منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا ہر شا…

برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہو گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ممتاز مزاح نگار شوقؔ بہرائچی کا یومِ پیدائش ہے۔
June 06, 1884

شوق بہرائچی جنکا پورا نام سید ریاست حسین رضوی تھا کی پیدائش اجودھیاضلع فیض آباد کے محلہ سیدواڑا میں ایک زمیندار طبقہ سے تعلق رکھنے والے سید سلامت علی رضوی کے گھر میں 06 جون 1884ء کو ہوئی تھی۔شوق صاحب تلاش معاش میں بہرائچ آئے اور پھر یہیں کے ہوکے رہ گئے۔
علمی لیاقت کے اعتبار سے وہ صفر تھے لیکن یہ وہی صفر تھا جسے کسی گنتی کے داہینی طرف لگا دیا جائے تو اس کی قیمت دس گنا بڑھ جاتی ہے شوقؔ کا حال کچھ ایسا ہی تھا اردو ہندی انگریزی اور فارسی زبان کے الفاظ پر بڑی قدرت رکھتے تھے۔شروع میں غزلیں کہتے تھے پر انکی چلبلی طبیعت نے کروٹ بدلی اور غزل سے قطع تعلق کر کے وہ طنز و مزاح کی دنیا میں آگئے ۔شوق کی زندگی کے آخری دور میں یہ چہ میگوئیاں ہوتی رہتی تھی کہ شوق ؔ نے غزلیں لکھنا بند نہیں کیا بلکہ اجرت لیکر دوسرے شاعروں کے لیے لکھا کرتے تھے۔ شوق ؔ طنز و مزاح کے نامور شاعر تھے۔
عمر کے آخری ایام میں بوڑھے شوق کے لاغر جسم کو دمہ کے پرانے مرض نے بد حال کر رکھ دیا تھا ۔بیماری اور بے روزگاری نے زندگی کو بہت دشوار بنا دیا تھا ۔ اور شوقؔ بہرائچی مدد کے انتظار میں راہی ملک عدم ہو گئے ،اسی سلسلہ میں شوقؔ نے ایک قطعہ لکھا تھا
” سانس پھولے گی ،کھانسی سواآئے گی
لب پہ جان حزیں بار ہا آئے گی
دار فانی سے جب شوقؔ اٹھ جائے گا
تب مسیحا کے گھر سے دوا آئے گی
“
شوقؔ بہرائچی کی وفات 13 جنوری1964ء بہرائچ میں ہوئی
بشکریہ: وکی پیڈیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہ جبینوں کی محبت کا نتیجہ نہ ملا
مرغیاں پالیں مگر ایک بھی انڈہ نہ ملا

حسن خود بیں نہ ملا حسن خود آرا نہ ملا
جب میں سسرال گیا ایک بھی سالا نہ ملا

کس طرح جاتا کوئی منزل مقصد کی طرف
کوئی یکہ کوئی تانگہ کوئی رکشا نہ ملا

نظر آیا نہ کہیں ناصح ناداں میرا
جستجو جس کی تھی وی مٹی کا ببوا نہ ملا

اب کی ناکام رہا قائد ملک و ملت
اب کی بربادئ اقوام کا ٹھیکہ نہ ملا

شیخ صاحب کے تلون کا فسوں ہے یہ بھی
مسجدوں میں کبھی اک مٹی کا بدھنا نہ ملا

اے غم دوست ضیافت میں تری کیا کرتا
ایک خوراک سے راشن ہی زیادہ نہ ملا

لاکھ بازار محبت کے لگاۓ پھیرے
بے وقوفی کے سوا ااور کوئی سودا نہ ملا

کس طرح سے کوئی تعمیر نشیمن کرتا
کبھی ستلی نہ ملی اور کبھی سیٹھا نہ ملا

دوست کی شیریں بیانی کا مزا کیا کہۓ
ایسی برفی کبھی ایسا کبھی پیڑا نہ ملا

رکھے ہی رکھے ہوئی جنس کرم سب برباد
ایک بھوکے کو مگر پاؤ بھر آٹا نہ ملا

ہاتھ آۓ گا نہ پروانہء جنت اے قوم
شیخ صاحب کو اگر حلوا پراٹھا نہ ملا

کس طرح سے کسی تعمیر کی ہوتی تکمیل
وقت پر جب کبھی اینٹا کبھی گارا نہ ملا

آج شمشیر برہنہ وہ لیے پھرتے ہیں
جن کے گھر میں کبھی اک بانس کا پھٹا نہ ملا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نئی بزم عیش و نشاط میں یہ مرض سنا ہے کہ عام ہے
کسی لومڑی کو ملیریا کسی مینڈکی کو زکام ہے

