افسانے
میڈیکل انڈسٹری کے وہ 4 بڑے جھوٹ جو آپ کو کبھی نہیں بتائے جاتے! کیا آپ جانتے ہیں …

میڈیکل انڈسٹری کے وہ 4 بڑے جھوٹ جو آپ کو کبھی نہیں بتائے جاتے!
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہماری صحت کے حوالے سے کچھ ایسی باتیں مشہور کر دی گئی ہیں جن کا حقیقت سے دور دور تک واسطہ نہیں؟ آج ہم ان چار بڑے مغالطوں سے پردہ اٹھائیں گے جو شاید آپ کی زندگی بدل دیں۔ چوتھی بات تو آپ کو واقعی حیران کر دے گی!
1. ڈاکٹرز کا کام بیماری مٹانا ہے؟
عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ڈاکٹر کے پاس جانے سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جدید طب (Medicine) کی تعلیم زیادہ تر بیماری کو "مینیج” کرنے یا علامات کو دبانے کے گرد گھومتی ہے، اسے جڑ سے ختم کرنے کے لیے نہیں۔ یہ بات خود کئی ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ ادویات اکثر صرف وقت گزارنے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔
2. کیا پرانی بیماریاں کبھی ختم نہیں ہوتیں؟
ہمیں بتایا جاتا ہے کہ اگر ایک بار شوگر یا بلڈ پریشر ہو گیا تو یہ کبھی پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ ذرا سوچیے! جب ہماری سخت ہڈی ٹوٹتی ہے، تو جسم اسے خود ہی جوڑ لیتا ہے، ہم صرف اسے سہارا دیتے ہیں۔ تو کیا وہی جسم اندرونی بیماریوں کو ٹھیک نہیں کر سکتا؟ یاد رکھیں، 90 فیصد بیماریوں کی جڑ جسم میں رکی ہوئی گندگی (Toxins) ہے، جسے درست غذا اور وقت دے کر صاف کیا جا سکتا ہے۔
3. دوا کھاؤ اور شفایاب ہو جاؤ؟
یہ ایک بہت بڑا وہم ہے۔ کسی بھی گولی میں کوئی "انٹیلیجنس” یا سینسر نہیں ہوتا کہ وہ صرف بیمار حصے پر اثر کرے۔ جب ہم دوا کھاتے ہیں، تو وہ ہمارے جسم کے مفید بیکٹیریا کو بھی مار دیتی ہے۔ نتیجہ؟ ایک بیماری دبتی ہے تو دس نئی پیدا ہو جاتی ہیں اور انسان ادویات کے ایک نہ ختم ہونے والے چکر میں پھنس جاتا ہے۔
4. کیا بیماریاں واقعی وراثتی (Genetic) ہوتی ہیں؟
سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ اگر آپ کے والدین کو کوئی بیماری تھی تو وہ آپ کو لازمی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ جینز کا اثر صرف 20 سے 30 فیصد ہوتا ہے، اور آپ اپنے طرزِ زندگی سے انہیں کنٹرول کر سکتے ہیں۔ اصل میں بیماریاں وراثتی نہیں ہوتیں، بلکہ "باورچی خانہ” وراثتی ہوتا ہے۔ اگر آپ وہی کچھ کھا رہے ہیں جو آپ کے والدین کھاتے تھے، تو ظاہر ہے بیماریاں بھی وہی ہوں گی!
یاد رکھیں: آپ کا جسم دنیا کی بہترین لیبارٹری ہے، اسے صرف صحیح ایندھن (غذا) اور دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔۔
تحریر
ڈاکٹر شائستہ ناز یوسفزئی
ایف ایٹ ٹو اسلام آباد

Source
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہماری صحت کے حوالے سے کچھ ایسی باتیں مشہور کر دی گئی ہیں جن کا حقیقت سے دور دور تک واسطہ نہیں؟ آج ہم ان چار بڑے مغالطوں سے پردہ اٹھائیں گے جو شاید آپ کی زندگی بدل دیں۔ چوتھی بات تو آپ کو واقعی حیران کر دے گی!
1. ڈاکٹرز کا کام بیماری مٹانا ہے؟
عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ڈاکٹر کے پاس جانے سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جدید طب (Medicine) کی تعلیم زیادہ تر بیماری کو "مینیج” کرنے یا علامات کو دبانے کے گرد گھومتی ہے، اسے جڑ سے ختم کرنے کے لیے نہیں۔ یہ بات خود کئی ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ ادویات اکثر صرف وقت گزارنے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔
2. کیا پرانی بیماریاں کبھی ختم نہیں ہوتیں؟
ہمیں بتایا جاتا ہے کہ اگر ایک بار شوگر یا بلڈ پریشر ہو گیا تو یہ کبھی پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ ذرا سوچیے! جب ہماری سخت ہڈی ٹوٹتی ہے، تو جسم اسے خود ہی جوڑ لیتا ہے، ہم صرف اسے سہارا دیتے ہیں۔ تو کیا وہی جسم اندرونی بیماریوں کو ٹھیک نہیں کر سکتا؟ یاد رکھیں، 90 فیصد بیماریوں کی جڑ جسم میں رکی ہوئی گندگی (Toxins) ہے، جسے درست غذا اور وقت دے کر صاف کیا جا سکتا ہے۔
3. دوا کھاؤ اور شفایاب ہو جاؤ؟
یہ ایک بہت بڑا وہم ہے۔ کسی بھی گولی میں کوئی "انٹیلیجنس” یا سینسر نہیں ہوتا کہ وہ صرف بیمار حصے پر اثر کرے۔ جب ہم دوا کھاتے ہیں، تو وہ ہمارے جسم کے مفید بیکٹیریا کو بھی مار دیتی ہے۔ نتیجہ؟ ایک بیماری دبتی ہے تو دس نئی پیدا ہو جاتی ہیں اور انسان ادویات کے ایک نہ ختم ہونے والے چکر میں پھنس جاتا ہے۔
4. کیا بیماریاں واقعی وراثتی (Genetic) ہوتی ہیں؟
سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ اگر آپ کے والدین کو کوئی بیماری تھی تو وہ آپ کو لازمی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ جینز کا اثر صرف 20 سے 30 فیصد ہوتا ہے، اور آپ اپنے طرزِ زندگی سے انہیں کنٹرول کر سکتے ہیں۔ اصل میں بیماریاں وراثتی نہیں ہوتیں، بلکہ "باورچی خانہ” وراثتی ہوتا ہے۔ اگر آپ وہی کچھ کھا رہے ہیں جو آپ کے والدین کھاتے تھے، تو ظاہر ہے بیماریاں بھی وہی ہوں گی!
یاد رکھیں: آپ کا جسم دنیا کی بہترین لیبارٹری ہے، اسے صرف صحیح ایندھن (غذا) اور دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔۔
تحریر
ڈاکٹر شائستہ ناز یوسفزئی
ایف ایٹ ٹو اسلام آباد

Source


