مسکرائی ثمرن نے آہستہ آواز میں انھیں سلام کیا
"وعلیکم سلام جاگ گئی میرا بچہ نیند نہیں آرہی تھی کیا ؟۔”
اس نے آگئے چل کر ان کے پاس آئی اور نفی میں سر ہلایا
"چلو ناشتہ کیا کروں گی تمھیں تو پتا ہے فجر کے بعد سے مجھے بھوک لگنے لگ جاتی ہے عادی ہو اس لیے نیند نہ آنے کے باعث سوچا کچھ بنا دوں ۔”
"آپ ہٹیے میں کردیتی ہوں ۔”
ثمرن کو ڈر تھا کہی صلاح الدین کو پتا لگے وہ مارنا نہ شروع کردیں
"ارے ہوگیا میرا کیا ہے بس بریڈ اور دودھ کا ایک گلاس تم بتاو کیا کھانا ۔”
وہ پیار سے اسے دیکھتے ہوے بولی
"نہیں مجھے بھوک نہیں ہے ۔”
اس نے جھجھکتے ہوے کہا
"ارے ایسے کیسے نہیں میں ایک کام کرتی ہوں اس کو بھی اُٹھا لیتے ہیں بیشک ناشتہ کر کے سوجائے ٹھیک ہے ۔”
"نہیں میں انھیں بعد میں بنادوں گی ابھی وہ تھکے ہوے ہیں ۔”
"اچھا تم سے پوچھنا بلکہ بندے کو زبردستی کرنی چاہئیے رُکو تم یہ پکڑو دودھ زیادہ ضروری ہے میں اپنا بناتی ہوں ۔”
"انٹی ! آپ کھائے ۔”
انھوں نے اسے ٹوکا
"پہلے تو میں صلاح الدین کی ماں ہوں تو میں چاہتی ہوں تم مجھے مورے بلاؤ نہیں تو امی بھی بول سکتئ ہوں دوسرا ماں ہوں ،ماں کو بھی کھبی کہا ہے آپ نے امی میرا تو مت بنائیں آپ اپنا کھائے۔”
وہ ان کے کہنے پر تھوڑا سا شرمندہ ہوگئی اور خاموشی سے دودھ کا گلاس اُٹھا لیا
"ایک بات پوچھو بیٹی ! ۔”
مورے کے دماغ میں کچھ آیا تھا تو پوچھے بغیر نہ رہ سکی
وہ چونک کر انھیں دیکھنے لگی پھر بولی
"جی انٹ میرا مطلب مورے ۔”
وہ مسکرائی
"صلاح الدین کا پتا ہے وہ کیا کرتا ہے ۔”
یہ عجیب سا سوال تھا کم سے کم اسے ضرور لگا تھا
"جی !۔”
"ارے میاں ہے تمھارا کچھ تو معلوم ہوگا اس کے بارے میں ۔”
"پائلیٹ ہیں وہ ۔”
"ارے واہ تمھیں تو پتا ہے اچھی بات ہے ، پلین وغیرہ میں کھبی بیٹھی ہو ۔”
اس کو اپنا ٹرپ یاد آگیا وہ دن کیسے بھول سکتی تھی
اس نے سر ہلایا
"پڑھائی کیا کرتی ۔”
اب وہ اس کو سوچو سے نکال کر اردگر کی باتیں کررہی تھی اور وہ انھیں بڑی نرمی اور ٹہر ٹہر کے جواب دیں رہی تھی .
