بھگوڑا( قسط نمبر 32)
ریاض عاقب کوہلر
ماجے کیا ہو گیا ہے تمھیں؟….لزا کو یہاں لانے سے پہلے میں تمھیں یہ سب کچھ بتا چکا ہوں، اس وقت تو تُم نے اس قسم کی کوئی بات نہیں کی تھی۔“
”اس وقت بھی میں اس کے حق میں نہیں تھا، لیکن بعد میں غور کرنے پر تو یہ بات مجھے نہایت معیوب لگی۔“
”اس میں کون سی قباحت کی بات ہے۔ لزا کوئی باعصمت اور پردہ دار لڑکی تو ہے نہیں۔“
”یار!…. تم نے تو گنڈہ پوروں والی خو ہی بدل ڈالی ہے۔ چودھری کے غلیظ کتوں کے سامنے ایک لڑکی کو چارہ بنا کر پیش کر رہے ہو اور اس میں تمھیں قباحت نظر نہیں آرہی، تمھارے نقطہ نظر سے تو ہیرا منڈی کے سارے دلال بے قصور اور بر حق ہیں کیونکہ وہ بھی تو آبروباختہ عورتیں ہی گاہکوں کو پیش کرتے ہیں۔“
”بکواس بند کرو۔“ میں چڑگیا۔ ”تمھیں ہمیشہ الٹی سوجھتی ہے۔“
” یہ بکواس نہیں ہے۔ تم سوچوتو سہی آخر ہم کیا کرنے جارہے ہیں۔ اپنی دشمنی میں ایک بے قصور لڑکی استعمال کرنا کہاں کی بہادری ہے۔ اب ہم اتنے عاجز ہو گئے ہیں کہ چودھری کے خلاف عورتوں کا سہارا لیں گے۔ کبھی نہیں میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔“وہ اپنی بات پر ڈٹا رہا۔
”تو…. کیا کریں؟“
”کچھ بھی کرو…. لیکن اصولوں پر سودے بازی نہیں ہو گی۔ چودھری کو ہم نے ڈھونڈ نکالا ہے، اس کی نگرانی کرتے رہیں گے۔ کبھی تو ایسا موقع ہاتھ آئے گا جب اس پر ہاتھ ڈال سکیں۔“
”اور اگر اس سے پہلے وہ غائب ہو گیا پھر؟“
”ہونہہ …. ایسے ہی غائب ہو جائے گا، کوئی جن بھوت ہے کیا ؟….اور بالفرض ایسا ہو بھی گیا تو پھر ڈھونڈ لیں گے۔ پہلے بھی تو وہ ہم سے چھپ کر ادھر آیا ہوا ہے۔“
”مگر مجھ سے مزید صبر نہیں ہو سکتا۔ میں چاہتا ہوں جلد سے جلد اس کے گندے وجود سے دھرتی کو پاک کردوں۔“
”میں تم سے بھی زیادہ بے چین ہوں…. لیکن بے صبری میں کام بگاڑ نا نہیں چاہتا۔ یاد ہے ناچچا فاضل نے کیا کہا تھا کہ ”اوباہلی کتی اندھے کو نگرے جیندی ہیے۔“(جلد باز کتیا اندھے بچے پیدا کرتی ہے) امجد نے سرائیکی کی مشہور کہاوت بیان کی۔
”پھر لزا کاکیا کریں؟“
”کرنا کیا ہے۔ صبح اس کاشکریہ ادا کر کے رخصت کر دیتے ہیں اور میں اس سے نکاح پڑھانے سے تورہا۔ شہیلا بی بی کافی بے چینی سے میری منتظر ہو گی، البتہ تم چاہو تو شیتل کا بہتر نعم البدل ہے وہ بھی کافرہ ہے یہ بھی مسلمان نہیں ہے اور نشے بازی کی لت بونس میں۔“
”بک بک اچھی کر لیتے ہو۔“ میںخفت سے ہنسا۔ ”تُم نے شیتل کو دیکھا نہیں ورنہ ایسا کہنے کی جرا¿ت کبھی نہ کرتے۔ ہندو ہونے کے باوجود اس نے اپنی عصمت پر کبھی حرف نہیں آنے دیا۔“
”اس کی برائی کے لیے اس کا ہندو ہونا کافی ہے۔“
”بالکل غلط ہے۔“ میں نے نفی میں سرہلایا۔ ”تُو نے سنا نہیں کہ کسی کافر سے نہیں بلکہ اس کے کفر سے نفرت کرو۔“
اس نے قہقہہ لگایا۔”اور اگر وہ کافر کی بجائے کافرہ ہو تو اسے گلے سے لگانے میں بھی کوئی قباحت نہیں۔“
”اس فالتو گفتگو کے بجائے اگر چودھری اکبر پہ قابو پانے کے لیے کوئی پروگرام تشکیل دیائے تو مناسب نہیں ہو گا۔“ میں نے اس فضول بحث سے جان چھڑانے کی کوشش کی ۔
”درست کہا، لیکن اس سے بھی مناسب یہ ہے کہ میں سو رہا ہوں اور تم بہ طور مالک کوئی اچھا سا منصوبہ سوچو۔“ یہ کہہ کر وہ بڑے آرام سے لیٹ گیا ۔ میں نے بھی اس کی تقلید میں آنکھیں بند کر لیں، لیکن نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی لزا کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے کا پروگرام میں نے ترک کرنا مناسب سمجھا شاید امجد نہ ہوتاتو میری نظر اس پہلو کی طرف نہ جاتی۔ چودھری کی دشمنی میں مَیں ایسا کام کرنے جارہا تھا کہ جس کے نتائج غلط نکلنے کی صورت میں مجھے پچھتانے کا موقع بھی نہ ملتا اور ہو سکتا ہے میرا ضمیرساری عمر مجھے ملامت کرتا رہتا۔ چودھری کو زندہ پکڑنے کے لیے میں رات گئے تک مختلف منصوبے بنا بنا کر انھیں رد کرتا رہا اور آخر میں ملک جانان خان سے دوبارہ اس موضوع پر بات چیت کرنے کا پروگرام بنا کر مطمئن ہو گیا وہ جہاں دیدہ شخص لازمی طور پر کوئی مناسب قسم کا مشورہ دے سکتا تھا۔
l l l
صبح ہم بہ مشکل حوائج ضرور یہ سے فارغ ہوئے تھے کہ جانان خان کی طرف سے بلاوا آگیا۔
”خان جی ناشتے پر آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔“ ملازم ہمیں یہ بتا کرباہر نکل گیا۔
”جانان خان کی مہربانیاں کچھ زیادہ نہیں بڑھ رہی ہیں۔“ امجد ملازم کی پشتو سمجھ گیا تھا۔
”صحیح کہا۔“ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ ”کل سے میں بھی اس کے انداز میں واضح تبدیلی محسوس کر رہا ہوں اور اس کی وجہ شاید لزا ہے۔“
”کیا مطلب ہے؟“ امجد کے لہجے میں حیرانی تھی۔
” بار بار لزا کے متعلق استفسار کرنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اسے اس کی ذات سے کافی دلچسپی ہے۔“
”وہ تو خیر تمھیں بھی کافی ہے۔“ امجد مجھ پر چوٹ کرنے سے باز نہ آیا۔ اس دوران ہم جانان خان کے کمرے تک پہنچ گئے تھے اس لیے میں امجد کی بات کا جواب نہ دے سکا۔
جانان خان بے چینی سے ہمارا منتظر تھا۔ ہمارے سلام کا جواب خوش دلی سے دیتے ہوئے اس نے اٹھ کر ہم دونوں سے مصافحہ کیا اور ہمیں ساتھ لیے بیٹھ گیا۔
”عمر بھائی!…. رات کیسی گزری؟“
”اﷲ کا شکر ہے ملک صاحب…. بہت اچھی…. آپ سنائیں۔“
”اور امجد بھائی آپ کا۔“
”الحمد ﷲ…. دعا ہے آپ کی۔“
” عمر بھائی آپ کو ناشتے پر بلانے کا مقصد یہ ہے کہ ایک تو آپ چند دن کے مہمان ہیں۔ پھر چلے جائیں گے اور میں چاہتا ہوں آپ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارا جائے دوسرے ایک چھوٹی سی غرض بھی تھی میرا ارادہ تو گزشتہ رات ہی آپ کو یہ سب کچھ بتلانے کا تھا، مگر رات آپ تھکے ہوئے تھے اس لیے میں نے زحمت دینا مناسب نہ سمجھا۔ اب جو کچھ میں کہنے لگا ہوں آپ امجد بھائی کو بتا کر مشورہ کرلیں اور پھر مجھے دوپہر کے کھانے تک جواب دے دینا۔“
”ملک صاحب !….آپ حکم کریں ہمارے بس میں جو کچھ ہوا ہم ضرورکریں گے۔“
”لزا کو آپ صرف اسی کام کے سلسلے میں ہی لائے تھے نا؟ جس کا مشورہ میں نے دیا تھا۔“
”جی ہاں۔“ میں نہ سمجھنے والے انداز میں بولا۔
”اگر میں کہوں کہ لزا کو آپ اس مقصد کے لیے استعمال نہ کریں تو کیاآپ میری بات مان لیں گے۔“
”کیوں نہیں۔“ میں نے جلدی سے کہا۔ ”مگر اس کا نعم البدل کیا ہو گا…. ہمارے پاس آج کا دن ہے اور اتنے قلیل عرصے میں ہم کوئی ایسی لڑکی نہیں ڈھونڈ سکتے جو ہمارے ساتھ لزا کی طرح مخلص ہو۔“
لزاکے متعلق اس کی دلچسپی کل سے صاف نظر آرہی تھی اور اس کے تمہید باندھنے سے ہی مجھے انداز ہو گیا تھا کہ وہ کیا کہنے والا ہے۔ مگر میں اس کے منہ سے یہ سب کچھ سننا چاہ رہا تھا۔
”ضروری تو نہیں کہ اس کے لیے کوئی لڑکی استعمال کی جائے۔ لڑکی کے بغیر بھی یہ کام ہو سکتا ہے۔“
”کیسے؟….یہی تومیں جاننا چاہ رہا ہوں“ میں نے اس کی بات میں دلچسپی لی ۔
”کل شادی میں شرکت کی غرض سے چودھری لازماً جائے گا اور شادی کا ہنگامہ رات گئے ہی ختم ہو گا۔ دوسرے چودھری کا کھانا شادی والے گھر میں ہی ہو گا کیونکہ مجھے اور میرے آدمیوں کوبھی کھانے کا دعوت نامہ ملا ہوا ہے۔ کل شام کو جب چودھری شادی کی تقریب میں الجھا ہوگا اگرہم گاڑی میں کھانا لے کر چودھری کے گھر جائیں اور اس کے گھر میں موجود محافظوں کو یہ تاثر دیں کہ یہ کھانا شادی کے گھرسے آیا ہے اور اس دوران ان محافظوں کی نظر بچا کر آپ دونوں وہیں چھپ جاﺅ تو کیسا رہے گا؟“
اس کا منصوبہ سن کر میں حقیقتاً خوشی سے اچھل پڑا ….
