پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ مختصر کہانیاں

بھگوڑا (قسط نمبر 31) ریاض عاقب کوہلر پُرتکلف کھان…


بھگوڑا (قسط نمبر 31)
ریاض عاقب کوہلر

پُرتکلف کھانے سے فارغ ہو کر ہم خوشبودار قہوے کی چسکیاں لیتے ہوئے جانان خان کو اپنی کہانی سنا رہے تھے۔ جاگیر دار اور صاحب گل بھی وہیں وجود تھے….
”باسمت خان اور ہیبت خان اپنی غلطی سے مارے گئے ۔پہل ہماری طرف سے نہیں ہوئی تھی، ہمارا آپ کے پاس آنے کا مقصد فقط چودھری اکبر کا پتا معلوم کرنا تھا۔ باقی چرس خریدنے کی کہانی بلاشبہ جھوٹی تھی مگر یہ بات بلاشبہ صحیح ہے کہ ہمارے طوفان خان سے تعلقات ہیں۔ اگر آپ کو ہماری بات میں کسی قسم کا شبہ ہو تو آپ بے شک اپنا کوئی بندہ طوفان خان کے پاس تصدیق کے لیے بھیج دیں اسے چودھری کے ساتھ ہماری دشمنی اور ہمارا چودھری کی تلاش میں جنگل خیل کی طرف آنے کی بارے سب معلوم ہے۔“
”مجھے آپ کی بات میں بالکل بھی شک نہیں ہے، باقی چودھری اکبر نے جو ظلم کیا ہے اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ اب اگر میرے لائق کوئی کام ہو تو حکم کرو میں اپنے بندوں کے ساتھ مل کر چودھری کے خلاف جنگ میں تمھاری مدد کر سکتا ہوں۔“جانان خان نے پُرخلوص آفر کی۔
”مہربانی ملک صاحب…. اگر آپ کی مدد کی ضرورت پڑی تو ہم ضرور آپ کو زحمت دیں گے اب آپ صر ف اتنی مہربانی کریں کہ ہمیں چودھری کے گھر کا پتا سمجھا دیں۔“
”میں جاگیردار خان کو آپ کے ہمراہ بھیج دیتا ہوں۔ یہ آپ کو اس کا مکان دکھلا کر واپس آجائے گا۔“
”ٹھیک ہے۔“ میں نے مطمئن ہو کر سرہلایا۔ ”اب ہم چلتے ہیں، چند دن اس کے گھر کی نگرانی کریں گے اور موقع ملتے ہی اس پروار کرنے کی کوشش کریں گے۔“ یہ کہہ کر میں جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا، میری تقلید میں باقی تمام بھی کھڑے ہو گئے۔ جانان خان سے رخصتی مصافحہ کر کے ہم اس کی حویلی سے باہر نکل آئے۔ جاگیر دار خان بھی ہمارے ساتھ تھا، اس کے باوجود کہ میں نے اسے اچھی خاصی چوٹ لگائی تھی اس کا رویہ میرے ساتھ خوشگوار ہی تھا۔
”عمر جان صیب!…. ایک بات پوچھوں ؟“ حویلی سے نکل کر ہم تھوڑا ہی چلے ہوں گے کہ جاگیر دار مجھ سے مخاطب ہوا۔ کہانی سناتے وقت میں انھیں اپنے اصلی نام بتا چکا تھا ۔
”پوچھو؟“
”کل چودھری، خان جی سے ملنے آیا تھا اور آپ دونوں بھی خان جی کے پاس موجود تھے۔ اس وقت آپ لوگوں نے کیوں چودھری پر حملہ نہیں کیا؟ حالانکہ اس وقت وہ آپ کی موجودی سے لا علم تھا آپ بڑی آسانی سے اسے ٹھکانے لگا سکتے تھے۔“
”اس کی دو وجوہات ہیں….پہلی …. وہ ملک صاحب کے گھر آیا تھا اور ہمیں اندیشہ تھا کہ اس کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی پر ملک صاحب خفا ہو جائے گا ۔دوسراہم نے اسے گولی مار کر قتل نہیں کرنا بلکہ اذیت ناک موت کے حوالے کرنا ہے۔“
”اس کا مطلب ہے آپ اسے زندہ پکڑنے کی کوشش کروگے؟“
”ارادہ تو یہی ہے۔“ میں اثبات میں بولا۔
”میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں…. اگر میری کسی بھی قسم کی مدد چاہےے ہو تو ضرور حکم کرنا۔“
”شکر یہ جاگیردار بھائی! آپ کی دعاﺅں سے زیادہ ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں۔“
انھی باتوں کے دوران ہم ایک زیرِتعمیر عمارت کے قریب سے گزرے۔جاگیر نے ہمیں بتایا….
