یارم (سمیرا حمید) قسط نمبر 44 عالیان نے دیکھ لیا…


یارم (سمیرا حمید)
قسط نمبر 44

عالیان نے دیکھ لیا تھا اور فورا اپنی نظریں پھیر لی۔ کل رات ہی مارگریٹ کالفاظ اپنے زہین میں نقش کیے تھے ۔میں ہر رات اس سے نفرت کا عہد کر کے سوتی ہوں اور ہر صبع عہد توڈ کر اٹھتی ہوں ۔دنیا میں ہر بیماری کا علاج ہو گا محبت کا نہیں ۔بے شک محبت ایک بیماری ہے جو ختم ہونے کا نام نہ لے اور ختم کر دے۔وہ خود کو ختم نہیں کرنا چاہتا تھا اور اس بے لگام رشتے کو ختم کر دینا چاہتا تھا
وہ باقاعدہ مارگریٹ کی ڈائیریاں پڑھنے لگ گیا تھا ۔جس درد کے احساس کو پڑھتا تھا پہلے خود پر کندہ کر لیتا جن الفاظ کو روکے جانے سے کشید کیا گیا تھا یہ عام الفاظ نہیں تھے ۔یہ وہ الفاظ تھے جنہیں لیے کوئی مر چکا تھا عا لیان مارگریٹ کو اب یہ ڈائریاں پڑتے رہنا تھا۔
#امرحہ_کی_ڈائری_کا_ایک_صفحہ
وہ سب چلے گئے اس وقت کو بھی ساتھ لے گئے دنیا کے کونوں میں بکھرنے اور پھر کبھی نہ ملنے کے لئے جیت کا جشن منانے اور شورکرنے والے اب اس کو بچپنا سمجھے گے
کسی اداس شام کسی سڑک کے کنارے چلتے دریا کے کنارے کسی کیفے میں یونیوسٹی پر مبنی فلم دیکھ کر اداسی میں ہوا کریں گے ۔اس پارٹی میں سب نے ایک ایک منٹ کی تقریر سب سے پہلے ویرا نے الوداعی روسی گانا گایا میں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لی اور دور جا کر بیٹھ گئی اس کے لئے جو دل میں ناپسندیدگی چھپا رکھی تھی اب وہ باہر بھی آنے لگی تھی مجھے کوئی افسوس نہیں ہو رہا تھا
کارل نے تقدیر میں کہا کہ اسے افسوس رہے گا کے ان میں سے چند ایک کو الو نہیں بنا سکا کیونکہ باقی الوؤں نے وقت لے لیا تھا ۔عالیان نے بہت کچھ کہا اور میرا دل کے وہ بس بولتا ہی رہے ۔اس نے کہا میں تم سب کو تمہاری عادتوں سمیت یاد رکھوں گا ۔بھلا میں کیسے بھول سکتا ہوں تم سب نے اپنی اپنی برتھ ڈے پارٹی پر ایک ایک پونڈ کے کیک سے ساٹھ ستر اسٹوڈنٹس کے پیٹ بھرے تھے ۔پھر اترا اترا کر اسے گرینڈ پارٹی کا نام دیا تھا ۔تم میں سے اکثر جب بھی کسی نے مجھے ٹوئیٹ دی میرے ہی ساتھ بیٹھ کر ساتھ ساتھ کھا لی آدھی اور جب بھی واپس لی پوری لی
اپنے خالی والیٹ دیکھا دیکھا کر مجھے ترس دلوایا
اور جب کبھی میں نے اپنا والٹ تمہارے اگے کیا تم نے منہ بنا وہ بھی دی ہک جتنا بڑا سبز۔
عالیان کے بعد میں کھڑی ہوئی تقریر کے لئے اس کے ساتھ اور اس کے بعد میرا نام ہی آنا چاہیے نا میں نے کہا ۔
مجھے اگر سمیٹ لینے کا ہنر ہوتا تو میں تم سب کو چھوٹے چھوٹے بونے بنا کر ایک میں ڈال کر ساتھ رکھ لیتی۔
کئ نہ جانے دیتی میری اس بات پر سب نے زور دار تالیاں بجائی۔اور سائی پورے دو منٹ تک کھڑا روتا رہا اسکی جگہ کارل نے تقریر کی ۔۔میں نے ایک کتاب لکھ لی ہے جس میں سب کے راز عیاں ہو گئے جاتے جاتے سب ہزار ہزار پونڈ میرے پاس جمع کروا جانا اور کتاب میں سے اپنا نام اور راز کٹواتے جانا ورنہ جند سالوں بعد اخبارات کی سرخیاں بننےکے لئے تیار ہو جاؤ ۔شکریہ سائی ان بھس کارل
میں نے عالیان کو اسکیچ نہیں دیا تھا ایگزمیز کی تیاری کے دوران کئ بار جا کر پلٹ آئی کے کئ اپ سٹ نہ ہو جائے اور اس کا رزلٹ خراب نہ ہو جائے کیونکہ ہرحال میں اتنا تو جان گئ تھی کہ میں اس کے لئے وبال بن گئی ہوں۔امتحانات کے بعد کھیلوں کے مقابلے ہوئے تھے ۔
کشتی رانی کے مقابلے میں عالیان اور کارل کی کشتی الٹ گئی اس وقت کنارے پر کھڑے میں نے خود کو پانی میں ڈبویا تھا اور اس حالت میں مجھ پر بہت سے انکشاف ہوئے ۔۔
سب اسٹوڈنٹس کتابیں کپڑے دوسری چیزیں سالوں کے لئے خرید رکھا تھا اب ساتھ نہیں لے جا سکتے تھے اس سامان کو ہم نے نیلام کر دیا ۔۔اوک ہاوس میں اگٹھا کیے جانے والا ساز وسامان سے ایک ڈائری ملی۔جس پر سائی کو دے دی جائے لکھا تھا ۔سائی کو دینے سے پہلے اس کے پیج ورق گردانی کرنے سے خود کو روک نہیں پائی ڈائری لکھنے والا بہت حساس طبیعت کا تھا اس نے خزاں میں گرنے والے پتوں پر بھی آنسو بہائے ڈائری کے آخر پر میں نے خود کا نام دیکھا اس کے اگے صرف اتنا لکھا تھا ۔
میں نے اسے روتے دیکھا وہ بار بار اپنی آنکھیں مسل رہی تھی مانچسٹر سے دور دنیا کے کسی کونے میں ریتے ہوئے یہ ضرور سوچوں گا ۔کیا وہ دونوں ایک ہو گئے
ان ستروں نے میرے اندر سناٹا بھر دیا اور پھر میرے وجود نے سب سے چھپ کر عالیان عالیان کا ورد کیا
میری آنکھوں میں بہت خوبصورت مناظر قید ہیں ۔
جب عالیان کے بکھرے بالوں پر پلکوں پر افشاں گرنے لگی
وہ اچھل رہا تھا ان کے ساتھ گا رہا تھا میں نے اس پل کا جامد کر لیا اور اس کے قریب ہو کر اس کی پلکوں کو پھونک مار کر افشاں کو ہتھیلی میں قید کر لیا ۔میری مٹھی کھول کر افشاں کسی کی ہمت نہیں چرا سکے۔وہ ویڈیو بنانے میں مصروف تھا میں آنکھوں میں منظر سمٹ رہی تھی ہمجھے کچھ خبر نہیں تھی میرے اگے پیچھے کیا ہو رہا ہے ۔مجھے اس سے مطلب بھی نہیں تھا ۔میں اسے چند بار سائیکل سے گرا چکی ہوں میرا خیال ہے وہ اتفاق تھا
لیکن دیکھنے والوں کا کہنا ہے یہ اتفاق نہیں ہے میں اس پر میں اب وضاحت نہیں دوں گی وضاحتوں سے دور رہنا، چاہتی ہوں میری کلاس فیلو کا کہنا ہے سوچیں ادھا حسن کھا جاتی انسان مکمل ہوا ہی کب ہے
ہر رات پیغامات لکھ کر رکھنا اپنا معمول بنا لیا تھا ۔
میں جانتی ہوں اپنی زات کا حساب کتاب دوسروں سے لینے پر ہمیشہ غلط ثابت ہوتے ہیں اور خود ہمیں حساب کتاب کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی میں نے اب اجازت لیے بغیر اپنی زات کے سارے سوال نکال لیے ہیں اور جوابات میں عالیان کو نکلتے پایا ہے
گوشوارہ امرحہ بنام عالیان
