عشق کے چالیس اصول رومی اور شاہ شمس تبریز کی کہانی…

عشق کے چالیس اصول
رومی اور شاہ شمس تبریز کی کہانی
از ایلف شفق
بلاشبہ مبارک یہ روز کہ میں اس روز شمس تبریز سے ملا ہوں۔ اکتوبر کے اس آخری روز، فضا میں ایک نئی خنکی ہے اور خزان کی رخصتی کا اعلان کرتی ہوا تیزی سے چل رہی ہے۔ اس سہ پہر مسجد معمول کے مطابق پُر ہجوم تھی۔ ایک بڑے ہجوم کو تبلیغ کرتے ہوئے میں ہمیشہ یہ خیال رکھتا ہوں کہ سامعین کو بھول جائوں نہ ہی یا درکھوں۔ اور ایسا کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے : ہجوم کو ایک فرد واحد کے طور پر تصور کر نا۔ ہر ہفتے سینکڑوں لوگ میرا وعظ سنتے ہیں لیکن میں ہمیشہ صرف ایک شخص سے بات کرتا ہوں۔۔۔ وہ جو میرے الفاظ کو اپنے دل میں گونجتے سنتا ہے اور وہ جو مجھے ہر کسی سے بڑھ کر جانتا ہے۔ جب میں وعظ کے لیے مسجد سے نکلا تو میں نے اپنے گھوڑے کو اپنے لیے تیار پایا۔ گھوڑے کی ایال میں سونے کی لڑیاں اور ننھی نقرئی گھنٹیاں پروئی گئی تھیں۔ مجھے ہر قدم پر گھنٹیوں کی جھنکار سنائی دی لیکن راستہ روکتے اتنے بہت سے لوگوں کے باعث تیزی سے آگے بڑھنا ناممکن تھا۔ نپی تلی رفتارسے ہم خستہ حال دکانوں اور گھاس پھونس کی چھتوں والے گھروں کے قریب سے گزرے۔ سائلوں کی پکاریں، بچوں کی چیخ وپکار اور چند سکے کی خاطر گداگروں کی صدا گھل مل گئیں۔ ان میں سے بیشتر لوگ چاہتے تھے کہ میں ان کے لیے دعاکروں، کچھ بس میرے قریب ہوکر چلنا چاہتے تھے کہ میں انہیں ان کی دائمی بیماری سے، سحر یاکالے جادوسے نجات دلادوں۔ یہی لوگ مجھے پریشان کرتے تھے۔ وہ کیوں کر یہ نہ دیکھ پاتے کہ میں کوئی پیغمبر ہوں نہ ولی، کیوں نہیں سمجھ پاتے کہ میں معجزے کر دکھانے کے قابل نہیں؟ جب ہم ایک موڑ مڑے اور شکر فروشوں کی سرائے کے قریب پہنچے تو مجھے ہجوم میں سے راہ بناتا ایک سرگرداں درویش دکھائی دیا، جو اپنی چھیدتی نگاہیں مجھ پر جمائے سیدھا میری جانب آرہا تھا۔ اُس کی حرکات سبک تھیں اور توجہ مرکوز اور اس کے گرد خود کفیل صلاحیت کا ایک ہالہ تھا۔ اس کے کوئی بال نہ تھے۔ نہ ڈاڑھی،نہ بھنویں۔ اور اگرچہ اُس کا چہرہ اس قدر چوڑا تھا جتنا کسی آدمی کا ہوسکتا تھا، مگراُس کے تاثرات ناقابل فہم تھے۔ لیکن وہ اس کا ظاہری حلیہ نہ تھا جس پر میرا تجسس بیدار ہوا۔ اتنے برسوں میں میں نے ہر قسم کے درویشوں کو معرفت حق کے سفر میں قونیہ سے گزرتے دیکھا تھا۔ گُدے ہوئے جسم کے ساتھ، کانوں میں بالیوں اور ناک میں نتھ کے ساتھ، ان میں سے بیشتر لوگ لطف اٹھاتے تھے کہ ان کے پورے وجود پر "سرکش" لکھا تھا۔ وہ اپنے بال بہت بڑھا لیتے تھے یا پھر بالکل ہی سر ڈاڑھی منڈوالیتے۔ بعض قلندری درویش تو اپنی زبان اور پستان تک چھدوا لیتے تھے۔ سو جب میں نے اس درویش کو پہلی بار دیکھا تو وہ اس کا بیرونی خول نہ تھا جس نے مجھے چونکایا۔ اگر میں کہنے کی جرات کروں تو وہ اُس کی نگاہ تھی۔ اُس کا نظر جما کر ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا۔ اُس کی سیاہ نگاہیں مجھ پر کسی خنجر سے زیادہ تیزی سے گزر رہی تھیں۔ وہ سڑک کے عین درمیان کھڑا ہوگیا اور اپنے بازو بلند کر لیے، یوں جیسے وہ نہ صرف جلو س بلکہ وقت کے بہائو کو بھی روکنا چاہتا تھا۔ کسی اچانک وجدان کی طرح، مجھے اپنے جسم کو ایک دھچکا سا لگتا محسوس ہوا۔ میرا گھوڑا گھبرا گیا اور اپنے سر کو اوپر نیچے جھٹکتے ہوئے اونچی آواز میں ہنہنانے لگا۔ میں نے اُسے پُرسکون کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اتنا بدک گیا کہ مجھے بھی گھبراہٹ ہونے لگی۔ میری نظروں کے سامنے درویش میرے گھوڑے کے قریب پہنچا جو بدک رہا تھا اور سم مارہا تھا اوربے حد دھیمی سرگوشی مجھ سے کی۔ جانور ہانپنے لگا مگر جیسے ہی درویش نے آخری بار ہاتھ ہلایا، وہ فورا پُرسکون ہوگیا۔ ہجوم میں ایک جوش سا دوڑ گیا اور میں نے کسی کو زیر لب بڑبڑاتے ہوئے سنا، "یہ کالا جادو ہے !" اپنے گردوپیش سے غافل درویش نے مجھے تجسس سے دیکھا۔ "ایے مشرق ومغرب کے عظیم عالم، میں نے آپ کے بارے میں بہت سنا ہے۔ میں آج یہاں ایک سوال پوچھنے آیا ہوں، کیا مجھے پوچھنے کی اجازت ہے؟" " پوچھیے" میں نے دھیمے سے کہا۔ " خوب، اس کے لیے آپ کو گھوڑے سے اتر کر میری سطح پر میرے برابر کھڑا ہونا پڑے گا۔" میں یہ سن کر اس قدر حیرت زدہ ہوا کہ لمحے بھر کو تو میں کچھ بول ہی نہ پایا۔ میرے اردگرد لوگ بھی اسی طرح حیران تھے۔ اس سے پہلے کوئی بھی یوں مجھ سے مخاطب ہونے کی جرات نہ کر پایا تھا۔ مجھے اپنا چہرہ سرخ پڑتا ہوا اورپیٹ میں کوفت اور جھلاہٹ سے بَل پڑنے لگے لیکن میں اپنی انا اور نفس پر قابو پانے میں کامیاب رہا اور اپنے گھوڑے سے اتر آیا۔ درویش پہلے ہی رخ موڑ کر چلنا شروع ہوچکا تھا۔ "ارے رکیے، برائے مہربانی۔" میں اس کے برابر پہنچتے ہوئے پکار کر بولا،" میں آپ کا سوال جاننا چاہتا ہوں۔" وہ رکا اور مڑا پہلی بار مجھے دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہنے لگا،" ٹھیک ہے مجھے بتائیے کہ آپ کے خیال میں ان دونوں میں سے کون عظیم تر ہے : پبغمبر محمدؐ یا صوفی بایزیدبسطامی؟"" یہ کس قسم کا سوال ہے؟" میں نے کہا،" آپ واجب تعظیم پیغمبرؐآخر الزماں کا موازنہ ایک بدنام صوفی سے کیسے کر سکتے ہیں؟" ہمارے گرد ایک متجسس ہجوم جمع ہوچکا تھا لیکن درویش کو لگتا تھا اُن حاضرین کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ ابھی بھی غور سے میرے چہرے کو پڑھتے اُس نے اصرار کیا،"برائے مہربانی اس بارے میں سوچیے۔ کیا پیغمبرؐ نے نہیں کہا تھا، " اے خدا مجھے معاف فرما دے، میں تجھے ویسے نہیں جان سکا جیسے جاننا چاہیے۔" جب کہ بسطامی نے کہا تھا،" تعریف ہے میرے لیے، میں خدا کو اپنی چادر تلے رکھتا ہوں؟"اگر ایک خود کو خدا کے مقابلے میں اس قدر حقیر سمجھتا ہے جب کہ دوسرا خدا کو اپنے اندر رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے تو دونوں میں سے عظیم تر کون ہے؟" میرا دل میرے حلق میں دھڑکنے لگا۔ سوال اب مزید مبہم نہ رہا تھا۔ درحقیقت یوں محسوس ہوا جیسے پردہ اٹھایا جاچکا ہو اور اس کے نیچے ایک پیچیدہ معمہ میرا منتظر تھا۔۔ گزرتی ہوا کی طرح ایک دزدیدہ مسکراہٹ درویش کے چہرے کو چھو کر گزری۔ اب میں جان گیا تھا کہ وہ کوئی دیوانہ نہیں تھا۔ وہ ایک سوال لیے آدمی تھا۔ ایک سوال جس کے بارے میں مَیں نے پہلے کبھی نہیں سوچا تھا۔ " میں سمجھ گیا کہ آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔" میں نے بات شروع کی، نہ چاہتے ہوئے کہ وہ میری آواز میں موجود لرزش کو محسوس کرے۔ " میں دونوں بیانات کا موازنہ کر کے بتائوں گا کہ کیوں، اگرچہ بسطامی کا بیان بلند تر لگتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔"
" میں سننے کو بے تاب ہوں۔" درویش نے کہا۔ " آپ جانتے ہیں کہ خداکی محبت ایک بحرِ بے کنار ہے اور انسان اس سے جتنا پانی لے سکتے ہیں، لینے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ لیکن انجام کار ہم میں سے ہر کوئی جتنا پانی لے سکتا ہے، وہ ہمارے پیالے پر منحصر ہے۔ کچھ لوگوں کے پاس بڑا برتن ہوتا ہے جب کہ کچھ کہ پاس ڈول جب کہ کچھ ایسے ہوتے ہیں جن پاس صرف پیالے ہوتے ہیں" بات کرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ درویش کے چہرے کے تاثرات استہزا سے کھلی تحسین میں بدلےاور پھر کسی ایسے شخص کی سی دوستانہ مسکراہٹ میں جس نے کسی دوسرے کے الفاظ میں اپنے خیالات کو پہچان لیا ہو۔ " بسطامی کا برتن نسبتا چھوٹا تھا اور ان کی پیاس گھونٹ بھر کے بعد بجھ گئی۔ وہ جس مرحلے پر تھے، اُسی پر خوش تھے۔ یہ شان دار بات ہے کہ انہوں نے اپنے اندر خدا کو پہچان لیا مگر پھر بھی خدا اور ذات کے درمیان امتیاز کی باقیات تو موجود تھیں۔ وحدت حاصل نہ ہوئی۔ جہاں تک پیغمبرؐ کی بات ہے، وہ مصطفی تھے، چنے گئے اور ان کا پیالہ کہیں بڑا تھا۔ اس وجہ سے خدا اُن سے قرآن پاک میں پوچھتا ہے،" کیا ہم نے تمھارے لیے تمھارا سینہ کھول نہیں دیا؟ (سورۃ الم نشرح، آیت 1 )" یوں ان کا دل کھول دیا گیا، ان کا پیالہ لامحدود تھا، ان کے لیے پیاس کے بعد پیاس تھی۔ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ انہوں نے فرمایا،" ہم تجھے ویسا نہیں جانتے، جیسا ہمیں جاننا چاہیے۔" اگرچہ یقیناوہ یوں جانتے تھے جیسے اور کوئی نہیں جانتا۔" خوش دلی سے ہنستے ہوئے درویش نے سرہلایا اور میرا شکریہ ادا کیا۔ پھر اُس نے اظہار تشکر میں اپنا ہاتھ اپنے دل کے مقام پر رکھا اور کچھ لحظے اسی طرح کھڑا رہا۔ لیکن ہماری نگاہیں دوبارہ ملیں، میں نے دیکھا کہ اب اس کی نگاہ میں نرمی کا شائبہ سا آگیا تھا۔ میں اُ س سرمئی نظارے میں درویش کے پاس سے گزر کر آگے بڑھا، جو سال کے ان دنوں ہمارے شہر کے لیے مخصوص تھا۔ ہمارے قدموں میں چند خشک پتے بکھر گئے۔ درویش نے ایک نئی دلچسپی کے ساتھ مجھے دیکھا اور ڈھلتے سورج کی مدہم پڑتی دھوپ میں، ایک لحظے بھر کو، میں قسم کھا کر کہ سکتا ہوں میں نے اُس کے گر د عنبریں ہالہ دیکھا۔ وہ احتراما میرے سامنے جھکا۔ اور میں اُس کے سامنے جھکا۔ مجھے نہیں معلوم کہ کتنی دیر ہم اسی طرح رہے، ہمارے سروں پر معلق آسمان گہرا نیلا ہوگیا۔ ہماری گفتگو کے تبادلے کو ایسی حیرانی سے دیکھتے ہوئے جس کی حدیں ناپسندیدگی کو چھوتی تھیں، کچھ دیر بعد ہمارے گرد ہجوم میں گھبراہٹ بھری کھلبلی سی شروع ہوئی۔ انہوں نے مجھے اس سے پہلے کبھی کسی کے سامنے جھکتے ہوئے نہ دیکھا تھا اور یہ حقیقت میں ایک سادہ سے سرگرداں درویش کے سامنے جھکا تھا، اس پر میرے قریب ترین شاگردوں سمیت کچھ لوگ سخت حیرت زدہ رہ گئے تھے۔ درویش نے ضرو ر فضا میں موجود ناراضی کو محسوس کرلیا ہوگا۔" بہتر ہوگا کہ میں چلوں اور آپ کو آپ کے عقیدت مندوں کے ہمراہ چھوڑ دوں۔" اس نے کہا۔ اس کی آواز گھٹ کر مخملیں دف تک محدود رہ گئی تھی، تقریبا ایک سرگوشی۔ " ٹھہریے۔" میں نے ٹوکا۔ " ابھی مت جائیے، برائے مہربانی۔ رکیے !" مجھے اس کے چہرے پر تشکر کی جھلک دکھائی دی۔ اُس نے سنجیدگی سے ہونٹ سکیڑے، یوں جیسے وہ مزید کچھ کہنا چاہتا تھا مگر کہ نہ سکا یا وہ کہتا ہی نہیں۔ اور اُس لمحے، اُس توقف میں، میں نے وہ سوال سنا جو اُس نے مجھ سے پوچھا ہی نہیں تھا۔ " اور آپ کے متعلق کیا معاملہ ہے عظیم مبلغ؟ مجھے بتائیے، آپ کا پیالہ کتنا بڑا ہے؟" پھر کہنے کو اور کچھ باقی نہ رہا۔ ہمارے الفاظ کم پڑ گئے۔ میں نے درویش کی طرف قدم بڑھایا، اتنے قریب کہ میں اُس کی سیاہ آنکھوں میں موجود سنہری دھبے دیکھ سکتا تھا۔ ایک بار نہیں بلکہ درجن سے زائد مرتبہ۔ مجھے چھوٹی چھوٹی تفصیلات یا د آنے لگیں۔ اپنے چہرے پر نقاب ڈالے، ایک قدآور،دبلا پتلا شخص، اس کی فروزاں انگلیاں۔ اور تب میں جان گیا ! درویش جو میرے سامنے کھڑا تھا، وہ کوئی اور نہیں، وہی آدمی تھا جسے میں اپنے خوابوں میں دیکھتا رہا تھا۔ میں جان گیا تھا کہ میں نے اپنا رفیق تلاش کر لیا تھا۔ لیکن خوشی اور مسرت سے بےخود ہونے کی بجائے، جیسا کہ میں نے ہمیشہ خیال کیا تھا کہ ایسے موقع پر میں ہوجائوں گا، مجھے ایک سرد سی دہشت اور رعب نے اپنے گرفت میں لے لیا۔
مکمل تفصیل اس لنک میں
https://youtu.be/k4pssVB53b8

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2875364599360721