” یہ حویلی چودھری اکبر کی ہے….لیکن اس کی تعمیر ابھی تک مکمل نہیں ہوئی۔ اس لےے وہ ملک امجد خان کے مکان میں رہائش پذیر ہے۔“
”ملک امجد خان خود بھی اسی مکان میں رہتا ہے؟“
”نہیں….ملک امجد کی اپنی حویلی ڈابیر کے اندر ہی واقع ہے۔ یہ مکان تو اس نے بہت پہلے پہاڑی ڈھلوان پر بنایا تھا۔ اس وقت ڈابیر کی آبادی بہت کم تھی۔ بعد میں جب یہ شہر پھیلا تو اس نے بھی شہر کے وسط میں جگہ لے کر اپنی حویلی بنائی اور اپنے خاندان سمیت اس میں منتقل ہو گیا البتہ وہ مکان بھی جوں کا توں موجود رہا اور وقتاً فوقتاً امجد خان اسے مختلف سرگرمیوں میں استعمال کرتا رہا آج کل اس مکان میں چودھری اکبر ڈیرہ ڈالے ہوئے ہے ۔“
انھی باتوں کے دوراں ہم ڈابیر کے مضافات میں نکل آئے تھے۔
”وہ سامنے نظر آنے والا مکان ملک امجد خان کا ہے جس میں چودھری رہائش پذیر ہے۔“
جاگیر دار خان نے درمیانے فاصلے پر نظر آنے والے مکان کی طرف اشارہ کیا جوکافی بلندی پر واقع تھا۔“
”ٹھیک ہے جاگیردار بھائی اب آپ جا سکتے ہیں۔“ میں رک گیا ۔”اب ہم جانیں اور ہمارا کام۔“
”مگر میری مددکی ضرورت پڑ سکتی ہے آپ کو۔“
”فی الحال تو کوئی ضرورت نہیں پڑ سکتی۔ کیونکہ ہم نے دور دور سے اس مکان کا جائزہ لینا ہے۔“
” جیسے آپ کی مرضی۔“ وہ ہم سے مصافحہ کر کے رخصت ہو گیا اور ہم ٹہلنے کے انداز میں مکان کی سمت بڑھنے لگے۔ اکا دکا مکانات چودھری کے گھر کے قرب و جوار میں بھی نظر آرہے تھے اس لیے ہمیں اس طرف آتے دیکھ کر چودھری یا اس کے آدمی چوکنا نہیں ہو سکتے تھے۔ اپنے چہرے چھپانے کے لیے ہم نے چادر کی پگڑی باندھ کر اس کے لٹکنے والے پلو مقامی انداز میں اپنے چہرے کے گرد اس طرح لپیٹ لئے تھے کہ صرف آنکھیں ہی نظر آرہی تھیں۔ چودھری کے مکان تک ایک کچا ٹریک جارہا تھا اور یہ ٹریک گاڑیوں کے مسلسل آنے جانے کی وجہ سے بنا تھا۔
ہم دونوںمکان والی ٹیکری کے گرد گھوم کر اس کی پشت پر موجود پہاڑی پر چڑھنے لگے اور پھر ایک مناسب بلندی پر پہنچ کرہم دونوں بیٹھ گئے، مگر مکان کی بناوٹ اس طرح تھی کہ اس کا اندرونی حصہ پھر بھی ہماری نظروں سے اوجھل رہا۔ مکان کے سامنے کے دائیں اور پشت کی طرف بائیں کونے میں دو مورچے بنے ہوئے تھے۔ گویا دونوں مورچے کراس میں تھے اور انھی دونوں مورچوں سے مکان کے چاروں اطراف کی نگرانی کی جا سکتی تھی۔ مٹی کے بلاکوں سے بنی ہوئی دیواریں جنھیں لپائی کیا گیا تھا اچھی خاصی بلند تھیں۔ ہم وہاں تھوڑی دیر بیٹھ کر مکان کے اندر گھسنے کے منصوبے پر بات چیت کرتے رہے۔ مگر بہ ظاہر اندر داخل ہونا مشکل نظر آرہا تھا۔
مزید تھوڑی دیر وہیں گزار کر ہم نیچے اترنے لگے۔ اس نگرانی کا مجھے کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آیا تھا۔ہم رات کو وہاں آنے کا فیصلہ کیا اور نیچے اتر آئے ۔عصر کا وقت ہو گیا تھا ہم ٹہلنے کے انداز میں چلتے ہوئے واپس آبادی میں پہنچ گئے۔ پگڑیاں کھول کر ہم نے چادروں کو کندھوں پر رکھ لیا کہ مسلسل پگڑی باندھے رکھنا ہمارے بس سے باہر تھا۔
بازار سے گزرتے ہوئے، جینز پہنے ہوئے ایک لڑکی ہماری طرف بڑھی، اورقریب آ کر نامانوس زبان میں کچھ بولنے لگی۔ وہ زبان مجھے فارسی کے مشابہ لگی لڑکی کی عمر25,24سال تھی اور وہ خاصی خوب صورت لڑکی تھی مگر اس کے چہرے پر نظر آنے والے تاثرات اس کے اندر عجیب سی بے رونقی کو اجاگر کر رہے تھے ۔ اس قبیل کی کافی لڑکیاں ہم نے جنگل خیل میں بھی دیکھی تھیں ان کے ساتھ انھی کی طرح کے لڑکے بھی ہوتے تھے اور یہ عموماً گروپ کی شکل میں پھرتے نظر آتے ۔ مگر ہمارے ساتھ یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی ایسی لڑکی ہمیں مخاطب ہوئی تھی۔
میں انگلش میں بولا۔
"We cant under stand What are you Saying?”
(آپ کیا کہہ رہی ہیں ہم نہیں سمجھ سکے ہیں)
"I said you can get me on a hash cigrate”
(میں نے کہا چرس کے ایک سگریٹ کے بدلے آپ مجھے حاصل کر سکتے ہیں)
”اب کیا خیال ہے؟“ اس کی بات سنتے ہی امجد نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
”اس کا قصور نہیں ہے ماجے….اس کے زندگی گزارنے کے فلسفے نے اسے اتنا ہی سمجھایا ہے ۔ بچپن ہی سے بُری سوسائٹی اور پھر مادر پدر آزاد معاشرے نے ان کے اندر اخلاقیات کے نام پر کچھ نہیں چھوڑا ہوتا۔“
