???? بلیک روز
???? سمرین شاہ
???? قسط نمبر 19 l
زُلنین اس پہ تھپڑوں کی بارش کرچکا تھا جس سے اس شخص کا چہرہ نیلا ہوگیا تھا ہما کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی اور بھاگی اور زُلنین کی پُشت سے شرٹ پکڑ کر کھینچا
"زُلنین زُلنین ! چھوڑے اسے اتنی مار کافی ہے زُلنین بیشک انھیں سلاخوں میں ڈال دیں لیکن مار تو نہ دیں ۔”
زلینن کو ایک منٹ لگا ہوش میں آیا وہ جلدی سے اسے چھوڑ کر پیچھے ہوا لیکن ایک کو ٹھوکر مار کر غرایا
"ان کی وجہ سے چھوڑ رہا ہوں ورنہ آج تمھارا ٹھکانہ کفن تھا سوری بولو اپنی بہن کو ۔”
"زلینن بس ٹھیک ہے چلے ۔”
وہ پریشانی سے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی
"کیا کہا ہے میں نے سوری بولو !”
وہ دھاڑا
"س س سوری ۔”
"اٹس اوکے چلے زلینن ۔”
زلینن تیزی سے مڑا اور ہما کا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگا
"لوگ صحیح کہتے ہیں آپ واقی جلاد ہیں میں خوامخواہ آپ کو شریف سمجھتی تھی اب تو قسم سے اتنے خطرناک ۔”
وہ ناراضگی سے بولی زلینن خاموش ہی رہا اسے خود پہ حیرانگی ہورہی تھی کے وہ اپنے اس غضیلی طبیعت کو ہما کے سامنے بھی چھپا نہ سکا اسے خود پر غصہ آرہا تھا لیکن ان لڑکوں کی نظریں اور الفاظ بھی تو برداشت سے باہر تھے
وہ تھانے کے اندر آیا اور ایک طرف لیے گیا اور وجدان کے آفس میں انڑ ہوا وجدان اس وقت فائل پہ مصروف تھا زُلنین کو اندر آنے کے ساتھ ایک لڑکی کو دیکھ کر جھٹکے سے اُٹھا
"یہ کون ہے ؟”
"طاہرہ میڈیم کی نواسی ۔”
چونکہ وجدان اس کیس کے لیے کام کررہا تھا اس لیے زلینن نے اسے بتادیا
"اسلام و علیکم ہما پلیز بیٹھیے ۔”
وجدان سمجھ گیا اور ہما کی طرف دیکھتے ہوئے ہلکی سے مسکراہٹ پر بولا ہما نے سر ہلایا اور نا سمجھی سے زلینن کو دیکھا
"وجی میں زرا ابھی آیا تم بیٹھو ہما میں ابھی آرہا ہوں ۔”
"لیکن !”
"آرہا ہوں پھر چلے گئے ٹھیک ہے بیٹھو وجدان میرا دوست ہی ہے ۔”
وہ ہلکی سی مسکراہٹ اچھال کر چل پڑا ہما اسے دیکھتی رہی
"ارے مس ہما بیٹھے ۔”
وہ اس کے کہنے پر سر ہلاتے ہوہے بیٹھی
"کیا لے گیا آپ ٹھنڈا گرم ؟”
وہ اب انٹرکام اُٹھاتے ہوئے پوچھنے لگا ہما نے نفی میں سر ہلایا اور اردگرد اس شاندار آفس کو دیکھنے لگی
"ارے کچھ تو لے گی آپ زلینن کی فرینڈ ہیں موسم کے لحاظ سے کافی چلے گی میں منگواتا ہوں ۔”
وہ دو کافی کے آڈر دیں کر ہما کی طرف مڑا جو کسی سوچ میں۔ گُم تھی
"ہاں جی مس ہما کیسی ہے آپ بہت افسوس ہوا آپ کی نانو کا سُن کر اللّٰلہ ان کی مغفرت کریں ۔”
"امین ۔”
ہما کے آنکھوں میں نانو کے ذکر سے پھر سے نمی آنے لگی جس اس نے سختی سے روکا
"ہما جب آپ آئی تھی تو آپ کو نانو کس حالت میں ملی تھی ۔”
ہما نے چونک کر سر اُٹھایا وجدان کو دیکھا جو بالکل سنیجدہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
"جی !”
