موصوف کے دادے کا نام گوہر علی مغل تھا سری نگر کے رہائشی تھے وہاں ان سے ایک قتل س…
موصوف کے دادے کا نام گوہر علی مغل تھا سری نگر کے رہائشی تھے وہاں ان سے ایک قتل سرزد ہوا انگریز سرکار سے بھاگ کر راولپنڈی کے گوجر خان کے جنگل میں آکر چھپ گیا،جھونپڑیوں میں رہنے لگا،اپنے آپ کو سید ظاہر کیا،آہستہ آہستہ لوگوں نے پیر مان کر انکی مریدی اختیار کرلی اور جنگل کو نذرانے میں پیش کیا یہی جنگل ڈھوک گوہر علی شاہ کے نام سے آباد ہوا ۔
پاکستان بننے سے چھ سال پہلے گوہر علی مغل کے بیٹے فضل حسین مغل کے ہاں ایک بیٹے کی ولادت ہوئی ریاض حسین نام رکھا گیا،باپ دادا خاص پڑھے لکھے نہیں تھے چنانچہ پوتے کو تعلیم دلوانے کا فیصلہ کیا گیا ۔
ریاض حسین شاہ کو گاؤں کے سکول میں داخل کیا گیا ،یہ کند ذہن اور نکما طالب علم ثابت ہوا ،فیل پاس ہوتے بمشکل آٹھ جماعتیں اس نے پڑھ لی ۔
تعلیم کو چھوڑ کر اس نے ویلڈنگ اور موٹر مکینک کا کام شروع کیا ،ایک عدد دکان بھی ڈالی مگر کام نہ چل سکا ۔
دکان اور کام چھوڑ کر مفت کی روٹیاں توڑنے اس نے درگاہوں اور درباروں کا رخ کیا،وہاں اس کو چرس کی لت لگ گئی،کبھی درگاہ بری امام میں پڑا رہتا اور کبھی داتا دربار لاہور پہنچتا ۔
عام ملنگ اور مرید کو مفت کی چرس اور بھری سگریٹ بھی کوئی آسانی سے نہیں دیتا ہے۔
نشے کیلئے اسے بہت تکالیف اٹھانی پڑی ،وہی سے اس نے فیصلہ کیا کہ مرید بنے رہنے میں اذیت کے سوا کچھ نہیں سیدھا پیر بنتے ہیں،دادا کی طرف سے بھی پیری کا ٹچ تھا ۔
پنجاب میں اسکی دال نہیں گلی چنانچہ یہ سندھ جامشورو پہنچا وہاں جھونپڑی ڈال کر بیٹھ گیا اپنے آپ کو سید ظاہر کیا،مریدوں کا آنا جانا شروع ہوا ،قریبی یونیورسٹی کے وہابی پروفیسر نے جھونپڑی اکھاڑ پھینکی بھاگ کر حیدر آباد کے سرے گھاٹ پہنچا وہی ڈیرا ڈالا ،وہی پیری مریدی کی اپنی الگ دکان کھولی،خوب پزیرائی ملی ۔
اسی کی دہائی میں “انجمن سرفروشان اسلام “ کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی،اسکی دکان چل پڑی ،چنانچہ روایتی پیری مریدی سے ہٹ کر یہ نیا سودا لیکر آ گیا،اسکی شہرت حیدر آباد سے نکل کر کراچی تک پہنچ گئی تھی کراچی میں بھی اسے کسٹمرز مل گئے ۔
ریاض حسین شاہ اب گوہر شاہ بن چکے تھے گوہر شاہی کے نام سے اس کا اپنا الگ فرقہ بھی وجود میں آ چکا تھا ۔
موصوف کے پیروکار اسے امام مہدی بتاتے رہے ،کرامت کے طور پر کراچی کی دیواروں پر پوسٹرز لگ گئے کہ
چاند اور حجر اسود میں گوہر شاہی کی شبیہ ظاہر ہو گئی ہے،چنانچہ مبینہ شبیہ کی تصویریں بنا کر شہر میں پمفلٹ تقسیم کئے گئے ۔
مولویوں کو جب اس فتنے کا علم ہوا آستنیں چڑھائے اسکی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ۔
پیر موصوف اپنے مریدوں کو بے یار و مددگار چھوڑے بھاگم بھاگ لندن شریف پہنچ گئے ۔
برطانیہ سے پیر موصوف نے اپنے باطل نظریات کی تبلیغ جاری رکھی ،مریدوں میں یہ افواہ بھی پھیلائی گئی کہ 29 مئی 1997 میں دورہ امریکہ کے دوران پیر موصوف کی ایک مقامی ہوٹل میں حضرت عیسی سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔
گوہر شاہی نے شراب کو حلال قرار دیا ،نماز روزہ اور دیگر احکامات کو ساقط کیا،ذکر اذکار کی بجائے ٹک ٹک ٹک کا ورد لازمی قرار دیا ۔
کلمہ طیبہ میں محمد رسول اللہ کی بجائے اپنے ناپاک نام کا اضافہ کیا ۔
حضرت آدم کی توہین کرتے ہوئے اسے حاسد بتایا،یہ بکواس بھی کیا کہ شیطان نے حضرت آدم کی ناف میں تھوکا۔
موصوف نے یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان کے جسم میں چار پرندے ایک شیطان اور دیگر 16 مخلوقات قید ہیں ۔
موصوف کے باطل اور مضحکہ خیز نظریات کی فہرست طویل ہے۔
25 نومبر 2001 کو مانچسٹر برطانیہ میں نمونیا کی وجہ سے یہ انتقال کرگیا ۔
انکی میت کراچی لائی گئی،کوٹری میں دفن کیا گیا ۔
گوہر شاہی کا مزار بھی ہے لیکن انکے مرید ماننے کیلئے تیار نہیں کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے،مرید یہ مانتے ہیں کہ گوہر شاہی روپوش ہوگیے ہیں غیبت صغری میں چلے گئے ہیں قیامت کے قریب دورباہ ان کا ظہور ہوا ۔
یونس گوہر نامی ایک گنجا گوہر شاہی کا خلیفہ ہے،موصوف کے یوٹیوب چینل پر ایک ملین سے زیادہ سبسکرائبر ہیں،کہا جاتا ہے اس فرقے کے ماننے والوں کی تعداد سولہ لاکھ کے لگ بھگ ہے۔
اندازہ کرلیں ایک ناکام موٹر مکینک پیری مریدی کے کاروبار سے کہاں سے کہاں پہنچا ۔
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی
بقلم خود فردوس جمال!!!
Source