”اگر یوں ہو جائے تو کیا کہنے۔“
”اس کا مطلب ہے آپ میری تجویز سے متفق ہیں۔“ وہ جیسے خوشی سے کھل اٹھا۔
”بالکل…. اس سے اچھی تجویز ہو ہی نہیں سکتی۔“
”یعنی لزا اس منصوبے سے خارج ہو گئی، اب اس کا کیا کرو گے؟“ اس نے لزا کے متعلق میری رائے جاننی چاہی۔ مگر میں نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی تھیں میں اس کی بات لوٹائی۔
”آپ ہی بتائیں اس کاکیا کرنا چاہےے؟۔“
چند لمحے سوچنے کے بعدوہ بولا۔”عمر بھائی حقیقت یہ ہے کہ لزا مجھے پسند آگئی ہے اور میں مستقل اسے اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں اور یہ تو آپ کو پتا ہی ہو گا کہ میں کتنی آسانی سے اس کی ضروریات کو پورا کر سکتا ہوں۔“
”ملک صاحب آپ کی بات بجا سہی مگر اس کا فیصلہ تو لزا خود کر سکتی ہے کہ آیا وہ آپ کے پاس رہنا چاہتی ہے یا نہیں رہنا چاہتی۔“
”اگر آپ مہربانی کریں تو اس سے یہ سب کچھ پوچھ کر مجھے بتلا سکتے ہیں کیونکہ میں انگریزی نہیں جانتا۔ دوسرے آپ اسے میرے ساتھ رہنے کے فوائد بھی صحیح طریقے سے سمجھا سکتے ہیں۔“
”اتنا تو خیر ہم کر دیں گے اور شاید وہ مان بھی جائے۔ مگر آپ کو یہ پتا ہونا چاہیے کہ ایک تو وہ نشے کی عادی ہے دوسرے اس کا ماضی بھی کوئی اتنا صاف نہیں ہے۔ آگے آپ کی مرضی۔“
”مجھے وہ اپنی ہر خامی سمیت قبول ہے۔“
”جیسے تمھاری مرضی…. لزا کو جاگنے دو ہم اس سے بات کر لیتے ہیں۔“
”امجد سے تو مشورہ کر لو۔“
”اسے چھوڑیںآپ ۔“
”چلو پھر لزا کے پاس چلتے ہیں شاید وہ جاگ گئی ہو۔“ جانان خان نے بے چینی سے پہلو بدلا۔
”نہیں فی الحال آپ رہنے دیں ہم اکیلے میںاس سے بات کر لیتے ہیں۔“
”یہ بھی ٹھیک ہے لیکن مجھے اس کے فیصلے سے جلدی آگاہ کرنا۔“اور میں سرہلاتا امجد کو ساتھ لیے باہر آگیا۔
”یہ کیا آپ لوگ مسلسل لزا کے پیچھے پڑے تھے۔“ کمرے سے نکل کر امجد مستفسر ہوا اور میں ہنستے ہوئے بولا
عشق نے غالب نکما کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
”کیا مطلب؟“ امجد کچھ نہ سمجھتے ہوئے بولا اور میں نے مختصراً اسے جانان خان سے ہونے والی گفتگو بتا دی۔
”ہاں یہ تجویز ٹھیک ہے۔“ وہ بھی جانان خان کے منصوبے سے متفق ہوگیا۔ ”کامیابی اور ناکامی تو اﷲ کے ہاتھ میں ہے مگر ہمارے ضمیر پر تو کوئی بوجھ نہیں پڑے گا ناں؟“
اور لزا کو جانان خان کے حوالے کر دینے کے بارے تمھاری کیا رائے ہے۔“
”اس بات کو لزا کی مرضی پر چھوڑ دو….ہم نے کوئی ٹھیکہ نہیں لیا بچھڑے ہوﺅں کو ملانے کا۔“اس دوران ہم لزا کے کمرے کے قریب پہنچ چکے تھے یوں تو جانان خان کی آرام گاہ سے اس کمرے کا فاصلہ اتنا زیادہ نہیں تھا مگرہم نہایت سُست روی سے چلتے ہوئے وہاں پہنچے تھے اس لیے میں نے امجد کو تمام تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے مستقبل کی منصوبہ بندی کرلی تھی۔
کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا، ہلکے سے دروازہ کھٹکھٹا کرہم اندر داخل ہوگئے امجد مجھ سے ایک قدم پیچھے تھا وہ تکیہ موڑ کر کمرے کے پیچھے رکھے دونوں ہاتھ گردن سے لپیٹے جانے کن خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی۔ ہمارے کمرے میں داخل ہوتے ہی وہ جلدی سے اٹھ کر میری جانب بڑھی۔
”جان تم کہاں تھے۔ دیکھو کتنی دیر سے تمھاری منتظر ہوں؟“
اس کی پیش قدمی سے ہی مجھے اس کے ارادے کا پتا چل گیا اور حفظ ماتقدم کے طور پر میں نے جلدی سے مصافحے کے لیے ہاتھ اس کی سمت بڑھا دیا۔ میری اس حرکت پر ایک لمحے کے لیے اس کے چہرے کا رنگ متغیر سا ہوا مگر پھر خود پر قابو پاتے ہوئے اس نے میرا ہاتھ تھام لیا۔
”رات کیسی گزری۔“ میں نے نارمل لہجے میں پوچھا۔
”بہت اچھی گزرتی اگر آپ میرے ساتھ ہی رہتے۔“ اس نے اپنا ہاتھ امجد کی طرف مصافحے کے لیے بڑھا دیا۔
میں اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا۔ ”بیٹھوتم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔“
”بولو۔“ وہ میرے ساتھ بیٹھ گئی۔
”لزا ہم تمھیں جس مقصد کے لیے لائے تھے وہ پورا ہو گیا ہے۔ اب آپ ہماری طرف سے فارغ ہیں اگر جانا چاہتی ہیں تو جا سکتی ہیں۔ البتہ جس بندے کی یہ حویلی ہے اس کی خواہش ہے کہ آپ اس کے ساتھ ہی رہیں وہ آپ کی تمام ضروریات کو پورا کرتا رہے گا ۔ ہم دونوں تو چونکہ خود اس کے مہمان ہیں اور شاید کل پرسوں تک یہاں سے چلے جائیں اس لیے آپ سے الوداع ہونے آئے ہیں۔ اگر ہمارے لائق کوئی خدمت ہو یا کسی چیز کی ضرورت ہو تو آپ بے تکلف بتا سکتی ہیں۔“
”حویلی کا مالک کون ہے؟“
”وہی …. جس نے کل ہمارے ساتھ بیٹھ کے کھانا کھایا تھا۔“
”آپ لوگوں نے کہاں جانا ہے اور اگر میں آپ کے ساتھ جانا چاہوں تو….؟“
”بہت مشکل ہے۔ کیونکہ ہم دشمن دار لوگ ہیں اور ہمارے ساتھ رہنے سے آپ کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔“
”مجھے پتا ہے آپ مجھ سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں۔“ وہ مایوسی سے بولی۔ ”بہ ہر حال میں کچھ عرصہ تک یہیں رہنا چاہوں گی اگر اس کا رویہ میرے ساتھ اچھا رہا تو ٹھیک ہے ورنہ یہ زمین کافی وسیع ہے۔“
”او کے پھر ہمیں اجازت دو۔“ میں کھڑا ہوگیا۔ ”ہم نے اب کسی کام سے جانا ہے۔“ امجد نے بھی میری تقلید کی تھی اس کے تاثرات ظاہر کر رہے تھے کہ وہ میری باتوں سے متفق ہے۔
لزا نے بے دلی سے ہمیں الوداع کہا وہ ہمارے انداز کو دیکھتے ہوئے سمجھ گئی تھی کہ ہم اس سے جان چھڑانا چاہ رہے ہیں۔
وہاں سے ہم سیدھے جانان خان کے پاس پہنچے جو بے چینی سے ہمارا منتظر تھا۔ اسے لزا کے اثبات کی خوش خبری سنا کرہم اپنے کمرے میں آگئے اور اپنے منصوبے کو آخری شکل دینے لگے۔