"میں کہہ رہا ہوں آپ کو نانو مرتے ہوئے کس حالت میں ملی تھی ۔”
"نانو شہر گئی تھی اپنے دوست کے کسی فنکشن پر تو میں زلینن کے ساتھ ایسے ہی گئی تھے جانا نہیں چاہیے تھا لیکن جو میرے باپ ۔”
وجدان ایک دم چونکہ
"جو آپ کا باپ ؟ہما مجھے آپ کھل کر بتائیں اس میں آپ کا ہی بھلا ہے ۔”
"میرا بھلا ؟”
"جی آپ کا بھلا ؟”
"کوئی بات ہوئی ہے سر ؟”
ہما کو شک کی گھنٹی بجی
"آپ کچھ کہہ رہی تھی ۔”
وجدان ابھی فل حال جیسے بتانے کو تیار نہیں تھا
"جی تو زلینن کے ساتھ واپس میں سات بجے آئی مجھے لگا نانو آٹھ نو بجے آئی گی اس لیے جلدی آگئی گھر آتے دیکھا نانو لائونج کے صوفے سر ٹکائے لیٹی تھی اور میں گھبڑا گئی نانو تھوڑی سخت مزاج تھی اس لیے لیکن زلینن نے کہا کے سب بتادینا وہاں گئی نانو نے کوئی رسپونڈ نہیں کیا پہلے لگا مجھے سے ناراض ہے پھر پتا چلا سو گئی ہیں انھیں کمبل اوڑھنے کے لیے اُٹھی واپس آئی اب اُٹھا نہیں سکتی تھی اس لیے یہی انھیں سوچا یہی لٹادو جیسے نانو کی گردن پکڑی ۔۔”
اس سے آگئے بولا نہیں گیا وجدان نے پانی کا گلاس اسے پکڑایا ہما نے تھام لیا اور اسے پینے لگی ، وجدان اسے دیکھ رہا تھا پھر نظریں چینج کر لی کیونکہ زلینن صاحب کہی نہیں گئے تھے عین ہما کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور وجدان کو وہ دیکھ رہا تھا وجدان کو پتا تھا زلینن کیا اس کے لیے کوئی حیرانگی والی بات نہیں تھی ہاں اس کے لیے بالکل بھی نہیں تھی کیونکہ اسے سب پتا تھا
"اچھا پتا چلا کے نانو کو کیا ہوا ؟”
وہ اب سیٹ کے پیچھے ہوگیا تھا
"پتا نہیں مجھے اس وقت ہوش ہی نہیں رہا کے نانو تو بالکل ٹھیک تھی بالکل فریش اچانک پتا نہیں کیا ہوگیا !”
"اوکے ! اور غسل کس نے کروایا تھا نانو کو ۔”
"مجھے کچھ نہیں یاد پتا نہیں شاہد عورت آئی تھی مجھے کہہ رہی تھی میں کرواوں گی میری دوست ہے ۔”
"کون تھی وہ ؟”
اچانک زلینن چونکہ اور وجدان کو دیکھا جو اب ہما کو ہی دیکھ رہا تھا سوچ کی لکیر اس کے چہرے پہ پائی جارہی تھی
"مجھے یاد نہیں ہے ۔”
"صحیح سے یاد کریں ہما کیا آپ نے انھیں کھبی دیکھا ہے ۔”
"نہیں ۔”
ہما نے نفی میں سر ہلایا
"اوکے اگر ہم آپ کو کھبی بلائے تو آپ آئی گی ۔”
"جی اگر زلینن کہے ۔”
اس کی معصومانہ بات پر زلینن اور وجدان کی چہرے پہ مسکراہٹ آئی
"زلینن کا تو بس نہیں چلے گا وہ تو کہی آپ کو پولیس آفسر ہی نہ بنادیں ۔”
"جی!”
زلینن نے اسے گھورا
"مزاق کررہا ہوں یہ لے آپ کی کافی میں ابھی آیا ۔”
وہ اُٹھ گیا اور ہما اسے جاتا ہوا دیکھنے لگی
"کمفرٹیبل ۔”
وہ زلینن کی آواز سے اچھلی اور دل پہ ہاتھ رکھا
"اللّٰلہ !”
