” اقبال اسرارِ حیات کاعارف ہے، اسرارِ حیات کا رمز …
” اقبال اسرارِ حیات کاعارف ہے، اسرارِ حیات کا رمز شناس ہے ۔ وہ ہمیں اسرارِ خودی سمجھا نا چاہتا ہے ۔ رموزِ بیخودی سے آشنا کرنا چاہتا ہے ۔ ہماری تن آسانی و عشرت پسند طبائع کا لحاظ کرتے ہوۓ اسے ایک حسین اور دلکش واسطۂ اظہار کی ضرورت تھی اس لۓ شعر کو اظہار خیال کا ذریعہ بنایا ۔ مگر ہمیں بار بار متنبہ کرتا جاتا ہے کہ میرے کلام کو فقط شاعری نہ سمجھو ۔ یہ اسرار و رموز ہیں ، صداقتیں ہیں ، حقیقتیں ہیں ۔
اقبال اور عندلیب شادانی
عندلیب شادانی
1969- 1904
وجاہت حسین صدیقی عندلیب شادانی ایک ہمہ جہتی لیکن متنازعہ شخصیت تھے آپ نے شاعری کی افسانے لکھے ترجمے کۓ ادب پر سخت تنقید کی ۔ اقبال پر آپ کی ایک تصنیف اور چند وقیع مقالہ ملتے ہیں
پیامِ اقبال
مقالے
اقبال اور مسئلہ جبر و قدر
اقبال اور فلسفۂ خودی
ادب اور فنونَ لطیفہ کے متعلق اقبال کا نظریہ
ان نگارشات میں شادانی نے اقبال کے فلسفۂ خودی ، مغربی تہذیب و تمدن ، نظریۂ جبر و قدر اور نظریۂ فن پر روشنی ڈالی ہے ۔
عندلیب شادانی نے بہت خوبصورت اور منفرد شاعری بھی کی ہے ۔
شاعرِ مشرق
عندلیب شادانی
یہ بات ہے اب سے سو برس کی کہ ایک عہد آفریں ستارہ
ہوا کچھ اس دھج سے کہکشانِ ادب کے دامن پہ جلوہ آرا
کہ پڑگئ اوس چاندنی پر شفق کے منہہ پر اڑی ہوائ
مقابل اس کے ہر ایک مشعل چراغ کی طرح ٹمٹمائ
وہ روحِ انسانیت کا پیکر
اسی کےنغموں کی دلکشی سےجہاں میں شہرت ہوئ وطن کی
اسی کے پھولوں کی مست خوشبوتو لے اڑی بات اس چمن کی
وہ گوہرِ شب چراغِ عالم
وہ بزمِ لاہوتیاں کی رونق شرارِ ایمن فروغِ یزداں
خدا کا ہم راز ایک بندہ خدا کا ہم کار ایک انساں
جمال کا ذی شعور خالق جمال کا دیدہ ور پجاری
نگاہ میں رفعتیں فلک کی مزاج میں روح خاکساری
ہم اس کے نغمات سن رہے ہیں
کہ خوبرویوں کی انجمن میں بہار کا رقص ہو رہا ہے
عجب عالم ہے سر خوشی کا جو جاگتا ہے سو رہا ہے
یہ کس کی افسوں گری نے ایسا فضا کو مسحور کردیا
روپہلی شفاف چاندنی میں دھنک کا ہر رنگ بھر دیا
ہم اس کے اشعار سن رہے ہیں
کہ حوریانِ بہشت گاتی ہوئ فلک سے اتر رہی ہیں
کہ اپسرائیں سبھا میں اندر کی چہلیں آپس میں کر رہی ہیں
کہ جل پریاں ابھر رہی ہیں
کہ آبشار نیاگرا کا حسین گیتار بج رہا ہے
کہ مینہہ چھماچھم برس رہا ہے
” رومی کی طرح اقبال بھی نظریہ ارتقا کا قائل ہے اس کے عقیدے کے مطابق انسان جمادی ، نباتی اور حیوانی مدارج سے گزر کر انسانیت کے موجودہ مرتبے پر فائز ہوا ہے مگر یہ اس کی آخری منزل نہیں ابھی اسے اور آگے بڑھنا اور ملکوتی درجہ پر پہنچنا ہے ۔ انسان ملکوتی اور حیوانی عناصر کا مجموعہ ہے ۔ ملکوتی عنصر کا دوسری نام خودی ہے اور اسی کی تربیت انسان کی زندگی کا حقیقی نسب العین ہے ۔ اقبال نے عرفانِ خودی اور تعمیرِ خودی پر بہت زور دیا ہے اور در حقیقت ان کی ساری شاعری کا لبِ لباب عرفانِ خودی اور تعمیرِ خودی ہے ۔ ”
