منتخب نظمیں

جنگل کی خاموشی میں ایک عجیب سا تجربہ ہونے جا رہا ت…

جنگل کی خاموشی میں ایک عجیب سا تجربہ ہونے جا رہا تھا…

ایک ماہر نفسیات ، افریقہ کے ایک دور دراز قبیلے میں پہنچا۔ اس نے سوچا، “آج میں بچوں کو جیت اور مقابلے کا سبق سکھاؤں گا…”
اس نے رنگ برنگے، خوشبودار اور رسیلے پھلوں سے بھری ایک ٹوکری ایک درخت کے نیچے رکھ دی۔

پھر اس نے بچوں کو بلایا…
ننھے چہرے، معصوم آنکھیں، اور بے فکری سے بھری مسکراہٹیں۔

وہ بولا:
“جو سب سے پہلے اس درخت تک پہنچے گا… یہ ساری ٹوکری اسی کی ہوگی!”

یہ ایک آسان سا مقابلہ تھا۔
اشارہ دینا تھا… اور پھر دوڑ شروع ہو جانی تھی۔

مگر جیسے ہی اس نے ہاتھ نیچے کیا…

وقت جیسے تھم گیا۔

کوئی نہیں دوڑا۔

بچوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا… اور پھر خاموشی سے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیا۔
اور پھر… وہ سب اکٹھے چلنے لگے۔

نہ کوئی آگے بڑھا، نہ کسی نے کسی کو دھکا دیا۔
نہ جیتنے کی جلدی… نہ ہارنے کا خوف۔

وہ درخت تک پہنچے… ایک ساتھ بیٹھے…
اور پھر ہنستے ہوئے پھل بانٹنے لگے۔

وہ ماہر ساکت رہ گیا…
یہ وہ منظر نہیں تھا جس کی اسے توقع تھی۔

اس نے لرزتی آواز میں پوچھا:
“تم میں سے کوئی اکیلا سب کچھ لے سکتا تھا… پھر تم نے ایسا کیوں کیا؟”

ایک ننھا سا بچہ مسکرایا… اور آہستہ سے بولا:

“میں کیسے خوش ہو سکتا ہوں…
جب میرے اپنے دکھی ہوں؟”

یہ الفاظ نہیں تھے…
یہ ایک آئینہ تھا—ہماری دنیا کے لیے۔

Ubuntu…
“میں ہوں، کیونکہ ہم ہیں…”

ہم نے شہروں کو اونچا کر لیا…
مگر دل چھوٹے کر لیے۔

ہم نے رفتار بڑھا لی…
مگر رشتے پیچھے چھوڑ دیے۔

ہم جیتنا سیکھ گئے…
مگر ساتھ جینا بھول گئے۔

وہ بچے شاید دنیا کے نقشے پر کہیں نہیں ہیں…
مگر انہوں نے وہ راز جان لیا ہے
جسے ہم ساری زندگی ڈھونڈتے رہتے ہیں—

خوشی اکیلے جیتنے میں نہیں…
کسی کا ہاتھ تھام کر ساتھ چلنے میں ہے۔

#Ubuntu #EmotionalStory #Humanity #LifeLesson #Togetherness #DeepThoughts #RealityCheck


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/