اس نے دیکھا زلینن بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا
"کیا ہوا ڈر کیوں گی ۔”
"آپ کب آئے ۔ ”
وہ اسے حیرت سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی
"ابھی ایک سکینڈ پہلے اوہو کافی پیے جارہی ہے ۔”
وہ کپ کی طرف اشارہ کرتے ہوے بولا
"ہم یہاں کب تک ہے زلینن ؟”
ہما بیزار سے اِدھر اُدھر دیکھنے کے بعد اسے بولی
"کیوں میرا آفس پسند نہیں آیا ؟”
"یہ آپ کا تو آفس نہیں ہے ۔”
"ہاں پر کام تو ہوتے ہے نا ! وجدان کیسا لگا تنگ تو نہیں کیا !۔”
"بس نانو کی پوچھ گچھ کررہے تھے ! نانو کو تو ہارٹ اٹیک ہوا تھا نا تو یہ ایسے کیوں پوچھ رہے تھے جیسے ان کا مرڈر ہوا تھا ۔”
"پاگل تھوڑا شکی سا ہے ایسے موت اس کو ہضم نہیں ہوتی ۔”
"او اوکے !”
"ویسے آپ نے ٹھیک نہیں کیا اتنا نہیں مارنا چاہیے تھا انھیں بیچارے کے منہ سے خون کے فوارے نکلنے لگے تھے ۔”
زلینن نے اسے گھورا
"ہما وہ بیچارے نہیں تھے دیکھا نہیں تھا کتنی غلیض نظریں تھی ان کی ۔”
"مجھے پتا ہے لیکن اتنا ٹارچر نہیں بنتا تھا ۔”
"شکر ہے محترمہ آپ پولیس میں نہیں ہے ورنہ آپ نے ہر مجرم کو معاف کردینا تھا کے کوئی نہیں ہوجاتی ہے غلطی اتنا بھی قصور نہیں بنتا تھا ان کا ۔”
وہ اب تیزی سے اور تمسخرا انداز سے بولا
"آپ بہت روڈ ہورہے ہیں ۔”
ہما کو اس کے اس نئے قسم کے لہجے کی عادت نہیں تھی ۔
"آپ بات ایسے نہیں کریں گی تو نہیں ہوگا روڈ ۔”
زلینن کے لہجے میں نرمی آگئی تھی
"جو لوگ کہتے ہیں صحیح کہتے ہیں آپ کے بارے میں ۔”
وہ خفگی سے کہتے ہوئے کافی کا کپ اُٹھانے لگی
"اور کیا کہتے ہیں لوگ میرے بارے میں ؟”
"یہ کے آپ جلاد ہے اور سو فیصد سچ کہتے ہیں میں بس آپ کو بہت سویٹ سمجھتی تھی ۔”
زلینن کو عجیب سی ناگواری ہوئی وہ ہر کسی سے اپنے بُرے کمنٹس سُن سکتا تھا لیکن ہما سے نہیں ۔
"میں تو اب بھی سویٹ ہوں ہما ،بس جو چیز غلط ہے میں اس کے خلاف ہوں ۔”
"آپ ہی تو کہتے تھے بُرائی کو بُرا بن کر ٹریٹ مت کرو اسے اچھا بن کر مات دو تو یہاں آپ کی کون سی اچھائی تھی ۔”
زلینن ایک دم لاجواب ہوگیا پھر جب بولا تو آواز نارمل تھی
"تم نے سوشیلوجی پڑھی ہے ہما ؟”
"یہ کیسا سوال ہے ؟”
وہ چونکی
"اس میں ایک جرمن فیلوسفر ایند اکنامسٹ ہے مکث ویبیر اس کا کہنا تھا سوشیل ایکشن کے دو طریقے ہیں جس سے سوسائٹی کو طریقے سے چلایا جاسکتا یا کسی کو زبردستی منوانا یا کسی کو قائل کرنے کی کوشش کرنا زبردستی میں دو چیز آتی ہیں یا تو دھمکی وہ دھمکی اب کسی چیز کی بھی ہوسکتی اور دوسرا وائیلنس یانی مار پیٹنا کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو ہم نرمی سے اپنے محبت اور اچھائی سے قائل کر لیتے ہیں اور وہ قائل ہونا بھی چاہیتے ہیں جبکہ دوسرے لوگ جن کے جسم سے لیکر زہینیت تک گندگی بھری ہوتی ہے تو اس گندگی کا خاتمہ کھبی کھبی اچھائی نہیں ہوتی جو بہرحال آپ سائیکولجسٹ کو سمجھ نہیں آئی گی ۔”
وہ اب لاجواب ہوگئی تھی لیکن وہ ہار مانے والوں میں سے نہیں تھی
"اور اسلام کیا کہتا ہے اس بارے میں ۔”
