اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

یہ تیرے ذکر کی عطا ذکرِ رشید ہے یہاں سب کو میں یاد…


یہ تیرے ذکر کی عطا ذکرِ رشید ہے یہاں
سب کو میں یاد رہ گیا صدقے تیری یاد کے
علامہ رشید ترابی کی وفات
(ولادت: 9 جولائی 1908ء – وفات: 18 دسمبر 1973ء)
عالم اسلام کے عظیم خطیب، عالم دین اور شاعر علامہ رشید ترابی کی تاریخ پیدائش 9 جولائی 1908ء ہے۔ علامہ رشید ترابی کا اصل نام رضا حسین تھا اوروہ حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے تھے۔
——
نمونہ کلام
——
رہے جو شام و سحر اُن کے آستاں کو سلام
یہی ہے خلد ، اب آرامِ قلب و جاں کو سلام
دعائیں دیتی ہوئی بے کسی آگے بڑھی
کیا جو برق نے جُھک جُھک کے آشیاں کو سلام
پرائے تنکے تھے آندھی کا اک بہانہ تھا
گھر اپنا دیکھ لیا ، عمرِ رائیگاں کو سلام
کوئی سنے گا کہاں تک ہوش کی باتیں
مذاقِ عشق بگڑتا ہے ، رازداں کو سلام
میں جا رہا ہوں نگاہوں میں لے کے جلوۂ دوست
حیاتِ عقل ملی ، مرگِ ناگہاں کو سلام
ترے نثار نشیمن کو پھونکنے والے
مکاں کی قید میں مشکل تھا لامکاں کو سلام
رشیدؔ پاؤں کے چھالے بہت ستاتے ہیں
میری طرف سے کہو میرِ کارواں کو سلام
——
داستاں صبر کی غیروں کو سنائی نہ گئی
جُز رَسی دردِ خداداد میں پائی نہ گئی
فکرِ آزاد کو پروائے نشیمن کب تک
تہمتِ تنگ دلی مجھ سے اُٹھائی نہ گئی
حرکتِ نفس طلب اور طلب لامحدود
لطفِ ساقی ہے کہ یہ پیاس بجھائی نہ گئی
اے گزرتی ہوئی دنیا سے لپٹنے والے
کیا گلہ ہے جو تری آبلہ پائی نہ گئی
ذائقہ کون بدل دیتا ہے ہر منزل پر
موت کہتے ہیں جسے وہ تو نہ آئی نہ گئی
ایک سجدے میں کیا کون و مکاں کو اپنا
مر گئے اور ترے بندوں سے خدائی نہ گئی
حیف اُس طائرِ بے حال کے نغموں پہ رشیدؔ
آشیانہ تو گیا تلخ نوائی نہ گئی​
——
ہوائے دوست میں فکرِ صراط کیا کرتے
زمیں پہ پاؤں نہ تھے احتیاط کیا کرتے
شراب نام ہے خود ساختہ تغافل کا
خرد کو آگ لگی تھی نشاط کیا کرتے
جو ہم نشیں تھے گل و خار کہہ دیا ، ہمسر
فریبِ عہد ہے یہ ، بے بساط کیا کرتے
قدم قدم پہ نئے گل کُھلا رہی ہے ہوس
حیا سے گڑ گئے ہم انبساط کیا کرتے
رچائے بیٹھے ہیں ہو موڑ پر جو عشق کا ڈھونگ
جُنوں کو عقل سے کیا ارتباط کیا کرتے
گراں ہیں گوش ، نظر میں ضرر ، خرد میں فساد
تلاشِ طُور ، دمِ انحطاط کیا کرتے
خمیرِ نورِ ولایت ہے ان کی طینت میں
پھر آب و گل سے رشیدؔ اختلاط کیا کرتے​
——
یہ وہ بستی ہے جہاں دل کو قرار آتا ہے
ذرہ ذرہ میں نظر نقش و نگار آتا ہے
قطرہ پانی کا خمِ مےِ بہ کنار آتا ہے
بہمن و دے میں بھی یاں لطفِ بہار آتا ہے
زندہ ہوں آج جو یہ شہر بسانے والے
خلد کا نام نہ لیں خلد کے جانے والے
——
ہوا ہوس کی چلی نفس مشتعل نہ ہوا
جسے یہ بات میسر ہوئی خجل نہ ہوا
گزر چلا مَن و تُو سے فضائے ہُو کا حریف
بشر وہی جو گرفتارِ آب و گِل نہ ہوا
یہ اور بات ہے ظالم کی نیند اُڑ جائے
ارودتاََ مرا نالہ کبھی مُخل نہ ہوا
شکونِ فکر ، سکونِ نظر ، سکونِ حیات
خمیرِ زیست ان اجزا پہ مشتمل نہ ہوا
جو زخم دل پہ لگے ، مٹ گئے مگر غمِ دوست
مری حیات ہے یہ زخم ، مُندمل نہ ہوا
بہار میں بھی نہ تھا ناز دل کی قوت پر
خزاں کے دور میں بھی قلب مضمحل نہ ہوا
سکونِ دل نہ ملا دولتیں مہیا کیں
بہت تھے اہلِ دول ایک اہلِ دل نہ ہوا
اثر پذیر وہ قصہ ہے جس میں درد بھی ہو
بغیرِ درد کوئی کیف منتقل نہ ہوا
ضدیں تمام زمانے کی اک جگہ کر دیں
مذاق ہو گیا ہستی کا میرا دل نہ ہوا
خطایہ تھی کہ جھنجھوڑا ہے خود پرستوں کو
رشیدؔ ایسی خطاؤں پہ منفعل نہ ہوا
…………………………..