وہ لڑکی ہماری آپس کی باتوں سے یہ سمجھ رہی تھی کہ شایدہم اس کی آفر پرغور کر رہے تھے۔ میں نے اس کی ملتجی نظروں کو دیکھتے ہوئے جیب میں ہاتھ ڈالا میرا ارادہ اسے چند روپے دے کر اپنی جان چھڑانے کا تھا۔ مگر جیب میں پڑی ہوئی پاﺅ بھر چرس سے میرا ہاتھ ٹکرایا۔ یہ چرس میں نے ضائع کرنے کے بہانے اپنی جیب میں رکھ چھوڑی تھی مگر بعد میں میرے ذہن سے نکل گیا تھی۔ ایک لمحے کے لیے میں نے سوچا کہ یہ اس کے حوالے نہ کروں، لیکن پھر خیال آیا کہ میرے نہ دینے سے اس نے کون سا توبہ کر لینا ہے میں نے تو ویسے ہی ضائع کرنی ہے، وقتی طور پر سہی اس کا دل خوش ہو جائے گا۔ میں نے چرس کا پیکٹ نکال کر اس کی جانب بڑھا دیا۔
"What is this?” وہ مستفسر ہوئی۔
"Hash” میں مختصراً بولا۔
”آپ میرے ساتھ مذاق کررہے ہیں۔“ وہ بے یقینی سے بولی۔
”نہیں…. یہ حقیقت ہے آپ کھول کر دیکھیں۔“ اس نے پیکٹ لے کر کھولا اور حیرانی سے اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ وہ چرس کی عادی تھی اور اسے خوب پہچان تھی۔ وہ میرے ساتھ لپٹتے ہوئے بولی ۔
”اوہ…. اتنی چرس کے لیے تو میں پوری زندگی آپ کی خدمت کر سکتی ہوں۔“
”کیا کر رہی ہو۔“ میں نے خفت سے اسے پرے دھکیلا۔
”کک کیوں میں نے کیا غلط کر لیا۔“ وہ پریشان سے بولی۔
”غلط صحیح چھوڑو اور یہاں سے پھوٹنے کی بات کرو۔“ امجد جو کافی دیر سے خونی نظروں سے مجھے گھور رہا تھا، غصیلے لہجے میں بولا۔
”مگر …. یہ …. چرس…. پیسے….“وہ گڑبڑاسی گئی شاید اس کا خیال تھا کہ ہم اس سے چرس کے پیسنے لینا چاہ رہے تھے، ورنہ اتنی مقدار میں چرس بغیر کسی وجہ کے کوئی پاگل ہی کسی کے حوالے کر سکتا تھا۔
”چلو اسے سمجھانا مشکل ہے۔“ میں نے امجد کو بازو سے پکڑ کر کھینچا اور ہم دونوں اسے ہکا بکا چھوڑ کر جانان خان کی حویلی کی جانب روانہ ہو گئے۔
”بس کوئی خوب صورت لڑکی نظر آجائے تو رال ٹپک پڑتی ہے جناب کی۔ اب کیا ضرورت تھی پنگا بازی کی۔ اس کی زبان سے ہم ناواقف تھے تُم نے ضرور انگلش جھاڑنا تھی….اور دوسرا تُم نے اتنی زیادہ چرس اس کے حوالے کر دی، وہ اُلّو کی پٹھی ساری کی ساری آج ہی پھونکنے کی کوشش کرے گی اور جائے گی جان سے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے اس کے پاس یہ چرس کوئی آوارہ گروپ دیکھ لے ۔ وہ اسے ذبح کرنے سے بھی نہیں رکیں گے۔“
میں نے اسے جواب دینے کی کوشش نہ کی اور خاموشی سے اس کی باتیں سنتا رہا۔ موڑ مڑتے وقت میں نے پیچھے دیکھا تو وہ لڑکی اسی طرح اپنی جگہ پر کھڑی ہمیں دیکھ رہی تھی۔
جانان خان کی حویلی تک امجد کے کوسنے جاری رہے۔ چوکیدار نے ہمیں دیکھتے ہی سلام کہتے ہوئے دروازہ کھول دیا۔ ہم دونوں اس کمرے کی طرف بڑھ گئے جس میں ہمیں بے ہوشی کی دوا ملا قہوہ پلایا گیا تھا۔ شام کا وقت ہو گیا تھا۔ ہم آمنے سامنے چارئیوں پر بیٹھ گئے۔
”میرے ذہن میں تو ایک اور پلان آیا ہے۔ جانو۔“
”کیا؟“ میں مستفسر ہوا۔
”کیوں نا…. ہم چودھری اکبر کو راستے میں روک کو اغوا کرنے کی کوشش کریں جس طرح دگن میں طوفان خان کو اغوا کیا تھا۔“
”ماجے میاں پہلی بات تو یہ ہے کہ طوفان خان آخرتک یہ نہیں سمجھ سکا تھا کہ ہم اس کے خلاف کیا کرنے والے ہیں کیونکہ بہ طور دشمن وہ ہم سے ناواقف تھا ورنہ اتنی آسانی سے کبھی بھی قابو نہ آتا۔ دوسرے وہ اکیلا تھا اور اس بزدل نے تو پانچ چھے باڈی گارڈ ہر وقت اپنے ساتھ لگائے ہوتے ہیں اور اسے راستے میں روکنے کا نتیجہ صرف مقابلے کی صورت میں نکلے گا۔ جس میں اسے زندہ پکڑنا کار ِمحال ہو گا…. اور سب سے بڑی بات یہ کہ چودھری ہماری صورتوں سے اچھی طرح واقف ہے۔ اس وجہ سے تمھارا یہ پلان بالکل ناقابل قبول ہے۔“
”تو پھر حویلی میں گھسنے کی کوشش کرنا پڑے گی ورنہ اس کے علاوہ تو کوئی طریقہ نہیں ہے۔“
”ہاں اب تم نے صحیح کہا۔“میں اس کی تائید کی ۔ ”اس کے علاوہ اور کوئی بھی صورت ان حالات میں قابلِ عمل نہیں ہے۔“
”مگر حویلی میں گھسنا بھی تو کافی مشکل نظر آرہا ہے اور اگر ہم اچانک پن حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے تو شاید چودھری بھاگ جائے۔ یوں بھی وہ قلعہ بند ہوں گے اور اپنے گھر کے چپے چپے سے واقف۔ جبکہ ہمیں تو یہ بھی پتا نہیں کہ اس کے گھر میں کمرے کتنے ہیں۔“
” اس بارے جانان خان سے مشورہ کرتے ہیں شاید کوئی مناسب صورت نکل آئے۔“
میں نے کہا اور وہ کھڑا ہو گیا….