l l l
سرخ رنگ کی ڈبل کیبن درمیانی رفتار سے چودھری اکبر کے مکان کی طرف بڑھ رہی تھی۔ جاگیردار ڈرائیو کر رہا تھا اور اس کے ساتھ شمع گل بیٹھا ہوا تھا۔ ہم دونوں چہروں پر ڈھاٹے لپیٹے گاڑی کے کیبن بیٹھے تھے ۔ جبکہ عقبی حصے میں بھی دو ملازم سوار تھے ان کے ساتھ روٹیوں کا چھابہ اور تین دیگچے بھی پڑے ہوئے تھے چھابے پر بڑی سی چادر پڑی ہوئی تھی تاکہ روٹیاں گرد آلود نہ ہوں۔ تینوں دیگچوں میں نمکین ، میٹھے چاول اور دنبے کا روسٹ گوشت موجود تھا اور یہی مینو آج شادی والے گھر میں مہمانوں کو پیش کیا جانا تھا۔
گزشتہ رات ہم اکٹھے بیٹھ کر اس منصوبے پر تفصیلاً بحث کر چکے تھے۔ اس لیے ہر آدمی کو اپنا کام ازبر تھا۔
گاڑی چودھری کی حویلی کے سامنے رک گئی فرنٹ سیٹ پر جا گیردار کے ساتھ بیٹھے ہوئے شمع گل نے گاڑی سے باہر آ کر گیٹ کھٹکھٹانے کے لیے قدم بڑھائے مگر اس سے پہلے دروازے کی چھوٹی کھڑ کی کھلی اور ایک پہلوان نما شخص بر آمد ہوا اسے دیکھتے ہی میں نے پہچان لیا۔ یہ وہی موصوف تھا کہ جس وقت سب سے پہلے چودھری اکبر سے میری ہاتھا پائی ہوئی تھی تو یہ اس کے ساتھ موجود تھا اس کے علاوہ ایک اور پہلوان بھی اس وقت چودھری کے ساتھ تھا اور ان دونوں کو میں نے مار مار کر لمبا کر دیا تھا اور اسی خدشے سے کہ ان کا سامنانہ ہو جائے میں نے اورامجد نے اپنے چہروں کے گرد کپڑے لپیٹے ہوئے تھے۔
پروگرام کے مطابق شمع گل اس سے مستفسر ہوا۔
”گھر میں کتنے آدمی موجود ہو۔ ہم کھانا لے کر آئے ہیں۔“
پہلوان نے حیرانی سے پوچھا۔”کہاں سے؟“
”امجد خان کے گھر سے ۔ اس نے حکم دیا ہے کہ جو لوگ بارات میں کسی مجبوری کے باعث شرکت نہیں کر سکے ہیں ان کے گھروں تک کھانا پہنچایا جائے۔ اب جلدی سے بتاﺅ کہ یہاں کتنے افراد ہیں ہم نے اور جگہوں پر بھی جانا ہے۔“
”یہاں تو ہم دو آدمی موجود ہیں۔“
”دوسرا کدھر ہے۔“ شمع خان کے اچانک سوال پہ پہلوان بے ساختہ بولا۔
”وہ پچھلے مورچے میں کھڑا ہے۔“
”اچھا آپ برتن لے آئیں۔ لیکن خیال رہے میٹھے چاول، نمکین چاول اور روسٹ کے لیے علاحدہ علاحدہ برتن لانے ہیں۔“
پہلوان سرہلاتے ہوئے واپس مڑ گیا، تھوڑی دیر بعد ہی وہ تین مختلف برتن اور روٹیوںکے چھابے کے ساتھ لوٹ آیا۔گاڑی میں پیچھے بیٹھے ہوئے دونوں ملازموں نے جلدی جلدی اس کے برتن چاولوں اور روسٹ وغیرہ سے بھر دیئے۔
شمع گل نے ان دونوں ملازموں کوکہا۔ ”یہ کھانا بھائی صاحب کے ساتھ گھر کے اندر تک چھوڑ آﺅ کیونکہ تمام برتن اکیلے لے جانااس کے لیے مشکل ہو جائے گا۔“
اور چونکہ یہ سب کچھ پہلے سے طے تھا اس لیے وہ بغیر کسی حجت کے ”جی اچھا“ کہہ کر گاڑی سے اترے اور پہلوان کے ساتھ چل پڑے۔ پہلوان رسماً بھی انکارنہ کر سکا۔ ان کے حویلی میں داخل ہوتے ہی ہم دونوں پھرتی سے گاڑی سے باہر آئے اور جاگیر دار کی سمت الوداعی ہاتھ ہلا کر دروازے کی جانب بڑھ گئے۔ حویلی کے اندر گھس کر ہم نے سامنے نگاہ دوڑائی پہلوان ہمیں ایک چھوٹے سے کمرے کی طرف بڑھتا دکھائی دیا جو شایدان کا کچن تھا۔ اگر ہم دوڑ کر اصل عمارت میں چھپنے کی کوشش کرتے تب بھی عمارت تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ کیونکہ پہلوان کچن کے دروازے تک پہنچنے والا تھا اور اس کے علاوہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ دوڑنے سے ہمارے پاﺅں سے ہونے والی آہٹ سن کروہ پیچھے مڑ کر دیکھتا اور ہمارا سارا پلان فیل ہو جاتا اور ہمارے وہاں چھپنے کے لیے کوئی گنجائش بھی باقی نہ رہتی۔ ہم بجلی کی سی سرعت سے ایک فیصلے پر پہنچے اور گیٹ کے ساتھ موجود چھوٹے سے کمرے میں گھس گئے۔ یہ کمرہ چوکیدار کے لیے بنایا گیا تھالیکن عام کمرے کے برعکس یہ اونچا تھا اس کے دو پورشن اوپر نیچے بنائے گئے تھے گویا اندر سے یہ دو منزلہ تھا۔ اوپر والے پورشن پر چڑھنے کے لیے لکڑی کی ایک سیڑھی لگائی گئی تھی۔ نیچے ایک چارپائی پڑی تھی جس پر کھجور کے پتوں سے بنی ایک چٹائی بچھی ہوئی تھی اور ایک میلی سی چادر بھی پڑی ہوئی تھی۔ اس مختصر سے کمرے میں ہمیں کوئی ایسی جگہ نظر نہ آئی جہاں ہم کمرے میں گھسنے والے کسی شخص کی نگاہ سے چھپ سکتے۔ اوپر والا پورشن بھی اس لحاظ سے موزوں نہیں تھا۔ کمرے میں گھسنے والے نے لازماً ڈیوٹی کے لیے اوپر چڑھناتھا ۔ لے دے کے دروازے کے کواڑ تھے جن کے پیچھے خود کو چھپانے کی کوشش کی جا سکتی تھی مگروہ کوشش بھی اس صورت میں کامیاب ہوتی کہ کمرے میں داخل ہونے والا بغیر دائیں بائیں غور کیے دوسری منزل پر چڑھ جاتا۔ اگر چارپائی کے اوپر ایسی چادر بچھی ہوتی جس کی وجہ سے کمرے میں داخل ہونے والے کو اس کے نیچے چھپا ہوا بندہ نظر نہ آ سکتا تو وہ ایک بہترین جگہ تھی لیکن بدقسمتی سے اس کے اوپر چٹائی بچھی تھی اور اس کے نیچے چھپنے والا بغیر کسی تردد کے نظر آسکتا تھا۔
میں نے دروازے کی درز سے جھانکا جانان خان کے دونوں ملازم پہلوان سے الوداعی مصافحہ کر کے رخصت ہو رہے تھے۔ ان کے دروازے سے باہر نکلنے تک پہلوان صحن میں کھڑا رہا۔ اس کے بعد یقینی طور پر اس نے اپنی ڈیوٹی پر پہنچنا تھا، گو اس پر قابو پانا ہمارے لیے کوئی مشکل نہیں تھا مگر اس صورت میںہمارا پلان فیل ہو جاتا اور چودھری اپنے ملازموں کی غیر موجودی سے بدک بھی سکتا تھا۔
لیکن اس دن شاید ہماری قسمت عروج پر تھی کہ جونھی گاڑی کے سٹارٹ ہو کر چلنے کی آواز آئی پہلوان نے گیٹ میں موجود کھڑکی کی کنڈی اندر سے لگائی اور عمارت کے عقبی حصے کی جانب چل پڑا ۔
وہ جیسے ہی میری نگاہ سے اوجھل ہوا میں نے آہستگی سے دروازے کا کواڑ کھول کر باہر جھانکا وہ حویلی کی پشت کی جانب مڑتا دکھائی دیا، میرے اندازے میں وہ اپنے ساتھی کو کھانے کی اطلاع دینے جارہا تھا۔ یہ چند لمحے ہمارے لیے غنیمت تھے ورنہ بعد میں ہم چوہے کی طرح اس کمرے میں پھنس جاتے۔
