منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ مختصر کہانیاں

#سلسلے_قرب_کے_جدائی_کے #از_نساء_احمد #قسط_نمبر_…


#سلسلے_قرب_کے_جدائی_کے
#از_نساء_احمد
#قسط_نمبر_9

مجھے کسی نے کیوں گھورنا ہے بٹ ایسی فیلنگز کیوں آتی ہیں…. ارسہ نے کندھےاچکاے اذان تم سوے نھی ابھی..¿
سونے لگا ہوں اوکے گڈنائٹ……
—————-
عبداللہ بےبی کے روم میں تھا ایک ایک چیز کو بڑے پیار سے دیکھ رہا تھا…..
عجیب سی فیلنگز تھیں……
عبداللہ…..
جی…..
کمرہ کیسا لگا….¿
بہترین….
غصہ کچھ کم ہوا….¿
غصہ نھی غصہ تو نھی تھا اتنی محبت ملنے پر کون غصہ کرے گا….
انفیکٹ میں تو خود کو بھت لکی فیل کرتا ہوں اتنا پیار قسمت والوں کو ملتا ہے….
تم نے میڈیسن لیں…¿
جی لے لیں….
اپنا خیال رکھا کرو….
میں کیوں رکھو آپ ہیں نا میرا خیال رکھنے کے لیے…..
ہاں یہ بھی ٹھیک ہے میں جو ہوں عبداللہ نے پیار بھری نظر اپنی شریک حیات پہ ڈالی….
چلو اماں سے ملنے چلتے ہیں میں کتنے دن سے نھی گیا ہاں چلیں…..
اماں اور دادا نے حج پر جانے کے لیے کاغزات جمع کروانے تھے پچھلے سال بھی کرواے تھے قراءاندازی میں نام نھی آیا اس بار سب دعا کر رہے تھے کے اللہ کرے اس بار نام نکل آے…..
خرم تو بھی چل پتر ہمارے ساتھ نھی اماں ابھی نھی میں نے کونسا بہت گناہ کر لیے ہیں جو بخشوانے جاو جب بلکل بوڑھا ہو گیا نا تب جاو گا گناہ بخشوانے….
اماں نے حیرت سے اسے دیکھا تمھیں کس نے کہا کہ لوگ ادھر گناہ بخشوانے جاتے ہیں…..¿
وہ تو ادھر بھی معاف کردیتا ہے بڑے سے بڑے گناہ کی معافی مل جاتی ہے بس مانگنا آنا چاھیے…..
ادھر تو ہم……
اماں ہر کسی کو توفیق نھی ملتی اس کے گھر جانے کی بلکہ اگر وہ ناراض ہو تو ہم سے نمازیں پڑھنے کی توفیق بھی چھین لیتا ہے اپنے سامنے جھکنے بھی نھی دیتا اپنے گھر بولانا تو بہت دور کی بات ہے ارسہ نے خرم پہ چوٹ کی…..
تو پڑھ لوں گا نمازیں بھی یار ابھی تو پوری زندگی پڑی ہے….
ہننننننن ارسہ کو اتنہ غصہ آیا تھا کہ جواب بھی نھی دیا تھا…
انکا ہر بات پہ اتفاق ہو جاتا تھا مگر مزہب پہ آکے بلکل عجیب سا رویہ ہو جاتا تھا نماز تو وہ عید کے عید ہی پڑھتا تھا….
خرم میری جان مزہب کو لے کے ایسا بچگانا رویہ نھی ہونا چاھیے…..
اللہ کو ہمیشہ دوست بنا کے رکھنا چاھیے اس کے سامنے جھکے رہنا چاھیے ورنہ ایسا جھٹکا لگے گا کہ وقت ہاتھ نھی آے گا تو زینب آپی آپ دعا کرے مجھے کوئی ایسا روگ لگ جاے کہ میں سر کے بل اس کے پاس لوٹ جاوں….
توبہ استغفار خرم یہ کیسی باتیں کر رہا یے توبہ کر اللہ سے معافی مانگ اور نماز پڑھنی شروع کر….
جی اماں……
جی اماں کا مطلب تھا ایک کان سے سن کے دوسرے سے نکال دیا…..
ارسہ نے شام میں پھر خرم کو گھیر لیا تھا
خرم یہ کس طرح کی باتیں کرتے ہو تم زرا شرم نھی آتی….¿
چھوٹے بچے ہو تم مزھب کو لے کے اتنی غیر سنجیدگی …..¿
مجھے اب ڈر لگنے لگ گیا ہے تم سے مسلمان تو ہو نا تم….¿¿
ارے لڑکی یہ کیا کہ رہی ہو کیا بول رہی ہو….¿¿
بلکل ٹھیک کہ رہی ہوں…..