”آو پھر ابھی چلیں۔ کیونکہ میں چاہتا ہوں ہمیں آج رات ہی اپنا کام ختم کر لینا چاہئے۔“
”ماجے میں تم سے بھی زیادہ بے چین ہوں مگر میں نہیں چاہتا کہ ہم تیزی میں درستی بھول جائیں۔ اس مرتبہ اگر چودھری ہم سے بھاگ گیا تو شاید زندگی بھر نہ ملے ۔“ مگر امجد خاموش رہا ہم جانا ن خان کے کرے کی طرف بڑھ گئے ۔
جانان خان کمرے میں جاگیردار خان سے گپ شپ کرتا ہوا ملا۔ ہمارے اندر داخل ہوتے ہی وہ ”پخیر“ کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
ہم مصافحہ کرکے بیٹھ گئے۔
اس نے بیٹھتے ہی پوچھا۔”سنا ﺅ بھئی کیا رہا؟“
”حویلی دیکھ لی ہے۔ اب آپ سے مشورہ کرنے آئے ہیں تاکہ کوئی حتمی لائحہ عمل طے کر سکیں۔“
”ضرور ضرور ، کیوں نہیں۔ آپ صورتِ حال کی وضاحت کریں تاکہ مجھے مشورہ دینے میں آسانی رہے۔“
”ملک صاحب….!بات صرف اتنی ہے کہ ہم چودھری کو زندہ پکڑ نا چاہتے ہیں۔ جبکہ اس کی حویلی میں ہمیں کافی سخت پہرہ نظر آیا ہے اور اندر گھسنے کی صورت میں اندیشہ ہے کہ دو بدو مقابلہ کی نوبت آجائے گی۔ جس کے نتیجے میں چودھری کا زندہ ہمارے ہاتھ آنا کچھ مشکل سا لکتا ہے۔ بلکہ ایسی صورت پیش آنے پر ان پر قابو پالینے کے چانس بھی پچاس فیصد ہیں۔ دوسرا اگر ہم اسے راستے میں روک کر پکڑنے کی کوشش کریں تب بھی بات نہیں بنے گی کہ ایک تو وہ ہمیں شکل سے پہچانتا ہے اور اس کے علاوہ اس کے ساتھ چار پانچ باڈی گارڈز بھی ہوتے ہیں تو یہاں بھی وہی صورتِ حال در پیش ہونے کا خطرہ ہے۔ کافی دیر مغز ماری کرنے کے بعد ہم نے آپ سے رہنمائی لینے کی بابت سوچا ہے،اس ضمن میں آپ کہیں اس سوچ میں نہ پڑ جانا کہ ہمیں آپ کی جسمانی طور پر کوئی مدد چاہئے۔ ہمیں تو بس کسی مناسب مشورے کی احتیاج ہے۔“
”برادر اپنی مدد کی پیش کش میں اس سے پہلے بھی کر چکا ہوں اور دوبارہ بھی یہی کہوں گا کہ میں اور میرے بندے بالکل حاضر ہیں، لیکن اس میں صرف اتنی قباحت ہے کہ چودھری کے خلاف آپ ہمیں صرف رات کو استعمال کر سکتے ہیں کھلم کھلا اس کے خلاف کسی بھی کارروائی میں آپ کے شانہ بشانہ نہیں لڑسکتے کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں ملک دلشاد خان اور سبز علی خان جن کے ساتھ چودھری کے اچھے تعلقات ہیں ہمارے خلاف میدان میں اتر آئیں گے۔ ان کے نزدیک چودھری سے میری دشمنی کی وجہ کاروباری رقابت ہو گی۔ وہ دونوں بھی اسی کاروبار میں ملوث ہیں اور آج اگر میں چودھری کو راستے سے ہٹانے کا اقدام کر سکتا ہوں تو کل کلاں ان کے خلاف بھی اس قسم کی کوئی کارروائی کر سکتا ہوں حالانکہ میں ان سے ڈرتا نہیں ہوںلیکن پھر بھی ان کی مخالفت میرے لیے چھوٹے موٹے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔“
”ملک صاحب …. آپ موضوع سے ہٹ گئے ہیں۔“ میںنے کہا۔” یہ ساری بحث ہم کر چکے ہیں اور ہمیں آپ کی مجبوریوں کا بھی احساس ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر ہمیں آپ کی ضرورت ہوتی تو ہم قطعاً نہ کتراتے مگر آپ کی مدد حاصل کر کے بھی ہم اسے صرف قتل کرنے میں ہی کامیاب ہو سکتے ہیں جبکہ ہمارا ارادہ اسے زندہ پکڑنے کا ہے۔ آپ کوئی مناسب ترکیب بتائیں، کوئی اچھا سا مشورہ دیں اور بس…. باقی ان شاءاﷲ ہم خود اس سے نبٹ لیں گے۔“
وہ گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ چند لمحے کمرے میں خاموشی چھائی رہی اور پھر اس خاموشی کو جانان خان کی آواز نے ہی توڑا۔
”جہاں تک میرا اندازہ ہے چودھری کے تقریباً سات یا آٹھ بندے ہیں۔ گھر سے باہر نکلتے وقت اس کے ساتھ پانچ چھے بندے موجود رہتے ہیں اس کا مطلب ہے اس کی غیر موجودی میں اس کی حویلی میں زیادہ سے زیادہ دو بندے حاضر ہوتے ہیں اور ان سے آنکھ بچا کر اگر آپ لوگ حویلی میں گھس جاﺅ اور چودھری کے کمرے میں چھپ کر بیٹھ جاﺅ تو اس پر قابو پانا قطعاً مشکل ثابت نہیں ہو گا۔ اب اس کی غیر موجودی میں آپ اس کے گھر میں اس کے ملازمین کی نظر بچا کر کیسے داخل ہوتے ہیں یہ آپ کی اپنی صوابدید ہے۔“
”بات تو پھر بھی وہیں کی وہیں رہی…. آخر بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔ ہم اگر اس کے بندوں کو ہلاک کر کے اندر چھپتے ہیں تو چودھری واپسی پران کی گمشدگی کو محسوس کرتے ہی چوکنا ہو جائے گا ۔“
”اس کا بھی ایک طریقہ ہے“ ۔ وہ کسی کہنہ مشق استاد کی طرح بولا۔ ”مگر اس میں اخلاقی قدروں کی قربانی دینی پڑے گی ۔“
”میں سمجھا نہیں؟“
”دیکھو عمر جان…. عورت ہمیشہ مردوں کی کمزوری رہی ہے۔ بڑے بڑے عقلمندوں کو یہ ہوش و خرد سے بیگانہ کر دیتی ہے۔ اگر تم کوئی ایسی عورت تلاش کر سکتے ہو جو چودھری کے ملازمین کو چند لمحوں کے لیے ڈیوٹی سے غافل کر دے تو تمھارا کام آسان ہو جائے گا۔“