”امجد چلو۔“ اس کے عمارت کے پیچھے غائب ہوتے ہی میں نے تیز لہجے میں کہا اور ہم دونوں تیزی سے اندرونی عمارت کی طرف بڑھے۔ ہماری حتی الوسع کوشش یہی تھی کہ ہمارے پاﺅں کی آواز نہ نکلے اور ہم اپنی اس کوشش میں کامیاب بھی رہے۔ ہم اندرونی عمارت کے قریب پہنچنے والے تھے کہ میرے کانوں میں پہلوان کی آواز آئی جو ساتھی کو کھانے کے لیے بلا رہا تھا۔ اس نے شاید مورچے کے اوپر چڑھنے کی زحمت گوارانھیں کی تھی کہ اس کی زور دار آواز ہمارے کانوں تک پہنچ رہی تھی حویلی کا طرزتعمیر مقامی تھا۔ چھوٹا سا برآمدہ عبورکر کے ہم اندر داخل ہوئے، ایک مختصرسی گیلری تھی جس کے دونوں جانب اور سامنے کی طرف کمروں کے دروازے نظر آرہے تھے۔ مجھے پتا تھا کہ ان کے سامنے والے کمروں کے ساتھ ملحق اور بھی بہت سارے کمرے موجود ہوں گے کیونکہ مقامی لوگ کمرہ در کمرہ تعمیر کے عادی تھے۔ اس کی وجہ شاید اس سردی کی شدت کو کم کرنا ہو جو اس علاقے میں ریکارڈ پڑتی ہے۔
”اس منحوس کا کمرہ کون سا ہو سکتا ہے؟“ امجد نے برآمدے کے مین دروازے کے کواڑ بند کر دئےے۔
”جو کمرہ سب سے زیادہ پُر تعیش اور سجا ہوا ہو گا وہی اس کا ہو گا…. آخر چودھری ہے“۔ میںنے جیب سے پنسل ٹارچ نکال کر آگے بڑھ گیا۔ گو جس وقت ہم اندر داخل ہوئے تھے اس وقت ابھی تک سورج غروب نہیں ہوا تھا مگر عمارت کے اندر روشنی کا کوئی خاطرہ خواہ بندوبست نہیں کیا گیا تھا اس لیے گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔برآمدے کے مین دروازے کے ساتھ دوکھڑکیاں موجود تھیں جو بند تھیں ان کو کھولنے سے گیلری میں خاطر خواہ روشنی پھیل سکتی تھی مگرہم اس قسم کا کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے۔
تھوڑی دیر اندرونی عمارت میں گھومنے کے بعد ہی ہم نے چودھری کی خواب گاہ تلاش کرلی تھی لکڑی کا جہازی سائز بیڈ اور فرش پر بچھا ہوا ایرانی قالین دیکھتے ہی ہمیں یقین ہو گیاکہ وہ چودھری کی خواب گاہ تھی۔ وہاں چھپنے کے لیے سب سے بہترین جگہ بیڈ لگا، ہم اس کے نیچے گھس کر آرام سے لیٹ گئے تھے۔
”یہاں تک تو ڈن ہو گیا اب آگے کیا کرنا ہے؟“ امجد چارپائی کے نیچے لیٹتے ہی پوچھا۔
”ماجے اس کتے کے ساتھ جتنے بندے موجود ہیں یہ رحمن خیل کے ہیں اور میرے گھر کو جلانے میں یہ بھی برابر کے شریک ہیں ۔چودھری کو گرفتار کرنے کے بعد ان میں سے ایک بھی نہیں بچنا چاہےے“ ۔
”میرخیال ہے ایک ادھ ہی پہرہ دیتا ہو گاباقی سو جاتے ہوں گے، کیونکہ چودھری کو یہاں کسی سے خطرہ نہیں ہے ۔“
” کوئی بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی ….ہو سکتا ہے تمام سو جاتے ہوں یہ بھی ممکن ہے تین چار آدمی بیک وقت جاگتے ہوں۔“
” ایک دفعہ چودھری پر قابو پالیں پھر دیکھا جائے گا۔“ امجد نے کہا اور ہم دونوں نے خاموشی سادھ لی۔ وقت تھم سا گیا تھا۔ سکینڈوں والی سوائی کی حرکت بھی اتنی سُست ہو گئی تھی گویا کوئی چیز اسے حرکت سے روک رہی ہو۔ میرا دماغ اس وقت عجیب و غریب خیالات کی آما جگاہ بنا ہواتھا۔ وہ وقت قریب آگیا تھا جس کا میں کافی عرصے سے منتظر تھا اپنے پیاروں کی صورتیںمیری میری نگاہوں میں گھومنے لگیں، سعدیہ ، عدنان، امی ابو، حاکم ، احمد، محمد جان، بھابی بھتیجے تمام کے ہنستے مسکراتے چہرے میری آنکھوںمیں پانی بھرتے گئے میں ان میں کسی کو بھی چودھری کے ظلم سے نہیں بچا سکا تھا، لیکن چودھری کو عبرت ناک انجام سے دو چار کر کے میں اپنے دکھتے ہوئے زخموں پر مرہم رکھ سکتا تھا۔
ہمیں اس بیڈ کے نیچے بہت سا وقت گزارنا پڑا وہ رات میری زندگی کی طویل ترین رات تھی اور پھر خدا خدا کر کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں چودھری کے کمرے سے باہر ہمیںبہت سے بندوں کی ملی جلی آوازیں سنائی دیں ہم نے بے ساختہ چھو کرایک دوسرے کے جاگنے کو یقینی بنایا۔
دروازہ کھلا اور چودھری کی منحوس آواز میرے کانوں میں پڑی۔
”شادی خان ….کرم شاہ کو بولو جرنیٹر جلدی آن کرے۔“
”جی چودھری صاحب۔“ ایک دوسرے بندے کی آواز آئی مگر اس کے جانے سے پہلے جرنیٹر سٹارٹ ہونے کی ہلکی سی گڑگڑاہٹ سنائی دی اور کمرے میں ٹیوب لائیٹ کی دودھیا روشنی پھیل گئی۔ چارپائی کے نیچے سے مجھے چودھری کے جوتے نظر آرہے تھے۔ وہ آہستہ قدموں سے چلتا ہوا آیا اور چارپائی پر بیٹھ گیا۔
”تم لوگ آرام کرو صبح جنگل خیل مال لے کر جانا ہے۔ شادی خان ۔ کرم شاہ اور میر علی تینوں صبح سویرے نکل جانا۔ مجھے جگانے کی ضرورت نہیں۔“
”کتنا مال لے جائیں؟“ شادی خان مستفسر ہوا۔
”ان کی ڈیمانڈ کتنی تھی؟“
”دس کلو۔“
”15کلو لے جانا۔ شاید زیادہ ضرورت پڑ جائے۔“
”ٹھیک ہے چودھری صاحب۔“ اس مرتبہ بھی شادی خان بولا شاید وہ کوئی منشی ٹائپ چیز تھا۔ ”اور کچھ؟“
”نہیں شکریہ۔ آپ لوگ آرام کریں۔“ اور تمام بندے سلام کہتے ہوئے چودھری کے کمرے سے نکل گئے۔
ان کے جانے کے بعد چند لمحے چودھری اپنی جگہ پر بیٹھا رہااور پھر اٹھ کر کمرے کا درازہ اندر سے بند کرکے باتھ روم میں گھس گیا۔ اس دوران ہم چپ چاپ خاموشی سے لیٹے رہے۔ یوں بھی اس قسم کی سچوئیشن میں ہم بغیر بولے ایک دوسرے کے ارادے کو سمجھ لیتے تھے۔ باتھ روم سے باہر آ کر وہ بیڈ کے نزدیک آیا اور جھک کر کوئی چیز اٹھانے لگا اور پھر ہلکی سے کھنکھناہٹ سن کر میں نے اندازہ لگایاکہ وہ چابیاں تھیں۔ چابیاں اٹھا کر وہ مڑا اس کے قدم مجھے بیڈ کی پائنتی کی طرف بڑھتے نظر آئے میں نے بیڈ کے نیچے سے سر نکال کر دیکھا وہ دیوار کے ساتھ لٹکی ایک بڑی سی تصویر کو اتارکر نیچے رکھ رہا تھا۔ تصویر کے پیچھے ایک سیف کا دروازہ نظر آرہا تھا۔ اسی طرح کا سیف میں نے بکنگ کلرک کے گھر بھی دیکھا تھاجو بعد میں میرے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ میں چارپائی کے نیچے سے نکل آیا، امجد نے بھی میری تقلید کی تھی، چودھری سیف کا دروازہ کھول کر اس میں منہمک تھا۔
