اخلاق محمد خاں شہریار جُستجو جِس کی تھی اُس کو تو…
اخلاق محمد خاں شہریار
جُستجو جِس کی تھی اُس کو تو نہ پایا ہم نے
اِس بہانے سے مگر دیکھ لی دُنیا ہم نے
سب کا احوال وہی ہے جو ہمارا ہے آج
یہ الگ بات کہ شکوہ کیا تنہا ہم نے
خود پشیماں ہوئے، اُسے شرمندہ نہ کیا
عشق کی وضع کو کیا خوب نبھایا ہم نے
عمر بھر سچ ہی کہا سچ کے سوا کُچھ نہ کہا
اجر کیا اِس کا ملے گا یہ نہ سوچا ہم نے
کون سا قہر یہ آنکھوں پہ ہوا ہے نازل
ایک مدت سے کوئی خواب نہ دیکھا ہم نے
المرسل: فیصل خورشید