میں ڈرا نہیں میں دبا نہیں میں جھکا نہیں میں بکا نہ…
میں ڈرا نہیں میں دبا نہیں میں جھکا نہیں میں بکا نہیں
مگر اہلِ بزم میں کوئی بھی تو ادا شناسِ وفا نہیں
مرے جسم و جاں پہ اسی کے سارے عذاب سارے ثواب ہیں
وہی ایک حرفِ خود آگہی کہ ابھی جو میں نے کہا نہیں
نہ وہ حرف و لفظ کی داوری نہ وہ ذکر و فکرِ قلندری
جو مرے لہو سے لکھی تھی یہ وہ قراردادِ وفا نہیں
ابھی حسن و عشق میں فاصلے عدم اعتماد کے ہیں وہی
انہیں اعتبارِ وفا نہیں مجھے اعتبارِ جفا نہیں
… More