اب زلینن پھر خاموش ہوگیا
"اسلام میں تو بُرے کے ساتھ بُرا سلوک کا تو نہیں کہا گیا آپ کو پتا ہے جنگ کے قیدیوں کے ساتھ بھی ہمارے نبی صلہ اللّٰلہ و علیہ وسلم نے اتنا اچھا سلوک کیا تھا کے وہ ان کی اتنی اچھائی پر اسلام قبول کرنے پر مجبور ہوگئے تھے ۔”
زلینن اس کی بات پہ مسکرا پڑا وہ واقی اس بارے میں جواب نہیں دیں سکتا تھا
"اچھا میڈم آپ جیت گئی ٹھیک ہیں آئیندہ اچھائی اور نرمی سے ہینڈل سے کرو گا مجرموں کو لیکن کہی یہ نہ ہو کے میں ہی مارا نہ جاو اس چکر میں ۔”
ہما کے دل میں اچانک تکلیف کی لہر اُٹھی وہ کھبی سوچ نہیں سکتی تھی زلینن کو کچھ ہوئے پتا نہیں بہت ہی عجیب سا احساس اس پر گزرا تھا
"فضول باتیں مت کرا کریں ۔”
وہ گھورتے ہوئے بولی
"کیا کریں ہم آدمی ہے بڑے فضول سے ۔”
وہ کافی کے سپ لینے لگی
"آپ کا کام ہوگیا ۔”
زلینن نے نفی میں سر ہلایا
"تو پھر جائے اپنا کام مکمل کریں بارہ بج گئے ہیں زلینن !۔”
"کام ہی تو کررہا ہوں ۔”
وہ ہما کو مسکرا کر دیکھتے ہوئے کہنے لگا
"کیا ؟”
"تمھیں دیکھ کر ۔”
ہما حلق میں کافی اٹک گئی
"واٹ !”
زلینن گڑبڑایا
"آئی مین تمھیں دیکھ کر کافی کا دل ہورہا میں ابھی آیا !۔”
وہ خود کو ہزار دفعہ کوستے ہوئے وہ باہر نکلا اور ہما اسے جاتا ہوا دیکھنے لگی پھر کندھے اچکاتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھنے لگی
????????????????????????????????????????
"ہاں جی تو مس ہما کہاں جانا ہے آپ کو ؟۔”
زلینن نے کار اسلام آباد ہائے وے کی طرف لیکر گیا جب چہرے موڑتے ہوئے ہما سے پوچھنے لگا
"ام مجھے وہاں جانا ہے پتا نہیں کیا نام ہے اس کا ۔”
"ہاں بولے کیا یاد کریں گی آپ زلینن زولفیقار آپ کو آج کہی لیکر جائے گا جہاں آپ چاہیے ۔”
وہ مسکرا کر موڑ کاٹتے ہوئے بولا
"نام تھا ہاں یاد لنڈی بازار !مجھے وہاں جانا ہے ۔”
زلینن پہلے اسے دیکھتا رہا وہ بھی حیرت سے اور پھر کھلکھلا کر ہنس پڑا
"سب سے پہلے بات وہ لنڈی نہیں او گاڈ ہاہاہا لنڈا ہوتا ہے یا سمپلی ایل مارکٹ دوسرا پورے اسلام آباد میں سینٹورس سفا مال کو چھوڑ کر آپ وہاں جانا چاہتی ہیں اور ویسے بھی باہر کی چیزیں ملی گی ۔”
"آپ لیکر جارہے ہیں کے نہیں ویسے بھی سُنا وہاں بہت سستی اور اچھی چیزیں ملتی ہیں ڈیکوریشن پیسس کارپٹس رگز اور سبزیاں بھی ضروری بندہ کپڑے لینے ہی جائے اور اگر آپ اجازت دیں زلینن میں چاہتی ہوں میں آپ کا سکول اپنے ہاتھ سے ریینیوٹ کرو کچھ کرنا چاہتی ہوں جب تک میری یونی نہیں سٹارٹ ہوجاتی آگر آپ اجازت دیں دوسرا دیکھنا پھر کیسا آپ کا ایمج کلیر ہوگا اور پھر بچوں سے بھرا ہوگا سکول ۔”
زلینن نے بے حد پیار سے اس کو دیکھا
"ہاں کیوں نہیں ضرور داٹس دا سپرٹ ! میں تو کہنے والا تھا لیکن ابھی غم تھا نانو کو کہنے کی ہمت نہیں ہوئی ۔”
ہما کی مسکراہٹ غائب ہوگئی
"اب جانے والے پہ صبر کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے ۔”
وہ اداسی سے بولی
????????????????????????????????????????????
