لفظ ” کباب ” اشعار میں ….. شراب لاؤ کباب لاؤ …
لفظ ” کباب ” اشعار میں
…..
شراب لاؤ کباب لاؤ ہمارے دل کو نہ اب گھٹاؤ
شروع دود قدح ہو جلدی کہ سر پہ ابر بہار آیا
شاہ نصیر
زاہدو دعوت رنداں ہے شراب اور کباب
کبھی میخانے میں بھی روزہ کشائی ہو جائے
امداد علی بحر
کباب سیخ ہیں ہم کروٹیں ہر سو بدلتے ہیں
جل اٹھتا ہے جو یہ پہلو تو وہ پہلو بدلتے ہیں…
