( غیر مطبوعہ ) ہم نے کھــائی تھی بڑی مات ، مگر رق…
( غیر مطبوعہ )
ہم نے کھــائی تھی بڑی مات ، مگر رقص مِیں تھے
دل کے آنگن مِیں تھی برسات ،مگر رقص مِیں تھے
ہم تو سمجـــھے تھے' فقــط ہم ہی رہے رقص کُناں
سب کے سب ارض و سمٰوات ، مگر رقص مِیں تھے
زخـــــم کھـــــــایا تو کبھــــی زخـــــــم کُریدا ہم نے
درد ظــــاہر نہ تھے صدمات ، مگر رقص مِیں تھے
درمیــــاں اُن سے رہا فـــــاصـــــلہ ویسے تو بہت
عشق کی دُھن مِیں رہے سات ، مگر رقص مِیں تھے
اُن سے بچھڑے تو عجب دل پہ سمــــاں طاری تھا
غم کی تصـــویر تھی ہر رات ، مگر رقص مِیں تھے
بے خودی مِیں ہُوئے اشکوں کی زباں سے ظاہر
آنکھ سے بہہ گئے جذبات ، مگر رقص مِیں تھے
روح سے اُن کی ہُوئے ایسے مراسِــــــــم پیـدا
وَجـــد مِیں ہوتی رہی بات ، مگر رقص مِیں تھے
طرز ِ جدّت کے لبادے مِیں روایت سے جُڑے
تھے پُرانے وہ خیــــالات ، مگر رقص مِیں تھے
ایسا عــــالم تھــــا ، کنارہ ملا ، رستا' نہ کرن
ایسے عالم مِیں مناجـات ، مگر رقص مِیں تھے
کیفــــــ مِیں زینَت ِ قــــرطـاس سؔبیلہ ! جو کیے
تھے وہی شعـــــر کمالات ، مگر رقص مِیں تھے
(سؔبــیلہ انعـام صــدیقی )