ایل مارکٹ میں اس وقت رش کم تھا کیونکہ عموماً چھٹی والے دن زیادہ رش پایا جاتا تھا
ہما اردگرد ہر چیز کو دیکھ رہی تھی اور ہر دُکان کا مالک
"دو دو سو بیس بیس روپے ۔”کا نعرہ لگا رہا تھا تاکہ گاہگ کو اپنی طرف متوجہ کر سکے
ہما کی ہنسی چھوٹ گئی
"کیا ہوا ۔”
"یہ کیسے بول رہے ہیں ۔”
زلینن بھی مسکرا پڑا
"کام ہے ان کا ۔”
وہ کندھے اچکاتے ہوئے بولا ،وہ کپڑے کی دُکان چھوڑ کر کارپٹس والی جگہ گئی اور لال رنگ کا خوبصورت آفغانی کارپٹ دیکھ کر ہما کی آنکھیں چندھیاں گئی
"زلینن یہ دیکھے کتنا خوبصورت ہے ۔”
زلینن دیکھ رہا تھا کب کسی فورس نے اسے کھینچا
اس نے مڑ کر دیکھا کوئی نہیں تھا زلینن نے اردگرد نظریں دوڑائی ضرور جزلان کمینہ ہوگا ایک بار نظر تو آئے پھر بتاتا ہے اس کو ۔
وہ اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا جب ہما نے دو کارپٹس پسند کر لیے
"یہ دیکھیے اچھے ہے نا ایک تو میں نے انڑنس کے لیے اور دوسرا اپنے روم کے لیے ۔”
"اچھے ہیں ۔
"ہم باقی چیزیں دیکھ کر آتے ہیں تب انھیں اُٹھا لے گئے بہت ہیوی ہے نا ۔”
"ٹھیک ہے ۔”
وہ چلنے لگی جب زلینن کی کسی کی ساتھ ٹکر ہوئی اور وہ آگئے چلنے لگا جب مڑا تو بچی گر گئی تھی
"ایک منٹ ہما ۔”
وہ واپس آیا اور اس بچی کی ہلیپ کی
"سوری بیٹا ۔”
وہ بچی پہلے رونے والی ہوگی لیکن زلینن کی نرم مسکراہٹ کو دیکھ کر بولی
"اٹس اوکے انکل !۔”
ہما کو لگا تھا جن سے زلینن اس کی زندگی میں آیا مسکراہٹ کھبی اس کے چہرے سے الگ نہیں ہوئی اتنا اچھا اور پیارا انسان ۔
وہ اُٹھ کر مڑا ہی تھا ہما کے پیچھے دیکھا وہی گروپ کے لڑکے ساتھ تین چار نئی پارٹی تھی
"ایس پی صاحب بھول گئے ۔”
ہما بھی زلینن کی نظروں اور آواز پہ تیزی سے مڑی
ہما مڑی تو اس کو انھیں لڑکوں کو دیکھ کر جھٹکا لگا ایک میں سے زخمی کھڑا انھیں اشارہ کررہا تھا کے یہی لوگ ہیں ،ہما مے جلدی سے زلنین کو دیکھا جو بالکل سپاٹ نظروں سے انھیں دیکھ رہا تھا پھر ہما کو دیکھا کے اب بتاو ان بُرے لوگوں کے ساتھ کیا کرو ہما نے شرمندگی سے نظریں ہٹا لی
"ہاں ایس پی صاحب آج تو تیرا پولیس سٹیشن بھی پاس نہیں ہے اب تو کیا کریں گا ۔”
ہما جلدی سے زُلنین کے پیچھے آئی ،تھیں تو ازل سے ڈرپوک کون کہتا کے وہی بہادر ہما ہے جو لوگوں سے آنکھ ملا کر بنا کسی کے خوف کے بات کرتی تھی لیکن اچانک زُلنین کی وجہ سے پتا نہیں خود کو کیوں کمزور سمجھنے لگی زُلنین نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کے سامنے لایا
"ویری گُڈ مجھے ہر چیز کا درس دیں کر خود ہی میرے چھپ گئی ،ہما اب تمھارے ساتھ کوئی نہیں ہے میں بھی نہیں یہ سمجھ لو گی خود کو تم مضبوط کرو گی تمھیں بہادر بنا پڑیں گا ان بھیڑیوں کو اپنے پیروں تلے خود روندوں گی ۔” کوئی بھاگتے ہوئے ہاکی زُلنین کے پیچھے مارنے کے لیے آیا تو ہما چیخنے لگی اس سے پہلے زُلنین کو لگتی زلینن نے مڑ کر ہاکی پکڑی اور یہ پھینک کر ایک تھپڑ مارا اس کا ایک ہی تھپڑ ہی کافی تھا تو وہ اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچا
"مجھے میری بات کے درمیان آنے والے لوگوں سے نفرت ہے اس لیے مائینڈ اٹ ۔”
ہما نے دہل کر اپنے دل پہ ہاتھ رکھ لیا اور صرف ہما نے اردگرد دیکھنے والے لوگوں نے بھی
"زُلنین پلیز کام ڈاون ۔”
ہما اس کے سامنے آئی اور اس نے زُلنین کا ہاتھ پکڑ لیا
"چلے دیکھے ہم کوئی لڑائی نہیں چاہیتے آپ پلیز ان کو ہوسپیٹل لیے جائے ۔”
وہ کہتے ہوئے تیزی سے زُلنین کو اشارہ کرنے لگی اور زلینن آنکھیں گھماتا ہوا اسے دیکھنے لگا جو اسے بہادر بنانے کی کوشش کررہا تھا اور وہ ڈرپوکو کی طرح بھاگ رہی تھی پھر بھی اس کی خاطر چُپ ہوگیا
وہ مڑنے لگا جب کسی نے کھینچا یہ کیا ہورہا ہے کون اسے کھینچ رہا ہے وہ مڑا تو وہ لوگ غائب ہوگئے تھے مطلب اتنی آسانی سے چلے گئے اسے شک کی گھنٹی بجی
"زُلنین !!!”
