نابغہ ء وقت اور نظم و غزل کے یک ساں معتبر تر شاعر …
نابغہ ء وقت اور نظم و غزل کے یک ساں معتبر تر شاعر اِقبال کوثر مرحُوم کی نوحہ نُما نظم
اِس خون سے سب کا خونِ دل
اک محشر خوں کے لمحے میں
کتنی صدیوں کے آنسو ہیں
اک پل کے کتنے پہلو ہیں
ہر پہلو کیا کیا غم رکھّے
ہر پھول میں کیا کیا داغ تپاں
ہر شاخ پہ کیا کیا زخم عیاں
اب لاکھ صبا شبنم رکھّے
اب لاکھ ہوا مرہم رکھّے
داغوں کو تو جلتے رہنا ہے
یہ خوں تو ہمیشہ بہنا ہے
یہ خون جو تیری نسبت سے
ہر شام و سحر کا غازہ ہے
ہر عہد کی سرخی تازہ ہے
ہر کرب و بلا کے محشر میں
اس خوں کی روایت برحق ہے
اس خوں کی یاد مکرّم ہے
اس خون سے سب کا خونِ دل
اس غم میں سارے غم شامل
اس نوحہ گری میں سب نوحے
اس ماتم میں ہر ماتم ہے
اے خون ِروان ِ ابن علی!
ملتا ہے یہ تجھ سے درسِ جلی
جو تیری رَو میں چلتا ہے
وہ عشق ابد میں ڈھلتا ہے
(اقبال کوثر)