” حیات تمام و کمال انفرادی حیثیت رکھتی ہے ( ہر موجود میں انفرادیت پائ جاتی ہے ۔ ایسی کوئ شے موجود نہیں جسے حیاتِ کل کہہ سکیں ۔ خود خدا بھی ایک فرد ہی ہے لیکن ایسا فرد جس کا عدیل و نظیر نہیں ) کائنات افراد کے مجموعہ کا نام ہے مگر اس مجموعہ میں جو نظم و ترتیب ہم دیکھتے ہیں وہ کامل و دائم نہیں ۔ ہمارا قدم تدریجی طور پر بے نظمی و انتشار سے نظم و ترتیب کی طرف بڑھ رہا ہے اور کائنات مراتبِ تکمیل طے کر رہی ہے ہنوز مکمل نہیں ہوئ ہے ۔”
یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دما دم صداۓ کن فیکون
عندلیب شادانی کے خیال میں کائنات اور انسان کے متعلق اقبال کے نظریات ہیگل اور اس کے ہم خیالوں کے نظریات نیز وحدت الوجود کے صوفیانہ عقیدوں کی ضد ہے ۔
” ان سب کا خیال تو یہ ہے کہ خدا یا حیاتِ کلی میں جذب ہوجانا ہی انسان کا منتہاۓ مقصود ہے اور اسی میں اس کی نجات ہے لیکن اقبال کے نزدیک انسان کا اخلاقی اور مذہبی منتہاۓ مقصود اپنی انفرادی ہستی کو فنا کردینا نہیں بلکہ اسے قائم رکھنا ہے ۔ اور اس کے حصول کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے اندر زیادہ سے زیادہ انفرادیت پیدا کرے اور زیادہ سے زیادہ بے عدیل بنے ۔ ”
آنحضرتؐ کے فرمان کے مطابق ” تخلقو ابا خلاق اللہ ” ( یعنی اپنے اندر صفاتِ الٰہیہ پیدا کرو )
ہر لحظہ ہے مومن کی نئ شان نئ آن
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہون تو بنتا ہے مسلمان
” خودی میں عشق سے استواری پیدا ہوتی ہے ۔ لفظِ عشق اقبال کے یہاں ایک نہایت وسیع مفہوم میں استعمال ہوا ہے ۔ عشق کے معنی ہیں کسی چیز کو اپنے اندر جذب کرنا یا جذوِ ذات بنانا عشق کی ایک اعلٰی ترین صورت یہ ہے کہ ایک نصب العین سامنے رکھا جاۓ اور اس کو حاصل کرنے کی سعی کی جاۓ ۔ ”
جوہرِ زندگی ہے عشق جوہرِ عشق ہے خودی
آہ کہ ہے یہ تیغِ تیز پردگیِ نیام انھی
خودی کو تین مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے
اتباعِ سنت
ضبطِ نفس
نیابتِ الٰہی
” خودی ایک بحرِ بیکراں ہے کہ تمام کائنات کو اپنے سینے میں سمیٹ لیتی ہے ۔ افراد کی سر بلندی اس سے ، اقوام کی جاہ مندی اس سے، رائ کو پربت بنادے ، غلاموں کو تاج پہنادے ۔ ایک تیغِ بے زنہار ہے جس کا وار کوئ روک نہیں سکتا ۔ مگر جہاں خودی میں ضعف و اضمحال پیدا ہوا کمال رخصت ، سر بلندی نابود ، افتادگی و پستی دامن گیر فرد اور ملت سب راکھ کا ڈھیر ہوکر رہ جاتے ہیں ۔ ”
خودی و بحر ہے جس کا کوئ کنارہ نہیں
تو آبِ جو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں
تری زندگی اسے سے تری آبرو اسی سے
جو رہی خودی تو شاہی نہ رہی تو روسیاہی
نہ ہے ستارے کی گردش نہ بازیِ افلاک
خودی کی موت ہے تیرا زوال نعمت و جاہ
فرد کے بعد اقبال جماعت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کیونکہ فرد کی قوتوں کا پورا پورا نشو و نما جماعت ہی میں ہو سکتا ہے ۔
فرد را ربط جماعت رحمت است
جوہر او را کمال از ملت است
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
مضمون جاری ہے اور اس کے حوالے آخر میں پیش کۓ جائیں گے ۔
…..
بشکریہ وسیم سیّد