ہما کی چیخ پر وہ مڑا تو دیکھا اس میں سے ایک نے ہما کو پکڑا تھا اور چھڑی گردن پہ رکھی تھی زُلنین کو تو آگ ہی لگ گئی ۔
"تم لوگوں کو ضرور آج اپنا جنازہ پڑھوانے کا شوق ہے ؟۔”
وہ اب اپنے اصلی روپ میں آرہا تھا
"جنازہ تو تیری محبوبہ کا ہوگا ایس پی ۔”
ہما کا چہرہ سفید ہوگیا لیکن ایک بات اسے نانو کی یاد آئی تھی
"جب انسان خود کو بے بس اور مجبور محسوس کریں جب اس کے پاس کوئی نہ ہو تو وہ اپنے رب کو پکارے بیشک وہ سُنے والا ہے اور رحم کرنے والا ہے ۔”
اور اس وقت ہما نے شدت سے اپنے رب کو پکارا تھا
اچانک اس کا دماغ کام کیا اس نے اپنی ساری ہمت جمع کی اور اپنا پیر اُٹھا کر زور سے اس بندے کے پیر پہ مارا اور کہُنی اس کے پیٹ پہ ماری وہ بندہ ایک دم چیختے ہوئے درد سے پیچھے ہوا ہما نے رکھ کر اس کے منہ پہ زُلنین جتنی طاقت کے برابر تھپڑ مارا اسے سمجھ نہیں آئی یہ ہوا کیا ہے زُلنین کو بھی جھٹکا لگا یہ سب وہ بھی تو ہما سے کروانے لگا تھا تو یہ کون ہے ہما کے آنکھیں آگ رنگ کی برابر ہوگئی جو کسی اور کی بھی ہوا کرتی تھی اس نے جلدی سے ایک کی گردن پکڑی جس سے ایک کا چہرہ نیلا ہوگیا سارے لوگ ہما کی اس حالت پہ خوف کھانے لگے زُلنین۔ بھاگتے ہوئے آیا لیکن ہما نے اس دھکا دیا
"ہما !۔”وہ یقینن ایک کی انتھے باہر نکال دیتی کے زُلنین نے پکڑ کر کھینچا کے اس سے پہلے کوئی اقر بندہ اس کے سامنے آیا مارنے آج تو لگتا تھا پورے ایل مارکٹ میں
فائٹنگ شو ہے یا ڈبلیو ڈبلیو ڈی ریسل مینیا ہے کچھ لوگ تو ویڈیو بنانے لگے اور کچھ تو پریشانی سے بھاگے
کے بھاگو زُلنین اسے مارنے لگا لیکن ہما نے پتا نہیں کہاں سے ڈنڈا برآمد کیا اور زُلنین کا ہاتھ پکڑا
"بھاگے ایس پی صاحب !۔”
وہ کھکھلائی زُلنین ابھی تک حیرت میں تھی اس ڈرپوک لڑکی کو اچانک اتنی طاقت کہاں سے آگئی
"واہ میڈیم مجھ منع کر کے خود بروس لی بنی ہوئی تھی کیا مارا ہے ایک دن میں ٹرینگ لے لی کیا ؟۔”
"پتا نہیں بھاگے اس سے پہلے وہ آجائے اب اتنی طاقت نہیں ہے مجھ میں ۔”
وہ ہنس پڑا
"یار میں تو پولیس والا ہوں پہلا کوئی پولیس والا ہے جو کسی مجرم سے بھاگ رہا ہے ۔”
"یہی تو ایڈونچر ہے ۔”
وہ کھکلاتے ہوئے بولی
"کہی یہ تمھارا ایڈونچر مجھے مار ہی نہ دیں ہما !”