ڈائری کے آخری صفات تک آتے آتے میں نے سوچنا کم کر دیاکیونکہ میں نے ایسا کرنا شروع کیا تو میری مھٹی کھل جائے گی اور میری افشاں اڑ جائے گی ۔۔۔
عالیان کی ڈائری کا صفحہ
مزید ایسی پوسٹ کے لیے ہمارا پیج
AAP K LIYE
لائیک کریں اور ساتھ فالو کے بٹن پر کلک کر کے سی فرسٹ آل See First All پر کلک کریں
Muhammad Sadaqat Mehmood Chaudhry
میرے بہت سے یونی فیلوز جا چکے تھے اور ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ میں سہم گیا ہوں ۔۔میرا مانچسٹر میری ماما میری دنیا ہیں مگر ایک بار پھر میں خود کو خالی محسوس کر رہا تھا کیا یہ سب کے جانے سے ہوا ہے ۔
میں نے خود کو فصول کام کرتے بھی پایا. سڑک پر چلتے سب کے چہروں میں جانے کیا ڈھونڈا چلتے انداز جوتوں کی بناوٹ پرغور کیا۔
کبھی کبھی لگتا میں بے مقصد زندگی گزار دوں گا۔اور عملی طور پر کچھ نہیں کر سکوں گا ۔مجھے خود کو پر جوش کے لیے ماما مہر کو یاد کرنا پرتا ہے ۔اور ماما مارگریٹ کو خیال آتے ہی میں کسی تکلیف کی کیفیت میں آ جاتا ہوں ۔مسکرانا آسان تھا مگر خوش رہنا مشکل ۔وہ ساری چھوٹی چھوٹی کہانیاں سنا کرتا تھا ان سب سے نفرت کیوں ہو گئی تھی ۔
اور میں نے جو خود کو ماما کے خطوط اور ڈائریوں سے دور رکھا۔اب ان کو ہر وقت پڑھنے پر کیوں مائل رہتا ہوں ۔
میں ماما کی ڈائریوں سے سبق لے رہا ہوں مجھے وہ نہیں بننا جو ماما بن گئی تھی ۔اسے کمزوری تھی میں بھی کمزور ہوں۔۔لیکن کسی کو ہمت دکھانی ہی پڑھے گی۔
میں خود کو مجبور بھی پاتا ہوں اور پابند بھی ۔میں دو حصوں میں بٹا ہوا ہوں مگر مجھے پر سکون زندگی گزارنی ہے مجھے دوحصوں کو ایک کرنا ہو گا مجھے ویرا کو ہاں کر دینی چاہیئے ۔روس دیکھنے کے لئے اس کا روس اچھا ہی ہو گا ۔اس کی طرح اب مجھے زندگی زیادہ خوشی سے جینی ہو گی۔تا کے بے خودی مجھے ہرا نہ دے ۔
**********
امتحانات کے بعد میں روس جانا چاہتی تھی مجھے پاپا سے ملنا تھا ۔برف پر پھسلنا تھا میں ساری تیاری کر کے بھی نہیں گئ۔میں بھی کیوں نہیں گئی عالیان ہاں کر دیتا تو اب تک ہم روس بیٹھے ہوتے ۔اس نے کہا ابھی وہ روس دیکھنا نہیں چاہتا تو میں نے کہا ٹھیک ہے میں نے بھی اپنا سامان کھول دیا۔مجھے اپنے اس پاس کے لوگوں سے محبت کرنی آتی ہے ۔اسی لئے میں اس وقت عالیان کا بہت خیال رکھ رہی ہوں ساری دنیا سے زیادہ اسے ضرورت ہے ۔اس وقت
*********************
امرحہ نے جو ڈائری مجھے دی اسے پڑھ کر میں کئ ٍراتیں سو نہیں سکا۔وہ اایسے اسٹوڈنٹ کی تھی جو احساسات سے بھری پڑی تھی ۔جو بہت دن فیصلہ کرنے میں ناکام رہا کے اس کی دوست ہے یا اس سے محبت ہو گئی ہے لڑکی اس کے گاؤں میں ان کے گھر کے سامنے رہتی تھی ۔ایک رات اسے اس لڑکی کی موت کی خبر موصول ہوئی تھی لڑکی کر. دماغ کی نس پھٹ گئی تھی اس کے لئے اسے فیصلہ کرنا آ آسان تھا ہم دائمی جدائی سے طے ہاتے ہیں تو احساس اور میں بہت لوگوں کو یہ حساس دلا نے کی کو شش کرتا ہوں ۔کے ٹھیک ٹھیک وہ یہ تحریر سمجھ سکیں ۔۔۔
کن مراحل سے گزر کے۔
کچھ کا خیال تھا اسامی سب بتا سکتے ہیں یہ بھی اکسفوروڑ سے کہاں کہاں لے جاتے ہیں یہ بھی کے برگر کتنے کا ہے کافی کتنے کی ۔ایک نے یہ بھی پوچھ لیا کے اس کا دوست ڈمی کہاں ہے ۔ان دنوں یونی مشہور تھا کہ کس کی ڈرسنگ کر کے مشہور ہو جائے گی
ایک سال پہلے عالیان نے اس کے ساتھ بالکل ٹھیک کیا تھا ۔
کیونکہ ہر ایک کی برداشت ایک حد تک ختم ہوتی ہے جس جس مقام سے یہ گزرا اس اس مقام سے وہ گزرے گی تو جان پائے گی ۔
جیسمین تماری گردن پر کیا ہے وہ چلائی کیا ہے؟؟؟؟؟
گردن تو نیلی پڑ گئی لگتا ہے زریلا کیڑا ہے اف یہ تو اتر ہی نہیں رہا لگتا ہے اس نے ڈنگ اندر ڈالا ہے زہر تماری گردن میں پھیل رہا ہے یہ سن کر جیسمین نے زور سے چلایا
ان کے تاثرات دیکھ کر نہ چاہتے ہوئے بھی امرحہ کی ہنسی نکل گئی ۔ان سب میں معاہدہ ہوا تھا کارل کے بارے میں کوئی اپنی زبان نہیں کھولے گا ۔
ڈرگ آیا اس کے پاس میری جگہ کھڑی ہو کیسا لگ رہا ہے
کاش میری بھی ناک لمبی ہوتی میں بھی اپنے احساسات جان پاتی۔
ہاہاہا جس طرح تم میرے ناک کو گور رہی تھی اسی رات میں نے ناک کی سرجری کا سوچ لیا تھا ۔
پھر سوچنا ترک کیوں کیا اس نے دانت نکالے
اسے چاکلیٹ ٹویئٹ دے کر گپ شپ لگا کر چلا گیا ۔ایک لڑکا پینٹ کوٹ پہنے کالا چشمہ پہنے ڈرم بجاتا یونی داخل ہوا ساتھ اور بھی تین لوگ اور فوٹو گرافر
امرحہ منہ کھولے دیکھ رہی تھی کیا وہ اتنا ہی خوبصورت ہے ہمیشہ سے اگر گارڈ اور فوٹو گرافر نہ بھی ہوتے تو بھی ہجوم کو روک لینے کا کمال رکھتا تھا اس کا فیورٹ سپر سٹار اس سے کچھ ہی فاصلے پر تھا ۔کیا یہ سچ ہے؟؟
سب گردن موڑ موڑ کر دیکھ رہے تھے فوٹوگرافر فوٹو کے لیے مرے جا رہے تھے ۔
مسٹر جین نے مانچسٹر یونی میں پڑھنے کا فاصلہ کیا ہے ۔میں اس بات کی تفتیش میں ہوں کے اس کے لاکھوں فینز کو یونی نظامہ روک پائیں گے ۔
مجھے خدشہ ہے وہ ایسا نہیں کر پائیں گے ۔
پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر گردن اٹھا کر یونی کو دیکھنے لگا۔ایسا کرتے اس نے گردن کو ایسا خم دیا امرحہ سانس لینا بھول گئی ۔سارے اپنا کام چھوڑ کر مسٹر جین کو دیکھ رہے تھے ضرور یہ کوئی سٹار ہے یا شاہی خاندان سے ہے ۔بہت لوگ پاگلوں کی طرح فوٹو ویڈیو بنانے لگے
تا کہ اپنے مقامی اخبارات میں دے سکیں ۔اسی دوران لڑکیوں کا ٹولا ان کا جانب لپکا گارذ نے لڑکیوں کو دور سے ہی روک لیا ۔۔
آنے دیں انہیں اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا
لڑکیوں نے بےہوش ہونے سے پہلے پہلے آٹوگراف کے لیے اگے ہاتھ بڑھائے۔اور برلڑکے لڑکیاں آنے لگے حلقہ توڑنے کی کوشش کی سب کو خوشی تھی کے کوئی سٹار ان کی یونی میں پڑھے گا ۔۔سب سے بڑی بات کے مسٹر جین نے اتنی کامیابیوں کے بعد بھی پڑھنے کا فاصلہ کیا