※※※※※※※※※※※※※
Souq waqif
کے پُرانے اور ٹریڈشنل بازار پہ اس نے ٹیکسی روکی راستے میں وہ بولتی رہی کے روک دیں لیکن وہ چاہتا تھا وہ اسے تھوڑا بہت تو گھما دیں
"اگر دیر ہوگئی تو !۔”
اسے اب پریشانی ہوگئی یہ کافی دور لے آیا تھا
"آپ نے خود ہی کہا تھا کے فلائٹ مس ہوجانے کا ڈر نہیں ہے کیونکہ پائلیٹ ساتھ ہے ۔”
وہ اُتر کر اسے کہنے لگا
"وہ تو ہے پر پھر بھی میں چاہتی ہوں وہاں کم سے کم آدھے گھنٹے پہلے پہنچے ہو ۔”
"صرف ساڑے پانچ گھنٹے رہتے ہیں چلے ۔”
وہ گھڑی کو دیکھتے ہوے کہنے لگا
وہ سر ہلا کر اس بازار کو دیکھنے لگئ
"واو !۔”
وہ گھوم کر اسے دیکھنے لگی
"مجھے لگتا ہے میں کسی بہت ہی پُرانے زمانے میں آگئی ہوں قدیم عمارتوں کی نیچے چھوٹے سے بازار چلتے پھرتے ڈھیر سارے لوگ آپ کا میجک کارپٹ ویسے بہت فٹ نہیں الادین صاحب مجھے اسی کے زمانے میں لے گیا اب آگئے بڑھوں گئ تو سفید بڑا سا محل ہوگا ۔”
"آپ ڈزنی کی بہت بڑی فین معلوم ہوتئ ہے ۔”
وہ مسکرا کر اس کو دیکھنے لگا اسے اچھا لگا تھا وہ اتنے معصوم سی اور اس کی خواہشات بچوں جیسی ورنہ آج کل کی لڑکیاں وہ اپنے کزنز کو سوچتا جنھیں ڈرامہ گوسپ ،اور بہت سی فضول فلمز اور گانے اور اسے دیکھو انھیں کی عمر میں بچوں والی فینٹسی
"ویسے آپ کا نام صلاح الدین کس نے رکھا تھا وہ جو ایک لیڈر تھے صلاح الدین ایوبی ۔”
وہ مسکرایا اور بیچ رش میں اسے سائڈ پہ کیا
"ہاں کچھ ایسا ہی ہے میرے آغا جان نے ان کا ہی قصہ سُنے کے بعد رکھا تھا ورنہ میں ایک مہینے سے بنا نام کے رہا تھا وہ میرا کچھ ڈفرنٹ کچھ یونیق نام سوچ رہے تھے ۔”
"یہ آغا صاحب کون ہے مجھے ایک بات تو بتائیں آپ کہی پرنس تو نہیں ہے میں کوئی آپ کو عام سے شخص سمجھو پتا چلے یہ کوئی شہزادہ نکلا ۔”
صلاح الدین کو لگا تھا اس نے ہنس ہنس کر پاگل ہوجانا ہے اتنا وہ کھبی زندگی میں نہیں ہنسا تھا
"آپ کو کیسے پتا چلا ۔”
وہ شرارت سے بولا
ثمرن کارپٹس پہ نظر جما رہی تھی اس کے کہنے پر تیزی سے چہرہ موڑا صلاح کی آنکھوں میں شرارت دیکھ پہ نہیں پائی
"آپ سچ میں ۔۔۔۔”
وہ مسکراہٹ کو بامشکل دباتا سر ہلانے لگا ثمرن نے منہ پہ ہاتھ رکھا
"گوش آپ واقی پرنس ہیں ۔”
صلاح الدین سے ہنسی روکنا مشکل ہوگیا
"اللّٰلہ میں ایک پرنس کے ساتھ ہوں میں کہی بے ہوش نہ ہوجاو ۔”
وہ اب کھل کر ہنس پڑا کے اردگرد کے لوگ متوجہ ہوے
"اُف بہت ہی بھولی ہیں آپ ہر کسی کی باتوں میں آجاتی ہیں بس آج سے آپ موشم !۔”
