‏لاہور کی تاریخ کا عجیب و غریب فراڈ ایشیاء کی بڑی گولڈ مارکیٹوں میں سے ایک مارک…


‏لاہور کی تاریخ کا عجیب و غریب فراڈ
👇
ایشیاء کی بڑی گولڈ مارکیٹوں میں سے ایک مارکیٹ لاہور "اچھرہ گولڈ بازار” میں 30 سال پرانی ایک دوکان 2 دن سے بند تھی، اور دکان بند ہونے کیوجہ دکان کے شٹر پر ایک چارٹ کی صورت میں لکھی ہوئی تھی کہ دکاندار کی بھابی کا انتقال ہو گیا ھے،
اب پچھلے 30سال سے اس وسیم
نامی دوکاندار کے ساتھ تعلق رکھنے والے تاجر اس سے بار بار رابطہ کر کے جنازہ کا وقت اور مقام پوچھ رھےتھے۔ تاکہ جنازے پر پہنچ سکیں، لیکن وسیم کی جانب سے جنازے کا مقام لاہور سے ہزاروں میل دور کراچی بتایا جا رہا تھا، اب اتنی دور کون جاتا ؟؟
جس کی وجہ سے اچھرہ گولڈ بازار کے تاجر چاہتے ہوئے بھی جنازہ میں شرکت نہیں کر سکے۔
لیکن جب 3 روز گزر گے اور پھر بھی دوکان نا کھلی تو تاجروں کی تشویش میں اضافہ اور دلوں میں ڈر پیدا ہونا شروع ہو گیا جو بعدازاں شک میں تبدیل ہو گیا اور اسکی بڑی وجہ بند دوکان کے مالک وسیم کے پاس بازار کے تاجروں کا 20 کلو سے زائد سونا بطور امانت پڑا ہوا تھا جس کی مالیت تقریبا ایک ارب روپے بنتی تھی۔
بازار کے تاجر آپس میں سرگوشیاں کرنے لے آج تک ایسا نہیں ہوا آخر کیوں اتنے روز سے وسیم نامی تاجر کی دوکان بند ہے؟
چند دن مزید گزرنے کے بعد بلآخر اچھرہ گولڈ بازار کے تاجروں نے مارکیٹ کے صدر کو ساتھ لیکر فیصلہ کیا کہ وسیم کی دوکان کا تالا توڑا جائے۔
تاجروں کی کمیٹی نے جب وسیم کی دوکان کا تالا توڑا تو ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کیونکہ اربوں روپے مالیت کا سونا ہر وقت رکھنے والی دوکان اندر سے مکمل طور پر خالی پڑی ہوئی تھی۔۔
جن کی امانتیں وسیم کے سپرد تھیں ان کا سر چکرا کر رہ گیا، کیوں کہ ان کے فراڈ ہوچکا تھا۔ مقامی تاجروں نے جب اس کا تخمینہ لگایا تو تقریبا 1 ارب مالیت کا 20 کلو سے زائد سونا لے کر وسیم زرگر وہاں سے رفوچکر ہوچکا تھا۔۔
تاجر اکٹھے ہو کر وسیم کے گھر کی جانب بھاگے، لیکن وہاں جا کر انہیں اور بھی دھچکا لگا، کیونکہ وسیم نامی تاجر وہاں سے اپنے دونوں گھر فروخت کرچکا تھا۔ اپنی بیوی اور بیٹی کو وہ پہلے ہی بیرون ملک منتقل کرچکا تھا، اور اب خود بھی لاہور سے تمام جائیداد اور گاڑیاں بیچ کر وہ فرار ہوچکا تھا۔۔

اب مختلف چہہ مگوئیاں ہونے لگی کسی کو لگتا تھا کہ وہ زمینی راستے سے فرار ہوچکا ہے، تو کوئی کہہ رہا تھا کہ وہ سمندر راستے سے بھاگ گیا ہے، لیکن سوال یہ تھا کہ اتنی مالیت کا سونا یا وہ بیچ کر حاصل شدہ رقم اس نے کیسے باہر منتقل کی ہو گی یا پھر کیا سمندری راستے سونا ساتھ لے گیا ہو گا؟؟
لاہور پولیس بھاگ دوڑ کے بعد اس کیس سے مایوس ہو چکی تھی،
مقامی تاجر اس کے بھاگ جانے کی وجہ سے مکمل طور پر مایوس ہو چکے تھے کہ اچانک بازی پلٹ گئی۔

پولیس نے ایک کال ٹریس کی اور کالر کے گھر کے باہر جا پہنچی، وہ کالر بیچارہ اپنے گھر پولیس کی اتنی بھاری نفری دیکھ کر حیران و پریشاں رہ گیا پولیس نے اسے دبوچ لیا اور اس سے وسیم کا پوچھنے لگے، مگر وہ شخص وسیم کو جاننے سے مکمل انکاری تھا اور حیرت انگیز طور پر وہ وسیم کا موبائل بھی استعمال کر رہا تھا۔
پھر اس شخص نے بتایا کہ یہ موبائل اس نے فلاں دوکان سے خریدا ہے میں کسی وسیم کو نہیں جانتا، یوں پولیس اس شخص کو لے کر بھاگی بھاگی موبائل شاپ پر جا پہنچی۔۔
موبائل والے دوکان دار نے بتایا کہ وسیم نے اپنے استعمال میں دونوں موبائل انہیں بیچ دیے تھے جو وہ آگے بھی بیچ چکا ہے، اور اس نے موبائل قانون کے مطابق شناختی کارڈ وغیرہ کی فوٹو کاپی لیکر سیل کئے ہیں۔
لیکن وہ وسیم کے بارے میں نا تو کچھ جانتا ہے اور نا ہی یہ جانتا ہے کہ وسیم ابھی کہاں مقیم ہے۔

لیکن اچانک اس دوکاندار نے بتایا کہ وسیم نے دو موبائل بیچ کر اس سے دو موبائل خریدے بھی تھے۔ یہ سن کر پولیس کی آنکھوں میں آس اور امید دوبارہ جاگ گئی، انہوں نے فوراً دکاندار
سے ان دو موبائلز کے آئی ایم ای نمبرز مانگے۔ جو کہ دکاندار نے کچھ محنت کے بعد انہیں مہیا کر دیے۔
دونوں موبائلز کی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے جب لوکیشن ٹریس کی گئی تو وہ انہیں اسلام آباد لے گئی جہاں سے بالآخر پولیس اس فراڈیے وسیم کو پکڑنے میں کامیاب ہو ہی گئی۔

یوں 1 ارب کا فراڈ کرنے والا اپنے زیراستعمال چند لاکھ روپے کے دو موبائل کیوجہ سے پولیس کی گرفت میں آ چکا تھا، پولیس اس فراڈیے کو لاہور لیکر آتی ھے،

اور اس وقت پولیس کے لیے وسیم سے 20 کلو سے زائد سونا یا اس کی مالیت برآمد کرنا سب سے بڑا چیلنج اور سردرد بنا ہوا ہے کیونکہ اس کیس کے پیچھے پوری تاجر برادری کھڑی ھے، اب دیکھتے ہیں کہ پولیس اس فراڈیے سے برآمدگی کر پاتی ھے یا نہیں؟
اور اگر برآمدگی کر بھی لیتی ھے تو کتنی رقم برآمد کر پائے گی، اور پھر وہ برآمدگی والا پیسہ دکانداروں کو کیسے تقسیم ہو گا؟؟
آپکا کیا خیال ھے برآمد ہونے والا پیسہ دکانداروں کو ملے گا بھی یا نہیں؟؟؟

منتخب


Source