اس کی آواز اتنی اونچی تھی آدھی یونی سن سکتی تھی آرام سے
وہ آیا اور آتے ہی چھا گیا ۔چند منٹ لگے فریشرز اس کے گرد
گھیرا بنا کر کھڑے ہو گئے اور جو ادھر اُدھر تھے وہ بھی اسی کی طرف دیکھنے لگے کہ کون آیا ہے سب کے موبائلوں والے ہاتھ بند تھے اور اس کے کھیرے کے اندر بورڈ بلند ہوا جس کے ایک طرف لکھا تھا
ویلکم فریشز دی ار یو سینٹرز تھینکس فادری اٹینشن
اور بورڈ کے دوسری طرف لکھا تھا
یو ار آسم فولز
نیے آنے والے لوگوں کی طرح بورڈ پڑھتے رہ گئے اور پھر ان بلند بانگ قہقہوں کو سننے لگے
جب عالیان سے آٹوگراف لے رہے تھے وہ بھی فوراً اس کے پاس آ گئی اور ایک سادہ پیپر اگے کر دیا اس پر اپنا نام لکھ دوامرحہ نے اس کے سامنے آ کر بہت خوش ہو کر کہا
وہ اس انسان کے سامنے تھی جو پوری یونی کا مرکز بنا ہوا تھا
عالیان نے ایسے ہی کاغذ پر لکیریں کھینچ دی
مجھے تمھارا نام چاہئے لکیریں نہیں اس نے اردو میں کہا
نا چار اس نے نام لکھ دیا تو وہ کارڈ بنے کارل کو دھکا دے کر حلقے سے باہر آ گئی ۔
رپورٹنگ کرتی ویرا کے پاس سے گزری اور خود کو ہجوم سے دور لے گئی اس کا خیال تھا وہ ایک مرکعہ سر کر آئی ہے اس کا نام لکھوا لائی ہے اس سے پہلے اس نے بے نیازی سے اپنے فینز، کو دیکھا تو امرحہ دنگ رہ گئی ۔اس میں کتنی ادائیں ہیں ختم ہوتی نہیں گنتی میں
جب وہ اس کا نام لکھوا کر لے گی تو عالیان کو لگا وہ اس کا مزاق اڑاوائے. گی۔
اور اب اسے شدت سے لگنے لگا تھا وہ اس کا کھلونا ہے
دل چاہا کھیل لیا ورنہ توڑ پھوڑ کے پھینک دیا
اس نے نیے آنے والوں کو الو بنایا وہ سب ہنس رہے تھے یہ عالیان کا ظاہر تھا لیکن اندر سے وہ خاموش تھا اور سوچ رہا تھا ایک مزاق تو اس کے ساتھ ہوا جو عملی تھا اور اسے ہی بے عمل کر ڈالا۔
#امرحہ_کی_ڈائری_کا_صفحہ
میں نے اسے انکار کر دیا مجھے ایک مسلمان سے شادی کرنے میں دلچسپی نہیں تھی پھر میں نے ہر رات جاب سےواپسی
پر اس اپنے رستے میں کھڑا پایا۔ہر رات ہر صبع وہ مجھے دیکھتا رہتا اور میں اسکے پاس سے گزر جاتی اتنا مستقل مزاج کے میرے انکار پر بھی وہ میرے رستےپر کھڑا رہتا
میرے ساتھ بس میں سفر کرتا خریداری کے وقت پاس پاس رہتا پھر کتنے مہنوں بعد ایک دن اسے وہاں کھڑے نہیں پایا
تو میں نے اپنی انکھوں کی روشنی کم ہوتی محسوس کی
اسکے وہاں کھڑے نہ ہونے سے دنیا میں کچھ کیوں نہیں رہا
میں نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا خدا مجھے بتائے ایسا ہی ہے
میں گھر واپس آ گئی اور رات صدیوں پر میحط ہو گئی
پلکوں کی جنبش کے سوا میرے وجود نے حرکت نہیں کی۔
مجھے اس سے محبت تو نہیں ہو گئی تھی مگر وہ میرے لیے ضروری ہو گیا تھا اب اگر وہ مجھے صبع شام نظر نہیں آیا تو میری بینائی پر اثر ہو گا اب اگر اسکا سایہ میرے ساتھ نہیں رہ تومیرا سایہ بے وجود ہو جائے گا اس رات میں نے سوچا اسے ہاں کہنے میں مجھے تامل کیوں ہے
کیا میں مغرور ہوں یا بہت خوبصورت ہوں یا، اور فرق غالب ہے ۔۔
لیکن دو انسانوں کی پہلی شناخت انسان ہونا ہوتا ہے نا۔
یہ میری قابلیت تھی یا اس شخص کی قوت میں نے ایسا فلسفہ خود کو سیکھا دیا۔محبت دنیا کا سب سے بے اختیار جزبہ ہے اور یہی اس کی بڑی خوبی ہے
عالیان نے کئ با اسے اپنے رستوں میں دیکھا وہ ایسے ظاہر کرتا جیسے اس نے دیکھا ہی نہیں وہ جانتا تھا اس شخص اور امرحہ میں ایسی خامیاں اور خوبیاں ہیں پہلے جکڑ لینا پھر جھٹک دینا پہلے ہنسانا پھر رولانا اپنے ساتھ زندہ رکھنا پھر دور کر کے مردہ کر دینا یہ لوگ ایک جیسے ہوتے ہیں برباد کرنے والے لوگ سراب ہوتے ہیں ان کے پیچھے بھاگو تو پا کر دلدل بن جاتے ہیں اس میں دھنس کر دم توڈ دیا جائے یہی چاہتے ہیں
تو مارگریٹ اور اس کی زندگی میں آنے والا شخص اور آنے والی لڑکی ایک جیسے تھے
امرحہ پر ترس کھاؤ عالیان
سائی تمہیں ہر وقت اس کا وکیل بنے رہنے کا بہت شوق ہے
تم غلطی پر ہو وکیل میں تمارا ہوں خود کو دیکھو عالیان بڈی تم کسی کو دھوکہ دے رہے ہو ۔
دھوکے سے ہی تو نکل آیا ہوں
یہ سال وہ چلی جائے گی تو چلی جائے گی
جب چلی جائے گی تو اتنی آسانی سے کہہ سکو گے؟
بالکل
دیکھو وہ ایک مختلف ماحول سے آئی ہے
مارگریٹ کا شوہر بھی مختلف ماحول سے آیا تھا سب بے حس لوگ ایک ماحول سے آتے ہیں خود غرض
وہ بے حس نہیں ہے
ٹھیک ہے تو پھر میں ہوں بے حس
تمہیں اس پر اتنا غصہ ہے یاد رکھنا غصہ اپنوں پر ہی ہوتا ہے
اپنا وہ ہوتا ہے سائی جس کےلئے تمہارے دل میں احساس ہوتا ہے اور امرحہ۔۔ٹھیک ہے سنو امرحہ کیا ہے وہ جانتی تھی میں اس کے لئے کیا جزبات رکھتا ہوں بے وقوف نہیں تھی وہ پھر مجھ سے دور کیوں نہیں ہوئی؟
اس نے مجھے روک کر یہ کیوں نہیں کہا کے تم ایک غیر مسلم عورت کے بیٹے ہو تمہارے باپ کی خبر نہیں مجھے تم سے کوئی تعلق نہیں رکھنا اگر میری ماما نے میری تربیت نہ کی ہوتی اگر ایک مسلمان حثیت درس نہ لیا ہوتا تو جانتے ہو میرے ساتھ کیا ہوتا میں پاگل ہو جاتا مجھے بےوقوف بنا کر ایسا سلوک کیا گیا ہے میں اس پر بھڑکا نہیں چلایا نہیں اس بتایا نہیں کے وہ کتنی خود غرض ہے ۔میں یہ نہیں بھول سکتا کے وہ سب کچھ جانتے ہوئے میرے ساتھ رہی
جیسے میرا دل توڑنا اس کا مقصد تھا ۔کیا محبت اور دوستی میں فرق نظر نہیں آتا۔۔صاف نظر آتا ہے اگر دوستی ہی تھی تو دوستی کا لحاظ کر کے بے عزتی نہیں کرتی ویرا کے سامنے میری اور میری ماں کی کیسے بےعزتی کی
احترام وہ ہوتا ہے جو تہنائی میں بھی کیا جائے اور دل دماغ سوچوں میں بھی ۔سائی اگر میری ماں کے ساتھ محبت کرنے والا احترام کا رشتہ بھی رکھتا تو آج میری ماں زندہ ہوتی