”چودھری!“ میں نے آہستہ سے پکارا۔
وہ بدک کر پیچھے مڑا۔ ”ت ….تت…. تم…. تم…. عم…. عمر۔“اس آنکھیں حیرت و خوف کے ملے جلے تاثرات سے پھیل گئیں تھیں ۔
”بڑی تیز یادداشت ہے چودھری….میں تو سمجھ رہا تھا تُومجھے بھول گیا ہوگا؟“
اس نے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے چور نظروں سے دروازے کی جانب دیکھا مگر اس کے دیکھنے سے پہلے امجد آہستہ قدموں سے دروازے کی طرف چل پڑا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس نے کیا کرنا تھا۔
”عمر جان۔ مم میں تمھارے ساتھ سس سودا کرنا چاہتا ہوں۔ یہ پیسے لے لو۔“ اس نے سیف کی طرف اشارہ کیا۔ ”اس کے علاوہ میرے اکاﺅنٹ میں کافی رقم موجود ہے۔ تمام تمھارے حوالے کر دوں گا۔“
”چودھری رقم تو نہیں البتہ دوسری شرط پر سودا ہو سکتا ہے۔“
”کک…. کون سی۔“وہ ہکلایا۔” مجھے تمھاری تمام شرائط منظور ہیں۔“
”بڑی آسان سی شرط ہے…. میرے گھر والے واپس کرو۔“
”عمر جان کک کوئی مم…. ممکن شرط بتلاﺅ۔“
”بتا دوں گا۔“ میں سرد لہجے میں بولا اور دوسرے لمحے میرا بایاں مکہ پوری قوت سے اس کی کنپٹی پہ لگا وہ اچھل کر سیف کے دروازے سے ٹکراتے ہوئے نیچے گر پڑا۔ اس کے منہ سے ایک بلند کراہ خارج ہوئی تھی مگر اس کے بعد وہ بے حس و حرکت ہو گیا۔
”ماجے !….اسے باندھنے کے لےے کوئی رسی دیکھو ۔“ میں اس کے متعلق کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔ حالانکہ مجھے امید تھی کہ وہ گھنٹے دو گھنٹے کے لیے بے ہوش ہو گیا تھا۔
”سلنگ سے باندھ لیتے ہیں۔“ وہ اپنی کلاش کوف سے سلنگ نکالنے لگا۔
”نہیں بستر کی چادر سے پٹیاں پھاڑ لو۔“ اور وہ سر ہلاتا ہوا بیڈ کی طرف بڑھ گیا۔ بیڈ کی چادر سے اس نے خنجر کی مدد سے دو پٹیاں لمبائی کے رخ پھاڑیں اور ان سے چودھری کے ہاتھ پاﺅں مضبوطی سے باندھ دیئے۔
”اس کے منہ پر بھی پٹی باندھ دو۔“ میں نے چادر سے مزید ایک پٹی پھاڑ کر امجد کی جانب بڑھائی ، اس نے سر ہلاتے ہوئے پٹی لے کر اس کے منہ پر باندھ دی۔
” تم اس کا خیال رکھو۔ میں ذرا باہر والے سور ماﺅں سے نمٹ لوں۔“
”نہیں….“اس نے نفی میں سرہلایا۔ ” یہ ادھر محفوظ ہے دونوں چلتے ہیں۔ تمھارا اکیلا جانا مناسب نہیں۔ البتہ اسے بیڈ کے نیچے چھپا دیتے ہیں۔“
اس نے چودھری کو بیڈ کے نیچے گھسیٹر دیا۔ایک لمحے کے لیے سوچ کر میں اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کمرے کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ کنڈی کھول کر میں نے احتیاط سے باہر جھانکا ، کوئی بھی نظر نہ آیا دوسرے کمرے کو عبور کر کے ہم گیلری میں آگئے گیلری خالی پڑی تھی اور اس میں ایک ٹیوب لائیٹ جل رہی تھی۔ برآمدے والا دروازہ اور کھڑکیاں بند تھیں اس لیے ہمارے باہر سے دیکھے جانے کا خطرہ موجود نہیں تھا البتہ گیلری کے ساتھ موجود کمروں سے کوئی باہر جھانکتا تو ہم آسانی سے نظر آجاتے۔
”پہلے کمرے یا باہر ۔“ امجد دھیمی آواز میں مستفسر ہوا ۔
”تم کمرے سنبھالو…. میں باہر جاتا ہوں۔“
”اس سے بہتر یہ ہو گا کہ تم برآمدے کے دروازے کے ساتھ چھپ کر مجھے پروٹیکشن مہیا کرو اور میں کوشش کرتاہوں کہ بغیر شور شرابے کے انھیں مردار کردوں، لیکن اس کے برعکس ہونے کی صورت میں تم اندر باہر دونوں سائیڈ وں کو با آسانی کور کر لو گے۔“
مجھے اس کی تجویرمناسب لگی اور میں اثبات میں سرہلاتے ہوئے برآمدے کے دروازے کی جانب بڑھ گیا۔
دروازے کے ساتھ میں اس طرح چھپ کر کھڑا ہو گیا کہ اندر باہر دونوں طرف نظر ڈال سکوں، امجد نے میری پوزیشن دیکھ کر اطمینان بھرے انداز میں سر ہلایا اور دبے قدموں نزدیکی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ دروازے پر آہستہ سے دباﺅ ڈال کر اس نے میری جانب دروازے کے بند ہونے کا اشارہ کیا اور دستک دینے کی اجازت مانگی۔
میں اثبات میں سر ہلانے ہی والا تھا کہ بجلی کی سی سرعت سے ایک سوچ میرے دماغ میں ابھری اور میں نے اشارے سے اسے روک کر اس کی جانب قدم بڑھائے۔ وہ بھی میری طرف چل پڑا۔
” کیا بات ہے؟“
” اندر سے کچھ پوچھاگیا تو تمھارے لیے پشتو میں جواب دینا مشکل ہو گا اس لیے تم میری جگہ چلے جاﺅ اوریہ کام مجھ پہ چھوڑ دو۔“
امجد سر ہلاتا ہوا برآمدے والے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔اس کے پوزیشن میں ہوتے ہی میں نے دروازے کو ہلکے سے کھٹکھٹا یا۔
”سہ چل دے ھلکہ؟“(کیا بات ہے لڑکے)کمرے میں موجود آدمی نے چارپائی سے اٹھنے کی زحمت گوارہ نہیں کی تھی(پشتو میں ھلک لڑکے کو کہتے ہیں مگر اکثر لوگ اسے بطور تکیہ کلام بھی استعمال کرتے ہیں اور ایسے آدمی بعض دفعہ تو اپنے سے بڑی عمر والے کو بھی لڑکا کہہ دیتے ہیں۔ اس وقت بھی کمرے میں موجودآدمی نے اسی معنی میں مجھے لڑکا کہا تھا)
”ور خوکو لاﺅ کہ“(دروازہ تو کھولو) میں نے اپنی آواز پہلوان کی طرح بھاری اور کرخت بنانے کی کوشش کی لیکن اس میں مجھے کوئی خاص کامیابی نہ ہوئی ،خوش قسمتی سے اندرموجود آدمی بغیر میری آواز پر توجہ دیئے کسی اورکو مخاطب ہوا۔
”ھلکہ نور تاج ور کولاﺅ کہ“(اولڑکے نور تاج اٹھو دروازہ کھولو)