”اوہ …. ویری گڈ۔“ میری زبان سے بے ساختہ نکلا۔ ”واقعی آپ سرداری کے لائق ہیں۔ بہت خوب یہ ایسی تجویز ہے کہ ہمارا دماغ کبھی بھی اس تک رسائی حاصل نہ کر سکتا۔“
میرے تعریفی جملے سنتے ہوئے جانان خان کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ جاگیر دار کہنے لگا۔
”پرسوں ملک امجد خان کے بیٹے کی شادی ہے اور چودھری لامحالہ اس میں شرکت کے لیے جائے گا تم پرسوں تک کوئی عورت تلاش کر لواور اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو۔“
”گڈ ….۔“ میں کھڑا ہوگیا۔ ”ہم اب چلتے ہیں، چلو امجد۔“
”کھانا کھا کر چلے جاتے۔“ جانان خان نے مشورہ دیا۔
”نہیں…. کھانا ان شاءاﷲ واپسی پرکھائیں گے۔“ میں نے باہر کی طرف قدم بڑھا دیئے امجد نے میرا ساتھ دیا تھا۔
”کچھ مجھے بھی تو پتا چلے کہاں چل دیئے؟“ کمرے سے نکلتے ہی امجد مستفسر ہوا اورمیں نے مختصر لفظوں میں اسے ساری بات بتا دی۔
”یار…. مشورہ تو اچھا ہے مگر بات کچھ معیوب ہے۔“
”ہم شریف زادی تھوڑی ان کے پاس بھیجیں گے؟“
”مگر ایسی لڑکی آئے گی کہاں سے؟“
”یار میرا ارادہ اسی لڑکی کو استعمال کرنے کا ہے ….جسے تھوڑی دیر پہلے میں نے پاﺅ بھر چرس دی تھی۔“
”اب تک وہ تمھارے ذہن سے نہیں نکلی؟“
”اچھا دفع کرو اسے …. تم بتاﺅ کس کو بھیجیں؟“
”اس کیٹگری کی کئی مل جائیں گی۔“
” شاید وہ ہمارے ساتھ مخلص نہ ہوں۔ جبکہ اِس پر ہمارا بہت بڑا احسان ہے۔ امید ہے و ہ ہمیں دھوکا نہیں دے گی۔“
”اچھا ملک صاحب !….وہی سہی مگر سوچ لو مجھے اچھا نہیں لگ رہا اور دوسرا وہ ملے گی کہاں؟“
”بازارکا چکر لگاتے ہیں شاید مل جائے۔“ میں امید بھرے لہجے میں بولا اور امجد سرہلا کر رہ گیا۔ ہم اسی راستے پر چل پڑے جہاں ہمیں وہ لڑکی ملی تھی۔
” ویسے یہ وقت مناسب نہیں ہے۔ اس اندھیرے میں ہم اسے کہاں ڈھونڈتے پھریں گے۔ لاہور یا کراچی کا بازار تو ہے نہیں کہ روشنی ہو۔“
” بازار میں اچھی خاصی روشنی ہوتی ہے۔ پیٹرومیکس کے جلنے اور جنریٹروں سے جلائی گئی ٹیوب لائیٹوں کی روشنی میں ہم اسے پہچان لیں گے۔“
”تم تو خیر اسے اندھیرے میں بھی پہچان لو گے۔ آخرجناب کو اس سے گلے ملنے کا شرف حاصل ہو چکا ہے۔“ اس نے مجھے چھیڑا ۔
”بکواس کرنا کوئی تم سے سیکھے۔“
”کیوں غلط کہا ہے؟“وہ مسکرایا۔ مگر اسے جواب دینے کی بجائے میںارد گرد نگاہ دوڑانے لگا ہم بعینہ اسی جگہ پہنچ چکے تھے جہاں وہ ہمیں ملی تھی۔ اس جگہ روشنی کا کوئی بندوبست نہیں تھا اور ہم شاید اسی رو میں آگے بڑھ جاتے مگر اچانک راستے کے بائیں جانب ایک سرخ نقطہ چمکتا ہوا نظر آیا۔
”ماجے !….اس طرف کوئی سگریٹ نوشی میں مصروف ہے۔“
”چلو۔“اس نے میری تائید کی ۔ سگریٹ پینے والا جو بھی تھا اس نے ہماری آواز سن کر کسی قسم کے ردِعمل کا اظہار نہیں کیا تھا۔ میں نے جیب سے پنسل ٹارچ نکال کر اس کے سمت جلائی تو خوشی کے ساتھ ہمیں حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ وہی لڑکی درخت کے تنے سے ٹیک لگائے سگریٹ نوشی میں مصروف تھی اور یہ کہنے کی تو غالباً ضرورت نہیں کہ وہ سگریٹ چرس کے بھرے ہوئے تھے۔ اپنی پسندیدہ چیز ملنے کے بعد اس نے مزید دائیں بائیں پھرنا پسند نہیں کیا تھا اور وہیں بیٹھ کر اپنی حسرتیں پوری کرنے لگی تھی۔ ہمارے قریب پہنچنے کا بھی اس نے کوئی نوٹس نہیں لیا تھا اور اسی انداز میںبیٹھی رہی تھی۔
”ہیلو گڈ گرل۔“ میں نے گفتگو کی ابتداءکی۔
”کون؟“ اس نے نشے سے بوجھل آنکھیں اٹھائیں۔
”یہ ہم ہیں۔“ میں نے ٹارچ کا رخ اپنے چہرے کی طرف کیا۔
’یو ….سویٹ بوائے۔“ وہ کھڑے ہو کر مجھ سے لپٹ گئی ۔ ”مجھے پتا تھا تم ضرور واپس آﺅ گے؟“
میں نے نری سے اس کی گرفت سے آزاد ہو کر کہا۔
”اچھا…. وہ کیسے؟“
”بس میرا دل کہہ رہا تھا۔“ اس نے ایک دفعہ پھر مجھ سے سے لپٹنے کی کامیاب کوشش کی۔
”اچھا اب اس سے ملو۔“ میں نے اسے دوبارہ خود سے علاحدہ کر کے امجد کی طرف متوجہ کیا۔
”اوہ…. سوری۔“ اس نے امجد کی طرف مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔”ان پر تو میری نظر ہی نہیں پڑی تھی۔“
”ہاں جانو کی موجودی میں مَیں خاک نظر آتا۔“ امجد اردو میں بولا۔
”کیا کہا؟“ وہ مستفسر ہوئی۔
”میں نے کہا۔ ”تھینک یو۔“ امجد مسکرایا۔
”آپ کا بھی بہت بہت شکریہ۔“ اس نے بھی جواباً مسکراہٹ اچھالی۔
وہ لہجے اور انداز سے بالکل نارمل دکھائی دے رہی تھی۔ یوں بھی چرس کا نشہ پینے والے کی عقل کو افیون، ہیروئن یا کو کین کی طرح خبط نہیں کرتا۔ بلکہ کہنے والوں سے تو یہاں تک سنا ہے کہ شراب اور بھنگ کا نشہ بھی چرس سے زیادہ ہوتا ہے۔ بہ ہر حال ان خرافات سے ا ﷲ تعالیٰ کی ذات نے آج تک محفوظ رکھا ہے اس لیے اس بارے میری معلومات واجبی سی ہے۔ البتہ اس وقت اس لڑکی کی عادات واطوار میں کوئی ایسی بات نہیں تھی جس سے پتا چلتا کہ وہ نشے میں ہے ۔