وہ اب ماتھے پہ بل ڈالے زور دار مکا اس کے بازو پہ مارا
"موشم کہے گے تو آپ کا چہرہ بگاڑ دوں گئ ۔”
"موشم !۔”
وہ کہتے ہوے تیزی سے چل پڑا وہ بھاگنے لگی کے کسی چور نے اس سے بیگ جلدی سے لیا وہ تیزی سے مڑی اور جلدی سے اپنے بیگ کے سٹریپ پکڑے وہ بندہ بھاگ رہا تھا فورن منہ کے بل گرا صلاح الدین بھی تیزی سے آیا ثمرن چلتے ہوے آئی اور اپنی ہیل اُتار کر مارنے لگی صلاح الدین کا منہ کھل گیا
"بیگ چھوڑ میرا ۔”
وہ غرائی تھی صلاح الدین حیران رہ گیا وہ عربی زبان میں کچھ کہہ رہا تھا صلاح الدین نے اسے کہا
"ٹھیک ہے بیگ مل گیا چلو ۔”
مگر ثمرن نے اسے ٹھوکر ماری اور پھر غصے سے لوگوں کو دیکھا
"آپ کے ملک میں ایک چوری کرتا ہے تو آپ اس کے ساتھ کچھ نہیں کرتے مارے اس کو ۔”
"موشم چھوڑ دوں !۔”
"ارے ایسے کیسے چھوڑ دوں آج میری کی ہے آج پٹائی نہیں لگی گی تو یہ کل بھی ایسے کریں گا ۔”
وہ غصے میں اپنے بال سیدھے کرنی لگی اور ڈوپٹہ ٹھیک کرتے ہوے بولی
"کوئی گناہ کرتا ہے تو ہمارا فرض ہے اسے ہاتھ سے روکے نہیں تو پھر زبان سے اگر وہ پھر بھی نہیں سنتا تو اس کے حال پہ چھوڑ دیں مگر پھر بھی پہلا کام تو کریں ۔”
وہ اس کی بات میں جیسے کھو گیا تھا لوگوں مے اسے چور کو اُٹھا کر تو لگائی ساتھ میں پولیس کو حوالے کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ وہ سائڈ پہ ہوکر جوتا پہنے لگی ایک عورت جو جولیری کی دُکان میں بیٹھی ہوئی تھی اس کے پاس آئی
"تم ٹھیک ہوں ؟۔”
انھوں نے عربی میں کہا تھا ثمرن سمجھ گئی تھی مسکرائی اور سر ہلایا
"جمیلہ !۔”
(خوبصورت )
"نہیں میرا نام ثمرن ہے ۔”
"وہ تمھیں خوبصورت کہہ رہی ہے تم ٹھیک ہوں ایسے نہیں کرنا چاہی تھا ۔”
وہ لاکھ لبرل صحیح مگر تھا تو ایک پٹھان اور اسے اچھا نہیں لگا
"ماء !۔”
(پانی )
"یہ کیا کہہ رہی ہے ۔”
"پانی دوں تمھیں ۔”
وہ اس کے ساتھ بیٹھ گیا
اس نے مسکرا کر سر ہلایا اور جولیری دیکھنے لگی اس کی نظر بے اختیار امیرالڈ نیکلس پر گئی
"یہ میرے کپڑوں سے کتنا میچ کررہا ہے اور آپ کی آنکھوں سے ۔”
صلاح الدین نے دیکھا واقی وہ اس کی آنکھوں کا رنگ تھا
"ویسے سچ پوچھو تو آپ خوش فہمی میں نہ جاے گا آپ کی آنکھوں کا رنگ بہت پیارا ہے ۔”
وہ جولیری کو دیکھتے ہوے کہنے لگی جبکہ صلاح الدین کا دل پھولوں کی طرح کھل اُٹھا
وہ اسے بھی کہنا چاہتا تھا اس کی آنکھیں اسے دیوانہ کرتی ہے ہے تو کالی مگر صلاح الدین کو چمکتا ہوا سیاہ موتی لگتا تھا