”اس کا مطلب ہے کمرے میں کم از کم دو آدمی تو لازماً موجود ہیں۔“ میرے دماغ میں سوچ ابھری مگر مزید کچھ سوچنے سے پہلے دروازے کے اندرونی جانب پاﺅں کی آہٹ ابھری اور میں ہمہ تن گوش دروازے کی جانب متوجہ ہو گیا۔ کنڈی کھلنے کی آواز سنتے ہی میں دروازے کے سامنے سے ہٹ گیا تاکہ دروازہ کھلتے ہی اس کی نظر مجھ پہ نہ پڑے اور میری تدبیر کارگررہی دروازہ کھولنے والے کو جب کوئی سامنے نظر نہ آیا تو وہ بڑبڑاتے ہوئے باہر نکلا میںاس کے استقبال کے لیے تیار تھا ، کلاشن کوف میں نے دیوار کے ساتھ کھڑی کر دی تھی کیونکہ میں چاہتا تھا کہ حتی الوسع فائر کی نوبت نہ آئے۔
وہ قریباً میرا ہم عمر ہی تھا مجھے دیکھ کر اس کا منہ حیرت سے کھلا مگر چیل کی طرح اس پر جھپٹتے ہوئے میں نے ایک ہاتھ اس کے منہ پر اس طرح رکھا کہ آواز اس کے گلے ہی میں گھٹ گئی۔ دوسرا بازو اس کے گلے میں ڈالتے ہوئے میں نے بھر پور جھٹکا دیا اور کھٹک کی آواز سے اس کا منکا ٹوٹ گیاتھا۔ اس کے تڑپتے جسم کو آہستہ سے زمین پر لٹا کر میں تیزی سے کمرے میں گھس گیا اندر ہلکی پاور کا بلب روشن تھا۔ اس روشنی میں ایک بندہ ہلکی چادر اوڑھے چارپائی پر لیٹا نظر آیا دوسری چارپائی خالی پڑی تھی ،اس پر سونے والا ہمیشہ کے لیے سو گیا تھا۔
میں نے سونے والے کی چادر کھینچ کر اتاری۔
”کک….کیا…. ہے۔“وہ گڑبڑاتے ہوئے اٹھ بیٹھا۔
”بات یہ ہے مسٹر کہ عمر جان گنڈہ پور ولد ہاشم جان گنڈہ پور اپنا بدلہ لینے پہنچ گیا ہے۔“ اسے سفرِ آخرت پرروانہ کرنے سے پہلے میں نے اسے اپنا تعارف کرانا ضروری سمجھا۔
”عم….مر….تت تم…. مم میں…. یہاں“ اس سے کوئی بات نہ بن پڑی۔ مگر میرے پاس اس سے ڈائیلاگ بازی کا وقت نہیں تھا اور اس کی گردن توڑتے ہوئے اسے بھی میں نے ساتھی کے پاس پہنچا دیا۔ گیلری میں پڑے بندے کو اندر گھسیٹ کر میں دروازے کو بند کر کے باہر نکل آیا۔
دیوار کے ساتھ کھڑی کلاشن کوف اٹھا کر میں نے امجد کو دوانگلیاں کھڑی کر کے بتلا دیا کہ کمرے میں صرف دوآدمی تھے۔ اگلا دروازہ مجھے کھلا ہوا ملا۔کواڑ کو آہستہ سے دھکیلتے ہوئے میں نے اندر جھانکا مگر اندر گھپ اندھیرا تھا۔ جیب سے پنسل ٹارچ نکال کر جلائی ۔اس کی باریک روشنی میں مجھے کمرہ خالی نظر آیا۔اس کے بعد والا کمرہ بھی مجھے خالی ملا اس کمرے کے اندر دو مزید اندرونی کمرے بنے ہوئے تھے۔ اندرونی کمرے میں چارپائیوں پربستر تو بچھے ہوئے تھے مگر سونے والا کوئی نہیں تھا۔ اب گیلری کی اس لائن میں آخری کمرہ رہ گیا تھا۔ البتہ مخالف سمت کے کمرے میں اب تک نہیں دیکھ سکا تھا۔
آخری کمرے میں جھانکنے پر بھی مجھے خالی کمرہ ہی نظر آیا البتہ اس کمرے کے ساتھ موجود اندرونی کمرے میں مجھے بند دروازے کی درزوں سے روشنی نکلتی ہوئی نظر آئی۔ میں دبے قدموں اس جانب بڑھ گیا۔ دروازے کی کھلی درزوں سے جھانکنے پر اندر چار آدمی تاش کے پتے پکڑے خاموشی سے اس میں منہک نظر آئے۔ ان کے انداز سے مجھے پتا چل گیا کہ وہ جوا کھیل رہے ہیں۔ ورنہ گپ شپ کی گیم میں ان کے درمیان ہلڑ بازی مچی ہوتی۔
میں نے دروازے پر آہستہ سے دباﺅ ڈالا اور یہ محسوس کرتے ہی کہ دروازہ کھلا ہے میں ایک جھٹکے سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا۔ اس خاموش ماحول میں دروازہ کھلنے کی آواز کسی دھماکے سے کم نہ تھی۔ چاروں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا۔
”کون ہو تم؟“ سوال پوچھنے والے کی آواز سے میں پہچان گیا۔ وہ شادی خان تھا۔
”نہیں پہچانا۔“
”تم عمر جان ہو نا؟“ اس مرتبہ کرم شاہ پہلوان بولا۔
”صحیح پہچانا…. میں ہی وہ بدنصیب عمر جان ہوں جسے تم لوگوں کے ظلم نے کہیں کا نہ رکھا۔“
”مم مگرہم نے کیا کیا ہے۔ تمھاری دشمنی تو چودھری صاحب کے ساتھ تھی ہم تو اس کے ملازم ہیں۔“ میرے لہجے میں ابلتے ہوئے غم و غصے کی شدت نے پہلوان کو لرزا دیا تھا۔
”افسوس صرف اس بات کا ہے کہ میرے پاس تمھیں تڑپا تڑپا کر مارنے کا وقت نہیں ہے۔ خیر تمھاری قسمت۔“یہ کہتے ہی میں نے سیفٹی لیور کو برسٹ پر سیٹ کرکے ٹریگر پریس کر دیا۔ ”تڑڑڑ“ کی آواز میں ان کی کرب ناک چیخیں گونجیں اور وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگے۔ میں چند لمحے وہیں پر کھڑا ان کے تڑپنے کا نظارا کرتا رہا۔ انھیں مارتے ہوئے مجھے عجیب سی تسکین محسوس ہوئی تھی۔ یوں لگا جسے کسی سختی سے مطالبہ کرنے والے قرض خواہ کو میں نے اس کے قرض کی ادائی کر دی ہو۔ میری محویت فائرنگ کی آواز سے ٹوٹی۔میں جلدی سے باہر نکلا میرے اندازے کے مطابق فائر کرنے والا امجد تھا۔ باہر نکلنے پر اس کی تصدیق بھی ہو گئی۔
”جانو صاحب دو تھے۔“ میں جیسے ہی اس کے قریب پہنچا وہ آہستہ سے بولا۔
”چھے کو میں نے بھی جہنم کا ٹکٹ پکڑا دیا ہے۔“
”میرا خیال ہے یہ اتنے ہی تھے مگر احتیاطاً میں صحن میں چکر لگا آتا ہوں تم بقایا کمرے دیکھ لو۔“ امجد نے مشورہ دیا اور میں سر ہلاتے ہوئے اندر کی جانب بڑھ گیا جبکہ امجدکا رخ صحن کی طرف تھا۔
تھوڑی دیر بعدہم دونوں چودھری کے بیڈ روم میں اکٹھے ہو گئے تھے امجد کا خیال درست نکلا کہ چودھری کے علاوہ اس گھر میں کوئی نہیں بچا تھا۔
”اب اس کا کیا کرنا ہے۔“ امجد نے چودھری کو چارپائی کے نیچے سے گھسیٹا
” اسے ساتھ لے کرجانا ہے۔ میں اسے آسان موت کے حوالے نہیں کرنا چاہتا۔ اس نے میری ذات کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کی تلافی ناممکن ہے۔ میں بھی اسے ایسا ہی نقصان پہنچانا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں یہ زندہ رہے مگر اس کی زندگی موت سے بدتر ہو۔ یہ موت مانگے مگر موت نہ ملے اور اس کی زندگی کی خوشیاں اور راحتیں میں چھین لوں اور یہ جیتی جاگتی حسرت بن جائے یہ….۔“ میں شاید کچھ اور بھی کہتا مگر امجد نے میری بات کاٹی….