خرم یک دم سنجیدہ ہوا تھا ایسی کوی بات نھی ہے میں تو صرف مزاق…..
مزاق….¿ یہ مزاق میں کرنے والی باتیں ہیں….
اچھا کام ڈاون میں اب ایسا نھی کہوں گا کچھ بھی اور پکا کل سے نماز بھی پڑھو گا….
ہاں دیکھے گئیں ارسہ کر بلکل یقین نھی تھا….
کیا پتا میرا دل واقعی بھت کھوٹا ہو جو رب مجھے نماز کی بھی توفیق نھی دیتا….¿
تو کھوٹ کو ختم کرو..
کیسے کرو….¿
استغفار پڑھا کرو…..
مگر تم نے ایسا کیوں کہا تمھارے دل میں کھوٹ کیسے ہو سکتا ہے….¿¿
نھی ویسے میں سوچ رہا تھا شائید….
ہممممم…….
یار اتنے تو نیک کام کرتا ہوں تمھارے کتنے بچوں کی فیسں کپڑے پتا نھی کیا کیا میں اپنی جیب سے کرتا ہوں….
ہاں بھت احسان کرتے ہو نیکی کرو اور جتا جتا کہ اثر ختم کر دو ارسہ آج اسکی طبیعت صاف کر نے کے موڈمیں تھی….
اچھا بس اب میں نھی بولوں گا….
معاف کر دو…..
ارسہ اندر فریال آی ہے ازان نے آواز دی تو وہ لوگ چپ کر گے اچھا میں آتی ہوں…
( ارسہ تمھارے چہرے کا جو اطمینان ہے نا دیکھنا کیسے ختم کرتا ہوں اتنا زلیل کروں گا منہ چھپانے کو جگہ نھی ملے گی نفرت اپبے جوبن پر تھی )
اسلام علیکم کیسی ہو فریال…¿
وعلیکم سلام ٹھیک ہوں تم سناو…¿
الحمداللہ…..
ارسہ میں نے اپنی گاڑی لے لی خوشی فریال کے چہرے سے عیاں تھیں…..
واہ بھی پھر تو بھت بھت مبارک ہو…..
تھینکیو….
چلو میں تمھیں لینے آی ہوں لانگ ڈرائیو پہ چلتے ہیں شاپنگ بھی کریں گئیں اور کھانا بھی باہر سے کھائیں گے…
اچھا چلو ٹھیک ہے پر اکیلے نھی جاتے نا سب کو لے کے جاتے ہیں……¿
نھی ابھی بس ہم دونوں بعد میں پھر باقی لوگوں کو لے کے چلیں گے…..
چلو ٹھیک ہے پر کچھ کھا پی تو لو…..¿
نی باہر سے ہی کھائیں گئیں میں نے آنٹی کو بتا دیا ہے تم اٹھو جلدی سے تیار ہو کے آجاو…..
اوکے…..
فریال آج دل کھول کے شاپنگ کر رہی تھی ارسہ چلو مجھے سب کے فیورٹ کلرز بتاو سب کے کیوں….¿
یار مجھے سب کے لیے گفٹس لینے ہیں….
پر کیوں ارسہ کو یہ بات ہضم نھی ہورہی تھی…
کیوں کہ مجھے سب نے گفٹس دیے ہیں تو اب میرا بھی دل چاہ رہا ہے چھوڑو تم چلو سب کے لیے لو وہ لوگ آج فرصت سے آے تھے اور ایک ایک چیز دھیان سے لے رہے تھے….
فریال کو ایک بلیک کلر کا کرتا نظر آیا تو اس کے ذہن میں آیان آیا اس پہ بھی کرتا کتنا سوٹ کرتا ہے اوہ ہو میں کیا سوچ رہی ہوں میں کیوں کچھ لوں گی اس کے لیے وہ آگے بڑھ گی مگر دھیان اسی کرتے میں تھا….
ایک لڑکا اسی کرتے کو دیکھ رہا تھا فریال نے اس کے ہاتھ سے پکڑ لیا میں یہ کرتا لے چکی ہوں پلیز آپ کوی اور لے لیں….
فریال…. ¿
کیا تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کچھ لینا ہے …¿
نھی رابعہ لوگوں کو میں ان کی مرضی کی شاپنگ کروا چکی ہوں….
اچھا ٹھیک ہے…..
شاپنگ کرتے کرتے انھیں شام ہو گی تھی ہلکا ہلکا اندھیرہ ہو رہا تھا….