”اچھا ہم تمھیں لینے آئے ہیں۔“
”ہاں چلو۔“ میرا ہاتھ تھام کر اس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ یا جھجک کے میرے ساتھ قدم بڑھادئےے ۔ اس کے پُراعتماد انداز نے مجھے حیرت زدہ کر دیا تھا۔ مگر بعد میں سوچنے پر مجھے اس کا یہ عمل اتنا حیران کن نہ لگاکیونکہ اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس کے چھننے کا اسے کوئی افسوس ہوتا۔ وہ کوئی مشرقی لڑکی تو تھی نہیں کہ اپنی عزت و عصمت کا خوف کرتی۔ دولت سے وہ قبیل ویسے تہی دامن ہوتی ہے۔ لے دے کے ایک چرس ایسی چیز تھی جو اس کے نزدیک قیمتی تھی مگر وہ ہم خود اس کے حوالے کر چکے تھے تو چھین لیے جانے کا ڈر کیسا؟
تھوڑی دیر بعد ہم جانان خان کی حویلی میں پہنچ گئے تھے۔ دربان نے اسے دیکھتے ہوئے معنی خیز انداز میں سرہلاتے ہوئے دروازہ کھول دیا ۔
”جانان خان کو بتلا دینا کہ ہم واپس پہنچ گئے ہیں۔“ میں نے دربان کو بتلادیا اور اس نے اثبات میں سرہلانے پر اکتفا کیا۔
لڑکی کو لیے ہم سیدھے مہمان خانے میں پہنچے کمرے کے اندر ٹیوب لائٹ جل رہی تھی جو جنریٹر کی مرہون منت تھی۔جنریٹر کے چلنے کی ہلکی ہلکی آواز ہمارے کانوں میں آرہی تھی وہ اس وسیع وعریض حویلی کے کسی کونے میں رکھا گیا تھا۔ ورنہ نزدیک ہونے کی صورت میں جنریٹر کی آواز کانوں کو خاصی ناگوار گزرتی ہے۔
”بیٹھو۔“ میںنے چارپائی کی طرف اشارہ کیا اور وہ آہستہ سے بیٹھ گئی۔ اب تک اس نے ہمارے مقصد کے متعلق استفسار نہیں کیا تھا کہ ہم کیوں اسے ساتھ لے آئے تھے اور اس کا مطلب یہی تھا کہ اس نے اپنے طور پر کوئی مطلب اخذ کیاہوا تھا۔ وہ جینز کی پتلون اور ہلکے سرخ رنگ کی شرٹ میں ملبوس تھی۔ اس کے لباس کی حالت دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا تھا کہ اسے پانی کی صورت دیکھے عرصہ بیت چکا ہے اور یہی وجہ تھی کہ اس لڑکی کے بدن سے کافی ناگوار سی بواٹھ رہی تھی۔
”میرا نام جان ،اوراس کا امجد ہے۔ آپ کا نام ؟“
”آپ مجھے لزا کہہ سکتے ہیں۔“
”اچھا مس لزا سب سے پہلے تو آپ ایسا کریں کے نہا لیں اس کے بعد کھانا کھائیں گے۔“
”مم…. میں ایسے ہی ٹھیک ہی ہوں۔“ وہ گھبرا گئی۔
”ٹھیک کدھر ہو، آئینہ دیکھا ہے…. بھوت نظر آرہی ہو۔“
”مم…. مگر نہا کر…. پہنوں گی کیا؟“ اس نے جان چھڑانا چاہی۔
”کپڑوں کا بندوبست ہو جائے گا۔“میں نے اسے بازو سے پکڑ کر باتھ روم کی طرف دھکیلا اور وہ مرے مرے قدموں سے باتھ روم کی طرف بڑ ھ گئی۔ اس کے باتھ روم میں گھستے ہی میں نے امجد کو کہا۔
”تم بیٹھو میں ابھی آیا۔“
”کہاں جارہے ہو؟“
”لزا کے لیے کپڑوں کا بندوبست کرنے۔“
”بازار جاﺅ گے؟“
”نہیں …. جانان خان سے کہتا ہوں۔“
” ٹھیک ہے۔“ میں باہر کی طرف چل پڑا مگر اس سے پہلے کہ میں کمرے سے نکلتا جانان خان ”السلام علیکم“ کہتے ہوئے جاگیردار کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوا۔
”وعلیکم السلام…. آئیں ملک صاحب میں آپ کی طرف ہی جارہا تھا۔“
”حکم کرو۔“ وہ بشاشت سے بولا۔
”زنانہ شلوار قمیص چاہیے تھی۔“
”خیر تو ہے۔“ وہ معنی خیز مسکراہٹ سے بولا۔
”ہاں بس ایک لڑکی تو ہم پکڑ لائے ہیں مگر وہ ہے غیر ملکی اب اسے اپنے علاقے کی عورت کا روپ دینا ہے۔“
”شلوار قمیص تو مشکل ہے۔ البتہ میں مقامی لباس لے آتا ہوں۔“ وہ کمرے سے نکل گیا۔
”عمر جان صاحب!…. یہ عورت کدھر سے مل گئی؟۔“ جاگیردار امجد کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ گیااور میں نے مسکراتے ہوئے اسے لزا کے ملنے کی کہانی سنا دی۔
”اسی لیے ملک صاحب کی تجویز سنتے ہی آپ عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی تلاش میں چل پڑے تھے؟“
ملک جانان خان جلد ہی کپڑوں کے بنڈل کے ساتھ لوٹ آیا۔ گلابی رنگ کا گھگرا جس پر سبز اور سفید کشیدہ کاری کی گئی تھی اس کے ساتھ اسی رنگ کی شلوار اور دوپٹا مجھے کافی خوب صورت لگا۔
کپڑوں کا بنڈل اس سے لے کر میں باتھ روم کے د روازے کی طرف بڑھ گیا۔
”لزا یہ کپڑے لے لو۔“ میں نے دروازے پر دستک دے کر اسے آواز دی اور خود دروازے سے تھوڑا ساہٹ کر کھڑہوا گیا کیونکہ مجھے پتا تھا کہ اس نے دروازہ کھول دینا ہے اور وہی ہوا جس کی مجھے امید تھی۔
”دے دو۔“ اس نے مکمل دروازہ کھول دیا ۔
میں نے اس کی طرف دیکھنے سے گریز کرتے ہوئے اندازے سے کپڑے اس کی جانب بڑھا دیئے اور پھر واپس امجد پارٹی کے پاس آبیٹھا۔
جاگیردار جانان خان کو لزا کی بابت تفصیل بتلا رہا تھا جبکہ امجد نے ا س موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے گن کی صفائی کرنی شروع کر دی تھی۔ وہ اس منصوبے کے حق میں نہیں تھا مگر میری طرح اس کے ذہن میں بھی اس کا متبادل حل نہیں آرہا تھااس لیے خاموش تھا، البتہ خاموش تائید کے باوجود اس منصوبے پر عمل پیرا ہونے کے لیے اس نے کوئی خاص سرگرمی نہیں دکھائی تھی۔