امرحہ کو ایک کھلونا چاہئے تھا دوست یونیوسٹی کو سب سے موسٹ وانٹڈMost wanted
ایک اسٹوڈنٹ اس کے ساتھ ہے اس کے آس پاس رہتا ہے بس یہی حثیت تھی اس کے لیے میری وہ آج بھی میرے پاس آتی ہے کہ میں اس کا دوست بن جاؤں جب تک اسے ثبوت نہیں مل گیا اس نے مجھے لامذہب سمجھا مجھے لے کر وہ فام بھرتی رہی اور خانوں میں ٹک مارک کرتی رہی اتنی ہمت تو میری ماں نے بھی نہیں کی سائی میں کسی بلندی سے زمین بوس ہوا تھا تم سمجھ سکتے ہو کیونکہ تم نے گڈ سینڑ میں پرورش پائی ہے نہ ہی تمھاری ماں مارگریٹ رہی ہے ۔
سائی کو دکھ ہوا اسے آٹ آل نہیں ہونا چاہیے تھا اسے سن کر وہ کیسے سکون سے سو پایا کرے گا عالیان کی آنکھوں میں نمی تھی اور وہ رو دینے والا تھا
میں کئ حصوں میں بٹا ہوا ہوں مجھے خود کو سمیت لینے دو فیصلہ کر لینے دو
فیصلہ دماغ سے کرنے جا رہے ہو سائی نے پوچھا
نہیں تجربات سے اپنی ماں کے
تو تم اس سے محبت کرنا چھوڑ چکے ہو یہ سوال کرتے سائی کا دل بھر آیا۔
میں اس بارے میں سوچنا چھوڑ چکا ہوں ۔
تم اپنی زندگی اور ماں کی زندگی کا موازنہ کر کے غلط کر
رہے ہو ۔
جب ٹھیک کر رہا تھا تب بھی غلط ہوا تھا
تمہارے لیے دعا گو ہوں کاش میں تمہیں ایک ڈائری دے سکتا جو میرے لیے اوک ہاوس ایک اسٹوڈنٹ چھوڑ گیا تھا
اس نے ایک جگہ لکھا کے اب وہ اس چیز کی قدر جان گیا جو اسکے پاس نہیں رہی۔
میرے ہاتھ بھی خالی ہیں کچھ نہیں ہے ان میں
اس نے لکھا کہ زندگی کی حقیقت میرے سامنے کھل چکی ہے اور یہ کام امرحہ نے کیا
اور اس نے یہ بھی لکھا
میں نے اپنے جزبات کو سلاتارہا اسے نہیں بتایا اب وہ سو چکی اور میں خود کو بتاتا پھرتا ہوں
میں اسے بتا چکا، تھا سائی بتا چکا تھا عالیان چلا اٹھا
اور آخری بات اس ڈائری میں یہ
اور میں نے جان لیا محبت واقع ہونے سے زیادہ قیام پر قائم رہنا ضروری ہے
سائی عالیان نے اسے شیٹ کے کالر سے پکڑا کیا تم سسکتی مارگریٹ کو بھی یہ مشورہ دیتے مارگریٹ کی ڈائریاں بھی لے جاؤ پھر مشورہ دینا میں دیکھوں گا تم کتنے انسان دوست ثابت ہو سکتے ہو سائی میں دیکھوں گا۔
سائی بالکل چپ ہو گیا اس کے جسم میں سنسناہٹ ہونے لگی ۔
_______________________
موسم پھر سے سرد ہونے لگا تھا اتنا گرم تھا ہی کب کے سرد ہونے میں وقت لگتا ۔چلتے چلتے بارش ہونے لگتی ہے اس پھر چلتے ہی رک بھی جاتی ہے فریشز کے بارے میں آئے دن کچھ نا کچھ سنانے کو ملتا. کاش وہ ان میں سے ہی ہوتی وہ سب نہ ہوتا جو ہو چکا وہ عالیان سے ملتی اور اس بار زیادہ سمجھ داری کا ثبوت دیتی اور پھر اسے سڑک پر اکیلے نہ چلنا پڑتا موسم کے بدلنے پر اسے اداسی نہ ہوتی
کسی نے فرصت نکال کر اسے بدعا دی تھی کہ وہ اس حال
آچکی تھی۔عالیان اس کے ساتھ زیادہ سختی سے پیش آنے لگا تھا۔ اس میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی تھیں۔ ہر دن وہ پہلے سے زیادہ سخت اور بدلا ہوا لگتا تھا۔
"زندگی کی بدترین صورت جانتے ہو کون سی ہوتی ہے سائ! دو پیاروں میں سے ایک کو چننا۔۔”
"اور دو میں سے ایک کو چھوڑ دینا۔۔”
"ہاں اور اس سے بھی بدترین صورت وہ ہوجاتی ہے جس میں جسےچنا ہو اس کے ساتھ خوش نہ رہ پانا۔۔”
"اپنے بارے میں سوچ سوچ کر تھک چکی ہوں سائ،کیا شخصیت ہر میری،ساری زندگی روتی رہی،اتنی ہمت نہ کر سکی کہ اپنے ماحول کے خلاف ڈٹ جاتی۔۔ اسے بدل دیتی۔۔ احساس کمتری کا شکار رہی۔ میرے ماضی میں کچھ بھی قابل ذکر نہیں،میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ میری زندگی کا مقصد کیا ہے۔میں کسی کو خوش رکھ سکی نہ خود کو،میری ایک دوست کہتی ہے کہ دوسروں سے پہلے اپنا بننا ضروری ہے۔میں کبھی اپنی نہیں بنی،بس ہر وقت بےچارے بنے رہنا،کیا ہوں میں، کمزور ہوں، جھوٹی، خودغرض، بےحس۔۔کیا ہے میرے ہاتھ میں ۔۔؟”
"تمھارے ہوتھ میں یہ سوچ ہے کہ تم کیا ہو۔۔ جب انسان خود سے سولات پوچھنے لگتا ہے تو وہ خود کو بلندی کی طرف لے جارہا ہوتا ہے۔”
کیسی بلندی سائ۔۔ میں نے عالیان کے ساتھ کیا کیا۔۔ ویرا کے سامنے میرے معاشرے کی بےعزتی نہ ہوجاۓ۔میں نے عالیان کی کھل کر بےعزتی کردی الفاظ تو وہی ہوتے ہیں نا جن پر احترام کی لگامیں ہوں، ورنہ تو سب ہتک ہے۔ انداز۔۔ آواز سب۔۔ اگر میں عالیان کی جگہ ہوتی تو ساری عمر امرحہ کی شکل نہ دیکھتی۔ میں اس جگہ کو ہی چھوڑ دیتی جہاں امرحہ ہوتی، میرے خاندان میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن سے میں سالوں نہیں ملی، بات نہيں کی، سلام نہیں کیا، انہیں دیکھ کر منہ پھیر لیا۔۔ یہ سب لوگ وہ ہیں جنھوں نے میرا دل دُکھایا تھا،میری تزلیل کی تھی، میری انتہا پسندی دیکھو کہ کالج کی میریی دوست جو میرے بارے میں سب جانتی تھی ،ایک دن میرے ساتھ چلتے چلتے گر گئ اور مزاقاً کہنے لگیـ”تمھارے ساتھ چل رہی تھی گرنا تو تھا۔”اور پھر اس کے لاکھ منانے پر بھی میں نے اس سے کبھی بات نہیں کی۔ اس کے فادر کی ڈیتھ ہوگئ۔ میں نے اس سے صرف افسوس کیا جبکہ اسے میری اس سے زیادہ ضرورت تھی۔
"مجھے بس یہ یاد رہتا ہے کہ مجھے تکلیف ہوئ۔۔ میں۔۔ میں۔۔ بس عالیان کے کھردرے سخت رویۓ سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ اور میں اس تکلیف کو لے کر بیٹھ جاتی ہوں۔ مجھے اپنی کتنی فکر رہتی ہے۔ میرا اور عالیان کا کوئ مقابلہ نہیں، جانتے ہوں، سادھنا کو آریان کے لہے سب سے زیادہ پیسے جمع کرکے وہ دیتا ہے، سادھنا سے زیادہ اسے یاد رہتا ہے کہ آریان کی سرجری کب ہونا ہے۔ وہ بھڑکتا نہیں ہے چلاتا نہیں ہے۔ وہ کتنا ذہین ہے جتاتا نہیں ہے، اس کے خیالات کس قدر عظیم ہیں۔ وہ سکھاتا ہے۔ اتراتا نہیں ہے۔”
"یہ سب تمھیں اب معلوم ہواہے امرحہ؟” سائ اتنا فسردہ ہوگیا کہ امرحہ جان ہی نہیں سکتی تھی۔