**************
صلاح الدین اُٹھ گیا تھا اور ثمرن اس کے دروازے کھلنے پر فورن کچن میں آگئی مورے سے باتیں کرتی رہی تھی مورے نماز چاشت پڑھنے چلی گئی اب وہی اس کا ناشتہ بنائی گی صلاح الدین چل کر لاونج میں آیا اور صوفے پہ بیٹھنے لگا جب کچن میں ثمرن نظر آئی وہ مسکرا کر چل کر اس کے پاس آیا ثمرن کا پتی ڈالتا ہوا ہاتھ کانپ اُٹھا
"تم یہاں کیا کررہی ہو ؟۔”
وہ اس کے پیچھے آیا اور اسے اپنے گھیرے میں لیا اور اس کے بالوں میں منہ چھپا لیا مزید گھبڑا گئی وہ گھبڑا کیوں رہی تھی
"واو ایک دن میں نارمل ہوگئی یہ تو اچھی بات ہے ، کیا بنا رہی ہو ۔”
وہ اب چہرہ اس کے گال کے قریب لے آیا وہ ایک دم ڈر کر پیچھے ہوئی صلاح الدین حیران ہوگیا
"کیا ہوا ؟۔”
"کچھ نہیں دودھ لینا تھا ۔”
وہ اس کے حیران کُن تاثرات سے پریشان ہوگئی
صلاح الدین چلتا ہوا اس کا چہرہ تھاما اور اس کی آنکھوں میں دیکھا ثمرن اس کی آنکھوں کی تاب نہ لاسکی اور چہرہ جھکا لیا
"ڈرتی کیوں ہو تم مجھ سے جب سے تمھارے سامنے ہو کھبی تمھیں مارا ڈانٹا !۔”
اس کی آنکھوں سے پانی نکلنے لگا جسے صلاح الدین نے اپنے ہنٹوں سے چُنا
"ڈرنا چھوڑ دوں ! اور بس کروں مجھے اپنی موشم دو سکینڈ میں واپس چاہیے یہ لڑکی مجھے زرا بھی نہیں پسند ناشتہ بناؤ میں آتا ہوں ۔”
وہ اسے پیار کر کے مڑ گیا جبکہ وہ آج پورے ہفتے میں پہلی بار کھل کر مسکرائی تھی
"موشم !۔”
وہ اس نے سر اُٹھایا
شاهزاده بی گناه من عاشقت هستم
(میری بھولی سی پرنسس تم سے بہت پیار کرتا ہوں )
"آپ کیا کہتے ہیں ۔”
وہ بھلا آخر آج مسکرا کر بول پڑئ
***************
"مجھے اس سفید گھوڑے پہ سفر کرنا کتنا پیارا ہے ۔”
وہ اب اتنا گھوم چکے تھے بلا آخر اس کی نظر گھوڑے پہ پڑی اور چلتے ہوے اس کے پاس آئی
"میرے پاس تین گھوڑے ہیں اور دو تو پرشین ہیں ۔”
"آپ لگتا ہے افغانی ہیں اتنی اوبزیشن پرشین سے ۔” وہ مسکرایا
"ایک کی تو اتنا سفید میں خود ڈرتا ہوں کہی وہ میلا نہ ہوجاے ۔”
وہ اپنی گمر کو سوچ رہا تھا وہ اس کا فیورٹ گھوڑا تھا
"مجھے رائڈ لینی ہے ۔”
"ہورس رائیڈگ آتی ہے ۔”
"نہیں ایک دفعہ کرنے لگی تھی لیکن وہ گھوڑا اتنے غصے سے دیکھ رہا تھا مجھے مجھے لگا جیسے ہی بیٹھنا ہے میں نے میں بس اللّٰلہ تعالی کے پاس ۔”
وہ مسکرا پڑا
"آو میں سکھاتا ہوں ۔”
"سچ میں !۔”وہ معصومیت سے اسے دیکھنے لگی صلاح الدین نے گھڑی دیکھی
