منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

پہنچ ہی جائے گا یہ ہاتھ تیری زلفوں تک یوں ہی جنوں …


پہنچ ہی جائے گا یہ ہاتھ تیری زلفوں تک
یوں ہی جنوں کا اگر سلسلہ دراز رہا
…
میکش اکبرآبادی کا یومِ وفات
April 25, 1991
نام سید محمد علی شاہ، تخلص میکش۔ ۳؍مارچ ۱۹۰۲ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ درس نظامیہ کی تکمیل مدرسہ عالیہ آگرہ سے کی۔ ان کا مشغلہ تصنیف وتالیف رہا۔ ۲۵؍اپریل ۱۹۹۱ء کو آگرہ میں انتقال کرگئے۔ ان کی تصانیف اور تالیفات کے نام یہ ہیں:’مے کدہ‘، ’حرف تمنا‘(شعری مجموعے)، ’نغمہ اور اسلام‘(جواز سمع)، ’نقد اقبال‘ (تنقید)، ’شرک وتوحید‘(مذہب)، ’حضرت غوث الاعظم‘(مذہب)، ’مسائل تصوف‘(ادب)۔ ’’حرف تمنا‘‘ ،’’نقد اقبال‘‘ اور ’’مسائل تصوف‘‘ پر اترپردیش اردو اکادمی کی طرف سے انعامات ملے۔ وہ شاعر کے علاوہ نقاد اور ماہر اقبالیات وتصوف تھے۔
.
میکش اکبر آبادی کا نمونہ کلام
.
آپ کی میری کہانی ایک ہے
کہئے اب میں کیا سناؤں کیا سنوں
…
بیٹھے رہے وہ خون تمنا کئے ہوئے
دیکھا کئے انہیں نگہ التجا سے ہم
….
چراغ کشتہ لے کر ہم تری محفل میں کیا آتے
جو دن تھے زندگی کے وہ تو رستے میں گزار آئے
…..
ہم نے لالے کی طرح اس دور میں
آنکھ کھولی تھی کہ دیکھا دل کا خوں
…..
کچھ اس طرح تری الفت میں کاٹ دی میں نے
گناہ گار ہوا اور نہ پاکباز رہا
…..
مرے فسوں نے دکھائی ہے تیرے رخ کی سحر
مرے جنوں نے بنائی ہے تیرے زلف کی شام
…..
نہیں ہے دل کا سکوں قسمت تمنا میں
تمہیں بھی دل کی تمنا بنا کے دیکھ لیا
…..
نزع تک دل اس کو دہرایا کیا
اک تبسم میں وہ کیا کچھ کہہ گئے
…..
پہنچ ہی جائے گا یہ ہاتھ تیری زلفوں تک
یوں ہی جنوں کا اگر سلسلہ دراز رہا
…..
سب کچھ ہے اور کچھ نہیں اے داد خواہ عشق
وہ دیکھ کر نہ دیکھنا نیچی نگاہ سے
…..
تھی جنوں آمیز اپنی گفتگو
بات مطلب کی بھی لیکن کہہ گئے
….
تری زلفوں کو کیا سلجھاؤں اے دوست
مری راہوں میں پیچ و خم بہت ہیں
….
یہ مسلک اپنا اپنا ہے یہ فطرت اپنی اپنی ہے
جلاؤ آشیاں تم ہم کریں گے آشیاں پیدا
….
زباں پہ نام محبت بھی جرم تھا یعنی
ہم ان سے جرم محبت بھی بخشوا نہ سکے
….
تجھے اپنے مال پہ عجب ہے ، مجھے اپنے حال پہ ناز ہے
تیرا حصّہ مستی و بیخودی مرا بخرہ سوزوگداز ہے
تو دُکھے ہوؤں کو دکھائے جا،تو جلے ہووں کو جلائے جا
تو نشان خیر مٹائے جا ترے شر کی رسی دراز ہے
غم دہر تجھ کو نہ کھائے کیوں خوشی اپنا جلوہ دکھائے کیوں
تو وفا کا لطف اٹھائے کیوں، ترا دل تو بندہ آز ہے
تجھے فکر ہے کم وبیش کی تجھے سوچ ہے پس و پیش کی
مری زندگی کے محیط میں نہ نشیب ہے نہ فراز ہے
طرب آفریں میرا ساتگیں،تری لے ہے مایہ بغض و کیں
میں جہان درد کا راز ہوں تو دیار حرص کا ساز ہے
مجھے تیرے مال سے کیا غرض،تجھے میرے حال کی کیا خبر
کہ میں غزنوی بُتِ ذر کا ہوں ،شہ سیم کا تو ایاز ہے
تو رہین شوکت قیصری ، میں امین شان قلندری
ترا قبلہ ہے بُتِ آذری،سر عرش میری نماز ہے
کروں مال و زر کی میں کیوں ہوس مجھے اپنے فقر پہ فخر بس
یہی حرز جان فقیر ہے ،یہی قول شاہ حجاز ؐہے
میکش اکبر آبادی