اندھیرہ زیادہ ہی ہو گیا ہے ارسہ کو پریشانی ہوی اب ابھی گھر پہنچ جائیں گئیں…..
اوہ نو…..
کیا ہوا….¿
پتا نھی یار کار ایک دم رک گی ہے…..
اب کیا ہوگا….¿
بلکل سنسان جگہ اوپر سے اندھیرہ ارسہ رونے والی ہو گی…..
تم پریشان نا ہو ارسہ ابھی ٹھیک ہو جاے گی…..
میں گھر فون کروں…¿
ابھی نھی پہلے مجھے دیکھنے دو ہوا کیا ہے…
دونوں نیچے اتریں….9⁴
پاس ہی کسی گاڑی کے ٹائر چرچراے….
یاللہ مدد ارسہ کا دل دھک دھک کر رہا تھا….
ڈر تو فریال بھی گی تھی پر ہمت سے کھڑی تھی…..
تین لڑکے گاڑی سے باہر نکلے عجیب عجیب ہئیر سٹائلز کانوں میں بالیاں گلے میں بے شمار چینز یہ چور تو نھی لگ رہے کیا پتا مدد کرنے آئیں ہوں ارسہ نے اس کے کان میں سرگوشی کی….
فریال ایسے لوگوں کو بہت اچھی طرح جانتی تھی انکی آنکھوں کی غلاظت ان کے دل کا حال بیان کر رہی تھی….
ہیلو سوئیٹ ہارٹ….
ان لوگوں نے ارسہ کو پرے دھکیلا اور فریال کو تینوں نے گھیرا….
کیا بتمیزی ہے یہ ارسہ کو غصہ آیا ارے یار یہ ٹینٹ میں بھی پیس کمال کا لگ رہا ہے ارسہ کے عبایا پہ چوٹ کی….
اسے چھوڑو میرے ساتھ بات کرو جو بھی کرنی ہے فریال نے ارسہ کو اپنے پیچھے کیا….
بات کیا کرنی ہے پرنسز آپ دل کو اچھی لگی ہیں ساتھ چلیں…..
یو باسٹرڈ فریال نے رکھ کے تھپڑ اس کے منہ پہ لگایا وہ لڑکا تو لڑکھڑا کے نیچے گرا دوسرے نے غصے میں فریال کے بال پکڑے پہلے تیار ہو کے سامنے آتی ہو اور اگر کوی سہراے تو تکلیف ہوتی ہے تیرے تو کس بل آج سارے نکالتے ہیں فریال نے اپنے بال چھڑوانے کی کوشش کی تو تیسرے نے اسے کھینچ کے تھپڑ مارا…..
فریال نیچے گر گی….
ارسہ نے فریال کو اٹھایا فریال بھاگو وہ دونوں بھاگنے لگیں مگر وہ تینوں بھی پیچھے بھاگ رہے تھے…..
یاللہ مدد….
سر پہ پہنچ چکے تھے انھیں دھکا مارہ دونوں سڑک پہ گریں…..
اس سے پہلے کہ وہ ان کو ہاتھ لگاتے ڈنڈا باری باری ان کے سر پہ لگا….
آیان…….
بے بسی کی انتہاء تھی….
آیان نے اتنا مارہ انھیں کے لہو لہان کر دیا….. وہ لوگ گاڑی چھوڑ کے بھاگ چکے تھے….
ارسہ آیان کے گلے لگ کے رو رہی تھی میں پوچھ سکتا ہوں اس وقت تم اکیلی ادھر کیا کر رہی ہو….¿¿
مگر ارسہ سے کچھ بولا نا گیا چپ چاپ اس کی ڈانٹ سنتی رہی…..
اچھا اب چپ کرو رو مت…..
ارسہ کو گاڑی میں بٹھا کے وہ فریال کی طرف مڑا وہ ابھی تک روڈ پہ ہی بیٹھی ہوی تھی…..
بکھرے بال آنسوں سے تر چہرہ اور شرٹ پھٹ چکی تھی آیان کے دل کو کچھ ہوا اپنی جیکٹ اتار کے فریال کو پہنای اٹھو فریال…..
وہ کسی خیال سے چونکی تھی آیان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا….¿
اٹھو گھر چلیں….
آیان…. ¿
ہمممم¿
آیان میں بدکردار نھی ہوں وہ رو پڑی….
آیان حیران ہوا یہ کیا کہ رہی ہے….
اٹھو فریال….
فریال آکے گاڑی میں بیٹھ گی….
ارسہ ابھی تک سہمی ہوی تھی…..
آیان نے ایک شاپ سے پانی اور جوسز لا کے دیے ارسہ نے پانی سے منہ دھویا اور جوس بھی پیا….