چند لمحے بعد ہی لزا باتھ روم سے برآمد ہوئی۔ دوپٹے کو اس نے سکارف کی طرح گلے میں لپیٹ لیا تھا۔ اسے دیکھ کر جانان خان اور جاگیردار حیران رہ گئے تھے بلکہ وہ کیا خود ہمیں بھی حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔ ان کپڑوں میں وہ اتنی دلکش پیاری اور پُرکشش لگ رہی تھی کہ اگر ہم اس کا دوسرا روپ نہ دیکھ چکے ہوتے تو کبھی بھی اسے اس منصوبے میں استعمال کرنے کی کوشش نہ کرتے۔
”او ہلک دا خوڈیراخکلی دے۔“(او لڑکے یہ تو بہت خوب صورت ہے)جانان خان کے منہ سے بے ساختہ نکلا اور میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی وہ خراماں خراماں چلتے ہوئے میرے ساتھ آ کر بیٹھ گئی اور ہولے سے بولی۔
” میں کیسی لگ رہی ہوں جان؟“
”بہت اچھی اور بہت خوب صورت۔“ میںنے صاف گوئی سے کہا۔
”شکریہ۔“ کہتے ہوئے اس کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی تھی۔
”کھانا منگواﺅں….؟ بھوک لگی ہے یا نہیں؟۔“ میں مستفسر ہوا۔
”کل صبح چاے کے ساتھ ایک ڈبل روٹی کھائی تھی۔“ اس نے پیٹ پر ہاتھ پھیرا۔
”ملک صاحب کھانا تومنگوالو۔“ میں جانان خان ے مخاطب ہو ا۔
”جاگیردار …. کھانا لے آﺅ….میں بھی یہیں کھاو¿ں گا ۔“ مخاطب وہ جاگیر دارکو تھا مگر اس کی نظریں لزا کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔
جاگیر۔ ”جی خان جی۔“ کہہ کر چلا گیا۔
”اس سے آپ نے بات کرلی ہے۔“ اس کا اشارہ لزا کی جانب تھا۔
”نہیں۔“ میں نے نفی میں سرہلایا۔ ”مگر یہ آسانی سے مان جائے گی۔“
”ہوں۔“ کہہ کر وہ گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ امجد بڑے انہماک سے کلاشن کوف کی صفائی میں مصروف تھا۔ میں بھی خاموشی سے جاگیردار کی واپسی کا انتظار کرنے لگا۔
لزا زیادہ دیر خاموش نہ رہ سکی اور ہولے سے بولی۔
”آپ کتنے آدمی ہو….؟“
”کیا مطلب ؟“ میرے لہجے میں حیرانی تھی۔
” مطلب …. آپ یہی چار مرد ہو…. یا اوربھی ہیں؟“
ً”میں اب بھی آپ کی بات نہیں سمجھ سکا ہوں کہ ہماری تعداد سے آپ کا کیا تعلق ۔“
”وہ …. وہ دراصل ….میں آپ کے ساتھ اس لیے آئی تھی کہ میں نے سمجھا آپ صرف دو آدمی ہو جبکہ یہاں لگتا ہے آپ لوگوں کی کافی تعداد ہے اور میں اکیلی۔ کیسے….؟“ اس نے بات ادھوری چھوڑڈی مگر میں اس کے مفہوم سے پوری طرح آگاہ ہو گیا تھا اور یہ آگاہی نامہ میرے لیے فقط شرمندگی کا باعث ہی بن سکا تھا امجد نے بھی عجیب سی نظروں سے میری طرف دیکھا۔
میں جلدی سے بولا۔”نہیں نہیں لزا ایسی کوئی بات بھی نہیں ہے۔“
مگر اسے یہ باور کرانا بہت مشکل تھا کہ ہم اسے کسی مذموم مقصد کے لیے اپنے ساتھ نہیں لائے تھے۔ اس نے جس معاشرے میں آنکھ کھولی تھی اور جس تہذیب کی وہ پرورُدہ تھی اس تہذیب میں عورت اور مرد کا صرف ایک ہی رشتا تھا اور وہ تھا جسمانی تعلق کا رشتا۔ جبکہ ہمارا معاشرہ عورت کو کئی پاکیزہ رشتوں کی صورت میں ہمارے سامنے لاتا تھا۔ جس کی ہر صورت ہمارے لیے قابل احترام، مقدس اور قابل عزت تھی۔ اس نے جس خدشے کا اظہارد بے الفاظ میں کیا تھا وہ اس بات کا مظہر تھا کہ اس کم عمری میں اسے کافی تلخ تجربات ہو چکے تھے۔
”کیا مطلب…. ایسی کوئی بات نہیں ہے کا؟“ اب حیرانی ہونے کی باری اس کی تھی۔
”پہلے کھانا کھالیں…. پھر بتاتا ہوں۔“ جاگیردار کو کھانے والے برتنوں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر میں بولا ،وہ اثبات میں سرہلا کر رہ گئی تھی۔ ایک دوسرا ملازم بھی جاگیردار کے ہمراہ تھا۔ کھانے والے برتن ٹیبل پر رکھ کر وہ دونوں باہر نکل گئے تھے، جاگیر دارخا ن بھی جانان خان کے احترام میں ہمارے ساتھ کھانے میں شریک نہیں ہواتھا۔
کھانے کے دوران جانان خان مستفسر ہوا۔
”یہ لڑکی آپ سے کیا پوچھ رہی تھی؟“
لزا چونکہ انگریزی میں بات کرتی رہی تھی اس لیے جانان خان کے پلے کچھ نہیں پڑا تھا۔ امجد اور میں بھی کوئی اتنی اچھی انگلش نہیں بول سکتے تھے بس گزارے لائق سمجھ بول لیتے تھے۔ اسی طرح لزا کو بھی انگلش پر اتنا عبور نہیں تھا، نامعلوم اس کی مادری زبان کون سی تھی، لیکن جانان خان تو اس معاملے میں بالکل کورا تھا۔
”یہ پوچھ رہی تھی کہ ہم اس سے کیا کام لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔“ میں بات کو گول مول کیا۔
”تو پھر آپ نے کیا بتلایا؟“ اس نے اشتیاق سے پوچھا۔
”فی الحال تو کچھ نہیں بتلایا۔ کھانے کے بعد یا پھر کل صبح اس سے تفصیل سے گفتگو کریں گے۔“کھانا کھانے کے بعد ملازم چاے لے آیا چاے پی کر میں نے لزا سے پوچھا….