”ٹھیک ہے جانو…. اب چلو کیونکہ یہاں رکنامناسب نہیں ہے۔ یہ نہ ہو فائرنگ کی آواز اس کے کسی ہمدرد کو اس جانب متوجہ کر دے اور ہمارے لیے خواہ مخواہ ایک لاحاصل مشغلہ شروع ہو جائے۔“
”ٹھیک ہے چلو۔“ میں نے اس کی تائید کی۔
”اس رقم کا کیا کریں۔“ امجد نے سیف کے کھلے دروازے سے جھلکتی رقم کی طرف میری توجہ دلائی۔
”یہ بھی ساتھ لے چلتے ہیں…. راستے میں کام آئے گی۔“
اور امجد نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ایک تکیے کا کور اتار کر اس میں وہ ساری دولت بھر لی۔ اس کے علاوہ سونے کی کچھ اینٹیں بھی وہاں پڑی تھیں وہ سمیٹ کر امجد نے اسی تھیلے میں ڈال دیں۔
”یہ پکڑو میں اسے سنبھالتا ہوں۔“ اس نے تھیلا میری جانب بڑھایا۔
امجدنے چودھری کے سر کے بالوں سے پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے باہر کے جانب چل پڑا۔ اس کی اس حرکت سے چودھری کے خلاف اس کے دل میں موجود نفرت کا اظہار ہو رہا تھا۔
چودھری نے ہوش میں آ کر غوں غاں شروع کر دی مگر منہ پر پٹی بندھے ہونے کی وجہ سے وہ کوئی بات نہ کر سکا۔ ہم دونوں بھی اس کی تکلیف پر توجہ دیئے بغیرچلتے رہے بلکہ ہمارا تو مقصد ہی اسے اذیت دینا تھا۔صحن کے ایک کونے میں چھپر نما گیراج بنا ہوا تھا جس میں تین گاڑیاں کھڑی تھیں۔ایک ڈبل کیبن کی عقبی نشستوں کے درمیان چودھری کو پٹخ کے امجد خود بھی پیچھے ہی بیٹھ گیا تھا۔ میں نے سٹیرنگ سنبھالی اور گاڑی آگے بڑھا دی۔ گیٹ پرپہنچ کر میں نے گاڑی روکی امجد نے گیٹ کھولا اور ہم ایک مرتبہ پھر چل پڑے ۔
”جانان خان سے ملو گے؟“
”ہاں۔“ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ ”اس نے ہماری مدد کی ہے اس کا شکریہ ادا کر نا ہے۔ اس کے علاوہ راستے کے بارے میں بھی اس سے معلومات لینا ہیں، جس راستے سے ہم چل کر آئے ہیں اس راستے سے اس منحوس کو ساتھ لے جانا مشکل ہو گا، اس ڈھائی من کی لاش کو کون کندھوں پر اٹھائے گا۔ جبکہ افغانستان کے راستے سے ہم لاعلم ہیں البتہ جانان کو ضرور اس راستے کے بارے معلوم ہو گا۔“
”چلے گا تو خیر یہ اپنے پاﺅں پر۔ البتہ تم افغانستان والے رستے کو بہتر سمجھتے ہو تو یونھی سہی۔“
ہم جس وقت جانان خان کی حویلی میں پہنچے وہ جاگ رہا تھا کیونکہ اطلاع دینے والے ملازم کے ساتھ ہی وہ باہر آگیا تھا اب وہ جاگنا ہماری وجہ سے تھا یا لزا کی قربت نے اسے سونے نہیں دیا تھا اس بات سے میں لاعلم تھا۔
”آپ لوگ اندرکیوں نہیں آرہے….اور کیا بنا آپ کے کام کا؟“ وہ ایک ہی سانس میں دو سوال کر گیا۔
”ملک صاحب ہم کامیاب ہوئے ہیں اور اس وقت ہم سفر کی تیاری میں ہیں ادھر رکنا ہم موزوںنہیں سمجھتے۔ آ پ کے پاس آنے کا مقصد ایک تو آپ کا شکریہ ادا کرنا ہے کہ آپ کے تعاون سے ہمیں اپنے مقصد میں کامیابی ہوئی ہے۔ دوسرا ہمیں افغانستان کے راستے سے چودھری کو اپنے ساتھ لے جانا ہے اور راستے کے بارے آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔“
”آپ لوگ اندر تو چلیں نا؟کچھ چاے پانی ہو جائے۔ صبح چلے جانا ابھی تو یوں بھی صبح ہونے میں دو تین گھنٹے ہی باقی ہیں۔“
”شکریہ ملک صاحب۔ مگر ہم اندرجانے سے معذرت کریں گے۔“
” جیسے آپ کی مرضی….اور راستا اتنا مشکل نہیں ہے آپ لوگ جنگل خیل سے سیدھا آگے نکلو گے تو….۔“ جانا ن خان نے راستے کے بارے میں مختصر الفاظ میں کافی کار آمد باتیں بتلا دیں۔ آخر میں بولا۔ ”عمر جان اگر رقم یا کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجک مجھے کہہ سکتے ہو؟“
”بہت مہربانی ملک صاحب اب اجازت۔ یار زندہ صحبت باقی۔“ میں نے معانقے کے لیے بازو پھیلا دیئے، اس سے مل کرہم گاڑی میں بیٹھے اور الوداعی انداز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے وہاں سے رخصت ہوئے۔ تیز رفتاری سے سفر کرتے ہوئے ہم بہ مشکل صبح کی اذانوں کے وقت جنگل خیل پہنچ گئے۔ گاڑی کا رخ عبدالمجید کے گھرکی طرف موڑتے ہوئے میں نے کہا۔
”میرا خیال ہے آج کا دن سعدیہ کے ہاں گزاریں۔ ایک تو کچھ آرام کرلیں گے کہ آگے ہمیں بہت لمبا سفر در پیش ہو گا اس کے علاوہ دونوں سے الوداعی ملاقات بھی ہو جائے گی۔“
امجد نے فقط سرہلانے پر اکتفا کیاتھا۔
دوسری دستک ہی پرعبدا لمجیدنے دروازہ کھول دیا۔ ہمیں دیکھتے ہی اس کے خوابیدہ چہرے پر خوشی کی چمک لہرائی جو اس بات کا مظہر تھی کہ وہ ہمیں دل سے پسند کرتا تھا۔ ہم دونوں سے مل کر اس نے گاڑی کے لیے مکمل دروازہ کھول دیا۔ گاڑی صحن میں روک کر ہم نے چودھری کو گھسیٹ کر باہر نکالا اور ایک خالی کمرے میں منتقل کر کے باہر سے دروازہ بند کر دیا۔ ہماری باتوں کی آواز سے سعدیہ بھی جاگ گئی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی وہ بے ساختہ مجھ سے لپٹ گئی۔
” بھیا !….بڑی دیر لگا دی۔“
”ہاں گڑیا!….“ میں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ ”مگر تمھاری دعا سے کامیاب ہوئے ہیں۔“
”شکر ہے اﷲ کا۔“ اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
”اچھا تم فٹا فٹ تگڑا سا ناشتا تیار کرو تاکہ ہم کھاپی کر آرام کرنے کے لیے لیٹیں۔ سخت تھکے ہوئے ہیں۔“
”ابھی لو بھائی۔“ وہ سرعت سے باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی۔
تھوڑی دیر بعد ہی ایک پُر تکلف ناشتے سے فارغ ہو کر ہم دونوں آرام کے لیے لیٹ گئے تھے مگر اس سے پہلے مجید کو چودھری کا خیال رکھنے کی تاکید کرنا نہیں بھولے تھے۔
l l l
”بھیا، آپ لوگ کچھ دن رک نہیں سکتا۔“ سعدیہ کی اردو سننے لائق تھی۔
امجد مزاحیہ لہجے میں بولا۔”نہیں بہن ہم نہیں رک سکتا۔ خوچہ امارا ادھر بوہت کام ہے۔“
”کچ دن تو رک سکتا ہے نا۔ پِر چلاجانا۔“ سعدیہ ملتجی لہجے میں بولی۔
”نئیں کچ دن بی نئیں رک سکتا۔“ امجد اسی کے انداز میں بولا۔
”دیکھو سعدیہ !بات یہ ہے کہ اگر ہم چند رک جائیں تو کیا ہوگا۔ کل نہیں تو پرسوں ہمیں لازماً جانا پڑے گا۔ تو ان چند دنوں کا کیا فائدہ۔ بچھڑنا جب مقدر میں ہو تو پھر کل کیا اور پرسوں کیا۔“
میری بات سن کر اس نے خاموشی سے سرجھکا لیا۔ مجھے پتا چل گیا کہ خاموش رہ کر وہ اپنی خفگی کا اظہار کر رہی تھی۔ میں اسے خوش کرنے کی خاطر عبدالمجید سے بولا۔