"ارے اتنی جلدی آپ نہیں مرنے والے ۔”
وہ جگہ دیکھ رہی تھی اور زُلنین اسی میں کھویا ہوا تھا وہ واقی اپنے بنا پاور کے اس کے ساتھ ایسی ہی لائف گزارنا چاہتا تھا
"مجھے تو اصولا آپ کو جیل بھجوانا چاہیے آپ نے اس بچارے کو لہولان کردیا ۔”
"یہ پاکستان ہے یہاں جیل کرپٹ اور بُرے لوگ نہیں جاتے اگر جاتے بھی ہیں تو جلدی نکل جاتے ہیں ۔”
"اچھا ! میرے لیے نئی انفورمیشن ہے ۔”
"آئیڈیا زُلنین مجھے جیل میں گھساو میں بھی دیکھوں ایک مجرم کی زندگی کیسی ہوتی ہے اور انصاف تو ملنا چاہیے ۔”
وہ ایک جگہ روک کر گہرا سانس لیتے ہوئے زُلنین کو بولی اور زُلنین اس جھلی کو دیکھنے لگا جس کی خواہش بڑی عجیب و غریب تھی۔
"کیا ؟۔”
"ہاں نا ۔”
"مجھے تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ۔”
وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
"کہاں ہے تمھاری ہتھکڑی ؟۔”
وہ منہ پہ ہاتھ رکھتی کھکھلائی
"ارے زُلنین یہ تم تین تین کیوں لگ رہے ہو ؟۔
اسے نے ہما کا بازو رکھ پکڑ کر اس کی آنکھوں میں دیکھا اسے کچھ گڑبڑ لگی لیکن ہما اس سے پہلے آنکھیں بند کر کے اس کے باہوں میں جھول گئی ۔
????????????????????????????????????????????????????
امریکہ میں اس وقت صحیح ٹہر ٹہرا دینے والی سردی تھی ہر طرف برف جمی ہوئی تھی ایسے میں نکلنا لوگ کا محال ہوجاتا لیکن پھر بھی طرقی کے دور میں ہر ایک مجبوری تھی اسی طرح سردی کی صبح میں کوئی چلتا ہوا قبرستان کے اندر داخل ہوا اس کے قدموں کے چاب سے پتے نہیں ہلے تھے نہ ہی اس کی موجودگی کا کسی کو احساس تھا آج اس کی آگ رنگ جن میں سے شعلے پھوٹتے تھے بالکل بُجھی ہوئی تھی اور چہرے پہ زمانوں بھر کی تھکن تھی وہ خوبصورت ترین جن اس وقت ایک ہارا ہوا اور بے حد بوڑھا معلوم ہورہا تھا چلتے چلتے اس کے قدم برف سے ڈھکی قبر کی طرف آیا جو وہ جانتا تھا کس کی تھی , وہ سائڈ میں گھٹنوں کے بل بیٹھا اپنے ہاتھوں سے اس برف کو ہٹانے لگا چہرہ پہ درد سا آگیا تھا ۔ پھر اس نے نام دیکھا جو انگریزی الفاظ میں لکھا گیا تھا
"شفق فہیم ۔”
فائیق اسے نام کو بار بار چھوا جیسے وہ شفق کو چھو رہا ہو
"اسلام و علیکم کیسے ہو شفی !۔”
وہ بڑبڑاتے ہوئے بولا کہتے ہیں کے انسان جب بھی کسی کے قبر میں آتا ہے اس سے بات کرتا ہے تو مرنے والا اس کے سُنتا تو کیا کسی جن کی پکار کوئی انسان سُن پائے گا
"شفق کیا تم مجھے سُن سکتی ہو کیا تمھیں میری آواز آرہی ۔”
پہلے وہ بے چینی سے بولا پھر بولتے ہوئے دُکھ سے ہنس پڑا
"میں پاگل بچوں جیسے سوال کررہا ہوں خیر اُمید کرتا ہوں تم بہت پُرسکون جگہ پہ ہوں تمھیں تنگ کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے لیکن شفی ایک دفعہ تو تکلیف میں مجھے پکارتی میں نے آجانا تھا پر تمھیں بھی لگا تمھاری ماں کی ہی جیت ہونی ہے صحیح کہا وہ جیت ہی تو گئی سب سے بڑی جیت ان کا تمھیں مجھ سے الگ کرنا تھا ۔”