"ابھی صرف تین گھنٹے باقی ہیں تو چلو اس کے بعد صرف سمندر ۔”
وہ گھوڑے لے چکا تھا اور تیزی سے چڑھا اور اس نے دیکھا وہ ڈر رہی تھی اس نے ہاتھ آگئے کیا وہ اسے تھام چکی تھی اور صلاح الدین نے خود سے وعدہ کر لیا تھا وہ یہ ہاتھ کھبی نہیں چھوڑے گا ۔
***********
آغا جان اسامہ کے کمرے میں آئے وہ تو نہال ہوگیا اسے آغا جان سے بہت محبت تھی وہ چاہتا تھا وہ اس سے اسی طرح ٹریٹ کریں جیسے صلاح الدین اور ہادی کو کرتے تھے مگر دوری کی باعث سے وہ کھبی اسامہ کے قریب نہیں آئے تھے جبکہ ارباز کی طبیعت ہی ایسی تھی کے وہ سب کا لاڈلا خود با خود بن گیا
جبکہ اسامہ بالکل الگ تھلگ رہنے والا سرد مزاج کسی کے قریب نہیں آسکا تھا مگر اس کا دل بھی کرتا تھا وہ بھی سب کئ طرح گھل مل کر رہے سب کے ساتھ ہنسی خوشی رہی مگر وہ نہیں کرسکتا تھا
"خان ٹھیک ہوں ۔”
آغا جان نے اس کے کندھے پہ پیار سے تھپکی دیں
"مجھے اچھا لگا آپ آئے آغا جان !۔”
اس کے لہجے میں جوش تھا
"ہو آیا کرو کمرے میں میرے تم تو بہت مصروف ہوگئے ہو ۔”
وہ صوفے پہ بیٹھتے ہوے بولے جبکہ وہ کیا کہتا اس کے لیے تو ان کے لیے ٹائیم ہی کب تھا جو آتا
"اسامہ خان ایک بات میری مان سکتے ہو ۔”
آغا جان کا لہجہ بہت نرم تھا
"جی بولیے آغا جان ! آپ حُکم کریں ۔”
"ہادی اس دُنیا میں نہیں رہا ، دین نے میرا مان نہیں رکھا اور ارباز میں بھی دین والی خصوصیت ہے میری امید اب صرف تم ہی ہو خان !۔”
وہ بولے اسامہ نے انھیں ناسمجھی سے دیکھا
"میں جو کہو گا تم وہ کروں گے نا میں جانتا ہوں تم بہت مختلف ہو صلاح الدین سے اس لیے تو اس امید پہ آیا ہوں کے تم مجھے شرمندہ نہیں کروں گے ۔”
وہ تھوڑے سے دُکھی نظر آئے اسامہ گھٹنے کے بل بیٹھا اور ان کے گھٹنے پہ ہاتھ رکھا
"آپ بے فکر ہوجاے آپ میری جان بھی مانگے گے میں سر جھکا کر راضی ہوجاو گا ۔”
آغا جان کی چہرے پہ فاتحانہ مسکراہٹ آئی اور اس کے سر پہ پیار کیا اسامہ کا دل خوشی سے پاگل ہوگیا وہ اپنی اہمیت بنا لے گا اب صلاح الدین کی کوئی جگہ نہیں ہے
"تم اس قاتل کی چھوٹی بہن کو اپنے نکاح میں لاو گے اسے حق دینا اس سے نہیں رکو گا لیکن تمھیں کیا کرنا ہے مجھے یہ بتانی کی ضرورت نہیں سمجھ گئی ۔”
اسامہ ایک منٹ کے لیے ساکت ہوگیا یہ کیا کہہ رہے ہیں دل تو جیسے تھم گیا تھا
"صلاح الدین بھول گیا وہ کیا ہے لیکن تم مت بولنا مجھے مایوس مت کرنا کل میں اس لڑکی کو حویلی لے آو گا تیار رہنا ۔”
اور وہ کچھ بول نہیں سکا تھا


