"وبا کے دنوں میں محبت" 1880 سے 1930 تک ق…
"وبا کے دنوں میں محبت" 1880 سے 1930 تک قریباً نصف صدی کے عرصے کو گھیرے ہوئے ہے ۔۔ انیسویں صدی کے آخر میں لاطینی امریکہ میں کریبئین کے خطے میں اندازاً دو لاکھ افراد ہیضے کی وبا کا شکار ہوئے تھے ۔۔ اور پچاس سال کے عرصےتک کریبئین کے مختلف ممالک اسکی زد میں آتے رہے ۔۔
یہ ناول بحیرہ کیریبیئن کے ہی کسی ساحلی شہر میں رہنے والے دو ایسے افراد کی کہانی ہے جن کی محبت جوانی میں ناکام رہ کر اس وقت پھلتی پھولتی ہے جب وہ تقریباً اسی برس کے ہو جاتے ہیں ۔۔
مارکیز کا کہنا تھا کہ
"میں نو عمری میں "وبا کے دنوں میں محبت" نہیں لکھ سکتا تھا ۔۔ اس ناول میں زندگی بھر کا عملی تجربہ ہے ۔۔ بلکہ بہت سے چھوٹے چھوٹے تجربے ہیں ۔۔ اپنے علاوہ دوسروں کے بھی ۔۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس میں ایسے نقطہ ہائے نظر ہیں جن سے میں پہلے واقف ہی نہیں تھا ۔۔ اس کے دو ماخذ ہیں جو ایک دوسرے سے مل گئے ۔۔ ایک تو میرے ماں باپ کا معاشقہ ہے ۔۔ جو فرمینا دازا اور فلورنتینو ریزا کی جوانی کے معاشقہ سے مشابہہ ہے ۔۔ میرے والد کولمبیا میں ٹیلی گراف آپریٹر تھے ۔۔ وہ وائلن بجاتے تھے ۔۔ میری ماں کھاتے پیتے گھرانے کی ایک خوبصورت لڑکی تھی ۔۔ ماں باپ آزاد خیال ہونے کے باوجود اس رشتے کے اس لئے مخالف تھے کہ میرے ماں باپ غریب تھے ۔۔ کہانی کا یہ سارا حصہ میرے ماں باپ سے متعلق ہے ۔۔ ان کا سکول جانا، خطوط نظمیں، میرے باپ کا راتوں کو وائلن بجانا، تار کے ذریعے اطلاع ملنے پر اندرونی ملک جانا، یہ ساری باتیں مستند ہیں ۔۔ ماں کا واپس آنا اور یہ سمجھنا کہ وہ میرے باپ کو بھول چکی ہے ، یہ بھی درست ہے ۔۔ یہ ساری باتیں اسی طرح ہیں جس طرح میرے باپ نے بتائیں ۔۔ فرق صرف یہ ہے کہ میرے ماں باپ کی شادی ہو گئی تھی ۔۔
دوسرا ماخذ یہ ہے کہ میکسیکو کے ایک اخبار میں دو معمر امریکیوں کے بارے میں ایک کہانی پڑ ھی تھی، وہ ہر سال اکا پلکو میں ملا کرتے تھے ۔۔ وہ ایک ہوٹل میں قیام کرتے تھے ۔۔ گو انکی عمر اسی برس کے قریب تھی ۔۔ لیکن ان کی آمدورفت جاری تھی ۔۔ ایک دن وہ کشتی میں سیر کرنے گئے تو کشتی بان نے انہیں لوٹنے کی غرض سے پتوار سے قتل کر دیا ۔۔اس طرح موت نے ان کے خفیہ رومان کی خبر کو مشتہر کر دیا"
ناول کے دو بنیادی کردار فلورنتینو اریزا اور فرمینا دازا کے درمیان محبت اور پھر اس محبت کے پھلنے پھولنے میں خطوط کا تبادلہ خاصی اہمیت رکھتا ہے ۔۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ناول میں کسی خط کی عبارت اور متن کی تفصیلات نہیں دی گئیں ۔۔ بس خطوط میں موجود پیغامات اور انکے اثرات کا ذکر کیا گیا ہے ۔۔