وہ کہتے ہوئے ایک دم خاموش ہوگیا
"تمھیں پھولوں سے سخت چڑ تھی سواے روزز کے لیکن جب سے تم مجھ سے الگ ہوئی سارے گلاب سیاہ ہوگئے شفی میرے گھر میں موجود سارے گلاب جنھیں میں نے اور تم نے بے حد پیار سے لگائے تھے سیاہی ان کا مقدر ہوگئی اور اب میں روزز کو ہاتھ لگاتا ہوں تو وہ سیاہ ہوجاتے ہیں اس لیے میں صرف کنول ہی لاسکا یاد ہے کنول اور اس دن کا ہولناک واقع خیر چھوڑو ہما تو واقی تمھاری طرح نکلی ویسے ہی آنکھیں ویسے ہی چہرہ اور تم نے جان بوجھ کر اس کو بال نہیں بڑھانے دیں کے کہی میری طرح کوئی اس پہ عاشق نہ ہوجائے تو آپ کو ناکامی ہوئی کیونکہ میرے بھتیجے صاحب زُلنین صاحب ہما کی عشق میں گرفتار ہوچکے ہیں اب کیا ہوگا ۔”
وہ بولتے بولتے ایک دم چُپ ہوگیا واقی اب کیا ہوگا
کیا وہی تاریخ دھُرائی جائے گی ؟
یا پھر وہ ایک دوسرے کے ایک ہوجائے گے ؟
????????????????????????????????????????????????
ہما کی آنکھیں کھلی تو اس نے خود کو کار کی سیٹ پہ ہی پایا اس نے موڑ کر دیکھا زُلنین اسے ہی دیکھ رہا تھا ہما کو اپنا سر بھاری محسوس ہورہا تھا
"زُلنین !۔”
"یہ لے پانی کی بوتل اتنا مارا لڑکوں کو کے ساری توانائی اس میں ضائع کردیں ۔”
"مجھے کیا ہوا تھا ۔”
"آپ کو ڈیزینس ہوئی پھر آپ بہکی بہکی باتیں کرنے لگی اس کے بعد آپ فینٹ یانی بیہوش ہوگئی حتاکہ آپ کو کہی بھی نہیں لگی تھی لیکن سائنس کے مطابق مارتے وقت آپ میں چودہ سو کلو جولز ویسٹ ۔
"افوہ چُپ کریں آئینسٹائین کی اولاد ۔”
وہ جھنجھلاتے کر پانی پیتے ہوئے بولی
"میرے ابو سائینٹسٹ تھے ۔”
"جبھی نیوکلیر بم بیٹے کے صورت بنا دیا ۔”
وہ ہنسنے لگا
"فنی !۔”
"ہم کہاں ہے اس وقت ۔”
"ہم اس وقت مارگلہ کے پہاڑ میں ہے جہاں سے ایک سلار سکندر برآمد ہوگا اور وہ ہمیں ڈنر کروائے گا اچھا خاصا پیسے والا ہے ۔”
"توبہ آپ تو اس تک کو بھی جانتے ہیں ۔”
"اس کو کون نہیں جانتا اور میری ماما پویٹس تھی ناولز اور شاعری کی دیوانی مجھے بار بار پُرزور سے انسانوں کی لکھت بیٹھ کے سُناتی اور ویسے بھی محترمہ میں لٹریچر کا سٹوڈنٹ تھا میں نے بہت پڑھے ہیں ۔”
"خیر اس وقت ہم مونال ہیں اور یہ اچھا انسان آپ کو اچھا سا کھانا کھلائے گا ۔”
"میں نے تو ابھی تک چیزیں ہی نہیں لی اور دیکھا بھی نہیں اور میرے کارپٹ ۔”
"کارپٹ آپ کے گھر میں کل آجائے گے اور دوسرا پھر کھبی چلے جائے گے واٹس دا بگ ڈیل چلو شاباش توبہ پہلی لڑکی کو ایل مارکٹ کا اتنا شوق ۔”
ہما نے اسے گھورا اور سردرد کو اگنور کر کے اُٹھی کوئی بہت ہی نفرت سے پیچھے بیٹھا ہما کو دیکھ رہا تھا اور اچانک تیزی سے بیک سیٹ پہ زور دار ناخُن مارا جس سے لیدر اکھڑ گیا.
جاری ہے

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