یہ عجیب ساقئ ماہ وش ترے مے کدے کا نظام ہے
ہوا جیسے تو بھی دیوالیہ نہ تو خم نہ مے ہے نہ جام ہے

یہاں ذکر آب و طعام کیا یہاں کھانا پینا حرام ہے
یہاں برت رکھتے ہیں روز سب یہاں روز ماہ صیام ہے

نہ تو متفق کسی امر میں نہ تو متحد کسی کام میں
مرے لیڈروں کا دماغ ہے کہ حماقتوں کا گودام ہے

ابھی ہے غریبوں کی چشم تر ابھی ان کے حال پہ اک نظر
ابے انقلاب ٹھہر ذرا ابھی تجھ سے اور بھی کام ہے

میں سنا چکا ہوں ہزار بار انہیں درد و یاس کی داستاں
نہ یقین ہو تو وہ پوچھ لیں کہ گواہ ٹیلی گرام ہے

ابھی اس کو جسم تو ڈھکنے دو ابھی اس کو پیٹ تو بھرنے دو
ابھی اس کو فکر عوام کیا ابھی ننگا بھوکا نظام ہے

وہی خادمانہ روش رہے یہ خیال رہبری چھوڑ دو
اسے پی سکو گے نہ دوست تم یہ بہت ہی گاڑھا قوام ہے

تجھے اپنے اور پراۓ کا نہیں کچھ شعور ابھی تلک
مرے جاں نثاروں کی لسٹ میں ذرا دیکھ تیرا بھی نام ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ جب دیکھی گئی میری تڑپ میری پریشانی
پکڑ کر ان کو جھوٹنے کھینچ لایا شوق عریانی

لباس ایجاد کر ایسا کوئی اے عقل انسانی
کہ تن پوشی کی تن پوشی ہو عریانی کی عریانی

معاذ اللہ وہ کافر ادا کو حسن پنہانی
کہ اب خطرے میں ہے ہر اک مسلماں کی مسلمانی

بتا دیتی ہے بڑھ کر ان کے جلووں کی فراوانی
کہ گھر سے بے حجابانہ نکل آئی ہے مغلانی

معاذ اللہ جناب شیخ کا یہ جوش ایمانی
سمجھتے ہیں بتوں کے حکم کو آیات قرآنی

جسے دیکھو رکھے ہے سر پہ اپنے تاج سلطانی
ہنسی ٹھٹھا سمجھ رکھا ہے ہر اک نے جہاں بانی

تمنائیں مری پامال یوں کرتا ہے وہ ظالم
کسی موضع میں جیسے کھیت جوتے کوئی دہقانی

ہر اک کی خاطریں حسب مراتب ہوں گی دوزخ میں
وہ ناصح ہوں کہ زاہد ہوں کہ ملا ہوں کہ ملانی

خدا محفوظ رکھے فطرت انساں سے عالم میں
مؤدب ہو کے کہتا ہے جسے شیطاں بھی استانی

سدا حرص و ہوس سے دور رہنا چاہۓ ہم دم
یہ دونوں ہیں بڑی فتنہ جٹھانی ہو کہ دیورانی

بقدر ذوق تکمیل تمنا شوقؔ کیا ہوتی
کہ ہم نے عورتیں پائیں کبھی اندھی کبھی کانی

ہیں یکساں زاہد کم عقل ہوں یا ناصح ناداں
کھلونے سب برابر ہیں وہ چینی ہوں کہ جاپانی

وہ ناصح ہوں کہ واعظ ہوں کہ قاعد ہوں کہ رہبر ہوں
انہیں لوگوں سے پھیلی ہے جہاں میں نسل انسانی

جفائیں ہم پہ ہوتی ہیں کرم غیروں پہ ہوتا ہے
یہاں گرتے ہیں اولے اور وہاں برساتے ہیں پانی

مجھے برباد کر کے دوست پچھتانے سے کیا حاصل
نہ لڑھکا دے تمھیں دوزخ میں یہ شیطان کی نانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی(بھٹکلی)