”مجید خان یوں کرو سعدیہ کو ابھی ابھی اپنے ماں باپ سے ملوانے لے جاﺅ اور کوشش کرنا کہ واپسی پر انھیں اپنے ساتھ ہی لے آﺅ۔“
”کک کیا مطلب ہے“ وہ جیسے گہری حیرانی سے بولی۔ ”مم میں کیسے امی ابو سے مل سکتی ہوں دشمنوں کے کانوں میں ذرا سی بھی بھنک پڑ گئی تو میرے ساتھ مجید بھی جان سے جائے گا۔“
”ہم نے جاناں خان سے صلح کرلی ہے۔ وہی ہیبت خان اور اور باسمت خان کا وارث ہے۔ تم بے فکر ہو کر جاﺅ۔ اب وہ تمھیں کچھ نہیں کہے گا۔“
”سچ بھیا؟“ وہ بے ساختہ مجھ سے لپٹ گئی ۔
”بالکل سچ…. اور تمھارا گھر تو یہاں سے نزدیک ہی ہے نا؟“
”ہاں…. پیدل گھنٹا ، پون گھنٹا لگ جائے گا۔“
”چلو پھر تم دونوں نکلو….اور شام تک واپس پہنچنے کی کوشش کرنا کیونکہ ہم آج یہاں سے شام کا کھانا کھا کر نکل چلیں گے۔“
”جی اچھا۔“ کہہ کر وہ شاکی نظروں سے میری جانب دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
اس کے اور مجید خان کے گھر سے نکلتے ہی میں امجد سے بولا۔ ”چل بھئی ماجے چودھری کا انٹرویوکر لیں۔“
”اسی مقصد کے لیے تُم نے انھیں کہیں بھیجا ہے۔“ امجد مسکرا کر بولا۔
”ہاں….“ میں اثبات میں سرہلاتے ہوئے بولا۔ ”مگر کہیں اور نہیں ان کے اپنے گھر۔“
”اچھا کیا یار!…. کچھ اس کی دل بستگی کا سامان بھی ہو جائے گا۔“ امجد بولا اور اٹھ کر بیرونی دروازے کی کنڈی اندر سے لگا دی۔
ہم دونوں چودھری کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے، اسے ہوش آچکا تھا۔
”اسے کھولو امجد!“ میرے لہجے میں بلا کی سنجیدگی تھی۔
امجد نے آگے بڑھ کر اسے کھول دیا۔ وہ دونوں کلائیوں کو مسلتے ہوئے اٹھ بیٹھا۔
”سناﺅ چودھری!…. کیا حال ہے۔“ میں موڑھا لے کر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ مگر وہ خاموش رہا۔ میں نے موڑھے پر بیٹھے بیٹھے اپنی داہنی ٹانگ اس کے ماتھے پر رسید کی اس کا سر ایک دھماکے سے زمین سے ٹکرایا کمرے کا فرش کچا ہونے کی وجہ سے اسے زیادہ چوٹ نہ آئی اور وہ کراہتا ہوا اٹھ بیٹھا۔
”میں نے کچھ پوچھا ہے چودھری۔“
”عمرجان تم اچھا نہیں کررہے۔“ یہ الفاظ اس کے منہ میں تھے کہ میں اس پر چیل کی طرح جھپٹا اور لاتوں گھونسوں سے اس کی تواضع کرنے لگا۔
”میں اچھا نہیں کر رہا ہوں سو¿ر کی اولاد…. گندے ،غلیظ….“ میرے منہ سے مغلظات کا لاوا ابل پڑا۔ چودھری زمین پر لڑھکنیاں لگا کر میری ٹھوکروں سے بچنے کی کوشش کرتا رہا جوابی کارروائی کی کوشش اس نے نہیں کی تھی ۔ سر پر لگنے والی ایک ضرب سے وہ دینا و مافیہا سے بے خبر ہو گیا اس کی آنکھیں بند ہوتے ہی امجد نے مجھے بازو سے پکڑ کر پیچھے گھسیٹ لیا۔
”بس کر جانو وہ بے ہوش ہو چکا ہے۔“
میں چڑھی ہوئی سانسوں سے پیچھے ہٹ آیا۔ ”اسے دوبارہ باندھ دو ماجے کیونکہ یہ جتنی دیر میرے سامنے رہے گا میراخود پر قابو نہیں رہے گا۔“ میں کمرے سے نکل آیا۔
امجد بھی چند منٹ بعد میرے پاس پہنچ گیا۔
”جانوتُم نے اس کے لیے حتمی طور پر کیا سوچا ہے؟“
اورمیں اسے اپنے پروگرام کے بارے بتانے لگا۔ میری بات ختم ہوتے ہی اس کی آنکھوں میں چمک سی لہرائی ….
”میں تم سے سو فیصد متفق ہوں۔“
اس کے بعد میں نے اسے راستے کے بارے جانان خان سے حاصل ہونے والی معلومات سے آگاہ کیا اور ہم راستے کے بارے لائحہ عمل طے کر نے لگے۔ ہم کافی دیر وہیں بیٹھے رہے یہاں تک کہ سورج کی روشنی پیلی ہوئی اور پھر آہستہ آہستہ سورج غائب ہو گیا۔ اندھیرا چھانے سے پہلے مجید خان اور سعد یہ واپس پہنچ گئے۔ سعدیہ کے چہرے پر ہویداتاثرات اس کی بے پایاں خوشی کو ظاہر کررہے تھے۔
”والدین کو ساتھ کیوں نہیں لائے ہو؟“
”وہ کل آئیں گے….کیونکہ انھوںسامان وغیرہ سمیٹنا تھا“
”تم بھی آج کی رات ان کے پاس ٹھہرجاتیں۔“
’آج آپ نے یہاں سے جانا ہے نا….وہ تو ان شاءاﷲ اب ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔“
”اچھا اب تم کھانا پکا لو تاکہ ہم کھائیں اور نکلیں۔“
اور وہ ”جی اچھا“ کہتے ہوئے کچن کی جگہ کی طرف بڑھ گئی۔
اس کے جاتے ہی مجید خان آہستہ سے بولا۔ ”عمر جان بھائی سعدیہ کے والدین کو ہم نے یہ بتایا ہے کہ ہم شادی کر چکے ہیں۔“
”کوئی بات نہیں۔“ میں اسے تسلی دی۔ ”تم بس دن گنتے رہو جیسے ہی 4مہینے اور 10دن پورے ہوں چپکے سے دو گواہوں کی موجودی میں اس سے نکاح پڑھا لینا۔“
امجد نے کہا۔”جانو…. چودھری کی کمائی سے کچھ رقم انھیں بھی دے دو، نئی زندگی شروع کرنے میں مدد ملے گی غریبوں کو۔“
”جاو¿ رقم کا تھیلا لے آو¿، آدھی رقم انھی کو دے دیتے ہیں….ہم نے اتنی ساری رقم کا کیا کرنا ہے؟“
” عمر بھائی اس سے پہلے بھی آپ نے کافی رقم سعدیہ کو دی تھی جو اس نے میرے حوالے کر دی ہے اس کے علاوہ کچھ سونا بھی آپ یہاں چھوڑ گئے تھے۔ اتنا کچھ کافی ہے نا“ عبدالمجید احتجاجی لہجے میں بولا۔
”مجید خان یہ رقم ہم نے اپنے دشمن سے وصول کی ہے۔ اس لیے کہ اس نے ہمیں بہت زیادہ نقصان پہنچایا تھا۔ جانی بھی اور مالی بھی۔ بدلہ لینے کا حق ہم رکھتے ہیں تم چونکہ نئی زندگی شروع کر رہے ہو اور ہماری منہ بولی بہن کے شوہر بھی ہو توہمارا حق بنتا ہے کہ حتی الوسع تمھاری مدد کریں اور اس کے بعد اگر کبھی تنگی یا مالی مشکل محسوس کرو تو بے جھجک ہمارے پاس رحمن خیل آجانا۔ عمر جان گنڈہ پور کا نام کسی کے سامنے بھی لو گے وہ تمھیں مجھ تک پہنچا دے گا۔“
”آپ سے ملنے تو ان شا ءاﷲ ہم ضرور آئیں گے۔“اس کے لہجے میں ایک عزم تھا۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا۔”خودا گرنہ بھی آنا چاہو ہماری بہن کو ضرور بھیج دینا۔“
”اس کے بغیر تو اب میں ادھورا ہوں۔“ عبدالمجید نے جھینپے ہوئے کہا۔ اسی وقت امجد بھی رقم کا تھیلا لے آیا میں نے اس میں سے آدھی رقم اور سونے کی تمام اینٹیں عبدالمجید کے حوالے کر دیں۔
”ات ….اتنی زیادہ رقم۔ عم عمر جان بھائی۔“ وہ ہکلا یا۔
”ہاں مجید خان…. بھائی اس سے بھی زیادہ بہنوں کے لیے کرتے ہیں۔“ ”اب جاﺅ اس رقم کو کہیں سنبھال کررکھ لو۔“
امجد نے پوچھا۔”کس وقت نکلیںگے؟“
”بس کھانا کھاتے ہی نکلتے ہیں۔“
جاری ہے

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