"معلوم تو تھا، قدر نہیں تھی سائ! کہانا مجھے افسوس ہے خود پر مجھ میں کچھ قابل ذکر نہیں ہے۔ مجھے ویرا اچھی نہیں لگتی، مجھے اس کی ضرورت پڑتی ہے تو میں اس سے کام نکلوالیتی ہوں، اس سے مسکرا کر بات کر لیتی ہوں اور منہ پھیر کر ناپسنديدگی سے اس کے بارے میں سوچتی ہوں۔ اسے معلوم ہو کہ میں اس کے بارے میں کیسے سوچتی ہو تو اسے بھی دکھ ہو۔۔ وہ مجھ سے ایک ہی سوال پوچھے۔”میں نے تمھارے ساتھ ایساکیا بُرا کیا ہے؟”
میں سب کے ساتھ بُرا کرتی ہوں اور بیچاری بھی خود ہی بن جاتی ہوں۔ یہ منافقت اور سنگدلی ہے۔”
"تم ایک مشکل وقت سے گزر رہی ہو۔۔ لیکن امرحہ ! انسان جب اپنا احتساب کرتا ہے تو وہ وقت بہت خاص ہوتا ہے۔”
Pg #254
"تم پاکستان کیوں نہیں جاتی اپنے گھر والوں سے ملو، انہیں نئے ماحول کی اچھی اچھی باتیں بتاؤ، لوگوں سے جب تک ملا نہ جاۓ وہ برے اور عجیب ہی لگتے ہیں۔۔ تم ذہنی طور پر اچھا محسوس کروگی۔”
"کیا واقعی۔؟”
ہاں، یونی میں ایک لڑکی جب جب میرے قریب سے گزرتی، اسے دیکھ کر مجھے لگتا کہ یہ مجھے پسند نہیں کرتی۔ ایک لمبا عرصہ ایسے ہی چلتا رہا، پھر ایک دن ایک اسٹوڈینٹ نے مجھے اس کی طرف سے ایک رقعہ دیا جس پر لکہا تھا۔” تم مجھے پسند نہیں کرتے۔۔ پر کیوں۔۔؟”
"فاصلے ابہام پیدا کرتے ہیں اور ابہام شیطان کا پہلا ہتھیار ہے کیوں کے یہ ہر مثبت جزبے اور سوچ پر حملہ آور ہو کر اسے چت کر ڈالتا ہے۔”
"تم ٹھیک کھ رہے ہو سائ! لیکن عالیان کیوں اس ابہام کے زیرِاثر آرہا ہے۔”
"تم جانتی ہو امرحہ! میں کسی کی بتائ کوئ بات نہیں کر سکتا۔۔”
"ٹھیک ہے لیکن مجھے کوئ مشورہ دو۔۔”
سائ اسے دیکھ کر رہ گیا وہ اسے ایسا کیا مشورہ دےسکتا تھا جو سب ٹھیک کرسکتا۔۔ اس کے پاس بلاشبہ ایسے لفظ تھے نہ جادو۔۔
"بہت دیر نہیں ہونی چاہیے کہ انتیظار پر فرمان غالب آجاۓ۔۔ اور فراق کو رخصت ہونے کی اجازت نہ ملے۔”
سائ ہولے سے بڑبڑایا اتنا کہ امرحہ نے سن لیا۔ اسے یاد آرہا تھا یہ جملہ اس نے کہیں پڑھا تھا۔ کہاں۔۔ ہاں اوک ہاوس سے ملنے والی ڈائری میں۔۔ اس جملے کو استعمال میں لاۓ جانا امرحہ کو نحس لگا۔
——————–
ویرا اسے کافی کے لیے کیفے لے آئ تھی۔ وہ ہر بار اسے انکار نہیں کرسکتا تھا کیونک اسے احساس تھا کہ انکار کتنا بھی ٹھیک ہو تکلیف دہ ہوتا ہے۔
کافی پینے کے بعد انہوں نے پُل پر چہل قدمی شروع کردی، شام رات کے ساتھ جا ملنے والی تھی، بارش پھوار کی صورت برس رہی تھی اور ویرا ننّھے بچوں کی طرح سر اٹھا اٹھا کر آسمان کو دیکھ رہی تھی۔ ساتھ اسے روس کے کھانوں کے بارے میں بتارہی تھی۔
"کرسمس کی چھوٹیوں میں تو روس چلوگے نا؟”
"نہیں ویرا میں ماما کے ساتھ جانا چاہتا ہوں، ہم گرم علاقوں کی طرف سفر کریں گے۔”
ٹھیک ہے۔ لیکن کیا وہ روس نہیں آسکتیں؟”
"بہت زیادہ ٹھنڈ ان کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔”
"پھر ڈگری کے بعد۔۔؟”
"ابھی تو بہت وقت ہے۔”
"تم بہت وقت پہلے ہی مجھے ہاں کھ دو نا۔۔۔”
وہ خاموش ویرا کے بالوں پر گرنے والی پھوار دیکھ رہا تھا۔ وہ کہیں اور تھا۔
"میں لاہور آنا چاہتا ہوں۔”
"کیوں؟”
"کیوں نہ آؤں؟”
"تم نے تو کہا تھا کہ ابھی تم ایشیا کے سفر کا ارادہ نہیں رکھتے۔”
"میں ایشیا کے سفر کا ارادہ اب بھی نہیں رکھتا۔ میں لاہور کی بات کر رہا ہوں۔”
"لاہور ایشیا میں ہی ہے۔”
"لاہور ایشیا میں نہیں، میری ٹاپ لسٹ میں ہے جہاں پہلی فلائٹ سے جایا جاۓ۔”
"اچھا۔۔ دیکھ لو ویسے لاہور میں مچھر بھی ہوتے ہیں۔”
"تم مجھے مچھروں سے ڈرا رہی ہو۔۔ ہاں تم یہی کر رہی ہو۔”
"بلکل نہیں صرف خبردار کر رہی ہوں۔۔ تم نے ڈیئگی کا نام سنا ہے اس کے کانٹتے ہی انسان فوراً سے پہلے مرجاتا ہے۔۔ بلکل جھٹ پٹ”
"تو لاہور میں ایسا فوری مار دینے والا ڈینگی ہے ورنہ دو تین گھنٹے تو دنیا کا ہر ڈینگی مچھر دے دیتا ہے مرنے کے لیے۔۔”
ہمارے پاس وی آئی پی ڈینگی ہے۔ اپنے رسک پر لاہور آنا مجھ سے شکایت نہ کرنا۔”
کیا وہ لاہور والوں کو نہیں کاٹتا۔۔؟؟
نہیں یہی تو اسکی خصوصیت ہے وہ غیر ملکی پر حملہ آور ہوتا ہے۔
"جب میں لاہور جاؤں گا تو کیا میں بھی غیر ملکی ہوں گا اس کے لیے۔”
"ڈینگی کے لیے۔۔؟”
"نہیں لاہور کے لیے۔۔’
"روس کی برف کو جانتے ہونا، پھر نہ کہنا بتایا نہیں۔۔”
"ہاں’اس کے کاٹنے سے انسان مر جاتا ہے۔”
"ہاہاہا، برف کاٹتی نہیں عالیان۔۔۔!”
ہلکی سی جھرجھری کا شکار ہوا۔ وہ ویرا تھی اور ہنستی جا رہی تھی۔
میں نے تو ولید کو اتنا لمبا عرصہ سنا بھی نہیں تھا، مٹھی سے ریت کی طرح پھسل جانے والے زندگی کے، صرف چند سال ہی اور ان چند سالوں میں ہی اس نے مجھے اپنے سوائے سب کے لیے بہرہ کر دیا اور دوسروں کے لیے گونگی تو میں تب ہی ہو گئی تھی جب میں اس سے ہمکلام ہونا شروع ہوئی تھی۔ یہ وہ ابتدا تھی جو اس کے جانے کے بعد انتہا کو پہنچی۔
میں عالیان کو دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں اتنی غلطیاں کر چکی ہوں اور نہ کروں، اور میں پھر غلطی کر جاتی ہوں، میں ولید کے لیے آنسو بہانے لگتی ہوں۔ میں یہ غلطی اپنی ہر سانس کے ساتھ کرتی ہوں اگر دنیا میں مجھے کسی کو نصیحت کرنے کا موقع دیا جائے تو میں نصیحت کروں گی کہ”خود کو ختم کردینے کے ہزاروں طریقوں میں سے”محبت” کو سب سے آخر پر بھی نہ رکھیں۔۔۔زندہ درگور ہونے کے لیے کسی اور جذبے کا انتخاب کریں۔
مجھے اس ایک کمرے کے گھر میں ہر وقت چلتا ہوا نظر آتا ہے۔ میں پیدائشی اندھی ہوجاتی لیکن ایسی اندھی نہ ہوتی کہ مجھے میرا بیٹا نظر نہ آئے، لیکن اسے دھتکار دینے والا شخص ہر جگہ نظرآئے ۔۔۔تو کیا مجھے ایسی بے اختیاری پر کوڑے نہیں برسانے چاہییں۔۔
عالیان نے اپنی ہتھیلی میں بارش کی پھوار سمیٹی۔