فریال نے کسی چیز کو ہاتھ تک نا لگایا…..
ارسہ گڑیا گھر میں کسی کو بھی کچھ بھی بتانے کی ضرورت نھی ہے….
جی بھای….
خرم کو بھی نھی….
جی….
ورک شاپ پہ فون کر کے گاڑی بھیج دی فریال پورا رستہ چپ رہی تھی تھی پہلے اسے ڈراپ کیا پھر ارسہ کو…..
ازان اسرار کر کے آیان کو اندر لے گیا کل سنڈے ہے تو ادھر ہی رہ جاو خرم بھی آگیا تھا….
صبح تک ارسہ سب بھول بھال چکی تھی….
جن کے سر پہ انکے رکھوالے موجود ہوتے ہیں انھیں اپنی عزت کی خود حفاظت نھی کرنی پڑتی انکی چادر ان کے سر پہ رکھنے والے موجود رہتے ہیں انکی طرف کوی میلی نظر بھی نھی ڈال سکتا….
96
گاڑی ورک شاپ سے آگی تھی…..
فریال کا فون مسلسل آف جا رہا تھا
ارسہ سارے گفٹس اٹھا کے لے آی تھی….
اذان کو یہ بات اچھی نھی لگی یار ایسے اچھا نھی لگتا فریال کیا سوچے گی ہم اتنے ندیدے ہیں خودی گفٹس لے چکے ہیں اذان ٹھیک کہ رہا ہے حبہ اذان کی سدا کی حمائتی جو بھی کہ رہا ہےٹھیک کہ رہا ہے….
نھی اذان فریال نے مجھے خود کہا تھا کہ یہ آپ سب کو دوں
اچھا پھر ٹھیک ہے……
یہ اذان کا… یہ حبہ کے لیے خرم, فاطمہ امی اور…. اور یہ کرتا کس کا ہے….¿
یہ آیان کے لیے ہو گا خرم مسکرایا….
سیل فون میں بزی آیان کے کان کھڑے ہوئے…..
کیا…¿ کدھر…¿ دیکھاو ادھر
میں ابھی یہ کرتا پہن کے آتا ہوں….
آیان بھائی پوچھنے تو دیں میرے سامنے تو فریال نے آپکا ذکر تک نھی کیا….
مجھے پتا ہے یہ میرے لیے نھی ہے اسی لیے تو فوراء پہننے لگا ہوں….
کرتا واقعی آیان پہ بھت سوٹ کر رہا تھا….
اچھا مجھے گاڑی کی کیز دو میں فریال کو گاڑی واپس کر آوں…..
یہ لیں بھای….
بیسٹ آف لک اذان نے پیچھے سے ہانک لگای….
تھینکیو جگر…..
آیان کی فیلنگز اب سب پر ہی عیاں تھیں بس فریال ہی مسلسل انکاری تھی….
فریال کی گاڑی دیکھ کے چوکیدار نے فوراء دروازا کھولا……
فریال لان میں ہی گرل کے ساتھ ٹیک لگاے کھڑی تھی اردگرد سے بکل بیگانا اپنے ہی خیالوں میں کھوی ہوی تھی….
کپڑے چینج کیے ہوے تھے مگر جیکٹ ابھی تک وہی پہنی ہوی تھی….
فریال یہ آپ کی گاڑی کی کیز….
فریال یک دم چونکی….
کیز پکڑ لیں….
باے دا وے تھینکس فور دا لولی ‘ کرتا ‘
ہمممم فریال کچھ نا بولی…..
( یعنی میرے لیے ہی لیا تھا 🙂 )
چاے پانی تو آپ پوچھے گی نھی تو میں چلتا ہوں…..
آیان…..
وہ مڑا…
تھینکس
فور وٹ……¿
فور ایوری تھینگ
ہمممممم
آیان…..
اب کی بار وہ رکا تھا پر پلٹا نھی…..
میں آپ کی یہ جیکٹ لیں لوں….
جیکٹ وہ گھوم کے پلٹا یہ جیکٹ آپ کیا کریں گئیں……¿
پلیز….
اوکےرکھ لیں…..
——–
تین دن سےفریال مسلسل وہی جیکٹ پہن کے آرہی تھی….
سب حیران تھے اسے کیا ہوا ہے…..
جینٹس سٹف….. کچھ عجیب نھی لگ رہا….¿
مگر پہننےوالی کمفرٹیبل تھی سو جس نے جو کہنا تھا کہہ سکتا تھا…..
نن آف یور بزنس…..
ایک دو لڑکیوں کو تو کھری کھری سنا بھ دیں تھیں