افسانے

"میں اور چڑیا” زخمی پَر کی چِڑیا آئی بول بول کے تھک گئی چڑیا چڑیا قسمت والی تھی…

"میں اور چڑیا”

زخمی پَر کی چِڑیا آئی
بول بول کے تھک گئی چڑیا
چڑیا قسمت والی تھی جو
ڈال پہ آ گئی بابا کی
اُس کے پیارے پَنکھ سنوارے
ڈَال پہ اُس کا گھر بھی بنایا
بابا سے وہ باتیں کرتی
میرے بابا اُس چڑیا کو
دانہ دیتے پانی دیتے
وقت کا پہیہ گھوم رہا تھا
میں اور چڑیا ۔۔۔۔۔
بابا کے کندھے سے لگ کر
جانے کتنی رَاحت پاتے
ہنستے جاتے گاتے جاتے
چڑیا کا جو پنکھ مُڑا تھا
جس پہ مرہم روز لگایا
اَب وہ ٹھیک تھا راحت میں تھا
راحت وہ جو قسمت میں تھی
پر قسمت میں راحت نہ تھی
اُس دن درد کی حد بھی آئی
میرے بابا…..
چھوڑ گئے تھے دنیا کو
میں اور چڑیا ڈھونڈ رہے تھے
ہر کمرے میں اپنے بابا
اور کمروں میں بابا نہیں تھے
بِنا بتائے چلے گئے تھے…..
ہر کمرے میں اُن کی خوشبو
گُھوم رہی تھی جُھوم رہی تھی
میں اور چڑیا ڈال پہ بیٹھے
دِن گِن گِن کر تھک جاتے تھے
روز مسافر بَن جاتے تھے
روز مسافر بَن جانے سے
گھر کے سارے لوگ سمجھتے
میں بھی مَر گئی اور چڑیا بھی
ڈال پہ بیٹھے سوتے جگتے
اِک دن ڈال سے گِر گئے تھے ہم
سچی مچی مَر گئے تھے ہم
ڈال پہ رکھا گھر وہ پیارا
ہم دونوں پہ آن گِرا تھا
چڑیا میں اور گھر وہ پیارا
بابا کے گھر پہنچ گئے تھے

فائزہ صابری نوا


Source

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/