"ٹھیک ہے ہم ضرور چلیں گے ویرا!” اپنی بے اختیاری کو اس نے بھی معاف نہ کیا۔
چند دنوں بعد وہ رات کو شٹل کاک آیا اور ماما مہر کی گود میں سر رکھ کر لیٹا رہا۔ وہ چھت کو دیکھ رہا تھا پھر دیوار پر ٹنگی تصویر دیکھنے لگا پھر اس کی نظریں کھڑکی سے باہر بھٹکنے لگیں۔
کیا تلاش کر ہو۔۔؟
” آپ کو کچھ بنا کر کھلاؤں ؟” سائی ٹھیک کہتا ہے وہ بات بدلنے میں ماہر ہو چکا ہے۔
” رات کے اس وقت۔؟”
"کیا وقت ہوا ہے؟”
"تمہیں آئے آدھا گھنٹہ گزر چکا ہے اور تم ایسے خاموش ہو کہ مجھے لگ رہا ہے تم نے کئی دنوں سے کسی سے بات بھی نہیں کی این بتا رہی تھی کہ یونی میں بھی تم ایسے ہی رہتے ہو، منہ کھولو اور مجھے اپنی زبان دکھاؤ ، اس میں ضرور کوئی مسلہ ہوگا۔
اس نے فرمابرداری سے منہ کھول کر زبان دکھا دی۔
"اب کھڑکی کے پاس جاؤ زور سے چلاؤ مجھے معلوم ہو کہ تم میں کتنی قوت باقی ہے۔”
وہ کھڑکی کے پاس آیا۔۔۔باہر امرحہ کھڑی اسی کھڑکی کو دیکھ رہی تھی بظاہر اس کے ہاتھ میں فون تھا اور وہ ٹھنڈ میں ٹہل رہی تھی۔
چلانہ پڑتا۔۔ آجاؤ
وہ واپس آکر بیٹھ گیا۔۔این کو آپ نے میری جاسوسی کے لیے لگا رکھا ہے۔۔”؟
(Note ! Aik Khas Members Ki Requst Pr Ye Post Kiya)
اسے چھوڑو” یہ بتاؤ اتنے مشینی مشینی کیوں ہو رہے ہو؟” تم میں جو خاصی نرمی کا عنصر ہوا کرتا ہے وہ کہاں ہے؟
کیا میرا رویہ برا ہے ماما
برا نہیں عجیب ہے ۔سہارا دینے والا یا یونی میں کسی لڑکی نے تمہیں پرپوز کر دیا ہے تم نے انکار کر کے اس کا دل توڑا ہے اور تم اس کے لیے احساس ہو رہے ہو ۔
نہیں اس نے ہنسنے کی کوشش کی
تو کیا تم نے کسی کو پرپوز، کیا اس نے انکار کر دیا تو تم نے ان آٹھ دس لڑکیوں سے بدلے لے لیے ہیں ۔
کرسمس کی چھوٹیوں میں میرے ساتھ چلے گی ماما
مجھے کہاں سنبھالتے پھرو گے
کارل تم ویرا امرحہ سب مل کر جانا
آپ ہر بار انکار کر دیتی ہیں
میں انکار نہیں کرتی تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتی کیا تم مجھے سویڈن لے کر جانا چاہتے ہو؟
ہرگز نہیں مجھے سوئیڈن نہیں پسند
تم کتنا بدل رہے ہو عالیان جب تم واپس آئے تھے تو تم نے کیا کہا تھا ۔
وہ بیان غیر حقیقی تھا حقیقت یہ ہے کہ مجھے نہیں پسند
تمہیں تو جلدی شادی کر لینی چاہیے اس سے پہلے کے سب
غیر ضروری لگنے لگے۔
میں ایک نارمل انسان ہوں ماما فکر نہیں کریں
تمہیں امرحہ کیسی لگتی ہے؟
آپ کو ویرا کیسی لگتی ہے؟ اس نے فورا کہا ویرا؟؟؟؟؟
جی وہ ایک سمجھ دار لڑکی ہے سب سے بڑی بات عزت کرنا جانتی ہے ۔اسکی دوسری بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ انسانی نفسیات کو سمجھتی ہے میں نے اسے بے غرض اور پرخلوص پایا وہ ہر ایک کی مدد کو تیار ریتی ہے وہ حسد رشک سے پاک ہے اس کی بہت ساری خوبیاں ہیں ماما۔
تم نے ایک دم ویرا کی ایسے بات کی جیسے اس کی وکالت کر رہے ہو۔لیکن میری سمجھ میں نہیں آیا یہ وکالت تم نے میرے لیے کی یا خود کے لیے ۔
آخری بات سے عالیان کے چہرے کے سب رنگ نچوڑ لیے۔
دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں جو مجھے نا پسند ہو۔
میں کسی نہ کسی طرح قابل نفرت لوگوں سے بھی محبت کا رستہ نکال لیتی ہوں ۔
میں کسی سے نفرت نہیں کرتا ماما سوائے ایک کے ۔۔
ہم کتنوں سے محبت کرنے کے قابل ہو چکے ہیں اس سے اہم ہے کے ہم کتنوں سے نفرت کر چکے ہیں محبت کورا ہو نہ ہو نفرت کورا ہوتی ہے
میں اس شخص سے محبت نہیں کر سکتا میں مارگریٹ نہیں بن سکتا
میں صرف اس کی بات نہیں کر رہی انہوں نے بہت سنجیدگی سے دیکھا
پھر مجھے نہیں پتہ آپ کس کی بات کر رہی ہیں
مجھے ڈر تھا عالیان کے تم ایک دن مارگریٹ کو لے کر بہت سوچا کرو گے
ماما کے بارے میں سوچنا برا ہے کیا .؟؟
مارگریٹ کے بارے میں سوچنا نہیں جو اس کے ساتھ ہوا اس کے بارے میں سوچنا تم میری اولاد ہو میں تمہاری آنکھ کی پتلی کی حرکت بھی پہچانتی ہوں
ان آنکھوں کی چمک کہاں گم کر آئے ہو یہ پوچھا ہی نہیں میں نے ابھی بھی نہیں پوچھوں گی۔بس یہی کہوں گی پرسکون رہو جلد باز میت بنو خود کو وقت دو
میں جلد باز تو نہیں ماما۔۔

ہاں میں ہوں،لیکن بعض معاملات میں ہم ہوجاتے ہیں اور ہمیں خود کو پتہ نہيں چلتا۔”وہ خاموش ہوگیا۔ ایک جملہ اس کے ذہن میں بجنے لگا۔
پہلے اس نے مجھے یہ بتایا کہ میں اس کے لیے کس قدر ضروری ہوں پھر اس نے یہ ثابت کر دکھایا کہ میں کتنی غیر ضروری تھی۔
———————
دادا کا اجاڑ پلاٹ بک گیا تھا۔ اور انہوں نے لیڈی مہر سے قرض لی رقم واپس کرنے کے لیے اسے دی تھی اور کچھ مزید رقم کہ وہ دائم کو دے سکے۔ ”
دائم کو پیسے میں دوں گی۔”
"اب جب پیسے ہیں تو اسے دےدو امرحہ! تم صرف دل لگا کر پڑھو، بےشک جاب چھوڑ دو۔۔”
"نہیں دادا ! جوکام میں نے اپنے ذمہ لیے ہیں وہ ہیں خود ہی کروں گی۔۔”
"تمھارا آخری سال ہے میرا مشورہ ہے کہ تم جاب چھوڑ کر پڑھو، تمھیں اب اخراجات کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، میں نے سب پیسے تمھارے اور دانیہ کے لیے رکھے ہیں۔”
"سب دانیہ کے لیے رکھ دیں مجھے کچھ نہیں چاہیے۔”
"تو اب تمھیں کیا چاہیے امرحہ۔۔ تمھیں باہر آنا تھا تم آگئیں اب سے پہلے تک تم بہت خوش خوش مجھ سے بہت ساری باتیں کیا کرتی تھیں،پچھلے دنوں تم اس لیے اداس رہی کہ تمھارے بہت سے یونی فیلوز چلے گئے، اب نئی وجہ کون سی ہے مجھے بتاؤ، تمھارا آخری سال ہے یونی میں۔۔ دل لگا کر صرف پڑھو۔”
"یاد ہے مجھے،یہ میرا آخری سال ہے۔ لگتا ہے دادا زندگی کا ہی آخری سال ہے۔”
"اب ایسی باتیں کرنے لگی ہو۔۔؟”
"معلوم نہیں دادا !لیکن اس سے آگے مجھے زندگی نظر نہیں آئی۔ سب ختم ہوا سا لگتا ہے۔”
"تم مجھے اپنی طرف سے مزید فکرمند کر رہی ہو امرحہ۔۔!”
