منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

ایک زمین رساؔ چغتائی جون ایلیاء زبیر قیصر گل زیب …


ایک زمین

رساؔ چغتائی
جون ایلیاء
زبیر قیصر
گل زیب زیبا
••••••••••••••••••••••••
رساؔ چغتائی

خاک اُڑتی ہے اس جہان میں کیا
پھول کھلتے ہیں آسمان میں کیا

عشق تیرے خیال میں کیا ہے
زندگی ہے ترے گُمان میں کیا

ہاتھ دوشِ ہوا پہ رکھتا ہے
پاؤں رکھتا ہے پائدان میں کیا

میں جو حیرت زدہ سا رہتا ہوں
بات آتی ہے تیرے دھیان میں کیا

نیند آرام کر رہی ہے ابھی
تیری پلکوں کے سائبان میں کیا

تیر جو اِک تری کمان میں تھا
ہے ابھی تک کمان میں کیا

کیا ہوئے وہ شکست خوردہ لوگ
آ گئے سب تری امان میں کیا

تجھ سے یہ تیرے حاشیہ بردار
اور کہتے بھی میری شان میں کیا

پوچھتا ہے مکاں کا سناٹا
میں ہی رہتا ہوں اس مکان میں کیا

آ کے ساحل پہ نا مراد ہوا
منہ چھپاتی ہے بادبان میں کیا

اِس جہانِ خراب کی صورت
ہے کوئی اور تیرے دھیان میں کیا

ہم ہیں خود آپ رُو برُو اپنے
اور ہیں خود ہی درمیان میں کیا

وہ جو کھڑکی کھلی سی رہتی ہے
جھانکتی ہے مرے مکان میں کیا

حال اپنا بھی کیا یہی ہو گا
ذکر آئے گا داستان میں کیا

جب کیے دُکھ بیاں اُسی سے کیے
بات ایسی ہے اس چٹان میں کیا

اچھے لگتے ہیں آن بان کے لوگ
جانے ہوتا ہے آن بان میں کیا

دل سے جب دل کلام کرتا ہے
لفظ آتے ہیں درمیان میں کیا

کیا ہوئے میرے خاندان کے لوگ
ایک میں ہی تھا خاندان میں کیا

جمع کیجے نہ درد و غم تو رساؔ
کیجیے اور اس جہان میں کیا
•••••••••••••••••••••
جون ایلیاء

عمر گزرے گی امتحان میں کیا
داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا

میری ہر بات بے اثر ہی رہی
نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا

مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں
یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا

اپنی محرومیاں چھپاتے ہیں
ہم غریبوں کی آن بان میں کیا

خود کو جانا جدا زمانے سے
آ گیا تھا مرے گمان میں کیا

شام ہی سے دکان دید ہے بند
نہیں نقصان تک دکان میں کیا

اے مرے صبح و شام دل کی شفق
تو نہاتی ہے اب بھی بان میں کیا

بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا

خامشی کہہ رہی ہے کان میں کیا
آ رہا ہے مرے گمان میں کیا

دل کہ آتے ہیں جس کو دھیان بہت
خود بھی آتا ہے اپنے دھیان میں کیا

وہ ملے تو یہ پوچھنا ہے مجھے
اب بھی ہوں میں تری امان میں کیا

یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو
کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا

ہے نسیم بہار گرد آلود
خاک اڑتی ہے اس مکان میں کیا

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
••••••••••••••••••••••••

زبیر قیصر

فرق پڑتا ہے تیری شان میں کیا
جان دے دیں تجھے لگان میں کیا

جاں کنی سے دلا نجات ہمیں
آخری تیر تھا کمان میں کیا

خاک اڑنے لگی زمینوں کی
جھانکتا ہے تُو آسمان میں کیا

تیرے دل سے اترنے والے ہیں
ہم کرائے کے ہیں مکان میں کیا

تیری آنکھوں کو جانچنے کے لیے
خود کو رکھ لیں کسی دکان میں کیا
•••••••••••••••••••••••••
گُل زیب زیبا

پڑ گئے دل کے امتحان میں کیا
مجھکو رکھانہیں دھیان میں کیا

پہلے پردے پڑےتھے آنکھوں پر
قفل اب پڑ گئے زبان میں کیا

فصل میری تو جل کےخاک ہوئی
جان ہی لو گے اب لگان میں کیا

پہلے ہم تھے ترے حواسوں پر
اب کوئی اور ہے دھیان میں کیا

کیا کہیں سے وفا خریدو گے
جنس بکتی ہے یہ دکان میں کیا

جسکےآگے کھڑے ہو گم صم سے
کوئی رہتا تھا اس مکان میں کیا

کوئی سمجھائے اس چکوری کو
بےمعانی سی اس اڑان میں کیا

کیوں مرا دم نہیں نکلتا ہے
تم ہی اٹکے ہو میری جان میں کیا

پان دیتے ہوئے وہ لرزاں ہیں
زہر رکھا ہے خاصدان میں کیا

کیوں جفاؤں سے بھر لیا خود کو
ایک ہی چیز تھی دکان میں کیا

لوگ تو دیکھتے ہیں تصویریں
اب تمہاری کہوں میں شان میں کیا

ساتھ رہ کر نہیں وہ پاس مرے
کوئی آفت ہے درمیان میں کیا

ایک رکھتے ہوئے، نظر مجھ پر
دو کو رکھو گے اک میان میں کیا

پورے صحرا میں بچھ گیا ماتم
ہم کہ ٹھہرےترےمکان میں کیا

میری چڑیا کے بچے غایب ہیں
سانپ آیا کوئی مکان میں کیا

رنگ جھڑنے لگا وفاوں کا
فاصلے آئے درمیان میں کیا

داستاں میں وہ ھم کو بھول گئے
ہم نہیں آئے درمیان میں کیا

خود تو محفوظ رہ نہیں پائے
مجھ کو رکھو گے تم امان میں کیا

جان لیوا ہے دل کی خاموشی
قتل برپا تھا اس مکان میں کیا

میرے آتے، وہ چل دیئے اُٹھ کر
کچھ غلط ہو گیا ہے شان میں کیا

ہچکیاں جان میری لے لیں گی
لا رہے ہو مجھے دھیان میں کیا

آنکھ کہ کھڑکیوں میں وحشت ہے
بھوت بستےہیں اس مکان میں کیا

مجھ کو خاموش ایسے تکتے ہو
تیر باقی نہیں کمان میں کیا

ایسے سر کیوں جھکائے بیٹھے ہو
کوئی کچھ کہہ گیا ہے کان میں کیا

ذکر گلزیب کیوں نہیں زیبا
ہے یہ ممنوع کسی زبان میں کیا

پیشکش
فاروق کوہاوڑ(سفیدپوش)