منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

یادِ ماضی عذاب ہے یا رب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا …


یادِ ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
——
اختر انصاری دہلوی کا یوم وفات
(پیدائش: یکم اکتوبر 1909ء – وفات: 5 اکتوبر 1988ء)
——
منتخب کلام
——
خدا نے پھیر لیں آنکھیں وفا کہیں نہ رہی
فلک فلک نہ رہا زمیں زمیں نہ رہی
——
تجھے بھی علم ہے اے موسمِ بہار کہ تُو
کسی کے نام مرا نامۂ محبت ہے
——
یہ بھی پڑھیں : آزاد انصاری کا یوم وفات
——
کوئی جب نالہ کرتا ہے کلیجہ تھام لیتا ہوں
فغانِ غیر بھی اپنی فغاں معلوم ہوتی ہے
——
آرزو کو روح میں غم بن کے رہنا آ گیا
سہتے سہتے ہم کو آخر رنج سہنا آ گیا
——
اخترؔ کی آنکھ میں ہیں جوانی کی مستیاں
لوگوں کو ہے گماں کہ وہ مستِ شراب ہے
——
یادِ ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
——
اس میں کوئی مرا شریک نہیں
میرا دکھ آہ صرف میرا ہے
——
روئے بغیر چارہ نہ رونے کی تاب ہے
کیا چیز اف یہ کیفیتِ اضطراب ہے
——
ہاں کبھی خواب، عشق دیکھا تھا
اب تک آنکھوں سے خوں ٹپکتا ہے
——
اپنی اجڑی ہوئی دنیا کی کہانی ہوں میں
ایک بگڑی ہوئی تصویر جوانی ہوں میں
——
وہ ماضی جو ہے اک مجموعہ اشکوں اور آہوں کا
نہ جانے مجھ کو اس ماضی سے کیوں اتنی محبت ہے
——
آرزو کو روح میں غم بن کے رہنا آ گیا
سہتے سہتے ہم کو آخر رنج سہنا آ گیا
دل کا خوں آنکھوں میں کھنچ آیا چلو اچھا ہوا
میری آنکھوں کو مرا احوال کہنا آ گیا
سہل ہو جائے گی مشکل ضبط سوز و ساز کی
خون دل کو آنکھ سے جس روز بہنا آ گیا
میں کسی سے اپنے دل کی بات کہہ سکتا نہ تھا
اب سخن کی آڑ میں کیا کچھ نہ کہنا آ گیا
جب سے منہ کو لگ گئی اخترؔ محبت کی شراب
بے پیے آٹھوں پہر مدہوش رہنا آ گیا
——
حیات انساں کی سر تا پا زباں معلوم ہوتی ہے
یہ دنیا انقلاب آسماں معلوم ہوتی ہے
مکدر ہے خزاں کے خون سے عیش بہار گل
خزاں کی رت بہار بے خزاں معلوم ہوتی ہے
مجھے ناکامی پیہم سے مایوسی نہیں ہوتی
ابھی امید میری نوجواں معلوم ہوتی ہے
کوئی جب نالہ کرتا ہے کلیجہ تھام لیتا ہوں
فغان غیر بھی اپنی فغاں معلوم ہوتی ہے
مآل درد و غم دیکھو صدائے ساز عشرت بھی
اتر جاتی ہے جب دل میں فغاں معلوم ہوتی ہے
چمن میں عندلیب زار کی فریاد اے اخترؔ
دل ناداں کو اپنی داستاں معلوم ہوتی ہے
——
ہے نذرِ دل قبول ، نگہ کامیاب ہے
ہوں وقفِ سوز و ساز کہ قسمت خراب ہے
آئینۂ نگاہ میں عکس شباب ہے
دنیا سمجھ رہی ہے کہ آنکھوں میں خواب ہے
روئے بغیر چارہ نہ رونے کی تاب ہے
کیا چیز اف یہ کیفیت اضطراب ہے
اے سوز جاں گداز ابھی میں جوان ہوں
اے درد لا علاج یہ عمر شباب ہے
منہ میں نہ ہو زبان تو اے دل میں کیا کروں
میری نگاہ تو نگہِ کامیاب ہے
حد سے سوا ہو درد تو میں دل کو تھام لوں
اس کا ہو کیا علاج کہ جینا عذاب ہے
یوں تو خدا نے دل کو دئیے ہیں ہزار درد
دردِ محبت آپ ہی اپنا جواب ہے
اخترؔ کی آنکھ میں ہیں جوانی کی مستیاں
لوگوں کو ہے گماں کہ وہ مستِ شراب ہے
………………………….