"دادا ! کبھی میں خوش ہوتی ہوں تو فوراً غم زدہ ہوجاتی ہوں، زندگی اچھی لگتی ہے تو فوراً بری بھی لگنے لگتی ہے، بھاگتے بھاگتے پھر نہ چلنے کی ہمت رہتی ہے نہ چاہ۔ میری ایک کلاس فیلو کہتی ہے کہ ایسی کیفیت خطرناک ہوتی ہیں آپ کسی کنارے کھڑے ہوتے ہیں،اس طرف آتے ہیں نہ اُس طرف جاتے ہیں۔”
"تمھیں کس طرف جانا ہے ہو بتاؤ امرحہ۔؟” دادا کی آواز کھردری ہوگئ۔
"حسب نسب نہیں ہے میرے پاس کیسے بتاؤ۔”سر پر لٹکتی تلوار کو اس نے گر جانے دیا، دونوں کے درمیان سکوت رہا اگلی بات کرنے میں دادا نے کافی وقت لیا۔
"کون ہے وہ؟”ان کے انداز میں حوصلہ افزائی ناپید تھی۔
"دوست۔”
"خرابی دوست سے ہی شروع ہوتی ہےـ” اگلی بات کرنے میں دادا نے پھر وقت لیا۔
"تو تم نے فیصلہ کر لیا ہے۔”
"مجھ سے یہ نہ پوچھیں، جو میں آسانی سے بتا رہی ہوں، وہ میرے لیۓ اتنا آسان نہیں رہا۔”
"میری سماعت پر یہ جتنا گراں گزرا ہے تمھاری زبان پر نہیں گزرا ہوگا۔ تم پاکستان آؤگی تو یہ باتیں ہوں گی۔”
وہ تلخی سے ہنسی۔”دادا ! آپ چاہتے ہیں کہ میں بس پاکستان آجاؤ۔ آپ کی احتیاظ اچھی ہے کہ اس طرح دور بیٹھے باتیں کرنے سے بات بڑھ جاۓگی۔ میں آپ کے ہاتھوں سے نکل جاؤں گی، میں جو یہاں اتنی دور اکیلی ہوں۔ کچھ بھی کر سکتی ہوں اور اگر یہیں کی یہیں رہ گئ تو آپ کیا کرلیں گے۔”
دادا نے کوئ جواب نہیں دیا۔
"میں نے اتنی بڑی بات کھ دی اور آپ خاموش ہیں۔”

"تم بھی خاموش رہو امرحہ میں جان گیا ہوں کہ اس میں ضرور ایسی کوئ خرابی ہے کہ اس کے بارے میں بات کرتے تمھارا انداز ایسا ہے۔”
"وہ ایک عیسائی عورت کا بیٹا ہے اور میں اس کے بارے میں نہیں جانتی وہ ایک اچھا انسان اور ایک اچھا مسلمان ہے بلکہ۔۔۔”
"امرحہ میں پاکستان میں تمھارا انتیظار کر رہا ہو۔ تمھیں پاکستان آنا ہےـ”
اور دادا نے بھی وہی اندار اپنا لیا جس کی وہ توقع کر رہی تھی۔وہ خاموش ہوئ اس نے محسوس کیا کہ وہ کئ گھنٹے بت بنے تو رہ سکتی ہے۔ لیکن دادا کے اس انداز کے بعد بولنے کی ہمت نہیں کر سکتی۔ وہ دادا کو بتانا چاہتی تھی،کہ اس نے کسی کی پلکوں سے افشاں چن لی ہے وہ جو چار قدم اس سے دور جاتی تھی اور دو قدم اس کی طرف بڑھاتی پھر پلٹ جاتی تھی وہ ان عین اسکے سامنے جا کھڑی ہوئ ہے اور وہ دادا کو یہ بھی بتانا چاہتی تھی کہ ان کا اس پر اور خود اس کاخود پر اختیار نہیں رہا اور یہ بھی کہ اب اگر وہ پلٹی تو پھتر کی بن جاۓ گی، نہ وہ ان کے کام کی رہے گی نہ اپنے۔۔ اس نے اتنا سب جان لیا ہے تو ہی دادا سے بات کی ہے نا۔۔
"امرحہ میں پاکستان میں تمھارا انتیظار کر رہا ہوںـ”دادا کو پھر سے کہنا پڑا۔
اسے دادا کے انداز پر غصہ آگیا،دکھ بھی ہوا اس کا دل کیا جواب دیے بیغر لاگ آف ہوجاۓ لیکن وہ بھڑک کر خود کو یہ کہنے سے روک نہيں سکی۔
"آپ چاہتے ہیں میں خود پر زندگی حرام کرلوں اس دروازے پر دستک دوں جو صرف مرنے والوں کے لیے کھلتا ہے۔”
"مرنے کی بات کر رہی ہو امرحہ ۔۔! پھر یہ بھی یاد رکھنا بوڑھوں پر مات بنا کسی تردّد کے جلد مہربان ہوتی ہے۔”
امرحہ جہاں کی تہاں رہ گئ۔
دادا چلے گئے۔
"کیا ہوا ایسے کیوں بیٹھی ہو۔؟”سادھنا نے کمرے کے آگے سے گزرتے اسے دیکھا پو اندر آگئ۔
"زندگی میں کون سا مقام ایسا ہوتا ہے سادھنا کہ لگنے لگتا ہے کہ بس اب زندہ رہنےکا کوئ فائدہ نہیں ہے۔؟”
"جب ہم کچھ ایسا کر گزرے جو ہمیں نہیں کرنا چاہیے۔” سادھنا کچھ کچھ سمجھ رہی تھی۔
"ایسا کیا ؟”
"میں دوسروں کے بارے میں کچھ کھ نہیں سکتی لیکن میں نےاپنے بارے میں ایسا محسوس کیا تھا، آریان کے پاپا سے پسند کی شادی کی تھی۔ ہم دو مختلف ذاتوں سے تھے۔ میرے گھر والے نہیں مان رہے تھے، پھر ہم نے خود شادی کرلی، اور پھر جب ہمیں آریان کی بیماری کے بارے میں معلوم ہوا، مجھے لگا میرے ماتا پتا کی بددعا لگی ہے۔ میں ان سے پہلے ہی معافی مانگ چکی تھی، وہ مجھے معاف کرچکے تھے لیکن میری ماں نے ایک بات کہی تھی، وہ بولیں "تم نے
تو اپنی خوشی جی لی اور اب ہمیں اپنا دکھ مرن سمے تک کاٹنا ہے۔ ہم تمھارے دشمن نہیں تھے بس سماج میں سر اٹھا کر چلنا تھا۔تم نے ہمارا سر ہی کاٹ ڈالا۔دھن دولت قسمت سے،مان سمان سماج سے۔”
غلطوہ نہیں تھے،غلط میں بھی نہيں تھی۔ نہ جانے کیوں مجھے ایسا لگتا ہے امرحہ ماں باپ اور اولاد اگر آمنے سامنے ہوں اور دونوں ہی غلط ہوں،اور دونوں ہی ٹھیک۔۔ تو بھگوان ان دو میں سے ماں باپ کا ساتھ دیتا ہے،کیونک جو مان سمان ان کا ہوتا ہے وہ ہمارا نہیں ہوتا۔۔ اس وقت میں نے سوچا تھا۔ میرے پاس رمیش نہ ہوتا ، آریان بھی نہ ہوتا۔ میرے ماتا پتا کے پاس ان کا مان سمان ہوتا۔”
امرحہ جہاں کی تہاں رہ گئ۔
اگلے دنوں دادا نے اس سے بات چیت ہی بند کردی۔ وہ کتنی ہی فون کالزکرتی وہ فون نہ اٹھاتے، لاگ نہ ہوتے،یہ ان کی ناراضگی کا عملی ثبوت تھا،
صرف ابھی بات کرنے پر امرحہ کو اس صورت حال کا سامنا تھا۔ اس نے فیصلہ سنا دیا تو وہ جان دے کر ثبوت دیں گے کہ دیکھو دو ضدیوں میں سے بڈھے ضدی کی جیت ہوئ۔
دانیہ نے اس سے بات کی۔
"کیا اہا ہے دادا سے تم نے ایسا۔۔۔ وہ تو کسی سے بات ہی نہیں کر رہے۔”
"میں نے ان سے پیسے لینے سے انکار کیا تھا۔”
"اب وہاں جا کر تم اتنی بڑی ہو گئ ہو امرحہ !کہ دادا کو انکار کرنے لگی ہو، تمھاری تو جان ہے دادا میں ہیں نا؟”
دانیہ طنز کر رہی تھی، یہ بات اسے تھپڑکی طرح لگی۔ وہ علان کیا کرتی تھی کہ دادا اس کی جان ہیں تو اب۔۔ اس جان کا خیال کیوں نہیں رہا اسے۔ وہ اسے جزباتی بلیک میل نہیں کر رہے تھے،بس پرانے وقتوں کے آدمی تھے تو بس اتنی بڑی بات سنبھال نہیں سکے۔
عیسائی ماں۔۔ لاپتا باپ۔۔ گھر نہ خاندان، نام نہ نشان۔۔
وہ ان پیغامات کو کس دل سے عالیان کو دیتی جو کئ راتوں سے وہ لکھ رہی تھی وہ دادا کی جان پر رحم کرتی تو اپنی جان کا کیا کرتی۔ دادا سے بات کرنے سے پہلے ہی تو اس نے ان پیغامات کو عالیان کو دینے کی کوشش کی تھی اور اچھا ہی ہوا اس نے انہیں نہیں لیا۔
———————
"یہ تمھارے لیے چند پیغامات میں نے بہت جرات سے لکھے ہیں پلیز انہیں پڑھ لو۔”
"انہیں بھی سیف روم میں جا کر لگادوـ”
"دنیا دکھاوے کے لیے نہیں ہیں یہ عالیان۔!”
