پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

ایک برس اور بیت گیا کب تک خاک اڑانی ہے (وِکاس شرما…


ایک برس اور بیت گیا
کب تک خاک اڑانی ہے
(وِکاس شرما رازؔ)
…..
ایک لمحہ لوٹ کر آیا نہیں
یہ برس بھی رائیگاں رخصت ہوا
(انعام ندیم)
…..
کچھ خوشیاں کچھ آنسو دے کر ٹال گیا
جیون کا اک اور سنہرا سال گیا
(نامعلوم)
…..
منہدم ہوتا چلا جاتا ہے دل سال بہ سال
ایسا لگتا ہے گرہ اب کے برس ٹوٹتی ہے
(افتخار عارفؔ)
…..
عمر کا ایک اور سال گیا
وقت پھر ہم پہ خاک ڈال گیا
(شکیل جمالیؔ)
…..
عشرتِ حالِ نو مبارک ہو
آپ کو سالِ نو مبارک ہو
(جون ایلیا)
…..
یکم جنوری ہے نیا سال ہے
دسمبر میں پوچھوں گا کیا حال ہے
(امیرؔ قزلباش)
…..
آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیر
جس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے
……….
اب کے بار مل کے یوں سال نو منائیں گے
رنجشیں بھلا کر ہم نفرتیں مٹائیں گے
…….
اے جاتے برس تجھ کو سونپا خدا کو
مبارک مبارک نیا سال سب کو
محمد اسد اللہ
……
ایک پتا شجر عمر سے لو اور گرا
لوگ کہتے ہیں مبارک ہو نیا سال تمہیں
نامعلوم
……
اک اجنبی کے ہاتھ میں دے کر ہمارا ہاتھ
لو ساتھ چھوڑنے لگا آخر یہ سال بھی
حفیظ میرٹھی
…..
اک سال گیا اک سال نیا ہے آنے کو
پر وقت کا اب بھی ہوش نہیں دیوانے کو
ابن انشاؔ
……
دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
مرزا غالب
جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں
قتیل شفائی
……
نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہے
کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے
احمد فراز
….
کون جانے کہ نئے سال میں تو کس کو پڑھے
تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح
پروین شاکر
……
کسی کو سال نو کی کیا مبارک باد دی جائے
کلینڈر کے بدلنے سے مقدر کب بدلتا ہے
اعتبار ساجد
…..
کچھ خوشیاں کچھ آنسو دے کر ٹال گیا
جیون کا اک اور سنہرا سال گیا
نامعلوم
…..
مبارک مبارک نیا سال آیا
خوشی کا سماں ساری دنیا پہ چھایا
اختر شیرانی
……
نئے سال میں پچھلی نفرت بھلا دیں
چلو اپنی دنیا کو جنت بنا دیں
نامعلوم
….
نیا سال آیا ہے خوشیاں مناؤ
نئے آسمانوں سے آنکھیں ملاؤ
نامعلوم
نیا سال دیوار پر ٹانگ دے
پرانے برس کا کلنڈر گرا
محمد علوی
پلٹ سی گئی ہے زمانے کی کایا
نیا سال آیا نیا سال آیا
اختر شیرانی
پھر نئے سال کی سرحد پہ کھڑے ہیں ہم لوگ
راکھ ہو جائے گا یہ سال بھی حیرت کیسی
عزیز نبیل
پچھلا برس تو خون رلا کر گزر گیا
کیا گل کھلائے گا یہ نیا سال دوستو
فاروق انجینئر
سال نو آتا ہے تو محفوظ کر لیتا ہوں میں
کچھ پرانے سے کلینڈر ذہن کی دیوار پر
آزاد گلاٹی
تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی شام نئی
ورنہ ان آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی
فیض لدھیانوی
عمر کا ایک اور سال گیا
وقت پھر ہم پہ خاک ڈال گیا
شکیل جمالی
چہرے سے جھاڑ پچھلے برس کی کدورتیں
دیوار سے پرانا کلینڈر اتار دے
ظفر اقبال
دلہن بنی ہوئی ہیں راہیں
جشن مناؤ سال نو کے
ساحر لدھیانوی
نہ کوئی رنج کا لمحہ کسی کے پاس آئے
خدا کرے کہ نیا سال سب کو راس آئے
نامعلوم
پرانے سال کی ٹھٹھری ہوئی پرچھائیاں سمٹیں
نئے دن کا نیا سورج افق پر اٹھتا آتا ہے
علی سردار جعفری
سال گزر جاتا ہے سارا
اور کلینڈر رہ جاتا ہے
سرفراز زاہد
یکم جنوری ہے نیا سال ہے
دسمبر میں پوچھوں گا کیا حال ہے
امیر قزلباش
یہ کس نے فون پے دی سال نو کی تہنیت مجھ کو
تمنا رقص کرتی ہے تخیل گنگناتا ہے
علی سردار جعفری