”تمھیں مزید کوئی چیز درکار ہے؟“
”اگر سگریٹ مل جاتے؟….اس کے ساتھ تھوڑی سی چرس بھی۔“
”کیا؟“ اس کی بات نے مجھے حیران کر دیا تھا۔ ” پاﺅ بھر چرس کا کیاہوئی ؟ “
”وہ میںساتھ لیے تھوڑی پھر سکتی ہوں….؟وہ تو میں نے اسی درخت کے ساتھ ایک مناسب جگہ پر چھپا دی تھی۔“
”ملک صاحب !….سگریٹ اور چرس مل جائے گی۔“
”کیوں نہیں…. یہ لو۔“ اس نے گولڈ لیف کی ڈبی میری جانب بڑھائی اس میں چرس سے بھرے سگریٹ موجود ہیں۔“
ڈبی لے کر میں نے لزا کی طرف بڑھا دی ….
”اس میں چرس سے بھرے سگریٹ موجود ہیں۔ اب تم آرام کرو صبح کام سے متعلق بات چیت کریں گے۔“ اسے کہہ کرمیں جانان خان سے مخاطب ہوا۔
”چلیں ملک صاحب تاکہ یہ آرام کرسکے۔“
”ہاں…. ہاں کیوں نہیں۔“ وہ اٹھ گیا۔ جبکہ امجد میری بات سن کر اس سے پہلے کھڑا ہو گیا تھا۔
”جان!…. تم تو میرے ساتھ رہ جاﺅ نا۔“ لزالجاجت سے بولی ۔
”نہیں لزا !….میں فی الحال آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتا اور کیوں نہیں رہ سکتا اس بارے پھر کبھی بات کریں گے۔ اب تم ہمیں اجازت دو اور خود بھی آرام کرو۔“
اسے ہکا بکا چھوڑ کر ہم باہر نکل آئے۔
جانان خان نے پوچھا۔”اب یہ کیا کہہ رہی تھی؟“
میرا جی چاہا کہ اس سے پوچھوں کہ وہ لزا میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے مگر پھر مصلحت آڑے آگئی ۔میں نے بات کو گول مول کر دیا۔
”اب بھی وہ اس کام کے متعلق استفسار کررہی تھی جو ہم اس سے لینا چاہتے ہیں؟“
”تو بتاد ینا تھا ناں اسے۔“
”نہیں صبح بتلائیں گے تفصیل کے ساتھ۔“
وہ بولا۔ ”چلو جیسے تمھاری مرضی۔“ اس دوران ہم آرام گاہ میں پہنچ چکے تھے۔
میں نے کہا۔ ”ملک صاحب ہمیں بھی کوئی کمرہ دکھا دیں تاکہ تھوڑا آرام کرلیں۔“
”تھوڑی گپ شپ کر تے ہیں…. پھر سو جانا۔“ وہ مصر ہوا۔
” صبح گپ شپ ہو گی انشا ءاللہ لگائیں گے۔ فی الحال ہم تھکن محسوس کررہے ہیں ۔“ میں نے جان چھڑائی۔
” ٹھیک ہے ….آپ آرام کریں۔“ خلاف توقع وہ راضی ہوگیا۔”یہ ساتھ والا کمرہ خالی پڑا ہے۔“ اس نے اپنی آرام گاہ سے متصل کمرے کی جانب اشارہ کیا ۔
ہم مصافحہ کر کے کمرے سے نکل آئے۔ دوسرے کمرے میں بھی لکڑی کی دو رنگین چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں۔ بلکہ اس حویلی کے ہر کمرے میں مجھے اس طرح کی چارپائیاں اور ان کے اوپر بچھے ہوئے بستر دکھائی دیئے تھے۔ شاید جانان خان کے ہاں مہمانوں کی آمدورفت لگی رہتی تھی۔ ہم کمرے میں گھستے ہی چارپائیوں پر لیٹ گئے۔ امجد خلافِ توقع چپ تھا۔ پہلے تو میں نے سمجھا شاید جانان خان کی وجہ سے خاموش ہے مگر اکیلے ہونے کے بعد بھی اس نے کوئی بات نہیں کی تھی۔
”ماجے خیر تو ہے؟“ میں نے اس کی طرف کروٹ بدلی۔ ”کافی دیر سے چپ ہو؟“
”جانو!….میں اس ترکیب کے حق میں نہیں ہوں۔ میرا ضمیر اس پر بالکل راضی نہیں…. ایک معصوم لڑکی کو استعمال کرنا کہاں کی مردانگی ہے۔“
”اس کے علاوہ چارہ بھی تو کوئی نہیں۔ دوسرے ہم اسے کون سا موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔ اسے صرف ایک خطرہ ہے جو اس کی نظرمیں شاید خطرے کی بجائے انجوائے منٹ ہو، وہ کوئی پارسا لڑکی تو ہے نہیں۔ سنا نہیں تھا کتنی بے باکی سے اس موضوع پر محو گفتگو تھی۔“
”کچھ بھی ہے…. اگر تم نے اسے استعمال کیا تو میں تمھارا ساتھ نہیں دے سکوں گا۔“امجد نے حتمی لہجے میں کہا اور میں حیرانی سے اس کے چہرے کی جانب تکتا رہ گیا ۔
(جاری ہے )