"ان میں جو لکھا ہے وہ میں ہارٹ راک میں سن چکا ہوں۔”
"ان میں جو لکھا گیا ہے ،وہ سنا گیا ہے نہ کہا۔۔”
"امرحہ ۔! اب تمھیں جو کہنا ہے وہ سننے کے لیے میں خود کو موجود نہیں پاتا۔ ”
"تم کس قدر ضدی ہو عالیان ۔”
"ہاں، میں بہت ضدی ہوں۔”
"تم نے کہا تھا،تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔”
"کرتا تھا اور بکواس کر رہا تھا۔”
"جھوٹ بول رہے ہو نا تم۔ جھوٹ۔ ایسی ہی بات تھی تو سائ کے منہ سے پال کے حملہ کا سن کر تم اپ سیٹ کیوں ہوگۓ تھے۔ پال مجھ پر دوبارہ حملہ نہ کردے تم اسٹور سے گھر تک مجھے چھوڑنے کیوں آتے رہے تھے۔ رافیل کو تم نے جھیل میں دھکا دے دیا کیونکہ وہ بار بار مجھے تنگ کر رہا تھا کارل کو تم نے فائر کر کے گرا دیا تاکہ میں ریس جیت لوں۔ اتنے سارے سچ ہیں اور تم جھوٹ بول رہے ہو۔”
” تم خوش فہمی میں مبتلا ہو امرحہ! کارل پر فائر کرنے کے لیے مجھے ویرا نے کیا تھا،وہ جانتی تھی کہ اگر تم ہار گئیں تو دبارہ کبھی کسی سے مقابلہ نہیں کر سکوگی۔۔ وہ ہرحال میں تمھیں جیتا ہوا دیکھنا چاہتی تھی۔ کارل کے ساتھ کوئ بھی یہ کرنے کو تیار نہیں تھا تو میں نے کردیا صرف ویرا کے لیے۔”
"صرف ویرا کے لیے ۔” امرحہ کے کانوں میں سائیں سائیں ہونے لگی۔
"تم نے کبھی یہ غور ہی نہیں کیا کہ دوسرے تمھارے لیے کیا کچھ کرتے ہیں، انہیں تمھاری کتنی فکر۔ تمھیں صرف اپنی نادانی کی فکر ہے۔ پال نے تم پر حملہ کیا۔ مجھے یہ جان کر دکھ ہوا، تمھاری جگہ کوئ بھی ہوتا مجھے دکھ ہوتا۔ کارل نے خاص جا کر پال کو سمجھایا۔ یعنی اسے بھی دکھ ہوا۔ ایسا ہونا نارمل ہے اور جے پیٹرسن کے کہنے پر ہم تین لوگ تمھیں گھر تک چھوڑتے رہے تاکہ پال دوبارہ ایسی حرکت نہ کرے۔ خود جے پیٹرسن کتنی ہی راتیں یہ ڈیوٹی دیتا رہا۔ میری ڈیوٹی تھی امرحہ۔! اور رافیل کو صرف اس لیے دھکا دیا کیونکہ وہ پرانک کا ماسٹرمائنڈ تھا۔ اس نے ماما کو اداس کر دیا تھا۔”
"یہ سب جھوٹ ہے عالیان۔۔ یہ سب تم خود کرنا چاہتے تھے۔ خود۔
"جو میں خود کرنا چاہتا ہوں وہ صرف اتنا ہے کہ میں تم سے دور رہنا چاہتا ہوں۔”
"جن سے ایک بار محبت کی جاتی ہے ،ان سے نفرت کرنےکاگناہ نہیں کرنا چاہیے ۔”
"جن سے ایک بار دھتکار ملے ان کے پاس واپس پلٹ کر جانے کا جرم نہیں کرنا چاہیے، میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی پریڈ میں تمھارے پیچھے آنا تھا۔ میں تمھارا کھولونا نہیں ہوں امرحہ۔۔!”
"تمھیں کیا پتا میں کس کس کا کھلونا ہوں۔”وہ سوچ کر رہ گئ کھ نہ سکی۔
"یونیورسٹی بھری پڑی ہے جا کر کسی کو بھی دوست بنا لو۔” اس کا انداز کبھی بھی اہیسا نہیں تھا جیسا اب ہو چکا تھا۔
امرحہ اس کی طرف دیکھتی رہ گئ۔۔ "دوست”ہاں وہ دوست۔۔ دوستی ہی تو کر رہی تھی تب بھی۔۔ اب بھی۔
"ٹھیک ہے وہ دادا سے بات کرےگئ ۔” اس نے اپنی اور اس کی آخری ملاقات میں سوچا تھا۔ وہ بات کر چکی تھی اور دادا کے ایسے ناراض ہونے پر سوچ رہی تھی کہ ابھی وقت اس کے ہاتھ میں ہے۔
"وقت اس کے ہاتھ میں تھا۔” یہ اس کا اپنا خیال تھا کیونکہ ” برننگ مین” جانے کے لیے تیار ہوچکا تھا۔ وہ پورا کا پورا جل جاۓ گا آگ کی لپیٹیں اس اے اٹھیں گی اور وہ دیکھتی رہ جاۓ گی۔
"بلیک روک ڈیزرٹ” میں ہونے والے برننگ مین طرز کا فیسٹیول ایک دوسری کمپنی مانسچڑ شھر سے ذرا دور کروارہی تھی۔ یہ فیسٹیول ایک رات پر مشتمل تھا جو بہت بڑے میدان میں ہورہا تھا۔ وہ جاب سے گھر جا رہی تھی کہ این اسے لینے آئ۔ ویرا اس سے پہلے ہی جانے کا کھ چکی تھی لیکن وہ نہیں گئ، وہ اپنے آپ میں اتنی گم صم سی ہوگئ تھی کہ نہ کسی سے بات کرنے کو جی چاہتا تھا نہ ہی ملنے کو۔
"چلو وہاں ساری یونی اکھٹی ہوئ ہوگی۔ مرے جا رہے تھے سب وہاں جانے کے لیے۔”
"عالیان بھی ہوگا وہاں۔؟”اس نے پوچھا۔
"ہونا تو ضرور چاہیے۔”
عالیان بھی وہاں ہوگا وہ سوچ کر این کے ساتھ آہی گئ۔ ایک سو بیس فٹ اونچا برننگ مین میدان کے عین درمیان میں ایستادہ تھا۔ آس پاس آگ کے کئ کرتب ہو رہے تھے ہر طرف آگ ہی آگ تھی۔ کوئ منہ سے نکال رہا تھا، کوئ ہاتھ میں لے کر اچھال رہا تھا، کوئ کمر کے گرد گھوما رہا تھا، کہیں آگ کی سائیکل چلائ جا رہی تھی،آگ سے جلتی تنی رسّی پر چلا جا رہا تھا اور کہیں آگ سے جلتے دائروں میں قلابازیاں لگائ جا رہی تھیں۔ ہر دس قدم پر آگ ایک انئے انداز سے موجود تھی رش بہت زیادہ تھا۔ وہ، این اور این کی ایک دوست کے ساتھ ساتھ گھومتے رہے،وہ عالیان کو ڈھونڈ رہی تھی۔ این نے بھی منہ میں تیل ڈال کر آگ منہ سے نکالی اور ایسا کرتے اس کی بھنوؤں کے بال صفائ سے صاف ہوگۓ۔
"اتنی پیاری لگ رہی ہو اب تم،ویسے ہی تمھاری بھنوؤں میں چار بال تھے وہ بھی تم سے برداشت نہیں ہوۓ۔”این کی دوست ہنسے جا رہی تھی۔
"تم بھی کرو امرحہ۔”امرحہ نے ناں میں سر ہلایا۔
"کب لگے گی اسے آگ۔؟”امرحہ نے پوچھا۔
"بارہ بج کر ایک منٹ پر۔”
"یورپ والے بھی اچھے فارغ لوگ ہیں پتا نہیں کیا کیا کرتے رہتے ہیں۔” امرحہ نے تبصرہ کیا سب بہت انجواۓ کر رہے تھے۔ لیکن اسے کوئ مزہ نہیں آرہا تھا۔
"دنیا ان ہی کھیل تماشوں سے سجی ہے امرحہ ۔۔!”
"اچھا!ویسے تم آج کل کس جاپانی فلسفی کو پڑھ رہی ہو؟ "امرحہ چڑ گئ۔
"این اون کو۔” این نے دانت نکالے جو امرحہ کو اچھے لگے چھوٹے چھوٹے بچو سے۔
"یہ تمھارے دودھ کے دانت ہیں ناں؟”
"نہیں ! دانت کے دانت۔۔” اسنے اور زیادہ دانت نمایاں کر کے کہا۔
"بہت زبان چالنے لگی ہے تمھاری۔” امرحہ ہنس ہی دی۔
جاری ہے

69


Comments

جواب دیں