"اپنی اولین ملاقاتوں کے بعد وہ دونوں اپنی عمروں کا احساس کھو بیٹھے تھے ۔۔ اور وہ دونوں ایک دوسرے سے ایک ایسے شوہر اور بیوی کی سی شناسائی کے ساتھ برتاؤ کرتے تھے، جنہوں نے اس زندگی میں اس قدر راز چھپا رکھے تھے کہ ان کے لئے ایک دوسرے سے کہنے کے لئے مشکل ہی سے کوئی بات بچی تھی"
یہ ناول اس طبقاتی کشمکش کو بھی ظاہر کرتا ہے جو آج کے زمانے میں بھی دیکھی جا سکتی ہے ۔۔ فرمینا کاباپ یہ جاننے کے بعد کہ وہ فلورنتینو کی محبت میں مبتلا ہو چکی ہے اسے اس شہر سے لے کر چلا جاتا ہے اور کچھ عرصہ بعد جب اسے یقین ہو جاتا ہے کہ فرمینا اپنے دل سے فلورنتینو کی محبت نکال چکی ہے اسے واپس لاتا ہے اور اسکی شادی ایک کامیاب اور خوشحال ڈاکٹر جووینل اربینو سے کروا دیتا ہے ۔۔
فلورنتینو اپنی محبت کی ناکامی سے بہت دلبرداشتہ ہوتا ہے ۔۔ اور یہ محبت اس کے لئے زندگی بھر کا روگ بن جاتی ہے ۔۔ وہ اُس دن کا انتظار کرتا ہے جب وہ فرمینا کو حاصل کر لے گا ۔۔ اور یہ انتظار پچاس سال پر محیط ہو جاتا ہے ۔۔ ڈاکٹر جووینل اربینو کی وفات کے بعد جب فرمینا ستر سال کی ہو چکی ہوتی ہے تو فلورنتینو ایک بار پھر فرمینا کو مائل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے لئے ایک بار پھر خطوط کا سہارا لیتا ہے ۔۔ اگرچہ اپنی محبت کی ناکامی پر فلورنتینو نے دوسری عورتوں سے تعلقات بڑھا لئے تھے ۔۔ جس میں عمر کی بھی کوئی قید نہیں تھی ۔۔ فلورنتینو نے بےراہروی کی اس زندگی میں 622 عورتوں سے تعلقات رکھے جس کی وہ ایک فہرست مرتب کر کے رکھتا تھا ۔۔ شہر بھر میں اس حوالے سے اس کی شہرت بھی اچھی نہ تھی لیکن ان سب کے باوجود فرمینا سے محبت کی کسک اور اپنی اس نا آسودہ خواہش کی تکمیل کا انتظار اس نے آخری عمر تک نہ چھوڑا ۔۔
"میں لوگوں کو بتاؤں گا کہ وہ غلط سمجھتے ہیں کہ جب وہ بوڑھے ہو جاتے ہیں تو محبت نہیں کر سکتے، انہیں معلوم نہیں کہ جب وہ محبت کرنا چھوڑ دیتے ہیں، تب وہ بوڑھے ہو جاتے ہیں"
عمر کے آخری حصے میں ڈاکٹر جووینل اربینو کا کسی عورت کے ساتھ تعلق اور پھر اس کی وفات کے بعد فرمینا ذہنی طور پر پریشان رہنے کے بعد بالآخر خود کو فلورنتینو سے رشتہ استوار کرنے پر تیار کر لیتی ہے ۔۔
"عملی طور پر ڈاکٹر اربینو کے لئے یہ تقریباً ناممکن تھا کہ وہ مس لنچ کے ساتھ تعلقات کا تسلسل جاری رکھ سکے ۔۔ مگر وہ اس قدر کمزور ہو گیا تھا کہ اب رک نہیں سکتا تھا ۔۔ جس طرح بعد میں اس نے اتنا کمزور ہو جانا تھا کہ وہ مزید اس کو جاری نہیں رکھ سکتا تھا، یہ اس کی حد تھی"
