پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

جو میرے لب پہ ہے شاید وہی صداقت ہے جو میرے دل میں …


جو میرے لب پہ ہے شاید وہی صداقت ہے
جو میرے دل میں ہے اس حرف رائیگاں پہ نہ جا
..
فہمیدہ ریاض کا یومِ پیدائش
(ولادت: 28 جولائی 1946ء- 21 نومبر 2018ء)
——
منتخب کلام
——
کس سے اب آرزوئے وصل کریں
اس خرابے میں کوئی مرد کہاں
——
میں بندہ و ناچار کہ سیراب نہ ہو پاؤں
اے ظاہر و موجود مرا جسم دعا ہے
——
تم اتنا ارزاں مت سمجھو ان آنکھوں سے بہتا پانی
ہر اشک مصر ، ہر آہ بضد ، یہ رات ہمیں منظور نہیں
…..
جب تک قائم ہے اپنا الم ، جب تک چھلنی ہے اپنا جگر
کتنی بھی بڑھے معیاد ستم ، تابندہ ہے امید سحر
…
جو میرے لب پہ ہے شاید وہی صداقت ہے
جو میرے دل میں ہے اس حرف رائیگاں پہ نہ جا
..
خود تو ساکت ہے مثالِ تصویر
جنبشِ غیر سے ہے رقصِ کناں
—–
ہاں اس کے تعاقب سے مرے دل میں ہے انکار
وہ شخص کسی کو نہ ملے گا نہ ملا ہے
—–
نقوش پاؤں کے لکھتے ہیں منزل نا یافت
مرا سفر تو ہے تحریر میری راہوں میں
—–
ہر لمس ہے جب تپش سے عاری
کس آنچ سے یوں پگھل رہی ہوں
—–
یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا
جو میرے لوحِ دل پر تو نے کبھی بنایا
…..
کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں
وہ شوخ رنگ بھی دھیمے پڑے ہواؤں میں
میں تیز گام چلی جا رہی تھی اس کی سمت
کشش عجیب تھی اس دشت کی صداؤں میں
وہ اک صدا جو فریب صدا سے بھی کم ہے
نہ ڈوب جائے کہیں تند رو ہواؤں میں
سکوت شام ہے اور میں ہوں گوش بر آواز
کہ ایک وعدے کا افسوں سا ہے فضاؤں میں
مری طرح یوں ہی گم کردہ راہ چھوڑے گی
تم اپنی بانہہ نہ دینا ہوا کی بانہوں میں
نقوش پاؤں کے لکھتے ہیں منزل نا یافت
مرا سفر تو ہے تحریر میری راہوں میں
——
یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا
جو میرے لوح دل پر تو نے کبھی بنایا
تھا دل جب اس پہ مائل تھا شوق سخت مشکل
ترغیب نے اسے بھی آسان کر دکھایا
اک گرد باد میں تو اوجھل ہوا نظر سے
اس دشت بے ثمر سے جز خاک کچھ نہ پایا
اے چوب خشک صحرا وہ باد شوق کیا تھی
میری طرح برہنہ جس نے تجھے بنایا
پھر ہم ہیں نیم شب ہے اندیشۂ عبث ہے
وہ واہمہ کہ جس سے تیرا یقین آیا
——
اب سو جاؤ
اور اپنے ہاتھوں کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
تم چاند سے ماتھے والے ہو
اور اچھی قسمت رکھتے ہو
بچے کی سو بھولی صورت
اب تک ضد کرنے کی عادت
کچھ کھوئی کھوئی سی یادیں
کچھ سینے میں چھبھتی یادیں
اب انہیں بھلا دو سو جاؤ
اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
سو جاؤ تم شہزادے ہو
اور کتنے ڈھیروں پیارے ہو
اچھا تو کوئی اور بھی تھی
اچھا پھر بات کہاں نکلی
کچھ اور بھی یادیں بچپن کی
کچھ اپنے گھر کے آنگن کی
سب بتلا دو پھر سو جاؤ
اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
یہ ٹھنڈی سانس ہواؤں کی
یہ جھلمل کرتی خاموشی
یہ ڈھلتی رات ستاروں کی
بیتے نہ کبھی تم سو جاؤ
اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
——
اس گلی کے ہر موڑ پر
اس گلی کے موڑ پر اک عزیز دوست نے
میرے اشک پونچھ کر
آج مجھ سے یہ کہا
یوں نہ دل جلاؤ تم
لوٹ مار کا ہے راج
جل رہا ہے کل سماج
یہ فضول راگنی
مجھ کو مت سناؤ تم
بورژوا سماج ہے
لوٹ مار چوریاں اس کا وصف خاص ہے
اس کو مت بھلاؤ تم
انقلاب آۓ گا
اس سے لو لگاؤ تم
ہو سکے تو آج کل کچھ مال بناؤ تم
کھائی سے نکلنے کی آرزو سے پیشتر
دیکھ لو ذرا جو ہے دوسری طرف ہے گڑھا
آج ہیں جو حکمراں ان سے بڑھ کے خوفناک ان کے سب رقیب ہیں
دندنا رہے ہیں جو لے کے پاتھ میں چھرا
شکر کا مقام ہے
میری مسخ لاش آپ کو کہیں ملی نہیں
اک گلی کے موڑ پر
میں نے پوچھا واقعی
سن کے مسکرا دیا کتنی دیر ہو گئی
لیجیۓ میں اب چلا اس کے بعد اب کیا ہوا
کھڑکھڑائیں ہڈیاں
اس گلی کے موڑ سے وہ کہیں چلا گیا
——
پچھتاوا
خداۓ ہر دوجہاں نے جب آدمی کو پہلے پہل سزا دی
بہشت سے جب اسے نکالا
تو اس کو بخشا گیا یہ ساتھی
یہ ایسا ساتھی ہے جو ہمیشہ ہی آدمی کے قریں رہا ہے
تمام ادوار چھان ڈالو
روایتوں میں حکایتوں میں
ازل سے تاریخ کہہ رہی ہے
کہ آدمی کی جبیں ہمیشہ ندامتوں سے عرق رہی ہے
وہ وقت جب سے کہ آدمی نے
خدا کی جنت میں شجر ممنوعہ چکھ لیا
اور
سرکشی کی
تبھی سے اس پھل کا یہ کسیلا ذائقہ
آدمی کے کام و دہن میں ہر پھر کے آ رہا ہے
مگر ندامت کے تلخ سے ذائقے سے پہلے گناہ کی بے پناہ لذت
………………….