قافلہ درد کا ٹھہرے گا کہاں ہم سفرو کوئی منزل ہے ن…
قافلہ درد کا ٹھہرے گا کہاں ہم سفرو
کوئی منزل ہے نہ بستی نہ کہیں سایا ہے
کفیل آزر
مشورہ
کسی کی یاد ستاتی ہے رات دن تم کو
کسی کے پیار سے مجبور ہو گئی ہو تم
تمہارا درد مجھے بھی اداس رکھتا ہے
قریب آ کے بہت دور ہو گئی ہو تم
تمہاری آنکھیں سدا سوگوار رہتی ہیں
تمہارے ہونٹ ترستے ہیں مسکرانے کو
تمہاری روح کو تنہائیاں عطا کر کے
یہ سوچتی ہو کہ کیا مل گیا زمانے کو
گلہ کرو نہ زمانے کی سرد مہری کا
کہ اس خطا میں زمانے کا کچھ قصور نہیں
تمہارے دل نے اسے منتخب کیا کہ جسے
تمہارے غم کو سمجھنے کا بھی شعور نہیں
تم اس کی یاد بھلا دو کہ بے وفا ہے وہ
ہر ایک دل نہیں ہوتا تمہارے دل کی طرح
تم اپنے پیار کو رسوا کرو نہ رو رو کر
تمہارا پیار مقدس ہے بائبل کی طرح
اب اس کے واسطے خود کو نہ یوں تباہ کرو
اب امتحاں کی تمنا سے فائدہ کیا ہے
وہ آسماں کہ جسے تم نہ چھو سکو گی کبھی
اس آسماں کی تمنا سے فائدہ کیا ہے
اندیشہ
بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی
لوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گے
یہ بھی پوچھیں گے کہ تم اتنی پریشاں کیوں ہو
جگمگاتے ہوئے لمحوں سے گریزاں کیوں ہو
انگلیاں اٹھیں گی سوکھے ہوئے بالوں کی طرف
اک نظر دیکھیں گے گزرے ہوئے سالوں کی طرف
چوڑیوں پر بھی کئی طنز کیے جائیں گے
کانپتے ہاتھوں پہ بھی فقرے کسے جائیں گے
پھر کہیں گے کہ ہنسی میں بھی خفا ہوتی ہیں
اب تو روحیؔ کی نمازیں بھی قضا ہوتی ہیں
لوگ ظالم ہیں ہر اک بات کا طعنہ دیں گے
باتوں باتوں میں مرا ذکر بھی لے آئیں گے
ان کی باتوں کا ذرا سا بھی اثر مت لینا
ورنہ چہرے کے تأثر سے سمجھ جائیں گے
چاہے کچھ بھی ہو سوالات نہ کرنا ان سے
میرے بارے میں کوئی بات نہ کرنا ان سے
بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی
….
بشکریہ وسیم سید