فلورنتینو اور فرمینا اپنی گمشدہ محبت کے اعادے کے لیے ایک بحری سفر کا فیصلہ کرتے ہیں ۔۔ فلورینتینو تب "رِیورکمپنی آف کیریبٔین" کا صدر بن چکا ہوتا ہے ۔۔ اگرچہ فرمینا دازا اس بوڑھے معشوق جوڑے کے قتل کے واقعہ سے خوفزدہ ہوتی ہے جو ہر سال کسی ہوٹل میں ملنے اور وقت گزارنے کا اہتمام کیا کرتے تھے لیکن ایک کشتی بان لالچ میں آ کر انہیں قتل کر دیتا ہے اور انکی خبر اخبارات کی زینت بن کر انکی محبت کے راز سے پردہ اٹھا دیتی ہے ۔۔
لیکن اس خوف کو پس پشت ڈال کر، فلورنتینو کی شہرت اچھی نہ ہونے اور اپنے بچوں کی فلورنتینو کے اس جہاز پر موجودگی کو ناپسند کرنے کے باوجود فرمینا اس سفر کا ارادہ کرتی ہے ۔۔ اتنے سالوں کی محبت میں پہلی بار انہیں اس سفر میں قرب کی دولت میسر آتی ہے ۔۔
"وہ اس قدر اکٹھے رہ چکے تھے جس سے وہ یہ جان سکیں کہ محبت ہمیشہ ہوتی ہے ۔۔ کسی بھی وقت اور کسی بھی مقام پر ۔۔ مگر جب یہ موت کے قریب ہو تو اور پختہ ہو جاتی ہے"
دس بارہ دن کا یہ بحری سفر جب اختتام پذیر ہوتاہے تو واپس گھر جانے کی بجائے وہ دوبارہ دریا کا رخ کرتے ہیں ۔۔ ایک جگہ نئے مسافروں کو دیکھ کر فرمینا گھبرا جاتی ہے کیونکہ کچھ لوگ اسے ڈاکٹر اربینو کی بیوہ کی حیثیت سے جانتے ہیں ۔۔ اسکی پریشانی دور کرنے کے لئے فلورنتینو اور جہاز کا کپتان جہاز پر زرد جھنڈا لہرا کر اعلان کرتے ہیں کہ اس جہاز پر صرف وبا کے مریض سفر کریں گے ۔۔ وبا کے زیر سایہ محبت کا سفر ایک بار پھر شروع ہو جاتا ہے ۔۔
"کسی مصیبت کے وقت، محبت زیادہ عظیم اور زیادہ پروقار ہو جاتی ہے"
ساحل کے قریب پہنچنے پر فلورنتینو کپتان کو پھر سے جہاز واپس دریا میں لے جانے کا کہتا ہے ۔۔ کپتان حیرانی سے پوچھتا ہے کہ یہ سفر آخر کب تک چلے گا ۔۔ فلورنتینو جواب دیتا ہے "ہمیشہ"
دنیاوی رسوم اور پابندیوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے عمر کے اس حصے میں محبت کا حصول اور وصل کی خوشی درست عمل تھا یا نہیں لیکن مارکیز کہانی کے انجام اور واقعات کو بیان کرنے کے ڈھب سے بخوبی واقف ہے ۔۔ یہ ناول مارکیز کے تاریخی شعور پر گرفت کو بھی ظاہر کرتا ہے ۔۔ اس نے نصف صدی میں پیش آنے والے واقعات اور انکے اثرات کو نہایت مہارت سے قلم زد کیا ہے ۔۔ اس نے معاشرے اور سماج کے سامنے محبت کے عارضی طور پر ہتھیار ڈالنے اور موقع میسر آنے پر جذبوں کی تپش کے پھر سے سلگنے کو قدرے بےباک اور نہایت حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا ۔۔
مارکیز کا کہنا تھا کہ ۔۔
" وہ کم از کم ایک ایسی کہانی لکھنا چاہتا تھا جس کا انجام محبت کی کامیابی پر مبنی ہو"
اور بالآخر وہ " وبا کے دنوں میں محبت" لکھنے میں کامیاب رہا ۔۔ اور ارشد وحید نے اس کے اردو ترجمے سے پورا انصاف کیا ۔۔ اس ناول پر Love in the time of cholera کے نام سے فلم بھی بن چکی ہے ۔۔
یہ تحریر کاپی شدہ ہے.
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2810168665880315